سعودی شاہی خاندان کے اندر سرد جنگ، ملک میں امن کو خطرہ لاحق

وسیم احمد 
p-9

سعودی عرب کی حیثیت صرف ایک مسلم ملک کی ہی نہیں ہے بلکہ یہاں حرمین شریفین کی موجودگی اسے اسلام کا مرکز بنا دیتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو اس سے جوڑ دیتی ہے۔لہٰذا ہر شخص کی یہی تمنا ہوتی ہے کہ یہاں کسی بھی قسم کی افرا تفری خصوصاً سیاسی افرا تفری نہ ہو کیونکہ اس سے ملک کے امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ابھی حال میں سعودی شاہی گھرانے میں سرد جنگ کی جو خبریں سننے کو ملیں ان سے بھی اسی قسم کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔اندر کی صورت حال پر روشنی ڈالتی ذیل کی تحریر اسی اندیشے کو بتاتی ہے۔

سعودی عرب سے پوری دنیا کے مسلمانوں کا جذباتی لگائو ہے کیونکہ یہاں کی سرزمین پر اسلا م کے مقدس مقامات خاص طور پر حرمین شریفین واقع ہیں اور انہیں مقدس مقامات کی وجہ سے دنیا کا ہر مسلمان یہاں کے سیاسی ،سماجی و دیگر معاملوں کو جاننے اور سمجھنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں جب بھی کچھ نا موافق واقعہ ہوتا ہے تو سب کو تشویش ہوتی ہے کہ کہیں کسی مقدس مقام کی بے حرمتی نہ ہوجائے۔
چنانچہ مارچ2011 میں جب قطیف میں کچھ لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تو پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی محسوس کی جانے لگی،مگرسعودی عرب کی سیکورٹی پولیس فورسز نے جلد ہی اس عوامی مظاہرے پر قابو پا لیا ۔علاوہ ازیں ایک دوسرا اہم مسئلہ بھی یہ ہے کہ ادھر کچھ مہینوں سے سعودی عرب کے شاہی خاندان کے اندر عہدوں اور حکومت میں اپنی مضبوط پکڑ بنانے کو لے کر سرد جنگ چل رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے، اس بات کو لے کر بہت تشویش پائی جارہی ہے۔ اگر شاہی خاندان کا یہ اختلاف یونہی جاری رہا تو یہ ملک کے امن کے لئے عرب بہاریہ سے زیادہ خطرنا ک ثابت ہوسکتا ہے۔کیونکہ شاہی خاندان میں اختلاف کی وجہ سے مغربی ملکوں کو اندرون ملک دخل اندازی کا موقع ملے گا اور باہری دخل اندازی کی وجہ سے مقدس مقامات کو نقصان پہنچنے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔دراصل سعودی عرب کا حکمرانی ڈھانچہ بادشاہت پر مبنی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت سے چلا آرہا ہے ،جب شاہ عبد العزیز آل سعود نے جنوری 1926 میں حجاز و نجد پر مکمل قبضہ کرنے کے بعد بادشاہہونے کا اعلان کیا۔ ان کے بعد ان کے بڑے بیٹے سعود بن عبد العزیز اور پھرشاہ فیصل، شاہ خالد،شاہ فہد اور موجودہ فرمانروا شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز نے بادشاہت کی ذمہ داری سنبھالی۔
بادشاہت کا یہ سلسلہ عبد العزیز کے بیٹوں میں ہی منتقل ہوتا آرہا تھا،جس کی وجہ سے شہزادوں میں یہ بات ہونے لگی تھی کہ اب تمام شہزادوں میں بادشاہت تقسیم ہونی چاہئے۔ چنانچہ شاہ فہد کے دور میں 1992میں ایک قانون بنایا گیا ،جس کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہوگی ۔شاہی خاندان کے اہم ارکان علماء کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں اور انہیں کے اختیار میں ملک کا سارا نظام ہوتا ہے۔البتہ دینی امور کی دیکھ ریکھ مفتی اعظم کرتے ہیں، جو سلفی مسلک کے پیروکار ہوتے ہیں۔
سعودی عرب کے شاہی نظام میں 2005 کے بعد جمہوریت کی تھوڑی سی گنجائش نکالی گئی اور سعودی عرب کے اندر بلدیاتی انتخاب کرانے کی اجازت دی گئی۔حالانکہ کسی سیاسی پارٹی کی تشکیل کی اجازت ملک کے اندر نہیں ہے ،مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ملک جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔چنانچہ پہلے کسی بھی خاتون کو گاڑی ڈرائیو کرنے کی اجازت نہیں تھی،مگر اب انہیں مشروط طریقے پر اس کی اجازت دے دی گئی ہے،اسی طرح کسی بھی خاتون کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ ملک سے باہر کا سفر تنہا کریں ،مگر وہ اب تجارت یا کسی اور معقول بنیاد پر تنہا سفر کرسکتی ہیں ۔اسی طرح شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز یونیورسٹی میں ہائی ٹیک تعلیم لڑکیوں کو دیجاتی ہے اور انہیں یونیورسٹی کے احاطہ میں بغیر نقاب کے رہنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔یہ تمام چیزیں اس بات کی علامت ہیں کہ بادشاہت کی بنیاد پر قائم اس حکومت میں اب دھیرے دھیرے جمہوریت کی بہار آرہی ہے۔
بہر کیف سعودی عرب کے شاہی نظام میں عبدالعزیز آل سعود کے کل21 بیٹوں میں عبد اللہ بن عبد العزیز چھٹے سعودی فرمانروا ہیں اور شاہ عبد العزیز کے دیگر بیٹے جو اس وقت با حیات ہیں حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ البتہ عبد العزیز کے بیٹوں کی جو نسلیں چلی ہیں ،ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور انہیں حکومت میں اہم عہدوں پر فائز کرنا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ وہ شاہی خاندان کے شہزادہ ہونے کی وجہ سے کلیدی عہدوں پر فائز ہونا چاہتے ہیں جبکہ حکومت کے لئے ان تمام کوکلیدی عہدے دینا ممکن نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اب اندرونی طور پر شاہی خاندان میں عہدوں کو لے کر اختلاف ابھرنے لگا ہے۔ حالانکہ شاہ عبد اللہ کی طرف سے خاندانی اختلاف کو دور کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے اور عوام میں اس طرح کا تاثر دیا جارہا ہے کہ اندرون خانہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے،مگر گزشتہ دنوں خالد بن سلطان کو جس طرح سے ان کے اپنے عہدے سے معزول کیا گیا ہے ،اس سے خاندان کے اندر سرد جنگ کا اشارہ ملتا ہے۔
خالد بن سلطان سابق ولی عہد سلطان بن عبد العزیز کے بڑے صاحبزادے ہیں۔سلطان بن عبد العزیز جب تک با حیات تھے،شہزادہ خالد کئی اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ آخر میں انہیں نائب وزیر دفاع بنایا گیا۔ نائب وزیر دفاع بننے کے بعد انہوں نے کئی اہم کام انجام دیے ۔مثلاً یمن کی سرحد پر القاعدہ کی حمایت یافتہ گروپ الحوثیین کو 2010 میں ملک سے باہر نکالنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ اپنی اس کامیابی کے بعد وہ چاہتے تھے کہ انہیں ترقی دے کر وزیر دفاع بنا دیا جائے ۔وہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے والد سلطان بن عبد العزیز جو ولی عہد تھے کے عہدے کا فائدہ اٹھائیں،لیکن سلمان بن عبد العزیز اس حق میں نہیں تھے، اس لئے معاملہ کچھ دنوں کے لئے ٹل گیا۔مگر خالد مسلسل اس کوشش میں لگے رہے کہ انہیں وزیر دفاع بنا دیا جائے۔اتفاق سے اکتوبر2011 میں سلطان بن عبد العزیز کی وفات ہوگئی۔والد کی وفات کے بعد بھی خالد کے وزیر دفاع بننے کی خواہش میں کمی نہیں ہوئی ۔ کیونکہ ایک تو انہوں نے یمنی سرحد پر اپنی حکمت عملی سے حوثین کو سرحد سے باہر دھکیلنے میں بہترین صلاحیت کا ثبوت پیشکیا تھا،دوسرے وزارت دفاع ان کے والد کے پاس تھی ۔ اس لئے اس عہدے کے زیادہ حقدار وہی ہیں، لیکن جب شاہی فرمان جاری ہوا تو اس میں وزارت دفاع سلمان بن عبد العزیز کو دے دیا گیا ،جو کہ سلطان بن عبد العزیز کے بعد ملک کے ولی عہد بھی ہیں۔نظر انداز کیے جانے سے خالد کو بہت مایوسی ہوئی۔ چونکہ خالد چاہتے تھے کہ وزارت دفاع کا یہ عہدہ ان کو ملے ۔اس بات کو لے کر خالد اور سلمان کے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان میں اندرونی اختلاف پیدا ہوا۔دھیرے دھیرے یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد سلمان بن عبد العزیز کی رضامندی سے وزارت کے کسی بھی دستاویز یا دفاعی معاہدے کی کاپی خالد بھی سلطان کے نوٹس میں لانے سے تمام متعقلہ افسروں کو روک دیا۔ جبکہ وہ نائب وزیر دفاع تھے اور ایسا کیا جانا،ان کی حق تلفی تھی،مگر آپسی چقلس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ یہی نہیں حوثین کو سرحد چھوڑ کر بھاگنے میںشہزادہ خالد نے اپنی جس صلاحیت کا اظہار کیا تھا ، اسی صلاحیت کو سلمان بن عبد العزیز کے ولی عہد بننے کے بعد ان کے خلاف سازش بنا کر پیش کیا گیا اور ان پر یہ الزام لگا کہ حوثین کے امیر عبد الملک الحوثی نے اپنی مرضی سے بغیر کسی مزاحمت کے سعودی سرحد سے سے نکل جانے کی رضا مندی دی تھی، مگر خالد بن سلطان نے اس واقعہ کی غلط رپورٹ حکومت کو دی تھی کہ 1500 حوثین کو پکڑا گیا ہے اور اپنی جھوٹی تعریف کے لئے جنگ کو خواہ مخواہ لمبا کھینچا گیا،جس سے ملک کے خزانے پر بے جا اخراجات کا بار پڑا ۔ انہوں نے ایسا اس لئے کیا کہ جہاں وہ ایک طرف اپنی صلاحیت کی جھوٹی تشہیر کرسکیں وہیں اپنی دیرینہ خواہش یعنی وزیر دفاع بننے کا موقع بھی حاصل کرسکیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہزادہ خالد بن سلمان سعودی عرب میں خود مختار بننا چاہتے تھے۔چنانچہ سعودی قانون کے مطابق جب کسی بھی باہری ملک سے بڑی دفاعی ڈیل ہوتی ہے تو ،اس میں نہ صرف وزیر دفاع بلکہ مملکت کے فرمانروا کی منظوری بھی لازمی ہوتی ہے،مگر شہزادہ خالد بن سلطان نے اس قانون کی خلاف ورزی کی۔شاید وہ اپنے اختیارات کو اتنا بڑھا نا چاہتے تھے کہ انہیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑے۔چنانچہ انہوںنے بغیر شاہی منظوری کے چین کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا۔ یہ معاہدہ ’راکٹ سی ایس ایس 2 کے تعلق سے تھا۔ یہ راکٹ سعودی عرب نے 1987 میں چین سے خریدا تھا اور اس کی مینٹننس چین کرتا تھا۔
خالد نے انتہائی خاموشی سے چین کے ساتھ تجدید کے معاہدے پر دستخط کردیا اور اس کی اطلاع شاہ عبد اللہ کو نہیں دی۔یہ کام اتنے خفیہ طریقے پر انجام دیا گیا کہ حکومت کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی ،مگر امریکہ نے اس معاہدے پر سے پردہ اٹھایا اور سعودی حکومت سے اس معاہدے پر سخت احتجاج بھی کیا۔ امریکی انکشاف کے بعد سعودی حکومت کو اس معاہدے کے بارے میں پتہ چلا۔اس عمل سے شاہی خاندان کے کان کھڑے ہوگئے اور اسی انکشاف کے بعد ولی عہد سلمان بن عبد العزیز نے شہزادہ خالد کو عہدے سے معزول کرنے کی سفارش کی،لہٰذا انہیں معزول کرکے یہ عہدہ فہد بن عبد اللہ بن محمد کو دے کر انہیں وزیر کا درجہ دے دیاگیا۔کہا جاتا ہے کہ خالد بن سلطان کے اس کام میں خاندان کے کچھ دیگر شہزادے بھی شامل تھے،لہٰذا انہیں ان کے گھر میں ہی نظر بند کردیا گیا ہے۔حالانکہ شاہی خاندان میں اس طرح کی خبروں کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے،مگر اب دنیا پہلے جیسی نہیں رہی۔لوگ بیدار ہوچکے ہیں ۔وہ حکمراں طبقے کی ہر آہٹ کو محسوس کرتے ہیں۔لہٰذا اندرونی اختلاف کو زیادہ دنوں تک عوام سے چھپا کر نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ اس بات کو حکمراں جماعت بھی سمجھ رہی ہے لہٰذا عوام کے رجحان کو شاہی خاندانی کی اندرونی رسہ کشی سے ہٹانے کے لئے سعودیایئزیشن (Saudiazation) کا سوشہ چھوڑا گیا ہے تاکہ نئی نسل جو پڑھ لکھ کر تیار ہے اور روزگار کے انتظار میں ہے، اس کی توجہ شاہی خاندان کے اندرونی اختلاف سے ہٹا کر سعودیایئزیشن کی طرف پھیر دیا جائے اور اس کے لئے ایک نیا قانون نطاقہ بنایا گیا ہے ۔حالانکہ اس نئے قانون کی وجہ سے ہندوستان کے تقریبا 50 ہزار ملازمین سمیت لگ بھگ 450 ہزار سے زیادہ دیگر ممالک کے ملازمین متاثر ہوں گے،لیکن اس وقت سعودی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے شاہی خاندان کے اختلاف پر پردہ ڈالنا اور اس کے لئے وہ سعودیایئزیشن کا نعرہ لگا رہا ہے۔جبکہ اس سے سعودی عرب کی اقتصادیات متاثر ہوگی کیونکہ غیر ملکی ماہرین و مزدوروں کی بڑی کھیپ اس قانون کی وجہ سے ملک سے باہر چلی جائے گی ،جس کی وجہ سے متعلقہ محکمے کا کام متاثر ہوگا اور جس کا منفی اثر ملک کی اقتصادیات پر پڑنا یقینی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *