ہمیں سبق سیکھنا چاہئے

گزشتہ دنوں دوسانحے ہمارے سامنے آئے۔ پہلا سانحہ آفتِ سماوی کا تھا اور دوسرا سیاسی تبدیلی سے متعلق تھا۔موجودہ تجزیہ بتاتا ہے کہ سانحہ کوئی بھی ہو، وہ اپنے پیچھے ہمیشہ ایک پیغام چھوڑ جاتا ہے،جس پر ہمیں غور وفکر ضرورکرنا چاہیے۔

کمل مرارکا 
گزشتہ دنوں ہندوستان کو ایک بھاری آفتِ سماوی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمالیہ کی گود میں آئی آفت کافی وقت تک لوگوں کے ذہن میں رہے گی۔ پورے کے پورے شہر اورچھوٹے قصبے اس آفت کا سامان بن گئے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس سب کی وجہ کیا رہی؟ میرے حساب سے ماحولیات ایک ایساایشو ہے جو حکومت کی ترجیحات میں سب سے نیچے ہے۔ یہ آفت ایک ماحولیاتی مدعا بھی ہے۔ حکومت اس طرف توجہ نہیں دیتی کہ کیسے ہمارے ماحولیات کو خطرہ پہنچ رہا ہے، اس سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیے کیا کیا کرنا چاہیے؟ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو پیسوں کے لالچ میں ماحولیات کو نقصان پہنچا کر اناپ شناپ تعمیرات کر تے رہتے ہیں اور ان سب سے بھگتنا پڑتا ہے ایک عام آدمی کو۔ اس آفت میں جتنے لوگ بھی مارے گئے ہیں، اس سانحہ کو بدلا تو نہیں جاسکتاہے لیکن ہاں، اس کے بعد ہمالیہ کے علاقے میں ندی کے کنارے کی گئی تعمیرات پر ضرور توجہ دے سکتے ہیں۔ ان سب سے کتنا خطرہ ہے، اس کا فوری جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم نے راحت کے کاموں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے دیے ہیں، لیکن یہ ایک الگ ایشو ہے۔ اصلایشو تو یہ ہے کہ مقامی لوگوں کی باز آبادکاری کیسے ہو اور کیسے ان پیسوں کا صحیح استعمال ہو؟ ان پر زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ناجائز تعمیرات کا مسئلہ حل کرکے اگلے دو سالوں میں ہمالیائی علاقہ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
اس درمیان ایک اورسانحہ پیش آیا۔ بہار میں این ڈی اے ٹوٹ گیا اور نتیش کمار کی حکومت اقلیت میں آگئی۔ا نھوں نے ایک سچے جمہوریت نواز کی طرح گورنر سے اکثریت ثابت کرنے کی اجازت مانگی۔ بی جے پی فطرتاً اس معاملے میں گھاٹے میں رہی۔ اس کے وزیروں کو اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ حالانکہ بی جے پی اب بھی نہیں سمجھ رہی ہے۔ اس نے نتیش کمار کو موقع پرست کہا ہے اور ان کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال کر رہی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا نتیش کمار بی جے پی کے بندھوا مزدور تھے؟ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ اس اتحاد کے ایک سینئر ساتھی تھے۔ بی جے پی کہہ رہی ہے کہ انھوں نے دھوکادیا ہے۔ دراصل بی جے پی کی یہی غلط سوچ اس کی حالت کے لیے ذمہ دار ہے۔ مودی کو آگے بڑھانے کے بعد اس کے ترجمان نے جس زبان کا استعمال کیا وہ ہٹلر اور گوئبلز کی یاد تازہ کراتی ہے۔ بی جے پی ہمیشہ فسطائیت کے تحت کام کرتی رہی ہے۔اڈوانی جی اورمودی کے معاملے میں جو کچھ بھی ہوا، اسے پورے ملک نے دیکھا اور سمجھا۔ کیا مودی کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی اتفاق رائے بنائی گئی؟ بلکہ اس کے برعکس ایک فسطائی طریقہ اپنایا گیا۔ اور اب بی جے پی نتیش کمار کوموقع پرست بتارہی ہے۔ اگر بی جے پی میں ذراسی بھی صلاحیت بچی ہے، جس سے کہ وہ مرکز میں حکومت بنا سکے تو اسے سیاسی طور پر صحیح ہونے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اسے پڑھنا اور سیکھنا چاہیے۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ آئین پڑھے۔ مانا کہ آپ کے پاس آرایس ایس کی طرح ایک کیڈر ہے، لیکن آپ یہ مت سمجھئے کہ آپ کا کام اتنے ہی سے نکل جائے گا۔ ملک کے عوام سب کچھ دیکھتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ اسی عوام نے اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کو برداشت نہیں کیا تھا اور انھیں اقتدار سے باہر کر دیا تھا۔ بی جے پی اس سبق کو جتنا جلدی سیکھ لیتی ہے، اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *