غذائی تحفظ کو لے کر اتنی جلدبازی کیوں؟

راجیو رنجن 

ایسٹ انڈیا کمپنی کی لُوٹ کھسوٹ کو بھی پیچھے چھوڑ چکی کانگریس دراصل حکومت نہیں، خاندان چلا رہی ہے۔ بدعنوانی میں گلے تک ڈوبی اس پارٹی کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے لیے غذائی تحفظ بل 80کروڑ لوگوں کی بھوک کا نہیں، بلکہ ان کی روٹی کی لوٹ کھسوٹ کا معاملہ ہے۔ یہ سرکار غریبوں اور بھوکوں کی روٹی سے سیاست کرنے کا ایک بھی موقع ضائع نہیں کرتی۔آناًفاناغذائی تحفظ بل پاس کراکر یہ پھر سے اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ 

p-8یو پی اے اور خاص طور سے کانگریس نے غذائی تحفظ بل پر ہنگامہ مچا رکھا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کہیں سرکا رکی یہ جلد بازی کسی بڑی لوٹ کھسوٹ کا حصہ تو نہیں؟ منریگا کی طرح کہیں حکومت اس بل کو پاس کراکر اس میں بڑے پیمانے پر پیسوں کی بندر بانٹ اور لُوٹ کھسوٹ کا امکان تو تلاش نہیں کر رہی ہے؟ یہ بات ہم یوں ہی نہیں کہہ رہے ہیں، دراصل منریگا کے دم پر لگاتار دوسری بار مرکز میں حکومت بنانے والی کانگریس ہر حال میں عام انتخابات سے پہلے فوڈ سیکورٹی بل کو قانونی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ کانگریس کے پالیسی سازوں کو امید ہے کہ اس سے پارٹی کی قسمت پھر سے چمک سکتی ہے۔ منریگا اور اسی طرح کے کچھ پُرکشش عوامی منصوبوں کے دم پر وہ پچھلے انتخابات میں اقتدار میں آئی۔
پوری مدت کے دوران حکومت نے جم کو لوٹ کھسوٹ مچائی اور اب بھی عوام کو لوٹنے کا ہی کام کر رہی ہے، لیکن اب اس کی لُوٹ کھسوٹ کے دن ختم ہونے والے ہیں، کیونکہ انتخابات سر پر ہیں۔ ایسے میں سوال ہے کہ فوڈ سیکورٹی بل کو لے کر وہ اتنی بے چین کیوں ہے؟ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ وہ گزشتہ چار سالوں سے کیا کر رہی تھی؟ آخر کانگریس کو غریب اور بھوکے عوام کی فکر انتخاب کے پہلے ہی کیوں ستانے لگتی ہے؟ دراصل اس کی منشا یہ بل لاگو کرکے الیکشن میں فائدہ حاصل کرنا اور پھر اس کے بعد اقتدار میں آکر منریگا کی طرح کھلی لوٹ کھسو ٹ مچانے کی ہے۔
ذاتی طورپر کئی پارٹیوں اور اراکین پارلیمنٹ کوغذائی تحفظ بل پر اعتراض ہے، کیونکہ اسے نافذ کرنے کے لیے ملک میں ضروری ڈھانچہ اور سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ہے کہ اس سے بڑے پیمانے پر بربادی ہو گی اوربدعنوانی کو فروغ ملے گا، جس سے معیشت پر منفی اثر پڑے گا۔ یو پی اے کی حلیف این سی پی کے سربراہ اوروزیر زراعت شرد پوار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حکومت کے پاس نہ تو اس اسکیم کو چلانے کے لیے پیسہ ہے اور نہ ہی اسے نافذ کرنے کے لیے ضروری سرکاری ڈھانچہ موجود ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے نافذ کرنے کے لیے حکو مت کے پاس ضرورت کے مطابق اناج گودام بھی نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی حکومت سے کہا تھا کہ کیوں نہ اناج کو غریبوںمیں تقسیم کر دیا جائے، لیکن حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سچ پوچھئے، تو حکومت کی منشا بل پاس کرانے کی نہیں، بلکہ خصوصی اجلاس بلانے کی ہے۔ آخر جب اگست میں مانسون اجلاس ہونا ہے، تو حکومت اس بل کو لے کر اتنی بے چین کیوں ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ کانگریس غذائی تحفظ بل پاس کراناتو چاہتی ہے، لیکن وہ اس کے نفاذ میں ہونے والی خامیاں اجاگر ہونے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتی۔ اگر عام انتخابات اگلے سال کے اوائل میں ہوتے ہیں، تو فوڈ سکیورٹی بل کو لے کر ملنے والی شکایتیں، ساری تعریفوں کو ملیا میٹ کر دیں گی۔ ایسے میں بہتر متبادل یہی ہے کہ اسے پاس کرالیا جائے اور نومبردسمبر میں الیکشن کا اعلان کردیا جائے۔
فوڈ سیکورٹی بل نافذ کرنا بڑی بات نہیں ہے۔ دراصل، اس کے ضابطوں پر ایمانداری سے عمل کرنا اور اسے قائم رکھنا بڑی بات ہے، لیکن اس بدعنوان حکومت کے گھوٹالوں اور پچھلی اسکیموں میں لوٹ کھسوٹ کو دیکھ کر اس کی نیت پر شک ہونا لازمی ہے۔ جھوٹے وعدے، پُرکشش اسکیمیں لا کر انھیں الیکشن کے وقت نافذ کرنے کے لیے زبردستی کرنا، بھولے بھالے عوام کا ووٹ لے کر اقتدار میں آنے کے بعد اقربا پروری کے ذریعے اپنی حکومت کے دوران عوام کو ہی لوٹنا اور حلیف جماعتوں کو بھی کھلے ہاتھوں لوٹنے کی چھوٹ دینا، کانگریس کی شناخت بن گئی ہے۔ کیا کانگریس کے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں، جو ابھی بھی اس کے منصوبے کو لے کر اٹھ رہے ہیں۔ مثلاً مرکزی حکومت کے ذریعے سپورٹ ویلو میں من مانے ڈھنگ سے اضافہ کرنے کا خمیازہ اناج خریدنے والی ریاستی سرکاروں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پر سبسڈی کا بوجھ بڑھتا ہے اور اگر ایف سی آئی کے ذریعے اناج کی خریداری نہیں ہوئی، تو وہ دھیرے دھیرے برباد ہوجاتا ہے۔ اس سے مستفید ہو نے والوں کی صحیح پہچان میں ہیرا پھیری ہوسکتی ہے۔ انھیں غذائی اجناس کا وقت پر تقسیم ہوپانا مشکل ہے، کیونکہ منریگا میں اس طرح کی بے ضابطگیاں عام ہیں۔ ڈسٹری بیوشن کے لیے ریاستوں کی کو ششوں میں سستی ضرور دیکھنے کو ملے گی۔ ترجیحات کی بنیاد پر پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم میںانفارمیشن ٹکنالوجی کا تیزی سے عملدرآمد ہونا ضروری ہے، جو کہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ہدف کے لیے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کا نیٹ ورک کمپیوٹرائزڈ ہونا ضروری ہے، جو ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔ غذائی اجناس کے لیے بایو میٹرک پہچان پر مشتمل اسمارٹ کارڈ سے ڈسٹری بیوشن ہونا ضروری ہے، جو اتنا آسان نہیں ہے۔ ٹکنالوجی کا استعمال کر کے غذائی اجناس کے ڈسٹری بیوشن میں جی پی ایس ٹریکنگ کی صحیح نگرانی بھی ضروری ہے، لیکن جب دیگر شعبوں میں یہ تکنیک نافذ نہیں کی جاسکی ہے، تو اس منصوبے کے لیے نافذہونا ٹیڑھی کھیر ہی ہے۔ استفادہ کرنے والوں کو ایس ایم ایس الرٹ بھی ملنا چاہیے، مگر یہ نہیں دکھائی دیتا۔ سی سی ٹی وی نگرانی اور میڈیا مہم کے ذریعے عام لوگوں کو بیدار نہیں کیا جاسکتا۔ نوکر شاہوں کی دخل اندازی کو روکنا اور انتظامیہ کی جوابدہی کو یقینی بنانا اتنا آسان نہیں ہے اور جب تک انتظامیہ کی لگام نہیں کسی جائے گی، تب تک کسی بھی بل یا اسکیم کی کامیابی میں شک رہتا ہے۔

مانسون کے سیلاب سے شمالی ہند میں زبردست تباہی
ہر سال کی طرح اس سال بھی شمالی ہندوستان مانسون کے سیلاب کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جس میں متعدد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب کچھ جس وقت ہو رہا ہے، اس کے بہت دنوں کے بعد پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ہوگا۔ تب تک بہت کچھ آفاتِ سماوی سے مختلف ریاستوں کا نقصان ہو چکا ہوگا۔ جن ریاستوں میں فی الوقت بارش کے سبب بھیانک سیلاب آیا ہے، وہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش ہیں۔ ان میں اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہاں پوری کی پوری آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا ہے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کے مکانات رائی کی طرح گر کر پانی میں بہتے ہوئے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ کئی سو تیرتھ استھل، مندر اور ہوٹل تباہ ہو چکے ہیں اور مشہور و معروف مندر کیدارناتھ بھی سخت نقصان سے دوچار ہوا ہے۔
ان مناظر کو دیکھ کر ایک شخص کا دل دہل جاتا ہے۔ جہاں مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں، وہیں کئی مقامات پر پُل اور سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ متاثر لوگوں کو خیموں میں رہنا پڑ رہا ہے۔ درایں اثنا، سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں ریلیف کے کام میں لگ بھی گئی ہیں۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یو پی اے چیئر پرسن و کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ساتھ اتراکھنڈ کا ہوائی سروے کرنے کے بعد ایک ہزار کروڑ روپے کی مدد کا اعلان کیا ہے اور فی الحال لوگوں کی کیلاش مانسرووَر یاترا کو منسوخ کر دیا ہے۔ بہت سے افراد غائب بھی ہوگئے ہیں، جن کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہونے کے سبب گھر کے لوگوں میں سخت بے چینی ہے۔ اترا کھنڈ اور ہماچل پردیش گرمی میں سیاحت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں آئے سیاح اور تیرتھ یاتری بھی اس میں پھنس گئے ہیں۔ ان علاقوں میں منداکنی اور الک نندا جیسی ندیوں میں بارش کے بعد سیلاب آیا ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ وجے بہو گنا نے اسے ’ہمالیائی سنامی‘ قرار دیا ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں جمنا ندی میں بھی پانی کافی بڑھتا جار ہا ہے اور باڑھ والی کیفیت ہوتی جار ہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ریاستوں بشمول آسام، بہار اور یو پی میں بھی خطرے کی گھنٹی بجنی شروع ہو چکی ہے۔

سنگین سوال
بل کے مطابق غریبوں کی فہرست ریاستیں فراہم کرائیں گی، لیکن ریاستوں کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ حکومت نے خطِ افلاس مقرر کرنے کے لیے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کی، لیکن ان کے اعداد و شمار مختلف ہیں۔ حکومت غریبوں کو سبسڈی دینے کے لیے پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کاا ستعمال کرنا چاہتی ہے۔ پی ڈی ایس کا استعمال پہلے سے ہی غریبوں کو غذا ئی سبسڈی دینے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اس طریقے کے ڈسٹری بیوشن سے اناج کا تقریباً 52 فیصد حصہ برباد ہوجاتا ہے۔ سوال ہے کہ کیا ہندوستان اس بل کے ذریعے ڈیمانڈ کے مطابق اناج کی پیداوار کر سکتا ہے؟
حکومت کی نیت میں کھوٹ
غذائی تحفظ بل کے لیے اتنی جلدبازی کیوں؟
کہیں یہ غریب عوام کو گمراہ کرنے کی سازش تو نہیں؟
منریگا کی طرح یہ منصوبہ بھی لوٹ پاٹ کی نذر تو نہیں ہو جائے گا؟
گزشتہ چار سال سے اس بل کو لیکر کیا کررہی تھی حکومت؟
اس منصوبے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اب تک کیوں نہیں ہوئی؟
کہیں اس بل کا حشر بھی حقِ تعلیم قانون جیسا تو نہیں ہوجائے گا؟
غذائی تحفظ بل کا مقصد کہیں عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنا تونہیں ہے؟
خشک سالی اورسیلاب کی صورتحال میں کیا ہوگا؟
غذائی تحفظ بل کے قانون بن جانے کی صورت میں راشن سسٹم سمیت دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے کل 6.13کروڑ ٹن اناج کے ضرورت ہوگی اور اس کے لیے سوالاکھ کروڑ روپے چاہیے۔
اس وسیع پروگرام کے لیے بھاری غذائی سبسڈی کی ضرورت پڑے گی۔ اس کی لاگت مجموعی طور پر گھریلو پیداوار کی 0.9 فیصد سے 1.1 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ جب حکومت کے پاس زیادہ ذرائع نہیں ہیں، تو یہ ایک سنگین اضافہ ہوگا۔ کل ملاکر غذائی سبسڈی تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ ہو رہی ہے، لیکن ذرائع کے مطابق خزانے کی صحت یہ بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ وہ اس بل کے تحت 62ملین ٹن اناج فراہم کرے گی ااور سبسڈی کا سائزایک اندازہ کے مطابق 24بلین ڈالر ہوگا، جو کہ ہندوستانی معیشت کے لیے ایک بڑا بوجھ ثابت ہوگا۔
بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اس بات کا امکان ہے کہ اناج کی تقسیم کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔
اناج کی لدائی، ڈھلائی، سستے غلے کی دکانوںکوچلانے ، ان کے فائدے کے مارجن اور دیگراخراجات کے لیے 24ہزار کروڑ روپے کی اضافی ضرورت پڑے گی۔
حکومت ڈائرکٹ کیش ٹرانسفر پر بھی غورکر رہی ہے۔ ان معاملوں میں، جہاںحکومت پی ڈی ایس کے تحت اناج مہیا نہیں کراپائے گی، وہاں وہ لوگوں کے بینک کھاتوں میں اناج خریدنے کے لیے نقد ادائیگی کرے گی، لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ لوگوں کے پاس کیش ہونے پر مناسب شرح پر اناج ملے گا ہی۔
آگے ہیں کئی ریاستیں
چھتیس گڑھ، تمل ناڈو اور اڑیسہ سمیت تقریباً آدھا درجن سے زیادہ ریاستوں نے مرکزی سرکار کے سوچنے کے ساتھ ہی غذائی تحفظ بل کے زیادہ تر ضابطے نافذ کردیے ہیں، جبکہ مرکز میں دوسری بار حکومت بنانے کے بعد سے ہی یوپی اے سب کو رعایتی شرح پر اناج دینے کا محض اعلان ہی کرتی رہ گئی۔ اتنا ہی نہیں، آندھر اپردیش، تمل ناڈو، کیرالہ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ اور راجستھان نے غذائی تحفظ کا دائرہ اور وسیع کردیا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں پہلے سے ہی سبسڈی کے غذائی پروگرام چل رہے ہیں، وہاں دونوں پروگرام ایک ساتھ کیسے چلیں گے ، کیا اس سے دونوں پروگرام بیکار نہیں ہوجائیں گے؟
قانون
دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے ملک کی دو تہائی آبادی کو سستا اناج ملے گا۔
غذائی تحفظ بل کا بجٹ گزشتہ مالی سال کے 63,000کروڑ روپے سے بڑھا کر 95,000کروڑ روپے کرنے کی تجویز۔
زراعتی پیداوار بڑ ھانے کے لیے 1,10,000کروڑ روپے کا انوسٹمنٹ کرنے کی تجویز۔
دیہی علاقوں میں 75فیصد آبادی کو اس بل کا فائدہ حاصل ہوگا، جن میں سے کم سے کم 46فیصد ترجیحی درجے کے لوگوں کو دیا جائے گا۔
شہری علاقوں میں کل آبادی کے 50فیصد لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کیا جائے گا، ان میں کم سے کم 28فیصد ترجیحی درجے کے لوگ ہوں گے۔
بل کے قوانین کے تحت ملک کے 63.5فیصد عوام کو غذائی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ حاملہ خواتین یا بچوں کو دودھ پلانے والی عورتوں، آٹھویں درجے تک کے طالبِ علموں اور بزرگوں کو پکا ہوا کھانا مہیا کرایا جائے گا۔
نیا قانون نافذ ہونے پر کم قیمت میں گیہوں اور چاول پانا غریب لوگوں کا حق بن جائے گا۔
دودھ پلانے والی عورتوں کو ہر ماہ 1000 روپے بھی دیے جائیں گے۔
اگر حکومت قدرتی آفات کے سبب لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم نہیں کرپاتی ہے، تو اسکیم کے مستفیدین کو اس کے بدلے پیسہ دیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *