آر ٹی آئی کو کمزور کرنے کی سیاسی سازش

Share Article

ششی شیکھر 

حق اطلاعات قانون یا آر ٹی آئی کے دائرے میں سیاسی پارٹیوں کے ہونے کا فیصلہ سنٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) نے سنا دیا ہے، لیکن کانگریس نے ایک آرڈی ننس کے ذریعے کمیشن کے اس فیصلہ کو پلٹنے کا من بنا لیا ہے۔ ایسے میں، کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس پر سوال اٹھانا لازمی ہے؟

p-10لگتا ہے، کانگریس نے اب عام آدمی کا سب سے بڑا ہتھیار، یعنی آر ٹی آئی کو اور زیادہ کمزور کرنے کا من بنا لیا ہے۔ غور طلب ہے کہ کانگریس شروع سے ہی ’کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ‘ کا دعویٰ کرتی آرہی ہے۔ آر ٹی آئی کارکن سبھاش اگروال کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سنٹرل انفارمیشن کمیشن نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ سیاسی پارٹیاں آر ٹی آئی کے دائرے میں آتی ہیں۔ اس فیصلہ کے پیچھے کمیشن نے یہ دلائل پیش کیے تھے کہ سیاسی پارٹیاں سرکار سے بہت ہی کم قیمت پر زمین لیتی ہیں، انہیں بنگلہ ملتا ہے، انکم ٹیکس میں چھوٹ ملتی ہے، وہ عوام کا کام کرتی ہیں اور الیکشن کمیشن سے رجسٹر ڈ ہوتی ہیں۔ کمیشن نے واضح لفظوں میں کہا کہ ہمارے جمہوری نظام میں سیاسی پارٹیوں کا رول، ان کے کام کاج اور کیرکٹر وغیرہ بھی انہیں آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں لاتے ہیں۔ آئینی اور قانونی التزامات میں بھی ان کا کردار عوامی اداروں کا ہے۔ ان ساری وجوہات سے سیاسی پارٹیاں آر ٹی آئی کے دائرے میں آتی ہیں۔
دراصل، اس فیصلہ کے آتے ہی سیاسی گلیاروں میں کہرام مچ گیا اور سیاسی پارٹیوں کو ان کا وجود خطرے میں دکھائی دینے لگا۔ ظاہر ہے، اس فیصلے سے لوگ ان پیسوں کے بارے میں بھی لیڈروں سے جانکاری مانگ سکتے ہیں، جن کا حساب ان کے پاس نہیں ہوتا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ سرکار نے اب ایک آرڈی ننس کے ذریعے سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے اس فیصلہ کو منسوخ کرنے کا من بنا لیا ہے۔ سسٹم میں بیٹھے لیڈروں اور نوکرشاہوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ کل تک جن لوگوں کے لیے ہم مائی باپ ہوا کرتے تھے، وہی لوگ ہم سے آنکھ ملا کر آنے والے دنوں میں سوال پوچھیں گے۔ اس ملک میں آج بھی انگریزوں کے بنائے ہوئے کئی قانون لاگو ہیں، جو ہمیں غلامی کے دنوں کی یاد دلاتے ہیں۔ آزادی کے 64 سالوں بعد بھی ایسے قوانین کو ہٹانے، بدلنے یا ان میں ترمیم کی ضرورت ملک کے رہنماؤں کو کبھی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ وہیں دوسری جانب پانچ سال پرانا آر ٹی آئی قانون اُن کی آنکھوں میں ایسا چبھ رہا ہے کہ جسے دیکھو، وہی اس میں ترمیم کی بات کر رہا ہے۔
سرکار اس سے پہلے بھی اس قانون کو کمزور کرنے کی سازش کرتی رہی ہے۔ آر ٹی آئی قانون بننے کے پہلے ہی سال میں کچھ نوکر شاہوں کی صلاح پر سرکار نے اس میں ترمیم کرکے فائل نوٹنگ جیسے اہم حصے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ، سول سوسائٹی، لیفٹ پارٹیوں اور کچھ تنظیموں کی زبردست مخالفت کے بعد سرکار نے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
ستمبر 2009 میں اُس وقت کے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے ایک خط وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لکھا تھا۔ اپنے خط میں انہوں نے عدلیہ کو آر ٹی آئی قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کی درخواست کی تھی۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس قانون کی وجہ سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوسکتی ہے۔ حالانکہ، اس وقت بالا کرشنن قومی حقوقِ انسانی کمیشن کے صدر ہیں اور وہ ابھی بھی اس ترمیم کی وکالت کر رہے ہیں۔ اب تو سی بی آئی کو بھی اس سے باہر کر دیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مرکزی حکومت کے پرسنل ڈپارٹمنٹ نے آر ٹی آئی کے ضابطوں میں ترمیم کی تیاری کی تھی، تاکہ اس ملک کے غریب، ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لیے یہ قانون بے معنی ہو جائے۔ اس ترمیم کے مطابق، ایک آر ٹی آئی درخواست کو 250 لفظوں میں ہی سمیٹنا ہوگا اور ایک درخواست میں ایک ہی موضوع کو شامل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، اطلاعات فراہم کرنے میں جو ڈاک خرچ آئے گا، وہ بھی درخواست گزار کو ہی دینا ہوگا۔ اس بار مرکزی حکومت سنٹرل انفارمیشن کمیشن کا یہ فیصلہ پلٹنے کو لے کر جس طرح سے سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ عام آدمی کے جینے اور جاننے کے حق سے جڑا یہ قانون کمزور ہو کر رہ جائے گا۔ ہو سکتا ہے، آئندہ اس میں ایسی ایسی ترامیم کی جائیں، جن سے پھر کوئی عام آدمی سوال ہی نہ پوچھ سکے۔ ویسے سوال، جو اسے طاقت دیتے ہیں، عزت بخشتے ہیں۔ سرکار کے اس داؤں پیچ میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کا ہاتھ عام آدمی کے ساتھ کا نعرہ محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *