سلیپر گھوٹالہ: نتیش کو کیوں بچا رہی ہے سی بی آئی

سلیپرگھوٹالہ ایک بار پھرسرخیوں میں ہے۔ اس کی وجہ ہے، سی بی آئی کے متضاد اور گمراہ کن بیان۔ یہ بھی الزام ہے کہ وہ اس معاملے میں نتیش کمار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ ہے۔

سروج سنگھ

p-10ملک کی سب سے بڑی ایجنسی سی بی آئی کیا واقعی دباؤ میں ہے؟ ہزاروں کروڑ روپے کے سلیپر گھوٹالے کی جانچ کو لیکر سی بی آئی جس طرح سے غلط فہمی پیداکر رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سلیپر گھوٹالے کی جانچ میں ابھی کئی پینچ پھنسے ہوئے ہیں۔ لوک تانترک سمتادل کے صدر پی کے سنہا اور نائب صدر متھلیش کمار سنگھ نے گھوٹالے کی جانچ سے متعلق جو دستاویز عام کیے ہیں، انھیں دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ سی بی آئی الگ الگ موقعوں پر الگ الگ بات کرکے کچھ نہ کچھ چھپارہی ہے۔ حالانکہ مذکورہ لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر سچ سامنے لاکر رہیں گے۔ ان کا الزام ہے کہ کانگریس سے نتیش کمار کی دوستی کی بنیاد میں یہی سلیپر گھوٹالہ ہے اور کانگریس اس معاملے میں سی بی آئی کے ذریعے نتیش کمار کی مدد بھی کر رہی ہے۔
ان الزامات سے الگ، اگر دستاویز کی بات کریں، تو تازہ دستاویز میں سی بی آئی نے درخواستگزار متھلیش سنگھ کو مطلع کیا ہے کہ کنکریٹ سلیپر کی خرید سے متعلق کسی معاملے کی جانچ اس نے نہیں کی ہے۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے حقِ اطلاع قانون کے تحت 12اگست 2008کو متھلیش سنگھ کو جو اطلا ع دی گئی تھی اس میں وزارتِ ریل نے کہا تھا کہ اس معاملے میں سی بی آئی تیسری پارٹی ہے اور اس نے بارے میں کوئی بھی اطلاع دینے سے منع کیا ہے، اس لیے اس وزارت کے ذریعے اطلاع نہیں دی جا سکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ در خواست گزار نے یہ اطلاع مانگی تھی کہ چودھویں لوک سبھا کی ریلوے اسٹینڈگ کمیٹی کی ساتویں رپورٹ میں سلیپر خریدنے سے متعلق بے ضابطگیوں اور گھوٹالے کے سبب محکمہ ریل کو ہوئے بھاری نقصان کی جانچ سی بی آئی کو ضروری کارروائی کے لیے سونپ دی گئی ہے۔ ایسے میں یہ جانکاری دی جائے کہ جانچ کی تازہ صورتحال کیا ہے۔ اطلاع دینے میں آناکانی کے بعد درخواست گزار نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن کمیشن کی مداخلت کے باوجود اطلاع دینے والے کی جان پرخطرے کا حوالہ دیتے ہوئے، سی بی آئی نے جانکاری مہیا نہیں کرائی۔ اس کے بعد متھلیش سنگھ نے دہلی ہائی کورٹ میں 12دسمبر 2011کو عرضی دی ۔ سنوائی کے دوران اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل ایس چاڈھوس نے عدالت کو مطلع کیا کہ سی بی آئی نے اس معاملے میں جانچ کرکے رپورٹ سونپ دی ہے، جسے منظور بھی کرلیا گیا۔ لیکن نئی دستاویز میں سی بی آئی جانچ کی بات نہیں کی گئی ہے۔ آخر سی بی آئی کے حوالے سے الگ الگ موقعوں پر الگ الگ بات کیوں کہی جارہی ہے۔
سلیپر گھوٹالے کو سمجھنے کے لیے پہلے ریلوے کے کچھضابطوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ریلوے بورڈ کی شرط تھی کہ کنکریٹ سلیپر کی خرید اوپن ٹینڈر سے ہوگی۔ اس اس شرط کی وجہ سے اس کام سے متعلق کچھ بااثر لوگوں کو کافی پریشانی ہو رہی تھی، اس کا حل نکالنے کے لیے ایک خاص لابی نے ممتا بنرجی کے سامنے ایک تجویز رکھوائی کہ کنکریٹ سلیپر کی خرید اوپن ٹینڈر کی بجائے، لمیٹڈ ٹینڈر کی معرفت ہو، اس کے علاوہ یہ بھی آزادی ہو کہ کسی بھی زون سے کہیں کے لیے بھی سلیپر خریدا جاسکے۔ ممتا بنرجی نے اس تجویز میں پوشیدہ گھوٹالے کی بدبو پہلے ہی محسوس کر لی، اس لیے انھوں نے اسے سرے سے خارج ہی کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ حکم بھی جاری کردیا کہ ٹینڈر تین کی بجائے دو سال میں ہوگا، لیکن ممتا بنرجی کے ہٹنے کے بعد نتیش کمار کی مدتِ کار یعنی 19مارچ 1998سے 5اگست 1999اور 20مارچ 2001سے 22مئی 2004کے دوران سارے ضابطے بدل دیے گئے۔
پارلیمنٹ میں ریلوے کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے جانچ کے دوران کچھ حقائق اجاگر کیے، اسٹینڈنگ کمیٹی نے پایا کہ ریلوے منسٹر کے حکم کے سبب ایک موٹے اندازے کے مطابق دو ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ضابطوں کو طاق پر رکھ کر گیا کے دیا انجینئر ورکس کو سلیپر فراہم کرانے حکم دیا گیا۔ 17اگست 2004کو اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی پہلی رپورٹ میں فیصلہ لیا کہ جن لوگوں نے ریلوے کو نقصان پہنچایا ہے ، ان کی جانچ آزاد ایجنسی سے ہو۔ 17فروری 2005کو اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی ساتویں رپورٹ میں واضح کیا کہ کنکریٹ سلیپر گھوٹالے کی جانچ سی بی آئی نے لے لی ہے۔ اس بات کی جانکاری لوک سبھا اورراجیہ سبھا کو بھی دے دی گئی۔ اب بات آئی کہ آخر سی بی آئی کی جانچ کس رفتار سے چل رہی ہے اور کب پوری ہوگی۔’ لوک چیتنا منچ‘ کے کنوینر متھلیش سنگھ نے یہ جاننے کے لیے ایک آر ٹی آئی ڈالی۔ اس کے جوابمیں وزارت ریل نے انھیں بتایا کہ سی بی آئی نے وزارت ریل کو اطلاع دینے سے منع کردیا ہے۔ متھلیش سنگھ نے محسوس کیا کہ چونکہ نتیش کمار بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں، اس لیے کہیں نہ کہیں سے اس معاملے کو لٹکا نے کادباؤ بن رہا ہے۔ اسی سبب انھوں نے اپنے ایڈووکیٹ دینو کمار کی معرفت ایک پٹیشن پٹنہ ہائی کورٹ میں دائر کردی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے کی جانچ جلد سے جلد پوری کرنے کی ہدایت دی جائے، لیکن عدالت نے عملداری کی بات کہہ کر درخواست کی تعمیل کردی۔ اس کے بعد یہ معاملہ دہلی کی عدالت میں گیا۔
آخر کیا بات ہے، جو اتنے سال گزرجانے کے باوجود اس گھوٹالے کا سچ سامنے نہیں آپارہاہے۔ آر جے ڈی کے رکن اسمبلی سمراٹ چودھری کہتے ہیںابھی تک بھرم کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد جانچ مکمل کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا جائے۔ جو گنہگار نہیں ہوں گے ، وہ باعزت بری ہو جائیں گے اور جو قصوروار ہوں گے، وہ سزا پائیں گے۔ اس طرح معاملے کو لٹکانے سے کیا فائدہ؟ اگر کسی کو شک ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے، توحکومت کو صورتحال صاف کردینی چاہیے۔ درخواست گزار متھلیش سنگھ کہتے ہیں کہ سی بی آئی دباؤ میں بھرم پیدا کررہی ہے اور وہ نتیش کمار کو بچانا چاہتی ہے، لیکن مجھے عدالت پر پورا بھروسہ ہے کہ انصاف ایک دن ہوکر رہے گا۔ سابق ایم ایل سی، پی کے سنہا کا الزام ہے کہ کانگریس سے جے ڈی یو کی دوستی کے پیچھے اور کچھ نہیں ، صرف سلیپر گھوٹالے کی جانچ ہے اور نریندر مودی تو صرف ایک بہانہ ہے۔ سنہا کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس معاملے کا ڈراپ سین ہو جائے گا۔

سچ سامنے آنا ضروری ہے
’راشٹریہ لوک سمتا پارٹی‘ کے قومی نائب صدر اپیندر کشواہا کہتے ہیں کہ سچ تو سامنے آنا ہی چاہیے۔ سی بی آئی کے رویے سے لگ رہا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے، ورنہ وہ اپنے ہی اسٹینڈ سے واپس کیوں ہٹتی۔ کشواہانے کہا کہ کانگریس سی بی آئی کاڈر ددکھا کر نتیش کمار کو بلیک میل کر رہی ہے، لیکن مجھے پورا بھروسہ ہے کہ سلیپر گھوٹالے کا سچ جلد ہی دنیا کے سامنے آجائے گا۔ ایل جے پی کے پرنسپل سکریٹری راگھویندرکشواہا کہتے ہیںکہ نتیش کمار کی حکومت گھوٹالے کی سرکار ہے۔ دہلی میں حکومت میں رہتے وہ جو کر رہے تھے، وہی اب بہار میں ہورہا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ شک کی سوئی اٹھنے کے باوجود سلیپر خرید میں ہوئی بے ضابطگیوں کی صحیح طریقے سے جانچ نہیں ہو رہی ہے۔ سی بی آئی دباؤ میں ہے، اس لیے معاملے کو دبایا جارہا ہے۔ راشٹریہ وادی کانگریس کے ریاستی صدر ناگ منی کی رائے ہے کہ سلیپر گھوٹالے کی جانچ کا وقت تعین کردیا جائے اوراگر سی بی آئی جانچ میں آناکانی کررہی ہے، تو کسی دوسری ایجنسی سے جانچ کرالی جائے، لیکن ملک اور عوام کو زیادہ دنوں تک اندھیرے میں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ حقائق کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ سی بی آئی نتیش کمار کو بچا رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *