اکھلیش سرکار کی کابینہ میں تیسری توسیع : ترقی کا نعرہ، ذات پات کا سہارا

اجے کمار 
p-5اتر پردیش کے جوان سال وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو 16 مہینے کی حکومت میں تیسری مرتبہ اپنی ٹیم (کابینہ) کو مضبوطی دینے کے لئے توسیع کا سہارا لینا پڑا۔ ویسے توکابینہ میں کون رہے گا اور کون نہیں، یہ طے کرنا وزیر اعلیٰ کا حق ہے لیکن اس کا اثر پوری ریاست پر پڑتا ہے۔ اس لئے ایسے مسئلوں پر کسی کو بھی تبصرہ کرنے کا اختیار ہے ۔ خاص طور پر یہ اس وقت اور بھی ضروری ہوجاتاہے جب ریاست کے ’سلطان‘ عوام کے سامنے ترقی کا نعرہ دیتے ہیں اور پیچھے سے اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لئے ذات پات کی سیاست ( کابینی سطح پر توسیع یہی پیغام دیتی ہے)کا سہارا لیتے ہیں ۔وہ ایسے قدم کسی کے دبائو میں اٹھاتے ہیں یا پھر ٹیک نوٹیک سی ایم کو سیاست کا یہ راستہ (ذات پات) زیادہ آسان لگتا ہے۔ اکھلیش کی سیاست میں کرنے اور کہنے کا فرق سماجوادی پارٹی اور خود ان کے لئے خوشگوار نہیں کہا جاسکتا ہے۔ریاست کے عوام اور خاص طور پرنو جوانوں نے اکھلیش کو اس لئے ووٹ دیا تھا کیونکہ انہوں نے صاف ستھر ی سوچ کی سیاست میں انٹری کیا تھا۔ امید تھی کہ وہ ریاست کی سیاست کا چہرہ بدلنے والے ’’ہیرو‘‘ ثابت ہوں گے اور دہائیوں سے مفلوج بن گئی ذات پات کی سیاست سے چھٹکارا دلائیںگے، لیکن اکھلیش نے اپنی سیاست کو کنبے کی خواہشوں کے لئے بالائے طاق رکھ دیا۔ اس بات کا احساس ایک بار پھر کابینہ توسیع میں دیکھنے میں آیا ہے ۔ وہ بینی بابو کی کاٹ تلاش کرتے، ذات پات اور علاقائی توازن قائم کرتے،بہو جن سماج پارٹی، کانگریس اور بی جے پی کو گھیرنے، سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کی ناراضگی سے بچنے ، انتہائی پچھڑوں کو لبھانے ، لوک سبھا چنائو میں سماجوادی پارٹی کی نیا پار لگانے کے چکر میں ریاست کی ترقی اور قانون و سسٹم کی بات بھول گئے۔ اس بات کا آغاز کابینہ توسیع کے دوسرے دن اعظم گڑھ میں بہو جن سماج پارٹی لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی سرویش کے قتل سے ہو گیا کہ ریاست میں جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں۔وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی کابینہ میں توسیع کے مضمرات نکالے جائیں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ سماجوادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو کی منشا کو وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو پروان چڑھا رہے ہیں۔ کابینہ میں توسیع کے ذریعہ بینی پرساد ورما کو گھیرنے اور پچھڑوں پر ڈورے ڈالنے کے ساتھ ہی صوبے کو مشرقی علاقوں میں پارٹی کی جڑیں مضبوط کرنے کی قواعد سماجوادی پارٹی لیڈروں کے بیچ صاف دکھائی دی۔ اکھلیش کابینہ میں شامل کیے گئے چاروں وزیر مشرقی علاقے کے ہیں۔ ان میںنارد رائے کو چھوڑ کر دیگر تینوں پچھڑے طبقے سے آتے ہیں۔

۔ بینی ورما نے حالیہ دنوں میں اپنے سیاسی حریف رہے سماجوادی پارٹی کیسپریمو ملائم سنگھ یادو پر تلخ تبصرہ کیا تھا،جس سے دونوں کے تعلقات اور تلخ ہو گئے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انتخابی فکر میں ڈوبے بینینے وقت رہتے ملائم کے تئیں اپنے سُر بدل لئے لیکن ابھی بھی سماجوادی کو بینی پرساد کی پربھروسہ نہیں ہوا ہے۔رام مورتی ورما کو ترقی دے کر مرکزی اسٹیل منسٹر کو گھیرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کچھ باتیں چونکانے والی بھی ہوئیں۔ غیر متوقع طریقے سے رام مورتی ورما کو ترقی دی گئی۔ ورما امبیڈکر نگر ضلع کی اکبر پور اسمبلی حلقہ سے ممبر ہیں ۔ وہ ڈیری ڈویلوپ منٹ منسٹر تھے۔ انہیں کابینہ وزیر بناکر ان کا سیاسی قد بڑھا دیا گیا ۔ ایسا بینی کی وجہ سے کیا گیا۔ مرکزی وزیر برائے اسٹیل بینی پرساد ورما نے حال میں ہی امبیڈکر نگر کے اکبر پور اسمبلی حلقے میں اسٹیل کے ایک بڑے کارخانے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس سے سماجوادی پارٹی کے کان کھڑے ہو گئے۔ امبیڈکر نگر میں کورمی ذات کے ووٹروں کا اوسط اچھا خاصا ہے۔ اسی لئے بینی کے اکبرپور اسمبلی حلقے سے انتخاب لڑنے کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ مانا جارہاہے کہ ورما کو گھیرنے اور کورمی برادری میں ایک بڑے لیڈر ابھارنے کی کوشش میں رام مورتی ورما کو کابینہ وزیر بنایا گیا ہے۔ سماجوادی پارٹی 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں بینی کو کسی بھی طرح جیت سے دور رکھنا چاہتی ہے ۔ بینی ورما نے حالیہ دنوں میں اپنے سیاسی حریف رہے سماجوادی پارٹی کیسپریمو ملائم سنگھ یادو پر تلخ تبصرہ کیا تھا،جس سے دونوں کے تعلقات اور تلخ ہو گئے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انتخابی فکر میں ڈوبے بینینے وقت رہتے ملائم کے تئیں اپنے سُر بدل لئے لیکن ابھی بھی سماجوادی کو بینی پرساد کی پربھروسہ نہیں ہوا ہے۔رام مورتی ورما کو ترقی دے کر مرکزی اسٹیل منسٹر کو گھیرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کابینہ وزیر کی شکل میں حلف لینے والے ایک دیگر لیڈر نارد رائے ریاست کے سابق ضلع بلیا کی صدر سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں اور رائے بھومہار برادری سے آتے ہیں ۔ مشرق میں اس ذات کی اچھی خاصی تعداد ہے اور ووٹ بینک مضبوط ہے۔بھومہار عام طور پر کسی پارٹی سے چمٹے نہیں رہتے ،اس لئے سماجوادی پارٹی کی اس برادری پر نظریں کافی وقت سے لگی تھیں۔ ملائم سنگھ یادو نے نارد رائے کو اکھلیش یادو سرکار میں شامل کرواکر بھومہار قیادت ابھارنے اور اس ذات کو اپنی پارٹی کی اطرف کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ تیسرے کابینی وزیر کے روپ میں غازی پور کے کیلاش یادو نے حلف لے لی ہے۔ کیلاش یادو کا ان کے ضلع غازی پور اور ان کے آس پاس کے حلقوں میں اچھا اثر ہے۔ مشرق پر سماجوادی پارٹی اس لئے زیادہ دھیان دے رہی ہیں کیونکہ یہ علاقہ بہو جن سماجوادی پارٹی، کانگریس اور بی جے پی کے زیادہ قریب ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے یہاں 21 میں 8 بی جے پی کے چار اور کانگریس کے تین ممبر پارلیمنٹ ہیں ۔سماج وادی پارٹی کے 6 ممبر پارلیمنٹ مشرق سے آتے ہیں ۔ اسٹیٹ منسٹر کی شکل میں حلف لینے والے گائتری پرساد پرجاپتی کو راہل کے پارلیمانی حلقے امیٹھی میں سیندھ لگانے اور انتہائی پچھڑی ذات کا انعام دیا گیا ہے۔ کانگریس کے باڑھمیں سماجوادی پارٹی کو طاقتور بنانے کے لئے پرجا پتی کا سیاسی قد بڑھا یا گیا ہے۔ پرجاپتی نہایت پچھڑوں کو سماجوادی کے حق میں گولبند کرنے کے لئے کافی وقت سے کام کر رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *