وزیراعظم جی! یہ آپ کا کیسا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہے؟

راجیو رنجن 

اتراکھنڈ کی تباہی کی جو بات کبھی نہیں بھولی جاسکتی، وہ ہے وقت پر راحت نہ مل پانے کا کرب ۔ اس سانحہ نے ہندوستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ پر سوالیہ نشانہ لگادیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہندوستان قدرتی آفات سے نمٹنے اور اپنے شہریوں کوسیکورٹی مہیاکرانے کے تئیں پوری طرح اہل ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرنے والی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کس لیے ہے؟
p-5قدرتی آفات شہر کے شہر اور گاؤں کے گاؤں تباہ کردیتی ہیں، ملکوں کی سرحدیں مٹادیتی ہیں۔ آفات کو روکا تو نہیں جاسکتا، لیکن اگر بروقت مناسب انتظام کیا جائے، تو ہونے والے نقصان کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں آئی تباہی کی ڈرائونی تصویریں برسوں تک لوگوں کے دل و دماغ میں رہیں گی، لیکن جو بات کبھی نہیں بھولی جاسکتی، وہ ہے وقت پر راحت نہ مل پانے کی ٹیس۔ تباہی آنے کے کافی دنوں بعد بھی لوگوں کے پھنسے رہنے اور واپس لوٹے لوگوں کی آنکھوں میں جھانکتی بد انتظامی نے ملک میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہندوستان قدرتی آفات سے نمٹنے اور اپنے شہریوںکو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پوری طرح اہل ہے؟ ملک میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے، تو اس وقت فوج ہی کام آتی ہے، تو پھر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرنے والی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کس لیے ہے؟ آخر بھاری تام جھام والی سرکار اور اس کے محکمے کیا کررہے ہیں؟
قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 2005 میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ کیا گیا تھا۔ مصیبت میں پھنسے لوگوں کو راحت دینے اور بچاؤ کے کاموں کے لیے حکومت نے مئی 2005 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا۔ اس اتھارٹی کے چیئر مین خود وزیر اعظم منموہن سنگھ ہیں۔ جی ہاں، وہی منموہن سنگھ، جن کے ماتحت کوئلہ وزارت تھی اور اس میں جم کر گھوٹالہ بازی ہوئی تھی۔ سی اے جی رپورٹ کہتی ہے کہ شروع سے ہی ڈیزاسٹر مینجمنٹ بورڈ کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ آفات سے نمٹنے کے حوالے سے این ڈی ایم اے کے پاس نہ تو جانکاریاں ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی کنٹرول ہے۔ اپنے قیام کے کئی سالوں بعد بھی نہ تو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کوئی منصوبہ دے پایا اور نہ ہی اہم پروجیکٹ مکمل کیے۔ حد تو یہ ہے کہ این ڈی ایم اے کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی نے مئی 2008 کے بعد ایک بھی میٹنگ نہیں کی، جبکہ اس دوران کئی آفتیں نازل ہوئیں۔ نامناسب منصوبہ بندی کی وجہ سے اتھارٹی کو اپنے کام یا تو بیچ میں بند کرنے پڑتے ہیں یا پھر مقررہ وقت کے بعد بھی ادھورے پڑے رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قدرتی آفت کے دوران استعمال ہونے والا سنتھیٹک اپرچر راڈار سسٹم 28.99 کروڑ روپے ہونے کے بعد بھی قائم نہیں کیا جاسکا ہے۔ دیگر ضروری سامان کا حال بھی یہی ہے۔ نہ تو کافی تعداد میں ہیلی کاپٹرہیں اور نہ ہی دیگر سامان۔ اتھارٹی مصیبت زدہ لوگوں تک غذائی اور دیگر سامان بھی مناسب تربیت کی کمی کے سبب ٹھیک سے نہیں پہنچا پاتی۔ تباہی کے بعد سڑتی لاشوں کے سبب وبائی بیماریاں پھیل جاتی ہیں، لیکن اتھارٹی نے اس بابت کبھی سدھ نہ لی۔ اتراکھنڈ میں آئی مصیبت کے تعلق سے ہندوستان کے این ڈی ایم اے کے وائس چیئر مین ایم ششی دھر ریڈی نے مانا کہ مینجمنٹ میں چوک ہوئی۔ دراصل، یہ چوک مجرمانہ غفلت ہے۔ صحیح معنوں میں دیکھا جائے، تو ایسے افسران ہی اس ملک کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہیں۔ ریاستوں میں قائم اسٹیٹ ڈیزاسٹر اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کی صورتحال تو اور بھی بدتر ہے۔ لاپرواہی کا عالم یہ ہے کہ صرف آٹھ ریاستوں کے ذریعے ہی صرف 192 بڑے باندھوں کے لیے ہنگامی منصوبے بنائے گئے ہیں، جبکہ ملک میں کل بڑے باندھوں کی تعداد 4,728ہے۔
سچائی کچھ اور ہے
اترا کھنڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام اکتوبر 2007 میں عمل میں آیا تھا۔ گزشتہ سال آئی مصیبت میں اترکاشی اور رودر پریاگ میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2011-12 میں مرکزی حکومت نے ریاست میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے کوئی فنڈ ہی جاری نہیں کیا۔ یہی نہیں، اس سے پہلے دیا گیا فنڈ خرچ ہی نہیں ہوا تھا۔ اتراکھنڈ واحد ایسی ریاست ہے، جہاں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی وزارت کے ماتحت ایک اتھارٹی کے علاوہ ایک آٹونومس ڈیزاسٹر میٹگیشن اینڈ مینجمنٹ سینٹر کا بھی قیام کیا گیا ہے، لیکن ایسے اداروں پر ہمیشہ الزام لگتے رہے ہیں کہ یہ ریٹائرڈ بیوروکریٹس کی آرام گاہ بن کر رہ جاتے ہیں اور ان میں زمینی سطح پر کام کرنے والے لوگوں کا تقرر نہیں کیا جاتا۔ ریاست میں ضلع سطح پر بنے ایمرجنسی آپریشن سیل کے قریب 44 فیصد عہدے خالی پڑے ہیں۔ این ڈی آر ایف کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اتراکھنڈ میں ہوئے سانحے کے لگ بھگ دس دن بعد اس کے ڈائرکٹر جنرل کا عہدہ پُر کیا گیا ہے، جو طویل وقت سے خالی پڑا تھا۔ ندیوں کی آبی سطح بڑھنے یا کم ہونے سے متعلق اطلاعات مرکزی آبی کمیشن کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ تک پہنچانا ہوتی ہیں، لیکن سی اے جی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک کے 4728 باندھوں میں سے صرف 28 کی اطلاعات ہی آبی کمیشن جاری کررہا ہے۔
آلات تک دستیاب نہیں
اسرائیل کا ایکوا اسٹک لسننگ ڈوائس سسٹم، بریدنگ سسٹم، انڈر واٹر سرچ کیمرہ، ماڈرن انفیلٹبل بوٹ، ہائی والیوم واٹر پمپنگ، موٹر والی جیٹسکی بوٹ اور غوطہ خوروں کو مسلسل 12 گھنٹے تک آکسیجن فراہم کرانے والے انڈر واٹر بریدنگ ایپریٹس کا ہم کب استعمال کریں گے؟ نیدر لینڈ کا ہائیڈرو لک ریسکیو ایکیوپمنٹ مضبوط چھت کو پھوڑ کرفرش یا گاڑی میں پھنسے شخص کو نکالنے کا راستہ بناتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ آلات ہمارے پاس نہیں ہیں۔ امریکہ کے سرچ کیمرے اور سویڈن کے انڈر واٹر سرچ کیمرے کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن حکومت کو لُوٹ سے فرصت ہو، تبھی یہ کام کیے جاسکتے ہیں۔ امریکہ کی لائن تھروئنگ گن کے ذریعے سیلاب میں یا اونچی بلڈنگ پر پھنسے شخص تک رسہ پھینک کر اسے بچایا جاسکتا ہے، لیکن یہ آلات آج تک محکمہ کو نصیب نہیںہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کی خوفناک تصویر
ٌٌ دنیا بھر میں سیلاب سے مرنے والوں میں ہر پانچواں شخص ہندوستانی ہوتا ہے۔
ہندوستان کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں پر قدرتی آفات کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔
ہر سال اوسطاً 18.6 ملین ہیکٹیئر زمین اور 3.7 ہیکٹیئر کھڑی فصلیں سیلاب سے متاثر ہوتی ہیں۔
ہر پانچ سال میں 75 لاکھ ہیکٹیئر زمین اور قریب 1600 جانیں سیلاب کی نذر ہوجاتی ہیں۔
گزشتہ 270 سالوں میں دنیا میں آئے 23 سب سے بڑے سمندری طوفانوں میں سے 21 کی ماربر صغیر ہند نے برداشت کی۔
ان طوفانوں سے ہندوستان میں مرنے والوں کی تعداد چھ لاکھ تھی۔
18 سالوں میں آئے چھ بڑے زلزلوں میں 24 ہزار سے زیادہ لوگ جان گنواچکے ہیں۔
ہندوستان کا 60 فیصد علاقہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آتا ہے۔
برصغیر ہند کے کل جغرافیہ کا 8 فیصد علاقہ طوفان متاثرہ علاقہ ہے۔
ہندوستان کا 68 فیصد علاقہ خشک سالی کی مار برداشت کرتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں (2000تک) قدرتی آفات کے سبب تقریباً 4344 لوگوں نے اپنی جان گنوائی، جبکہ 3 کروڑ لوگ ان آفات سے متاثر ہوئے۔
اوسطاً 5 سے 10 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہر سال قدرتی آفات سے ہوجاتا ہے۔
12 فیصد زمین پر سیلاب اور 68 فیصد زمین پر خشک سالی کا خطرہ ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے ہمارے بجٹ میں محض 65 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

(نیشنل ڈیزاسٹر ریڈیمپشن فورس (این ڈی آرایف
کسی بھی طرح کی آفت سے نمٹنے کے لیے جنوری 2006 میں یہ فورس بنائی گئی تھی۔ مصیبت کی صورت میں سب سے پہلے اسی کو بچاؤ اور مدد کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اتراکھنڈ میں ہزاروں لوگوں کو بچاتے ہوئے گزشتہ 25 جون کو اس فورس کے نو نو جوان ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہو گئے۔

آفت پر سیاست
ملک جل رہا ہو یا خوفناک آفت جھیل رہا ہو، ان حالات سے لیڈروں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک طرف مودی کے دورے کے بعد وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کہتے ہیں کہ وی آئی پی دوروں سے راحتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور وہیں دوسری طرف جب راہل گاندھی دورے پر جاتے ہیں، تو ان کے لیے جوانوں کے کیمپ خالی کرا دیے جاتے ہیں۔ حکومت کا یہ قدم نہ صرف جوانوں کا حوصلہ پست کرنے والا تھا، بلکہ کئی زندگیاں بھی تباہ کرنے والا تھا۔ متاثرہ علاقوں میں لیڈروں کے جانے سے صرف بد نظمی پیدا ہوتی ہے۔ یہ لیڈر بروقت ٹھوس پالیسیاں کیوں نہیں بناتے؟ کانگریس مرکز میں بھی ہے اور اتراکھنڈ میں بھی ہے۔ سربجیت کا معاملہ ہو یا اتراکھنڈ کی تباہی کا معاملہ، کانگریس نے ہر جگہ لاشوں پر سیاست کی۔ کانگریس ہو یا بی جے پی یا پھر دیگر پارٹیاں، عوام کی زندگی اور ان کی پریشانیوں سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہے۔

کچھ اہم واقعات
کہنے کو تو ہندوستان میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہے، لیکن وہ خود ہی مصیبت میں مبتلا ہے۔ یہاں ہم آپ کو بتاتے ہیں ہندوستان کے کچھ ایسے سانحوں کے بارے میں، جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے، کافی لوگ زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوگئے۔ اگر بروقت معقول انتظام کیا گیا ہوتا، تو یقینی طور پر اس نقصان کو کم کیا جاسکتا تھا۔
دسمبر، 2001 : پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ۔ دہلی پولس کے پانچ جوان، سی آر پی ایف کی لیڈی کانسٹبل اور پارلیمنٹ کے دو گارڈ شہید۔ مجموعی طور پر اس واقعہ میں 16 جوان شہید ہوئے۔
نومبر،2008ّّ :ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں 166لوگوں کی موت واقع ہوئی اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔
دسمبر، 2004 :اس دن سونامی آئی، جس میں 10,136 لوگ مارے گئے، 5832 لوگ لاپتہ ہوئے اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔
جنوری، 2001 : کَچھ (گجرات) میں آئے زلزلے میں 20,000 لوگ مارے گئے اور 1,67,000 لوگ زخمی ہوئے۔
ستمبر، 1993 :مہاراشٹر کے لاتور میں آئے زلزلے میں 20,000 لوگ مارے گئے، 30,000 لوگ زخمی ہوئے اور 52 گاؤوں مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
مارچ، 3 199 :ممبئی کے تیرہ مقامات پر سلسلے وار بم دھماکے ہوئے، جن میں 257 لوگ مارے گئے اور 700 سے زیادہ لوگ زخمی لوئے۔

متاثرہ علاقوں کا حال
الکھ نندہ، گنگا: بدری ناتھ سے تقریباً 55 کلو میٹر نیچے جوشی مٹھ سے الکھ نندہ تک ایک کے بعد ایک کئی ہوٹل بہہ گئے۔ باندھ کمپنیوں کے سبب کافی زیادہ نقصان ہوا۔ لام باگڑ گاؤں، وشنو گاڈ پیپل کوٹی کی ٹیسٹنگ سرنگ، ندی کنارے بسے اگست منی، چندرا پوری جیسے چھوٹے پہاڑی بازار اورشہر ختم ہوگئے ہیں۔ منداکنی ندی پرپھاٹا بیونگ اور سنگولی بھٹواری کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ کیدار گھاٹی میں دیگر ہائڈرو پاور پروجیکٹس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پنڈر گنگا گھاٹی میں 8 پل بہہ گئے ہیں اور چیپڑو گاؤں کی دلت بستیوں میں زبردست نقصان ہوا ہے۔ تھرالی تحصیل سے لے کر تھرالی بازار تک سڑک تباہ ہوگئی ہے۔ تھرالی پل کے پاس کی 10 سے زیادہ دکانیں تباہ وبرباد ہوگئی ہیں۔
بھاگیرتھی گنگا گھاٹی: ہرشل سے اوپر جالندھری گاڈ اور تپوڑا گاڈ میں بہت تیزی سے پانی آیا، جس سے ہرشل میں کئی مکان بہہ گئے۔ جھالا گاؤں کے پاس بڑا جس پور اور پرولا کی سڑک بہہ گئی۔ سکی گاؤں سے پہلے کی سڑک کئی کلومیٹر تک تباہ ہوگئی۔ ڈبرانی سے گنگنانی، سنگر، بھٹواڑی روڈ پوری طرح تباہ و برباد ہوگیا۔ چڑیتی بازار میں دکانیں اور بھٹواڑی گاؤں کے نیچے کا حصہ بہہ گیا۔ ملا، لتا، سیج گاؤں کے راستے پوری طرح بہہ گئے۔ سیج ندی گاؤں کے نیچے ندی کے کنارے دہلی والوں کی دھرم شالا بہہ گئی۔ نالوڑا اور ڈیڈساری کا پل بھی بہہ گیا۔ اترکاشی کے بائیں طرف واقع جوشیاڑا علاقے میں تقریباً 400 میٹر سے زیادہ سڑک اور ندی کے کنارے کی سبھی عمارتیں بھاگیرتھی گنگا میں بہہ گئیں۔ جوشیاڑا علاقے کی تباہی کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار منیری بھالی چرن کے دو ہائڈرو پروجیکٹس ہیں، جن کے آبی ذخائر کے کناروں پر کوئی محفوظ دیوار نہیں بنائی گئی تھی، جس کے سبب کسانوں کے کھیت وفصل، یعنی سب کچھ برباد ہوگیا ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *