ترقی کے ثمرات سے مسلمان اور خاتون محروم کیوں؟

اے یو آصف
چھیتربرس قبل آئی سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی رپورٹوں سے معلوم ہوا تھا کہ مسلمان ملک میں ترقی کے ثمرات سے مجموعی طور پر محروم ہیں اور ان میں مسلم خواتین کی حالت تو اور بھی بدتر ہے اور اب نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (این ایس ایس او) کے 68ویں راؤنڈ کے سروے سے یہ انکشاف ہو رہا ہے کہ شدید گلوبل اقتصادی بحران کے دوران ملکی معیشت کی شرح میں 3.1کمی ہونے کی صورت میں بھی 13.9ملین افراد کے گزشتہ دو برسوں میں ملازمت حاصل کرنے کے’ شاندار ریکارٖ ڈ‘ میں خواتین بہت پیچھے یا ندارد ہیں۔ یہ ایک ایسے ملک کے لیے جہاں سرکاری طورپر اعداد و شمارکے مطابق مسلم آبادی کی شرح 13.4فیصد اور خواتین کی آبادی کی شرح 48.4فیصد ہے، یہ بہت ہی شرمناک بات ہے کہ کل آبادی کے 61.8فیصد مسلمان اور خواتین دونوں ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت میں 21ویں صدی میں کل آبادی کے 61.8 فیصد کے پیچھے رہنے سے ہندوستان کا خوشحال بننے اور عالمی قوت میں شامل ہونے کا خواب کیسے پورا ہوسکتا ہے؟
عجیب بات تو یہ ہے کہ این ایس ایس او کے تازہ سروے پر کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اس کا اتحاد یوپی اے بہت خوش ہے۔بر سر اقتدار گروپ اقتصادی مندی کے دور میں بھی 13.9 ملین ملازمت کے اضافے کو اپنے حق میں پیش کرکے اسے آئندہ انتخابات میں کیش کرنا چاہتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایک ایسے وقت جب اقتصادی بحران ملک میں بڑھتا جارہا تھا ، حکومت کے بہتر گورننس سے ملازمت میں 13.9 ملین بڑھوتری ہوئی اور بے کاری بڑی حدتک دور ہوئی۔
برسر اقتدار گروپ کی نظر دراصل 15 سے 35 برس کی عمر کی اس نئی نسل پر ہے جو کہ 81.4 فیصد ہے، مگر وہ اس تلخ اور تکلیف دہ حقیقت سے بے خبر ہے کہ 81.4 فیصد کی اس نئی نسل میں مسلمان اور خواتین جو کہ ترقی کے ثمرات سے بڑی حد تک محروم ہیں ، ان سے خفا ہیں اور ان کو انہیں منانا اور اعتما د میں لینا بہت مشکل اور بعض حالات میں ناممکن بھی ہوجائے گا۔

برسر اقتدار گروپ کی نظر دراصل 15 سے 35 برس کی عمر کی اس نئی نسل پر ہے جو کہ 81.4 فیصد ہے، مگر وہ اس تلخ اور تکلیف دہ حقیقت سے بے خبر ہے کہ 81.4 فیصد کی اس نئی نسل میں مسلمان اور خواتین جو کہ ترقی کے ثمرات سے بڑی حد تک محروم ہیں ، ان سے خفا ہیں اور ان کو انہیں منانا اور اعتما د میں لینا بہت مشکل اور بعض حالات میں ناممکن بھی ہوجائے گا۔

قابل غور بات تو یہ بھی ہے کہ کانگریس قیادت والے یو پی اے کے دور میں ان 13.9 ملین ملازمتوں میں زیادہ تر ملازمتیں ویسی ہیں جو کہ نچلی سطح کی ہیں اور وہ بہت اہم بھی نہیں ہیں۔ یہ ملازمتیں کیزوئل لیبر کی نسبت سے ہیں اور کم ضروری ہیں۔پلاننگ کمیشن کے قبل آئے ڈاٹا سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں 2004-05 اور 2009-10 کے درمیان دوسرے نصف میں تعمیرات (Construction)کے شعبہ میں زیادہ تر نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ مینو فیکچرنگ سیکٹر میں ملازمتوں کا گراف نیچے آیا ہے۔ علاوہ ازیںیہ بھی حقیقت ہے کہ Job loss growth ہواہے کیونکہ آرگنائزڈ سیکٹر میں ملازمتیں بالکل نہیں بڑھ رہی ہیں۔ اعدادو شمار کو دیکھنے پر تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کے دور میں ملازمتیں سبھی سیکٹروں میں بڑھیں جبکہ یو پی اے کے زمانے میں یہ زیادہ تر کیزوئل ہو کر رہ گئیں۔
این ایس ایس او کی تفصیلات کی روشنی میں بی جے پی قیادت والی این ڈی اے کے 1999-2000 سے لے کر 2004-05 تک اور کانگریس قیادت والی یوپی اے کے ادوار میں مختلف قسموں کی ملازمتوں میں ان دونوں اتحادوں کی پوزیشن بہت ہی چونکانے والی ہے۔ اس کے مطابق، خود ساختہ یا سیلف ملازمتوں میں این ڈی اے کے دور میں 49.1ملین اور یو پی اے کے وقت میں 13.2 ملین، مستقل یا ریگولر ملازمتوں میں این ڈی اے کے زمانے میں 11.6ملین اور یو پی اے کے دور میں 18.4 ملین اور عارضی یا کیزوئل ملازمتوں کے تعلق سے این ڈی اے کے دور میں 0.6 ملین اور یو پی اے کے وقت میں 9.4 ملین اضافہ یا کمی ہوئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ این ڈی اے کے زمانے میں 60.1ملین ملازمتیں اور یو پی اے کے دور میں اب تک صرف 14.6 ملین ملازمتیں بڑھی ہیں۔
خواتین کی ملازمت کے تعلق سے این ایس ایس او کاسروے بہت ہی منفی تصویر پیش کرتاہے۔ اس کے مطابق خواتین کے لیبر فورس کی شرکت کی شرح 2004-05 میں 29.4 فیصد سے کم ہو کر 2009-10 میں 23.3 فیصد اور 2011-12 میں 21.9 فیصد تک نیچے پہنچ گئی ہے۔
ان سب سرکاری حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یو پی اے کی ملازمتوں کے تعلق سے دعوئوں میں بھی کتنا کھوکھلا پن ہے اور ملازمت کی سطح متوقع سطح سے بہت نیچے ہے اور ملازمت کا جو معیار یا کوالٹی ہے،اس پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ چونکانے والی دوسری اہم بات یہ ہے کہ ریاستی اور یونین ٹیریٹوری سطحوں پر بھی صورت حال بہت ہی مایوس کن ہے۔ 15-59 برس کی عمر کے افراد کی فی ہزار ورکر تعداد کا اوسط تناسب 570 ہے۔تفصیلات سے یہ جانکاری ملتی ہے کہ 20 ریاستوں و یونین ٹیریٹوریز بشمول اترا کھنڈ(560)، مغربی بنگال(560) ،ارونا چل پردیش(555)،منی پور (554)،پنجاب(552)،جموں و کشمیر(551)،تریپورا(546)،جھارکھنڈ (545)، اترپردیش (529)، کیرل (528)، دادر و ناگر حویلی (528)، گوا(512)،پوڈوچیری (505)،چنڈی گڑھ (504)، آسام(502)، ہریانہ (500)، ناگالینڈ(489)،دہلی (480)،لکشدیپ (468) اور بہار (438 )میں ملازموں کی پوزیشن اوسط تناسب سے نیچے ہے۔وہ 15 ریاستیں اور یونین ٹیریٹوریز جہاں اوسط تناسب سے ملازمتوں کی پوزیشن بہتر اور زیادہ ہے،حسب ذیل ہیں:سکم (735)، ہماچل پردیش (713)، چھتیس گڑھ (703)،میگھالیہ (663)،آندھرا پردیش(649)،میزوروم(645)،تمل ناڈو (614)،مہاراشٹر (612)،راجستھان (612)، گجرات (608)، اوڈیشہ(601)، کرناٹک(588)،دمن و دیو(587)،مدھیہ پردیش(583)، اور انڈومان و نکوبار جزائر(576)۔
ان تفصیلات سے یہ ظاہر ہے کہ ان ریاستوں و یونین ٹیریٹوری کی تعداد 20 ہے جو کہ اوسط تناسب سے کم اور جو اوسط تناسب سے زیادہ ہیں۔ ان کی تعداد صرف 15 ہے۔
علاوہ ازیں اوسط تناسب سے کم ملازمتوں والی ریاستوں اور یونین ٹیریٹوریز میں بہت ہی اہم اور بڑے علاقے شامل ہیں ۔جیسے اتر پردیش، اترا کھنڈ، بہار ، دہلی، مغربی بنگال، جموں و کشمیر،پنجاب ، کیرل اور آسام ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا تلخ حقائق کے رہتے ہوئے ہم کیسے اور کس طرح یہ توقع کرسکتے ہیں کہ 12ویں پلان کے ڈاکومنٹس کے منصوبہ کے مطابق 2017 تک 502.4 ملین ملازمتیں وطن عزیز میںپیدا کی جاسکیںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *