شام: حقوق کی بازیابی کی تحریک سے خانہ جنگی تک

ملک شام میں مظاہرہ حقوق کی حصولیابی کے لئے ہوا تھا، مگر بشار الاسد کے ایپروچ نے اس مظاہرے کو خانہ جنگی میں تبدیل کردیا۔ ابتدا میں اس خانہ جنگی کا دائرہ شام تک ہی محدود تھا مگر جب ایران اور حزب اللہ نے بشار الاسد کی حمایت کا کھل کر اعلان کیا تو خلیجی ممالک میں بھی خانہ جنگی کا خوف محسوس کیا جانے لگا اور اسی وجہ سے جس انقلاب کا آغاز حقوق کی حصولیابی کے لئے ہوا تھا، اس کو کسی اور تنازع کی طرف موڑ دیا گیا، جس کا سب سے زیادہ نقصان وہاں کے عوام کو ہوریا ہے اور تحریک کا اصل ایشو گم ہوتا جارہا ہے اور شام بین الاقوامی ایشو بنتا جارہا ہے۔

p-9کچھ عرصہ پہلے عرب بہاریہ کے عنوان سے مشرق وسطیٰ میں جس تبدیلی کا آغاز ہوا تھا ۔ وہ تیونس اورمصر ہوتے ہوئے لیبیا میں جاکرختم ہوا نیز اس کے اثرات شام پر بھی پڑے اور بڑھتے ہوئے خانہ جنگی میں تبدیل ہوتے ہوئے محسوس ہورہا ہے۔ شام میں خانہ جنگی کا آغاز لیبیا کی طرز پر ہوا تھا، البتہ لیبیا کی خانہ جنگی میں معمر قذافی ہلاک ہو گئے۔ وہاں تو معاملہ باغیوں کی فتح پر رکا، لیکن شام میں بشار الاسد کی حکومت نے شدید مزاحمت کی۔ یوں یہ بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا اور فریقین میں سے کوئی بھی مکمل فتح حاصل نہیں کر سکا۔

اس بحران کو حل کرنے کے لیے سب سے زیادہ متحرک کردار عرب لیگ اور عالم اسلام کو ادا کرنا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے عالم اسلام اس بحران کو حلکرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیا،جبکہ امریکا ، یوروپ، روس اور چین وغیرہ اس خطے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اپنے اپنے مفاد کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔کوئی حکومت کے ساتھ ہے تو کوئی باغی گروپ کی حمایت میں کھڑا ہے۔امریکہ باغی گروپ کے ساتھ ہے ۔وہ انہیں اسلحہ فراہم کرنے کے حق میں ہے اور روس اس کی مخالفت کررہا ہے۔ اقوام متحدہ اس مسئلے کا حل باغی گروپ کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے ۔جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تو اس کے شام سے تہذیبی و تجارتی رشتے بہت ہی قدیم ہیں۔ دونوں ملکوں میںبر آمدات و درآمدات بڑے پیمانے پر ہوتے رہے ہیں۔ دونوں کے رشتوں کا اندازہ 2008 میں شامی صدر بشار الاسد کی ہندوستان آمد اور 2010 میں ہندوستانی صدر پرتبھا سنگھ پاٹل کے شام دورہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں کے رشتوں کی وجہ سے ہی شروع میں ہندوستان نے اس مظاہرے میں حکومت کی حمایت کی تھی۔ ہندوستان کو توقع تھی کہ بشار الاسدپُر امن طریقے پر اس مسئلے کا حل تلاش کر لیں گے، لیکن جلد ہی اسے احساس ہوگیا کہ وہاں جو کچھ بھی ہورہا ہے، اس سے عوامی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے ، لہٰذا 4 فروری 2012 کو ہندوستان نے اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی حمایت کردی ،جس میں 6 ماہ کے اندر شام میں انتخاب کراکر نئی حکومت قائم کرنے کی بات کیگئی،لیکن بشار الاسد نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کردیا۔ البتہ ایران نے شامی عوام کے جذبوں کو نظر انداز کرکے بشار الاسد کی حمایت کردی۔اگرچہ نومنتخب ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے ایک بیان میں اس طرف اشارہ کیا کہ وہ شام کے داخلی معاملوں میں دخل اندازی نہیں کریںگے ۔وہ اپنے اس وعدے پر عمل کرسکیںگے یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر فی الوقت ایران بشارالاسد کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔اس طرح دیکھا جائے تو متعلقہ ممالک شام کے معاملے میں الگ الگ انداز سے سوچتے ہیں اوراس رسہ کشی میں نقصان شام کے عوام کا ہورہا ہے۔15 مارچ 2011 سے اب تک تقریباً ایک لاکھ انسانوں کی جانیں جا چکی ہیں۔40 ہزار بچوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے،مگر انہیں دوا نہیںمل پارہی ہے۔لاکھوں کی تعداد میں لوگ سرحدی علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
شام کی اس خانہ جنگی کا آغاز ایک مظاہرے سے ہوا ۔ اس مظاہرے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ 1971 میںجب حافظ الاسد اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے دور اقتدار میں حکومت کے اعلیٰ عہدوں اور سرکاری نمائندگی میں نصیریوں کو ترجیح دی۔عوام کے ایک طبقے نے اپنے ساتھ ہورہی اس ناانصافی پر کئی بار غم و غصے کا اظہار کیا، لیکن حکومت کی طرف سے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔جب 2000 میں شام کا اقتدار حافظ الاسد سے ان کے بیٹے بشارالاسد کی طرف منتقل ہوا تو بشار نے اپنی تمام توجہ ملک کی اقتصادیات پر مرتکز کردی۔انہوں نے اقتصادی پالیسی میں کئی اہم فیصلے کیے ۔ اس کا فائدہ یہ ہواکہ شام کی معیشت مضبوط ہونے لگی۔ شامی کرنسی کی وقعت بڑھی اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔تیل کی قیمت 20 لیرہ سے گر کر 15 لیرہ پر آگئی۔ملک میں بہت سے انٹرنیشنل بینک کھلے۔شہریوں کو غیر ملکی کرنسی میں اکائونٹ کھولنے کی سہولت دی گئی، غرض اس طرح کی کئی ایسی رعایتیں تھیں،جو عوام کو بشار کے دور میں میسر ہوئیں، اس کے ساتھ ہی بشار نے اپنے دور اقتدار میں خارجہ پالیسی میں کئی ایسے فیصلے بھی کئے ،جو عوام کی توقعات کے مطابق تھے۔لہٰذا عوام انہیں ایک ہیرو اور بلند حوصلہ لیڈر کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔ انہوں نے فلسطین اور لبنان کے معاملے میں امریکہ اور اسرائیل مخالف پالیسی اختیار کی۔امریکہ نے شام پر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کی قرار داد پر دستخط کرنے کے لئے دبائو ڈالا ، لیکن بشار الاسد نے اس دبائو کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ حزب اللہ کی حمایت اور عراق میں شام کے راستہ سے عرب جنگجوئوں کے داخل ہونے میں بشار کی نرمی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اس کی دشمنی میں شدت پیدا کردی۔چنانچہ ایک طرف اقتصادی اصلاحات میں بہتری اور دوسری طرف امریکہ اور سرائیل کے دبائو کو قبول نہ کرنے والی پالیسیوں نے ان کے لئے شامی شہریوں میں عزت پیدا کردی۔ان تمام اصلاحات اور پالیسیوں کے باوجود ملک میں ایک بڑی آبادی جو ان کے والد کے دور سے ہی مسلسل اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرتی چلی آرہی تھی اور یہ چاہتی تھی کہ انہیں بھی آبادی کے حساب سے حکومت کے تمام محکموں میںنمائندگی ملے۔یہ آبادی سنیوںپر مبنی تھی۔بشارالاسد نے ان کے مطالبوں پر توجہ نہیں دی۔نتیجتاً ان میں بشار کے تئیں غم و غصہ اور دوریاں بڑھتی گئیں اور اسی دوری کا یہ نتیجہ ہوا کہ انہوں نے 15 مارچ 2011 کو دمشق کے مقام ’’درعا ‘‘میں بشار حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا کہ اب خانہ جنگی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس مظاہرے کا اصل مقصد تھا حقوق کی حصولیابی،لیکن جب ا یران نے بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کردیا اور حزب اللہ کی طرف سے باغیوں کو کچلنے کی بات کی جانے لگی تو بڑی چالاکی سے اس احتجاج کو بعض حلقہ کی طرف سے شیعہ سنّی کے درمیان مسلکیتنازع کا نام دے دیا گیا۔ اس میں نہ صرف مغربی میڈیا نے نمک پاشی کی، بلکہ مشرق وسطیٰ کے کچھ اخباروں نے بھی اس آگ میں پٹرول چھڑکنے کا کام کیا۔یہی نہیں، کچھ علماء کرام نے بھی مظاہرے کے اصل مقصد کو نہ سمجھ کر شیعوں کے خلاف بیان دے دیا ۔ چنانچہ اس بیان کے بعد ہی شام سے ملحق لبنان کے شمالی سرحد پر ’’عرسان ‘‘میں ایک جھڑپ ہوئی اور اس میں چارافراد کی جانیں چلی گئیں۔ویسے کئی علماء پہلے سے ہی اس خانہ جنگی کو شیعہ سنی تنازع کا نام دینے کی سخت مخالفت کررہے تھے۔ چنانچہ لبنانی سرحد پر مسجد القدس کے سنی امام شیخ ماہر حمود اور مشہور سنی عالم دین شیخ ابراہیم مصطفی البریدی بار بار لوگوں کو یہ کہہ کر ہوشیار کر رہے تھے کہ یہ لڑائی حکومت کے ساتھ حقوق کی حصولیابی کے لئے ہے، شیعائوں اور سنیوں کے درمیان ہرگز نہیں ہے۔مگر ان کی مخالفت بے اثر ثابت ہوئی ،کیونکہ لبنان کے سرحدی علاقے بلبل میں حزب اللہ کی شامی باغیوں کے خلاف مورچہ بندی اور ایران کی کھلی حمایت نے خلیجی ممالک میں یہ احساس پیدا کردیا کہ یہ حمایت مسلکی بنیاد پر ہے۔ اس احساس نے خلیجی ممالک میں بے چینی پیدا کردی۔ دریں اثنا مصری صدر محمد مرسی نے شام سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے اور شام کو ’’نو فلائی زون‘‘ قرار دیے جانے کا مطالبہ کرنے لگے۔
دوسری طرف خلیجی ممالک میں بحرین اور ایران کا سرحدی تنازع چل رہا ہے ۔سعودی عرب کا نظریہ بھی ایران کے خلاف ہے اور دونوں ملکوں میں سیاسی طور پر دوریاں رہی ہیں،جس کی طرف نومنتخب صدر حسن روحانی کی پریس کانفرنس میں بھی اشارہ کیا گیا ہے اور اسے دور کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ان دوریوں کی وجہ سے سعودی عرب نہیں چاہے گا کہ خطے میں کسی بھی ایسی طاقت کو ابھرنے کا موقع ملے جس سے ایران کو طاقت ملے۔ جہاں تک کویت کی بات ہے تو یہ بھی خطے میں حزب اللہ اور شیعہ لابی کی پیش رفت کو پسند نہیں کرتا ہے ،حالانکہ کویت اب تک حزب اللہ کے تئیں خاموشی اختیار کیے رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے علاقے والے لبنان میں کویت کے تجارتی و اقتصادی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ اسی مفاد کے تحفظ کی وجہ سے حزب اللہ کی طرف سے بار بار دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دی گئیں، اس کے باوجود کویت خاموش رہا۔ 1985 میں امیر کویت کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ حزب اللہ نے مسقط میں کویتی جہاز کا اغوا کیا اور اس کے دو سواروں کو قتل کردیا ،لیکن اپنے اقتصادی مفاد کو نظر میں رکھتے ہوئے کویت نے حزب اللہ کے خلاف سیاسی محاذ آرائی نہیں کی ،مگر جب خطے میں حزب اللہ اور شیعہ لابی کے ابھرنے کی بات ہوگی تو کویت خاموش نہیں رہ سکے گا۔
بہر کیف جو لڑائی حقوق کیبازیابی کے لئے شروع ہوئی تھی،اس کو انتہائی چالاکی سے خانہ جنگی کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور اس سے نقصان صرف شام کے عوام کا ہی ہورہا ہے نیز بین الاقوامی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر مسئلہ کو مزید الجھا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *