اتراکھنڈ کی مدد ہر ہندوستانی کا فرض ہے

سنتوش بھارتیہ
اتراکھنڈ کی آفاتِ سماوی کیا خداکی طرف سے نازل کی گئی آفات ہیں؟ کیا یہ بھگوان کی ناراضگی کا نتیجہ ہے، یا یہ (ہندو عقیدہ کے مطابق) گنگا ماں کے غصے کا نتیجہ ہے؟ ہم ہندوستان کے لوگ نقصان اٹھانے کے بعد اپنے من کو مطمئن کرنے کے لیے بھگوان پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں اور یہ عادت انہیں بچا لے جاتی ہے، جو آفاتِ سماوی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس بار بھی یہی ہو رہا ہے۔
انا ہزارے کی یاترا اُتراکھنڈ میں 13 مئی سے 24 مئی تک چلی۔ ایک صحافی کے ناتے میں بھی اس یاترا میں شامل ہوا۔ اِس یاترا میں، میں ہر اُس مقام پر گیا، جہاں آج اخباروں میں تباہی کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔شری نگر ہو یا چمولی، رودر پریاگ اور باگیشور، ہر جگہ تباہی کا منظر ہے۔ کل ملا کر گڑھوال والا حصہ تاریخ کی سب سے بڑی تباہ کاری کا گواہ بن گیا ہے۔ اِس یاترا میں جاتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ ضلع کی سطح کے ہیڈ کوارٹر پر طبی سہولیات نہیں ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ اتراکھنڈ میں بنیادی ڈھانچوں کی دیکھ ریکھ کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہاں نظم و نسق کی اکائیاں نہیں ہیں اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اتراکھنڈ میں کسی کو اس کی فکر بھی نہیں ہے۔
میں مثال کے طور پر اترکاشی کا نام لیتا ہوں۔ جب ہم اترکاشی گئے، تو ہمیں اتر کاشی کے صحافی دوستوں اور باشندوں نے بتایا کہ ابھی سال بھر پہلے اتر کاشی میں سیلاب کی وجہ سے کافی تباہی مچی تھی اور آس پاس کے زیادہ تر گھر ٹوٹ کر ندی میں گر گئے تھے۔ اس کی صفائی اور ندی کے اُتھلے پن کو دور کرنے کے لیے پیسوں کا انتظام بھی ہوا تھا، لیکن جان بوجھ کر کوئی بھی کام بارش سے پہلے شروع نہیں کرایا گیا۔ اتر کاشی کے لوگوں نے صاف کہا کہ اِس بار اتر کاشی تباہ ہو جائے گا، کیوں کہ بدعنوانی کی وجہ سے ندیوں میں مٹی بھر گئی ہے، صفائی نہیں ہوئی ہے، کنارے ٹوٹ رہے ہیں اور اِس بار کی بارش تباہی لائے گی۔ اِس بات کا ذکر انا ہزارے کی عام ریلیوں میں بھی ہوا، لیکن کسی نے دھیان ہی نہیں دیا۔ اتراکھنڈ کی سرکار نے، جس میں وزیر، اپوزیشن اور بیوروکریسی آتی ہے، اس نے جان بوجھ کر اتر کاشی کو تباہ کیا۔ یہی حال شری نگر، ٹہری، گوپیشور، باگیشور، چمولی، یعنی ہر جگہ کا ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ لوگوں کو نہیں معلوم تھا کہ بارش ہوگی، کیوں کہ ہر سال بارش ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ سیلاب آئے گا۔ یہ کیسی سرکار ہے، جو یہ اندازہ نہیں لگا پائی کہ اِس سرحد تک اگر پانی آتا ہے، یا کون سی وہ سرحد ہے، جسے پار کرنے کے بعد تباہی مچ سکتی ہے، اس کی تیاری کرنی چاہیے تھی۔ یہ کیسی سرکار ہے اور کیسا اُس کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہے؟ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ صرف اتراکھنڈ کا نہیں، بلکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پورے ملک کا۔
شاید ہمارے یہاں سیلاب، قحط اور زلزلہ لوگوں کے کھانے کمانے کے نئے راستے ہیں۔ اتراکھنڈ کے لوگ مجھے فون کرکے کہہ رہے ہیں کہ اِس 1000 کروڑ روپے میں سے کم از کم 400 کروڑ روپے بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس دفعہ جو انفراسٹرکچر بنے گا، وہ اور بھی خطرناک ہوگا اور ایک بھی سیلاب یا ہلکے سے پانی کو جھیل نہیں پائے گا۔ وہاں کے لوگ راحت رسانی کے کاموں کی نگرانی اور نئی تعمیر کی ذمہ داری فوج کے ہاتھوں سونپنا چاہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر فوج اسے بنائے گی، تو شاید زیادہ صحیح بنائے گی کیوں کہ سویلین کنسٹرکشن کمپنیز اگر اس میں شامل ہوتی ہیں، تو بدعنوانی کا خطرہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لوگوں کا یہ بھروسہ ایشور کرے، بنا رہے۔ کم از کم فوج پر تو لوگوں کا بھروسہ ابھی ہے۔ حالانکہ فوج سے بھی اب بڑی بدعنوانی کی خبریں چاروں طرف نکلتی دکھائی دے رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے یہاں سب سے زیادہ ملک کو دھیان میں رکھ کر سوچنے والی اگر کوئی ایک اکائی ہے، تو وہ ہندوستان کی فوج ہی ہے۔
ماہرین ماحولیات جو بھی کہتے رہے ہوں، اُن باتوں پر ہم عمل نہیں کرتے، کیوں کہ ان کی وارننگ کو تو ہم نے نہ سننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دراصل، ماحولیات کو ہمارے یہاں کبھی ترجیح دی ہی نہیں گئی۔ ماحولیات کو لے کر لوگوں میں کبھی عقیدت آئی ہی نہیں۔ گنگا یا الک نندا، بھاگیرتھی جیسی ندیوں کو ہم نے پرائیویٹ کمپنیوں کو سونپ دیا ہے۔ اُن کمپنیوں کی گندگی اِن ندیوں میں ملتی ہے۔ وہ کمپنیاں چھوٹے بڑے باندھ (ڈَیم) کی تعمیر یا غیر قانونی کنسٹرکشن کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ماحولیات کو زبردست نقصان ہوتا ہے، لیکن جو بھی ماحولیات کے نام پر آواز اٹھاتا ہے، یا تو اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یا پھر مار دیا جاتا ہے۔ شاید اتراکھنڈ کی سرکار یہ چاہتی ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے ہاتھ میں قانون لے لیں اور افواہ کی بنیاد پر تشدد برپا کریں۔
ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی خبریں یا تصویریں بتاتی ہیں کہ اتراکھنڈ کے افسران کے چہروں پر کہیں سے بھی درد اور تکلیف نظر نہیں آتی۔ وہ لوگوں کے درمیان نہیں جا رہے ہیں۔ سول ایڈمنسٹریشن کو اس پوری تباہی کے دوران صرف رپورٹ بھیجتے دیکھا گیا۔ فوج نے آگے بڑھ کر کام کیا اور اسی لیے فوج کے جوانوں کی جانیں بھی گئیں۔ اتراکھنڈ کی سرکار کو ، بلکہ پورے ملک کی سرکاروں کو کیا اب بھی یہ سمجھ میں آئے گا کہ لوگوں کی زندگی سے کھیلنے کا شوق کتنا خطرناک ہے! ہزاروں لوگوں کی موت، کروڑوں اَربوں کا نقصان اور وہ بھی صرف اس لیے، کیوں کہ سرکاریں یا سرکار میں شامل افسر اور کہیں کہیں پر وزیر، قدرتی آفات کے بعد کے ریلیف فنڈ میں سے کتنا کھانا ہے، یہ پہلے سے ہی طے کر چکے ہوتے ہیں۔ افسر جو بدعنوانی کرتے ہیں، ان میں سرکاری افسروں کے نام بھی آتے ہیں، این جی او کے نام بھی آتے ہیں، کچھ اخباروں کے نام بھی آتے ہیں، جو ڈیزاسٹر ریلیف کے نام پر مدد دے کر ایک طرف اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور دوسری طرف انہیں اِنکم ٹیکس میں بھاری چھوٹ مل جاتی ہے۔
اتراکھنڈ میں آئی تباہی کو وزیر اعظم نے ان سطور کے لکھے جانے تک نیشنل ڈیزاسٹر ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ لوگ اپنی طرف سے مدد لے کر اتراکھنڈ جا رہے ہیں، لیکن کوئی بھی اپنی مدد، وزیروں یا وزرائے اعلیٰ کو چھوڑ کر، سرکاری ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ، چیف منسٹر ریلیف فنڈ یا پرائم منسٹر ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ میں نہیں دے رہا۔ پہلے کسی بھی نیشنل ڈیزاسٹر کے وقت لوگ آگے بڑھ چڑھ کر ان ریلیف فنڈوں میں اپنی مدد پیش کرتے تھے۔ سرکاروں کی ختم ہوتی ساکھ کی یہ زندہ مثال ہے۔ اس قدرتی آفت کے وقت عام لوگ نہیں کھڑے ہو رہے ہیں۔ شاید عوام خود کو بے یار و مددگار مان رہے ہیں اور یہ مان رہے ہیں کہ یہ سرکار کا کام ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اتراکھنڈ کے لوگ ہمارے اپنے لوگ ہیں، غریب لوگ ہیں۔ وہ پہاڑ سے اتر کر میدان میں روزی روٹی کمانے کے لیے آتے ہیں۔ گاؤں میں ان کی بیوی، چھوٹے بچے، بوڑھے ماں باپ رہ جاتے ہیں اور انہی سارے لوگوں نے اِس خطرے کو جھیلا ہے اور اپنی جانیں دی ہیں۔ اِن لوگوں کے لیے کیا ملک کے لوگ نہیں کھڑے ہوں گے؟ مرکزی حکومت یا ریاستی حکومتیں نہ کھڑی ہوں، پر لوگوں کو تو اس کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ الزامات لگیں گے کہ راحت رسانی میں کچھ لوگوں نے کہیں بدعنوانی کر لی۔ کچھ لوگوں کے پاس کہیں سے پیسہ آیا، انہوں نے اس میں سے تھوڑا سا کھا لیا، لیکن جب لوگ کھڑے ہوں گے، تو زیادہ تر لوگوں کی مدد اتراکھنڈ پہنچے گی۔ اتراکھنڈ میں مدد جانی ہی چاہیے، چھوٹی ہو یا بڑی، لیکن ہندوستان کے لوگوں کی مدد جانی چاہیے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کے لوگ مصیبت کی اس گھڑی میں اتراکھنڈ کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور کم از کم اُن لوگوں کو یہ احساس کرائیں گے کہ وہ بھی اس ملک کے باعزت شہری ہیں۔ اور ایسے میں، ہمیں یہ ثابت کرنے کا موقع ملے گا کہ ملک میں کہیں بھی آفاتِ سماوی آئیں، ہم ایک ہندوستانی کے ناتے ہندوستان میں رہنے والے ہر آدمی کی تکلیف میں اس کے ساتھ ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *