آپ کے خطوط، سوالات اور حل

سرکاری جمہوری ملک کے شہری ہونے کے کئی فائدے ہیں۔ اس نظام کے اپنے کچھ مسائل بھی ہیں، لیکن ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ مسائل ہیں تو اس کے حل بھی ہیں۔ ادھر گزشتہ دنوں ہمیں اپنے قارئین کے بہت سے خطوط ملے، جو اس بات کے ثبوت ہیں کہ ہمارے قاری نہ صرف آر ٹی آئی قانون کا جم کر استعمال کر رہے ہیں، بلکہ وہ اپنے مسائل کا حل بھی اس قانون کے ذریعہ چاہتے ہیں۔
اس کے علاوہ ، آر ٹی آئی قانون سے متعلق تجربے بھی قارئین نے ہم سے بانٹے ہیں، لہٰذا اس شمارہ میں ہم ان خطوط کو شائع کر رہے ہیں ۔ اس کے پیچھے ہمارا مقصد اپنے سبھی قارئین کو مختلف طرح کے مسائل اور ان کے حل سے روبرو کرانا ہے۔ امید ہے کہ اس شمارہ میں شائع خطوط کو پڑھ کر ہمارے قارئین مستفیض ہوں گے۔
پی آئی او نے درخواست رد کر دی
کبھی کبھی پبلک انفارمیشن آفیسر درخواست مسترد کر کے بھیج دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں درخواست کنندہ کو کیا کرنا چاہئے؟ میں نے کانپور کے چیف پوسٹ ماسٹر کے پاس اپنی ایک آر ٹی آئی درخواست بھیجی تھی، جس کے ساتھ آر ٹی آئی فیس کے طور پر منی آرڈر بھی منسلک کیا تھا ،لیکن میری درخواست رد کر دی گئی، ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟
پروفیسر للت ایم ترپاٹھی، شیولی ، کانپور دیہات، اترپردیش
آر ٹی آئی فیس کس طرح دینی ہے، کتنی دینی ہے اور کس کے نام سے ادائیگی کرنی ہے، اس کے بارے میں جانکاری ضروری ہے۔کئی بار اس میں غلطی کی وجہ سے پبلک انفارمیشن آفیسر درخواست واپس کر دیتے ہیں۔ آپ مرکزی سرکار کی طرف سے آر ٹی آئی کے تحت طے شدہ فیس ،مقررہ فارمیٹ میں بھیجیں۔ چونکہ ڈاک محکمہ مرکزی سرکار کے ماتحت آتا ہے، اس لئے اگر اس کے بعد بھی درخواست رد کی جاتی ہے، تو آپ مذکورہ پبلک انفارمیشن آفیسر کے خلاف شکایتبراہِ راست مرکزی انفارمیشن کمیشن میں درج کرا سکتے ہیں۔
آر ٹی آئی پر سرکاری مشینری حاوی ہے
ؓمیں ایک آر ٹی آئی کارکن ہوں، میں نے کئی محکموں میں آر ٹی آئی درخواست دی ہیں اور سرکاری محکموں میں چل رہی بد عنوانیوں کے بارے میں جنتا دربار اور ضلع آفیسر کے یہاں شکایتیں بھی کی ہیں۔ یہ قانون پہلے عام آدمی کے لئے تھا، لیکن اب اس پر بھی سرکاری مشینری حاوی ہو چکی ہے۔
داروغہ سنگھ ،تو رکولیا، مشرقی چمپارن، بہار
آپ کا کہنا بہت حد تک صحیح ہے ،لیکن یہ بھی یا د رکھیں کہ اس قانون نے بہت سے نئے پیٹرن بھی قائم کیے ہیں۔ آپ کے کئی معاملے ہیں، ان کے سلسلے میں ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر آپ انفرادی معاملے میں آر ٹی آئی کا استعمال کرتے ہیں، تو سوالوں کے انتخاب میں سمجھداری دکھائیںیعنی موزوں اور کم سوال کریں ، محض اندازے کی بنیاد پر سوال نہ کریں۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں معاملے کو قانون کے تحت فرسٹ اپیلیٹ اور دوسری اپیل تک لے جانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ عوامی مفاد کے سلسلے میں آر ٹی آئی کا استعمال کرتے ہیں تو یہ کوشش کریں کہ آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی اس ایشو پر آر ٹی آئی ڈالیں۔ اس سے دبائو بنتا ہے اور ایسی صورت میں کوئی آپ کو دھمکانے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔
اطلاع نہیں دھمکی مل رہی ہے
میں نے ضلع سپلائی آفیسر جالون کے یہاں آر ٹی آئی ڈال کر کچھ اطلاع مانگی تھی۔ فرسٹ اپیل کے بعد بھی اطلاع نہ ملنے پر میں اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن پہنچا ۔ کمیشن کی طرف سے مفت اطلاع فراہم کرانے کا حکم دیا گیا۔ پھر بھی مجھے اب تک اطلاع نہیں ملی اور اس کے برعکس دھمکی دی جارہی ہے۔ کیا میں ری امبریش منٹ فنڈ کے 25 ہزار روپے دلوانے کی مانگ کرسکتا ہوں؟
محمد ایوب انصاری، اورئی، جالون، اتر پردیش
آپ کمیشن سے معاوضے کی مانگ کرسکتے ہیں، جو کہ آپ کو مل سکتا ہے۔ اطلاع نہ دینے کی وجہ سے پبلک انفارمیشن آفیسر پر جرمانہ لگایا جا سکتا ہے، جو کہ سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے۔ جرمانہ لگانے کا اختیار کمیشن کو ہے۔ وہ چاہے ،تو جرمانہ لگا سکتا ہے۔ اگر آپ کو دھمکی مل رہی ہے تو آپ اس کی ایک شکایت کمیشن میں کر سکتے ہیں۔
ریلوے میں بد عنوانی سے متعلق سوال
میں نے 24 مئی 2005 کی ایک ویٹنگ لسٹ کے ٹکٹ کی فنڈ واپسی کے لئے ریلوے میں آر ٹی آئی ڈالی تھی، لیکن مجھ سے کہا گیا کہ ریکارڈ فراہم نہیں ہے، اس لئے جانکاری نہیں دی جا سکتی ہے۔ اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟
ایس آر شرما ، ہگلی، مغربی بنگال
اگر آپ اس معاملے میں سینٹرل انفارمیشن کمیش نہیں گئے ہیں تو اس معاملے کی شکایت وہاں کرسکتے ہیں۔
اطلاع نہیں ملی
میں ایک معاملے میں منڈل کاراگار دربھنگہ میں بند ہوں، میں خود کو بے قصور مانتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کرے تاکہ سچ سامنے آئے۔ اس بابت میں جیل میں بھوک ہڑتال بھی کر چکا ہوں۔ اس سلسلے میں میں نے حقوق انسانی کمیشن پٹنہ میں ایک درخواست دی تھی۔ بعد میں درخواست پر ہوئی کارروائی کے سلسلے میں ایک آر ٹی آئی بھی ڈالی، جس کا کوئی جواب نہیں ملا۔البتہ پولیس والے میرے گھر پر جاکر میری ماں کو دھمکی دے آئے کہ اگر میں نے پولیس کے خلاف شکایت کرنا بند نہیں کی تو انجام برا ہوگا۔ میں نے اس معاملے میں بہار کے کئی اخباروں کو بھی لکھا، لیکن کسی نے بھی اسے نہیں چھاپا۔ شیو منی جھا، دربھنگہ ، بہار
آپ کے خط سے ہم آپ کو قصور وار یا بے گناہ ہونے کی بات تو نہیں کر سکتے ،لیکن اتنا ضرور ہے کہ آر ٹی آئی کا استعمال کرتے ہوئے آپ نے جس اطلاع کی مانگ کی تھی، وہ آپ کو نہیںملی۔ اس معاملیمیں آپ کو اسٹیٹ انفارمشین کمیشن میں اپیل کرنی چاہئے، تاکہ مطلوبہ اطلاع مل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *