راجستھان کے میواتی بھی یانگریس سے خفا

اے یو آصف 
p-4ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست راجستھان میں کانگریس مخالف ہوا میں دن بہ دن تیزی آتی جا رہی ہے اور یہ ریاست گیر شکل اختیار کرتی جار ہی ہے۔ جے پور میں واقع مائناریٹی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے تحت گزشتہ ایک ماہ میں جے پور اور بیکانیر کے بعد گزشتہ 7 جولائی کو ’’میوات کے مسائل‘‘ پر منعقد ہوئی کانفرنس سے یہی اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں بھی تمام شرکاء کو یہی شکایت رہی کہ مسلمانوں نے کانگریس پر ہمیشہ بھروسہ کیا، مگر ان کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ تعلیم اور معیشت میں ملک کے دیگر طبقات سے بہت پیچھے ہیں۔ اس کانفرنس میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور انہیں مجبور محض نہ سمجھے، ورنہ آئندہ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں اسے سخت چیلنجز درپیش ہوں گے۔
مذکورہ سوسائٹی کے چیئر مین اصغر علی ایڈووکیٹ نے جے پور کے گلپارہ میں واقع گرین پبلک اسکول میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ میواتی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اگر تکنیکی، پروفیشنل اور مینجمنٹ کی تعلیم سرکاری سطح پر دی جائے، تو عام آدمی کو روزگار کے مواقع مل سکیں گے اور اسی کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں پھیل رہی خرابیوں پر بھی روک لگ سکے گی۔ انہوں نے میواتی آبادی کے حلقہ میں خرد برد ہوئی وقف املاک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے بزرگوں کو اپنے ہی کھیت میں دفن کرنے کے لیے مجبور ہیں، کیو ںکہ میوات میں قبرستان بہت چھوٹے ہیں، جو کہ پوری طرح قبروں سے بھر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم آبادی گھنی ہے، نئے قبرستان بن نہیں پا رہے ہیں اور کئی پرانے قبرستانوں پر لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

کانفرنس کے ناظم مرشد احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صنعت کو بڑھا وا دے، تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں اور اس کے ساتھ ساتھ بنجر پڑی زمین کا صحیح استعمال بھی کیا جائے۔ انہوں نے زمین مافیا پر روک لگانے کے لے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ میوات ایک ایسا علاقہ ہے، جس نے ملک کو اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد دیا، مگر یہاں اس کے باوجود آج تک کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میوات میں جو بدترین حالات ہیں، اس سے مسلمان ذہنی و عملی طور پر سخت پریشان ہے اور آج اسے یہاں بہتر تعلیم میسر نہیں ہے نیز علاقے میں کھارا پانی ہونے کے سبب پینے کا پانی خرید کر پینا پڑ رہا ہے۔ ان کے خیال میں، یہ سب کچھ غلط اقتصادی پالیسی اختیار کرنے کے سبب ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر برسر اقتدار کانگریس ان سب پر توجہ نہیں دے گی، تو اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ کانفرنس میں نگر نگم کے سابق ضلع پریشد رکن ادریس بھائی، نبو خاں، سماجی کارکن حنیف خاں، مفتی اسلام الدین، اقبال بھائی ماسٹر، مفتی عبدالشکور، محمد سلیم ایڈووکیٹ، عمید خاں (ڈیڈوانا) اور قاری الیاس نے بھی برسر اقتدار کانگریس کو مسلمانوں کو درپیش مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس اہم و غیر معمولی کانفرنس میں جے پور، الور، بھرت پور، دھولپور، ٹونک، ناگور سمیت مختلف اضلاع سے نمائندے شریک ہوئے۔راجستھان کی میواتی آبادی سے متعلق یہ کانفرنس کئی لحاظ سے اہم و غیر معمولی ہے۔ اس سے صاف طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ میوات جیسے اہم خطہ کے عوام جاگ اٹھے ہیں اور اگر ان کے مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی، تو ریاست کے عوام کسی تیسرے متبادل کے امکان پر بھی غور کر سکتے ہیں یا بحالت مجبوری بی جے پی کی طرف بھی اپنا رخ کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے موجودہ صورتِ حال کانگریس کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
اس تعلق سے میواتی آبادی پوری طرح متفکر ہے۔ وہاں کی معروف سیاست داں محمد قاسم میواتی ’چوتھی دنیا‘ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اور ان کا خاندان روایتی طور پر کانگریسی رہا ہے، مگر گوپال گڑھ سانحہ نے انہیں ہلا دیا اور تب وہ کانگریس کو الوداع کہتے ہوئے کروڑی لال مینا کی نیشنل پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ قاسم میواتی کا کہنا ہے کہ کانگریس اگر یہ سمجھتی ہے کہ راجستھان میں دو پارٹیوں کے حاوی رہنے کی صورت میں اس کا مستقبل محفوظ ہے، تو وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہے، کیوں کہ کروڑی لال مینا کے فعال ہو جانے سے ریاست کی سیاسی صورت حال بدلنے لگی ہے۔ ان کے ساتھ مسلمان ہی نہیں، بلکہ اب آدیواسی، جاٹ اور مینا بھی جڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گوجروں کے معروف رہنما کروڑی لال بینسلا، جنہوں نے 2008 میں اس وقت کی وسندھرا راجے سندھیا کی بی جے پی حکومت کو ہلا دیا تھا، سے بھی ان کی بات چیت چل رہی ہے اور اگر وہ ابھرتی ہوئی اس تیسری سیاسی قوت کے ساتھ آ جاتے ہیں، تو کانگریس اور بی جے پی مخالف متبادل اور تحریک میں نئی جان پڑ جائے گی۔ قاسم میواتی کا خیال ہے کہ کانگریس مخلص ہی نہیں ہے، ورنہ گوپال گڑھ کا مسئلہ اسی وقت حل کر لیا گیا ہوتا۔ ان کے مطابق، وہاں قبرستان کی حد بندی کا معاملہ کوئی بہت بڑا معاملہ تو نہیں تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے کانگریس کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے، مگر اسے صرف مایوسی ہی ہاتھ آئی ہے۔
راجستھان وقف بورڈ کے انچارج زبیر احمد الوری، جو کہ مولانا محمد ابراہیم ایجوکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے صدر بھی ہیں، کا خیال ہے کہ کانگریس ہو یا بی جے پی، کسی کے دور میں بھی سرکار کی اسکیمیں لاگو نہیں ہو پاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے دور میں جو کام ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بچے کو دودھ نہیں ملتا ہے، تو وہ روتا ہے اور آخر میں اپنے والدین سے بھی خفا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ٹھیک اسی طرح ریاست کے عوام بشمول مسلمان کو جب کچھ نہیں ملے گا، تو وہ فطری طور پر کانگریس سے دور ہوگا ہی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کانگریس کے اندر کچھ لوگ ایسے ہیں، جن کا ذہن صاف نہیں ہے اور وہ رکاوٹیں پیدا کرتے رہتے ہیں، جس کے سبب بہت سے فلاحی کام نہیں ہو پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں مخلص نہیں ہیں۔ اس تعلق سے وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دنوں جے پور میں ای ٹی وی اردو کے تاریخی پروگرام میں ملک کے ابھرتے ہوئے مصلح اور ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے جس بے باکی سے مسلمانوں کو درپیش مسائل کو سب کے سامنے رکھا ہے، وہ آنکھیں کھولنے والے ہیں۔ وہ حیرت کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے بعد بھی سیاسی پارٹیاں بے حس بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام ان سیاسی پارٹیوں کے قید و بند سے آزاد ہو کر آئین کی روح کے مطابق انفرادی طور پر اپنی نمائندگی خود طے کریں، اسی میں سب کا بھلا ہے۔
الور ضلع میں وقف کمیٹی کے چیئر مین قاری محمد آصف ساہون کے خیال میں حکومت تو صحیح ہے، مگر اس کے کارندے صحیح نہیں ہیں، جس کے سبب بہت سی اسکیموں پر عمل درآمد نہیں ہو پاتا ہے اور پچھڑا پن جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ اس تعلق سے وہ ایک مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کارپوریشن کی جانب سے اقلیتوں کو قرض دینے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر وہ اصل مستحقین تک پہنچا ہی نہیں۔ وہ یہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ دو کروڑ روپے کی رقم قرض کے طور پر تقسیم ہوئی، جب کہ اسٹامپ ڈیوٹی سے حکومت کو تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مل گئے۔ وہ اسے عوام کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہی نہیں، بلکہ دھوکہ گردانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سب باتوں سے لوگوں کے کانگریس کے تئیں اعتماد میں کمی ہو رہی ہے اور اس سے مسلمان کانگریس سے مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، وقف املاک اور عبادت گاہوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی، تو گوپال گڑھ سے بھی زیادہ بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔میوات کے مسائل سے متعلق ہوئی مذکورہ کانفرنس اور چند اہم میواتیوں کی آراء سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایک ایسی آبادی ، جس نے حکومت ہند اور حکومت پاکستان کے درمیان آزادی کے فوراً بعد ہوئے معاہدہ ’تبادلہ آبادی‘ کے تحت پاکستان منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور پھر 19 دسمبر، 1947 کو گاندھی جی کی میوات تشریف آوری پر ان کی تائید و حمایت حاصل کر لی تھی اور بابائے قوم نے تب جذباتی ہو کر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’’میں خود ایسے مسلمانوں کے ساتھ مرنا پسند کروں گا‘‘، آج پچھڑے پن کا سخت شکار ہے اور وہاں ایمپاورمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ میواتیوں نے اپنے وطن عزیز سے محبت کے سبب ہی یہاں سے پاکستان منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور ان کے اندر وطن کے لیے خاص طرح کا حوصلہ پایا جاتا تھا، تبھی تو آزادی سے قبل گاندھی جی نے 14 ستمبر، 1946 کو بہار کے چمپارن میں منعقد ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر میواتیوں جیسا حوصلہ ہندوستان کی باقی قوموں میں بھی ہو، تو میں 24 گھنٹوں میں دیش کو آزاد کرا لوں گا۔‘‘ یہ تفصیلات ’چوتھی دنیا‘ کے 31 دسمبر تا 6 جنوری 2013 کے شمارہ میں ڈاکٹر قمر تبریز کی خصوصی رپورٹ بعنوان ’’ہریانہ کی کانگریس حکومت گاندھی جی کے وعدوں کو پورا نہیں کر پا رہی ہے‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میواتیوں کی جانب خصوصی توجہ دی جائے اور ان کے مسائل حل کیے جائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *