وقف ترمیمی بل کو لے کر ہنگامہ آرائی

خورشید عالم 
p-3

ایک ایسے وقت میں، جب وقف ترمیمی بل اِس بار مانسون اجلاس میں پیش کیے جانے کی خبر گرم تھی اور اس میں شامل نوٹ سے وقف آراضی کے سودے کی گنجائش نکل رہی تھی اور اس تعلق سے سوالات اٹھائے جا رہے تھے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اندر محاذ آرائی کا شروع ہونا بہت ہی افسوس ناک ہے۔ ذیل کا انکشافاتی مضمون اس ایشو کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بحث کرتا ہے اور ملت کی توجہ اس جانب مبذول کراتا ہے۔

وقف آراضی کی فروخت کو لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں اراکین بورڈ نے جس طرح ایک دوسرے پر الزام تراشی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، اس سے بورڈ کی شبیہ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ بورڈ نے یہ وضاحت کرکے کہ مساجد، مقبرے اور درگاہیں اس سے مستثنیٰ ہیں کہہ کر خاموشی اختیار کرلی ہے، لیکن اندر اندر جو بے چینی اور تشویش پائی جارہی ہے، اس کی مثال طوفان سے قبل کی خاموشی کے مترادف مانی جا رہی ہے۔ ابھی تک دوسرے لوگ بورڈ پر کچھ اراکین کے ذریعہ بورڈ کو یرغمال بنانے اور اپنی سیاسی امنگوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا کرتے تھے، لیکن اس بار معاملہ قطعی مختلف ہے۔ الزام باہر کے نہیں، بلکہ اندر کے لوگ لگا رہے ہیں اور بہت سنگین نوعیت کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ بورڈ کے ایک ذمہ دار کی جانب سے کہا گیا کہ وقف آراضی کی فروخت کو لے کر پرسنل لاء بورڈ کو نشانہ بنانے والے ایک رکن بورڈ نے تو بابری مسجد کا سودا کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس سچائی کو جاننے کے باوجود بورڈ نے اس رکن کو باہر کا راستہ کیوں نہیں دکھایا اور تقریباً 22 سال سے اس راز کو کیوں چھپائے رکھا اور جب بعض ارکان بورڈ نے بورڈ کے ذمہ داروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وقف ترمیمی بل میں شامل نوٹ سے وقف آراضی کا سودا ہوسکتا ہے، تو مذکورہ انکشاف کردیا گیا۔ اس سے قبل یہ انکشاف کیوں نہیں کیا گیا، جیسے سوال پر پرسنل لاء بورڈ نے خاموشی اختیار کررکھی ہے، حتیٰ کہ وہ اراکین بورڈ جو اکثر و بیشتر اخبارات میں مختلف ایشوز پر بورڈ کی جانب سے اس کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں، وہ بھی خاموش ہیں لیکن کیا بورڈ کی یہ خاموشی مسئلہ کی سنگینی کو کم کرے گی یا خدشات اور نااتفاقی کو مزید بڑھاوا دے گی؟

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب دہلی میں واقع نیو ہورائزن اسکول میں بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ حکومت کے ذریعہ تیار کردہ وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران، جب بعض اراکین بورڈ نے یہ سوال اٹھایا کہ وقف ترمیمی بل میں جو نوٹ لگایا گیا ہے، وہ انتہائی نقصاندہ ہے، کیونکہ اس سے وقف آراضی کو مخصوص حالات میں عدم استعمال کی بنیاد پر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح کی وقف آراضی کو فروخت کرنے کا فیصلہ وقف بورڈ کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت کرسکتی ہے۔ ان اراکین کا استدلال تھا کہ اس سے جہاں ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں وقف کی ایک بڑی تعداد کو وقف کا، منشا کے خلاف استعمال کرنے کی بنیاد پر فروخت کرنے کا راستہ کھل جائے گا اور ملک میں بچے کھچے اوقاف کو بھی ختم کردے گا، جو کہ شریعت کے حکم اور واقف کی منشا کے خلاف ہوگا۔ یہ صورتحال اس لیے پیچیدہ شکل اختیار کرگئی کہ ’وقف بھون‘ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اقلیتی امور کے وزیر کے رحمن خاں نے اخباری نمائندوں کے ایک سوال کے جواب میں صاف صاف کہا کہ ’’سلیکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اوقاف کی جگہ کو فروخت کرنے کی بات نہیں کہی ہے، بلکہ چند تنظیموں کا یہ خیال ہے کہ ’’اگر اوقاف کی جگہ استعمال میں نہیں آرہی ہے اور نہ ہی اس کے مستقبل میں استعمال میں آنے کی گنجائش ہے اور اسے بچایا نہیں جاسکتا، تو وقف ایکٹ 1995 میں اسے فروخت کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔‘‘

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا، جب دہلی میں واقع نیو ہورائزن اسکول میں بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ حکومت کے ذریعہ تیار کردہ وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران، جب بعض اراکین بورڈ نے یہ سوال اٹھایا کہ وقف ترمیمی بل میں جو نوٹ لگایا گیا ہے، وہ انتہائی نقصاندہ ہے، کیونکہ اس سے وقف آراضی کو مخصوص حالات میں عدم استعمال کی بنیاد پر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح کی وقف آراضی کو فروخت کرنے کا فیصلہ وقف بورڈ کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت کرسکتی ہے۔ ان اراکین کا استدلال تھا کہ اس سے جہاں ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش میں وقف کی ایک بڑی تعداد کو وقف کا، منشا کے خلاف استعمال کرنے کی بنیاد پر فروخت کرنے کا راستہ کھل جائے گا اور ملک میں بچے کھچے اوقاف کو بھی ختم کردے گا، جو کہ شریعت کے حکم اور واقف کی منشا کے خلاف ہوگا۔ یہ صورتحال اس لیے پیچیدہ شکل اختیار کرگئی کہ ’وقف بھون‘ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اقلیتی امور کے وزیر کے رحمن خاں نے اخباری نمائندوں کے ایک سوال کے جواب میں صاف صاف کہا کہ ’’سلیکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اوقاف کی جگہ کو فروخت کرنے کی بات نہیں کہی ہے، بلکہ چند تنظیموں کا یہ خیال ہے کہ ’’اگر اوقاف کی جگہ استعمال میں نہیں آرہی ہے اور نہ ہی اس کے مستقبل میں استعمال میں آنے کی گنجائش ہے اور اسے بچایا نہیں جاسکتا، تو وقف ایکٹ 1995 میں اسے فروخت کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔‘‘ پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا عطاء الرحمن قاسمی کہتے ہیں کہ البتہ وقف ترمیمی بل 2010 میں اس شق (جس میں فروخت کرنے کی تجویز شامل ہے) کے نیچے حاشیہ پر یہ نوٹ لگایا گیا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجویز پر وقف جائیدادوں کو فروخت کرنے کی تجویز کو شامل کیا گیا ہے۔ ان اراکین بورڈ کا کہنا تھا کہ بورڈ کے بعض اراکین بورڈ کی اکثریت کو اندھیرے میں رکھ کر بالا ہی بالا کچھ ایسے فیصلے لے رہے ہیں، جو بورڈ کے شایان شان نہیں ہیں۔
ان اراکین بورڈ کو جب مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اطمینان نہیں ہوا، تو انھوں نے اپنے ان خدشات کے اظہار کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور مذکورہ تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے پرسنل لاء بورڈ سے صورتحال کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد بورڈ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل عبدالرحیم قریشی نے اخباروں کو جاری اپنے پریس بیان میں ان اراکین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ پر الزام تراشی فتنہ پرور ذہنیت کا ثبوت ہے اور انگلی اٹھانے والوں میں سے ایک بابری مسجد کا سوداگر ہے۔ اعتراض کرنے والوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وقف کے قوانین میں وقف جائیدادوں کی فروخت پر پابندی ہے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اب ان کی فروخت کی ترمیم لارہا ہے۔ یہ بات جھوٹ اور غلط ہے۔ وقف قوانین میں وقف بورڈ کو وقف آراضی کو فروخت کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اسی بنیاد پر مہاراشٹر وقف بورڈ نے کئی وقف سودے کیے اور دیگر ریاستوں میں بھی وقف بورڈوں نے وقف کی زمینوں کو فروخت کیا، لیکن اس کی آمدنی سے ان ہی اوقاف کے لیے جائیدادیں نہیں خریدیں، جس کی وجہ سے یہ اوقاف ختم ہوگئے۔ پرسنل لاء بورڈ نے فروخت کرنے کے اس اختیار کو محدود کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ وقف بورڈ کو وقف جائیدادوں کے ہبہ اور رہن رکھنے کے اختیارات بالکلیہ ختم کردیے جائیں اور وقف کی جائیداد تحفہ کے طور پر نہ دی جاسکتی ہے اور نہ کسی سے کچھ لے کر رہن کی جاسکتی ہے۔ فروخت کے سلسلے میں یہ شرط ہے کہ اس زمین یا جائیداد کا منشا اور مقاصد کے لیے استعمال ناممکن سا ہوگیا ہو، تب وقف بورڈ اس کی فروخت کا فیصلہ کرے اور دو تہائی اراکین کی اکثریت سے یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کی منظوری وقف ٹربیونل یا وقف کونسل سے حاصل کرے۔ عام اعلان یا نیلامی کے ذریعہ فروخت کا انتظام ہو اور اس کی آمدنی سے اسی مقصد و منشا کے لیے جائیداد دوسری جگہ خریدکر وقف کی جائے۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے اوقاف ان جگہوں پر ہیں، جہاں سے مسلم آبادی تقریباً ختم ہوچکی ہے، جن سے واقف کا منشا فوت ہوچکا ہے اور اس کی آمدنی بھی نہیں ہے۔ اگر ان کو فروخت کرکے دوسری جگہ ان ہی مقاصد کے لیے جائیداد نہیں لی گئی، تو یہ اوقاف ختم ہوجائیں گے۔
اسی درمیان بورڈ کے ایک سینئر رکن جنہیں عبدالرحیم قریشی نے اپنے مذکورہ بیان میں بابری مسجد کا سوداگر کہا تھا، نے صدر بورڈ مولانا رابع حسنی ندوی کو ایک 5 نکاتی خط لکھ کر ان سے اپیل کی کہ وہ اس اہم معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے اس غلط فہمی کو دور کریں۔ رکن مجلس عاملہ مولانا احمد علی قاسمی نے صدر بورڈ کو لکھے اپنے خط میں پوچھا ہے کہ (۱) وقف جائیداد کی مشروط فروختگی کے سلسلے میں بورڈ کی کوئی میٹنگ ہوئی تھی یا نہیں؟ اور اگر ہوئی تو کب اور کہاں؟ (۲) وقف جائیداد کو شرعاً فروخت کرنے کی اجازت ہے یا نہیں، (۳) مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے سلیکٹ کمیٹی کے مسودہ میں درج ہے کہ ’’مشروط فروختگی وقف جائیداد کی اجازت‘‘ (۴) وقف جائیداد کا 75 فیصد حصہ تو ضائع ہوچکا ہے، جس میں خودغرض، مفادپرست مسلمان، مسلم متولیوں، مسلم ادارے اور تنظیمیں، ریاستی وقف بورڈ اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کا ہاتھ رہا ہے۔ اس کے بعد 4 لاکھ وقف جائیدادیں بچی ہوئی ہیں، اگر مشروط فروختگی کی اجازت دی گئی، تو یہ سب برباد ہوجائیں گی۔ ان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ سلیکٹ کمیٹی کے مسودہ سے وہ فروختگی کا نوٹ واپس کرایا جائے۔ چند جائیدادوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ خط میں آخری نکتہ جو کہ نمبر (۵) ہے، میں لکھا کہ آپ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر ہیں، آپ سے درخواست ہے کہ جن لوگوں نے وہ نوٹ شامل کرایا ہے، ان کا مواخذہ فرمائیں اور آپ کی طرف سے واضح اعلان آجائے کہ وقف جائیدادوں کی مشروط فروختگی کی اجازت بورڈ نہیں دے سکتا، جیساکہ آپ نے رکن پارلیمنٹ محمد ادیب سے ملاقات کے موقع پر فرمایا تھا۔ اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ صدر بورڈ کو یہ خط مل گیا ہے، لیکن ابھی تک بورڈ کی جانب سے ایسی کوئی وضاحت دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے 2010 میں وقف ترمیمی بل تیار کرایا تھا، جسے اس وقت کے اقلیتی وزیر سلمان خورشید نے نہایت ہی برق رفتاری کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک گھنٹہ میں اسے لوک سبھا سے پاس کروا لیا۔ لیکن جب پرسنل لاء بورڈ نے اس کا جائزہ لیا، تو پایا کہ اس میں بہت سی کمیاں ہیں، حتیٰ کہ پرسنل لاء بورڈ کی کئی اہم تجاویز بشمول جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی بھی بعض اہم سفارشات کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے بعد بورڈ نے راجیہ سبھا کے بعض ارکان سے ربط پیدا کرکے انھیں اس پر اعتراض کرنے کے لیے تیار کیا۔ چنانچہ جب راجیہ سبھا میں اس بل پر اعتراض ہوا، تو حکومت نے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کردیا، جس کے صدر سیف الدین سوز بنائے گئے۔ اس کمیٹی کے سامنے پرسنل لاء بورڈ نے اپنا موقف پیش کیا اور تقریباً چار میٹنگوں میں اس نے اپنا نقطۂ نظر سلیکٹ کمیٹی کے سامنے رکھا، لیکن سلیکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کچھ ایسے نکات کو بھی شامل کردیا، جو وقف قانون 1995 میں شامل نہیں تھے۔ جیسے وقف کی تعریف میں یہ شرط جوڑ دی گئی کہ وقف کرنے والا مسلمان ہو۔ یہ شرط وقف کے قوانین میں 1954 سے لے کر 1995 تک نہیں تھی۔ بورڈ کا اصرار رہا ہے کہ ایک غیر مسلم بھی اگر ان مقاصد کے لیے، جن کو اسلام میں کارِثواب بتایا گیا ہے، کچھ مستقلاً بنا دیں، تو وہ بھی وقف ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں جہاں مسلم بادشاہوں نے مندروں کے لیے زمینیں، جائیدادیں دیں وہاں بعض ہندو راجائوں نے اپنی ریاست کے مسلمانوں کے لیے مسجدیں وغیرہ بھی بنوائیں۔ اس لیے وقف کرنے والا غیر مسلم بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس تجویز کو سلیکٹ کمیٹی نے رد کردیا۔ وقف سروے کے بارے میں قانون یہ ہے کہ وقف کا سروے سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے بعد ایک سال کے اندر اس میں درج کسی جائیداد کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ بورڈ کی تجویز تھی کہ کسی جائیداد کے سرکاری گزٹ میں بحیثیت وقف شائع ہونے کے ایک سال بعد بھی اگر کوئی اس کے خلاف عدالت میں چیلنج نہ کرے، تو ریوینو ریکارڈ میں تبدیل تصور کیا جائے، یعنی اسے وقف جائیداد سمجھا جائے، کیونکہ ہزارہا ایسی جائیدادیں ہیں، جو گزٹ میں بحیثیت وقف کے شائع ہونے کے 50 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ریوینو ریکارڈ میں ان کا اندراج سرکار کے نام یا کسی اور کے نام ہے، جس کی وجہ سے بہت سی جائیدادیں ضائع ہوچکی ہیں۔ گزٹ میں اشاعت کی قطعیت قرار دینے کی تجویز بھی سلیکٹ کمیٹی کو قبول نہیں ہوئی۔
موجودہ قانون کی دفعہ 87 کی رو سے اگر کوئی وقف رجسٹرڈ نہ ہو، تو اس کو عدالت میں چارہ جوئی کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اس دفعہ کی وجہ سے غیر رجسٹرڈ وقف پر ناجائز قبضہ کرنے میں ناجائز قابضین کو سہولت ہوتی ہے کہ اس کے خلاف کوئی عدالت نہیں جا پاتا ہے۔ آندھراپردیش ہائی کورٹ نے اس دفعہ کی بنیاد پر ایک ایسا فیصلہ دیا، جس کی وجہ سے ایک دیہات کی مسجد سے مسلمانوں کو ہاتھ دھونا پڑا۔ بورڈ کا مطالبہ رہا ہے کہ اس دفعہ کو ختم کردیا جائے اور اسے قانون سے حذف کردیا جائے۔ یہ تجویز بھی سلیکٹ کمیٹی سے پاس نہ ہوسکی۔ انبالہ کے ادارہ اسلامی اور انجمن اوقاف نے بھی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، اقلیتی امور کے وزیر کے رحمن خاں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 3 کی شق (ایس) کے چلتے انبالہ، نارنول، پانی پت اور پنجاب کے شہر فرید کوٹ میں وقف بورڈ کے ہاتھوں سے تقریباً ایک کھرب کی بیش قیمت جائیدادیں نکل سکتی ہیں، کیونکہ اس دفعہ کی رو سے ہر جائیداد کا وقف نامہ ہونا ضروری ہے۔ ان ریاستوں کی عدالتیں اس دفعہ کے سبب مقدمات میں وقف نامے مانگ رہی ہیں، لہٰذا وقف ترمیمی بل 2010 سے اس دفعہ کو ہٹایا جائے اور صاف صاف یہ لکھا جائے ’جن وقف زمینوں کا اندراج مالی ریکارڈ میں ہے، ان کو وقف تسلیم کیا جائے۔‘ چونکہ ابھی وقف ترمیمی بل کا مسودہ سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کتنی سفارشات مانی گئیں اور کتنی نہیں، اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن توقع یہی ہے کہ بورڈ کی بیشتر دفعات کو مان لیا گیا ہوگا۔ ویسے جزوی ترمیم کا موقع اس وقت ملے گا، جب پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہوگا۔
اب جب کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس وقف ترمیمی بل کو حکومت کے ذریعہ پیش کیے جانے کا امکان ہے، تو اس پراٹھے تنازعہ نے اس کے پیش کیے جانے کے امکان کو سرد خانے میں ڈھکیل دیا ہے۔ لیکن، کیا موجودہ حالت میں اسے پاس کرنے کی صورت میں یہ وقف جائیدادوں کے تحفظ میں مؤثر ثابت ہوسکے گا یا اس کا سردخانے میں ڈال دیا جانا اور متعلقہ ترمیمات کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنا ہی مسئلہ کا حل ہے، جیسے معاملوں پر ملت میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔
انور علی ایڈوکیٹ کے مطابق، اس وقت ترمیمی بل کا مرکزی مقصد کارپوریٹ اور ریئل اسٹیٹ کو فائدہ پہنچانا ہے۔ یہ سیکٹر پچھلے کئی سالوں سے اوقاف کی جائیدادوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ممبئی کے پوش علاقے میں بوہرہ وقف جائیداد کو مہاراشٹر وقف بورڈ کے عہدیداران سے مل کر ہندوستان کے سب سے بڑے کارپوریٹ گھرانے نے ریلائنس ہائوس تعمیر کیا ہے۔ اس غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کسی بھی مسلم تنظیم، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وکیل جو مہاراشٹر اور اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، نے بھی کوئی قانونی کارروائی بوہرہ وقف جائیداد کو امبانی کے ناجائز قبضہ سے واگزار کرانے کے لیے نہیں کی۔ ریلائنس ہائوس آب و تاب اور شان سے ملت اسلامیہ کے رہنمائوں کا منھ چڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ ترمیم میں ’کمیونٹی تعلیم‘ مبہم الفاظ ہیں۔ ان کی مختلف تشریحات اولاً ریاستی حکومت اور اس کا تشکیل کردہ وقف بورڈ کرنے کا مجاز ہوگا اور آخر میں عدلیہ کی تشریح ہوگی اور اس طرح ایک نیا تنازعہ بپا ہوگا۔ پرائم لوکیشن کی جائیدادیں مسلم پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بہ آسانی دی جاسکیں گی۔ یہ مسلم اقلیتی تعلیمی ادارے حقیقت میں جدید علم کی تجارت کے شو روم اور مالس (Malls) ہیں۔ ملی شناخت اور اقلیتی تعلیم کے نام پر لاکھوں روپے فیس کے طور پر لیتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں عام مسلم بچے تعلیم نہیں پاتے، کیونکہ ان کے لیے ان کی بھاری بھرکم فیس کی ادائیگی ممکن نہیں ہوتی ہے۔ وقف جائیدادوں کی خرید و فروخت اور لینر کی مجوزہ ترمیم پر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی اپنی رضامندی دی ہے کہ وہ وقف جائیداد (چاہے وہ مسجد ہی ہو) اگر ایسے علاقے میں ہے، جہاں مسلمان آبادی نہیں ہے، تو اس کو فروخت کرکے اصولاً جنس قریب کے تحت فروخت کرکے اس کی قیمت سے دوسری وقف جائیداد خریدی جائے۔ کیا یہ بابری مسجد آراضی کو فروخت کرنے کا دیباچہ ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *