صرف مودی کی مخالفت نتیش کا بیڑا پار نہیں لگائے گی

اشرف استھانوی 
p-10bنریندر مودی کے سوال پر بی جے پی سے ناطہ توڑ کر راتوں رات سیکولرازم کے علمبردار اور سیکولر ووٹروں خصوصاً مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا بنے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لئے آئندہ لوک سبھا انتخاب اور اس کے بعد 2015 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کی ڈگر آسان نہیں ہے، کیوں کہ ایک طرف خود انہوں نے بی جے پی ، کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل تینوں سے یکساں دوری بنائے رکھنے کا فیصلہ کرکے اپنی مشکلیں بڑھالی ہیں، تو دوسری طرف بہار کے سیکولر عوام خصوصاً مسلمانوں کی توقعات میں حد درجہ اضافہ نے ان کی راتوں کی نیند حرام کردی ہے اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ محض مودی کی مخالفت ان کا بیڑا پار نہیں لگائے گی۔
ایک ماہ قبل جب نتیش نے مودی کے سوال پر بی جے پی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، تواس کے بعد وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور دیگر کانگریسی رہنمائوں اور مرکزی وزیروں نے جس طرح سے نتیش کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے ان کے سیکولرازم کی داد دی تھی یا کانگریس نے بہار اسمبلی میںتحریک اعتماد پر ووٹنگ کے دوران کھل کر جنتا دل یو کا ساتھ دیا تھا اور خودنتیش نے بھی اس کے بعد مرکزی حکومت کے خلاف اپنی نکتہ چینیوں او ربیان بازیوں کو لگام دیا تھا، اس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ شاید آئندہ لوک سبھا انتخاب میں نتیش کی پارٹی جنتا دل یو کا کانگریس کے ساتھ اتحاد ہو جائے اور بہار میں این ڈی اے ٹوٹنے کے بعد نئی سیاسی صف بندی کے نتیجے میں یو پی اے کی نئی شکل بن کر ابھرے، جس میں کانگریس کی پرانی حلیف راشٹریہ جنتا دل کی جگہ بدلے ہوئے حالات میں جنتا دل یو نظر آئے۔ لیکن گذشتہ دنوں نتیش کمار نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کانگریس کے ساتھ ان کا کوئی اتحاد نہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت کانگریس کے خلاف قومی سطح پر ایک بڑی صف بندی کا تھا ، مگر بی جے پی نے اپنی ضد سے سارا کام خراب کر دیا ۔ ہمارا اتحاد کچھ بنیادی باتوں پر اتفاق کے بعد ہوا تھا۔ لیکن اتحاد کی بڑی پارٹی کے من مانے رویہ کے سبب ہمیں اتحاد سے الگ ہونا پڑا۔گذشتہ چند دنوں کے دوران بی جے پی کی طرف سے ( اشارہ نریندر مودی اور ان کے ہم نوائوں کی طرف) جس طرح کی باتیں سامنے آئی ہیں ، اس سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے۔ ہم نے ان حالات میں جو فیصلہ کیا وہ بالکل صحیح تھا۔

سب سے پہلے لوک سبھا انتخاب ہے۔ اس لئے لوک سبھا انتخاب کی بات ہی کریں تو بہتر ہوگا۔ اس انتخاب میں سب سے آسان او رسیدھا معاملہ بی جے پی کا ہے۔ اس لئے اس کے ووٹروں میں بھی کوئی خلفشار نہیں ہے۔ ان کا ٹارگٹ ایک ہے، دعویدار بھی صرف اور صرف بی جے پی ہے۔ سارا مسئلہ غیر بی جے پی ووٹروں کا ہے۔ جو لوگ بی جے پی کے ساتھ نہیں جا سکتے ان کے پاس کئی راستے ہیں اور کون کس بنیاد پر کس راہ پر چل پڑے گا کہنا مشکل ہے۔ بظاہر یہ انتشار کی صورت ہے اور سیکولر ووٹوں میں انتشار کا فائدہ صرف اور صرف بی جے پی کو ہوگا۔

آج ڈنکے کی چوٹ پر جو باتیں کہی جا رہی ہیں اسی کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے ہم نے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنے والے نہیں۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، نتیجے کی پرواہ ہم نہیں کرتے اور نہ ہی کرسی کے لئے اصولوں کو قربان کر سکتے ہیں۔ نتیش نے یہ باتیں حالاں کہ بی جے پی کے سلسلے میں کہیں، لیکن یہ ساری باتیں کانگریس کے سلسلے میں بھی ان کی طرف سے کہی گئی مانی جا سکتی ہیں۔کیوں کہ جب یہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کانگریس کے خلاف اس وقت ملک گیر اتحاد کا وقت تھا، مگر بی جے پی کی ضد اور جلد بازی نے کام خراب کیا، تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ قومی سطح پر کانگریس اور اس کی پالیسیوں کے خلاف ہیں اور اسے کیش کرنا چاہتے ہیںاور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کانگریس مخالف طاقتوں کو مضبوط کرنے یا انہیں تقویت پہنچانے کی بات کر رہے ہیں، مگر وہ مودی کے رہتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ راشٹریہ جنتا دل کے سلسلہ میں بھی انہوں نے کہا کہ جہاں راشٹریہ جنتا دل ہوگا وہاں ہم کہاں؟ حالاں کہ انہوں نے یہ بات جھارکھنڈ کی نئی مخلوط حکومت میں جنتا دل یو کی شمولیت کے سوال پر کہی تھی، لیکن یہ تو سب کو پتہ ہے کہ نتیش کا پورا سامراج ہی لالو کی مخالفت پر قائم ہے۔لیکن محض بہار میں لالو او رمرکز میں کانگریس او رمودی کی مخالفت کرکے ان کا کام آسان نہیں ہوگا، کیوں کہ بہار میں لالو کے مخالفین میں بی جے پی جیسی دوسری پارٹیاں بھی ہیں۔ اسی طرح مرکز میں کانگریس کے مخالفین میں اگر بی جے پی ہے ، تو بی جے پی کے مخالفین میں کانگریس سر فہرست ہے۔ اس لئے لوک سبھا انتخاب ہو یا اسمبلی انتخاب، نتیش کو مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے کچھ خاص کرنا ہی ہوگا۔ سیکولرازم کی طرف واپسی بھی ان کا کام آسان بنانے کے لئے کافی نہیں ہے۔ بہار میں سیکولرازم کے دعویداروںمیں لالو سر فہرست ہیں۔ سیکولر ووٹر خصوصاً مسلم ووٹر آج بھی کثیر تعداد میں ان کے ساتھ ہیںیعنی نتیش کا سیدھا مقابلہ بی جے پی یا غیر سیکولر اور فرقہ پرست طاقتوں سے نہیں ہے۔ انہیں غیر سیکولر ووٹ تو ملنے سے رہے، سیکولر ووٹوں کے لئے بھی آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا ہے او رانہیں ان دونوں کو مات دینے کے لئے ایسا کچھ کرنا ہوگا ، جو کانگریس کے 45 سالہ ، آر جے ڈی کے 15 سالہ اور این ڈی اے کے سات سالہ دورِ اقتدار میں نہیں ہو سکا۔ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ ہاں اگر ان کی حکومت میں بہار کو خصوصی درجہ حاصل ہو جائے، تو یہ ایک ایسا کام ہوگا جو آج تک نہیں ہو سکا تھا۔ لیکن یہ کام بھی کانگریس کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
سب سے پہلے لوک سبھا انتخاب ہے۔ اس لئے لوک سبھا انتخاب کی بات ہی کریں تو بہتر ہوگا۔ اس انتخاب میں سب سے آسان او رسیدھا معاملہ بی جے پی کا ہے۔ اس لئے اس کے ووٹروں میں بھی کوئی خلفشار نہیں ہے۔ ان کا ٹارگٹ ایک ہے، دعویدار بھی صرف اور صرف بی جے پی ہے۔ سارا مسئلہ غیر بی جے پی ووٹروں کا ہے۔ جو لوگ بی جے پی کے ساتھ نہیں جا سکتے ان کے پاس کئی راستے ہیں اور کون کس بنیاد پر کس راہ پر چل پڑے گا کہنا مشکل ہے۔ بظاہر یہ انتشار کی صورت ہے اور سیکولر ووٹوں میں انتشار کا فائدہ صرف اور صرف بی جے پی کو ہوگا۔ اس لئے سیکولر ووٹروں کے علاوہ ان کے دعویداروں کو بھی کوئی ٹھوس وجہ دریافت کرنی ہوگی کہ وہ کانگریس کے ساتھ جائیں تو کس بنیاد پر جائیں۔ اور اگر کانگریس کو چھوڑ دیں تو پھر جنتا دل یو اور آر جے ڈی میں سے کس کا ساتھ دیں اور کیوں دیں؟ جنتا دل یو اور آر جے ڈی اور ان میں سے کسی کی قومی حیثیت نہیں ہے۔ جو بھی کچھ ہے وہ بہار ، جھارکھنڈ تک ہی محدود ہے۔ لیکن بہار کے لوگ لوک سبھا انتخاب میں بھی علاقائی پارٹیوں کو بڑے پیمانے پر ووٹ دیتے آئے ہیں۔ موجودہ لوک سبھا میں بھی این ڈی اے اور جنتا دل یو کے ارکان کثیر تعداد میں لوک سبھا میں بیٹھے ہیں۔ عام طور پر اسی پارٹی کو لوگ لوک سبھا میں ووٹ دیتے ہیں ، جن سے انہیں امیدیں وابستہ ہوتی ہیں یا جن کی پالیسی سے انہیں اتفاق ہوتا ہے۔ کبھی یہ صورت حال راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ تھی۔ گذشتہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے نے اسی صورت حال کا فائدہ اٹھایا تھا۔ اس بار این ڈی اے ٹوٹ چکا ہے ، تو غیر سیکولر ووٹروں کو تو یہ پتہ ہے کہ انہیں بی جے پی کے حق میں ووٹ دینا ہے۔ البتہ سیکولر ووٹروں کو معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور کیوں جانا ہے۔ نتیش اگر مطلوبہ ریزلٹ چاہتے ہیں تو انہیں سیکولر ووٹروں خصوصاً مسلم ووٹروں کو لبھانے کے لئے کچھ ٹھوس قدم اٹھانا پڑے گا۔ انہیں جنتا دل یو کی حمایت کا سبب لوگوں کو بتانا ہوگا۔ ۔ انہیں مسلمانوں کو اقتدار میں مناسب حصہ داری کے علاوہ ،عام مسلمانوں کی بہتری کے لئے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ کانگریس اس بار کتنی تیاریوں کے ساتھ سیکولر خصوصاً مسلم ووٹروں کے پاس جائے گی اس کا تو پتہ نہیں، کیوں کہ سچر کمیٹی اور رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشوں پر یا تو عمل نہیں ہوایا جن سفارشوں پر عمل ہوا اس کا فائدہ مانیٹرنگ کے فقدان میں مسلمانوں تک نہیں پہنچ سکا۔ مسلمانوں کو ان کی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا معاملہ ہنوز زیر التوا ہے۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت صرف خوش کن اور حوصلہ افزا بیان ہی دے رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *