ملک سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں

کمل مرارکا 
الیکشن کو لے کر چاروں طرف بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہے۔ حالانکہ الیکشن مئی 2014 میں ہونا طے ہے، لیکن دو اسباب ایسے ہیں، جو یہ بتا رہے ہیں کہ الیکشن نومبر میں ہوں گے۔ پہلا، فوڈ سیکورٹی بل پر آر ڈی ننس لا کر اسے پاس کرانا، جس کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا پڑا، جس کی ابھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ دوسرا، پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس عام طور پر جولائی کے تیسرے ہفتہ میں شروع ہوتا ہے، جو ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔ کانگریسی خیمے میں یہ چرچا ہے کہ مانسون اجلاس دیر سے سہی، لیکن اگست میں ضرور بلایا جائے۔ ایک چھوٹے اجلاس کے بعد اسے ملتوی کر دیا جائے اور نومبر میں انتخاب کرانے کے لیے پارلیمنٹ تحلیل کر دی جائے۔ اس بات میں دَم ہے، کیوں کہ وقت سے کچھ ماہ قبل الیکشن کرانا برسر اقتدار کانگریس کا خصوصی اختیار بھی ہے۔ حالانکہ بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اس الیکشن سے کیا ہونے والا ہے؟
مرکز میں کانگریس بر سر اقتدار ہے۔ اسے مختلف پارٹیوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت چلانے کا 9 برسوں کا تجربہ بھی ہے۔ بی جے پی کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔ بی جے پی اپوزیشن میں ہے اور اس کے پاس کچھ حلیف پارٹیاں بھی ہیں۔ اس کے بعد علاقائی پارٹیاں ہیں، جو مختلف ریاستوں سے ہیں اور اپنے دَم پر کام کر رہی ہیں۔ ہندوستانی سیاست کو جس حقیقی مسئلہ کا اِن دنوں سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ امریکہ اور برطانیہ سے مختلف ہے، کیوں کہ وہاں سبھی پارٹیاں سیاست میں ایک ہی مقصد لے کر چلتی ہیں۔ لیکن یہاں کا حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ بی جے پی ایک پارٹی ہے اور آر ایس ایس اس کی مائی باپ ہے اور دونوں ہی آئین میں بیان کردہ ہندوستان کے مقاصد کو عوام سے شیئر نہیں کرتے۔ یہ اس بات میں یقین نہیں کرتے کہ ہمارے آئین میں جو حصے دوسرے ملکوں سے لیے گئے ہیں، وہ صحیح ہیں۔ بعض وجوہات سے یہ اس بات کو کہنے سے ڈرتے بھی ہیں کہ اس آئین کے تحت یہ انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ تو کیا یہ ہندو بھارت چاہتے ہیں؟ یہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بنیاد مذہب پرستی پر رکھی گئی ہے، اس لیے بقیہ بھارت ہندوستان ہے اور یہ سیکولر ملک نہیں ہے۔ اس کے لیے انہوں نے ایک ایسے آدمی کو انتخابی مہم کمیٹی کا چیئر مین بنایا، جو ہندوتوا کا بہت ہی معروف چہرہ ہے۔ لیکن حقیقت میں، وہ شخص ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کرانے کا گنہگار رہا ہے۔
سب سے مزیدار بات یہ ہے کہ بی جے پی ابھی تک یہ سوچتی رہی ہے کہ اس طرح کے کٹّر ’راشٹر واد‘ کی حالت پیدا کرکے وہ پورے ملک کا دھیان اپنی جانب کھینچ سکتی ہے۔ وہ یہ بھی دلیل دیتی ہے کہ ڈھیر سارے نوجوان اسے ووٹ دیتے ہیں اور اسے ہی دیں گے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ یہ حساب کس بنیاد پر لگاتی ہے؟ وہ شہری نوجوانوں کے بارے میں بات کرتی ہے، جو انٹرنیٹ اور ٹوئیٹر کا استعمال کرتے ہیں یا اُن نوجوانوں کی، جو گاؤں میں رہتے ہیں اور بے روزگار ہیں؟ بی جے پی کے پاس انہیں روزگار دینے کے لیے کوئی بلیو پرنٹ بھی نہیں ہے۔ صرف ہندوؤں اور مسلمانوں میں کٹّر راشٹر واد پھیلانے سے ووٹ مل سکتا ہے، یہ ایک نکتہ ہو سکتا ہے۔ رام مندر کی تعمیر جیسے جذباتی ایشو پھر سے آپ کی مدد کر سکتے ہیں، یہ بھی ایک نکتہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر آپ پورے ملک کو اپنا بھرپور تعاون دینا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنا نظریہ بدلنا ہی ہوگا۔
امریکہ میں ڈیموکریٹک اور رِپبلکن الیکشن میں ایک دوسرے کی مخالفت میں جی جان سے لڑتے ہیں، لیکن ملک کو لے کر سبھی کے اندر ایک جیسے جذبات ہوتے ہیں۔ ان کے اندر اس طرح کا جنون نہیں ہوتا۔ برطانیہ میں کنزرویٹو، لیبر اور اب لبرل پارٹیاں بھی الیکشن میں ایک دوسرے کی زبردست مخالفت کرتی ہیں، لیکن ملک کے لیے ان کا نظریہ ایک ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو بھی پارٹی اقتدار میں آتی ہے، وہ ملک کو ترقی کے راستے پر لے چلنے کی کوشش کرتی ہے۔ بی جے پی اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں 6 برسوں تک اقتدار میں رہی۔ اس نے ملک کو سابق سرکاروں کی طرح ہی قیادت عطا کی اور کچھ بھی تبدیلی نہیں کی، لیکن آج یہ حالت نہیں ہے۔ آج وہ فرقہ واریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ ملک کے لیے خطرناک ہوگا۔ یہ ملک کو ناامیدی کی طرف دھکیلنے کی طرح ہے۔ یہ قدم ایک ایسے عدم استحکام کی طرف لے جانے والا ہوگا، جو ملک کے لیے خطرناک ہے۔ لوگ علاقائی پارٹیوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاکہ الیکشن کے بعد وہ ایک ساتھ آکر بی جے پی کو دور رکھ سکیں، لیکن اتنا کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ علاقائی پارٹیوںکے لیڈر ایک دوسرے سے ملنا اور ساتھ بیٹھنا تک پسند نہیں کرتے۔یہاں تک کہ وہ اس کے لیے بھی میٹنگیں نہیں کرتے کہ الیکشن کے بعد ان کا ایک ہی مقصد ہے۔ بی جے پی یہ امید پالے بیٹھی رہتی ہے کہ ان میں سے کچھ اس کے ساتھ آ جائیں گے۔ یہ اہم نہیں ہے کہ اقتدار میں کون آتا ہے۔ جمہوریت میں ہر پانچ سال پر سرکار کو تو بدلنا ہی ہے، اس لیے اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ لوگوں کے پاس آج دو ہی متبادل ہیں، بدعنوان کانگریس اور فرقہ پرست بی جے پی۔ اِن دونوں نے ہی ملک کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ کانگریس نے بدعنوانی کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے، جس کا تصور خود کانگریس بھی نہیں کر سکتی۔ بی جے پی اپنی انتخابی مہم کمیٹی کے نئے چیئر مین کی قیادت میں فرقہ واریت کو جنون کی نئی سطح پر لے جا چکی ہے، جو کسی بھی طرح سے مہذب آداب کے خلاف ہے اور جو یہ سوال بھی کھڑا کرتی ہے کہ آخر بی جے پی گزشتہ 15 برسوں سے کیسے کام کرتی رہی۔ سبھی لوگوں کی نظریں علاقائی لیڈروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ وہ لیڈر اس بات کو ضرور سمجھ رہے ہیں کہ ان کی ذمہ داری اب پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ملائم سنگھ، مایاوتی، نتیش کمار، ممتا بنرجی، نوین پٹنائک اور جے للتا جیسے لیڈروں نے اس بات کو اب سمجھ لیا ہے کہ انہیں مغربی ریاستوں کے مقابلے زیادہ فائدہ کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔
اتفاق سے کانگریس اور بی جے پی کی اقتصادی پالیسیاں ایک جیسی ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں کارپوریٹ سیکٹر کے حق میں ہیں۔ دونوں ہی امریکی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہیں، یعنی وہ امیروں کی حمایت کرتی ہیں۔ کانگریس اور سونیا گاندھی، لیکن کانگریس سرکار نہیں، منریگا اور فوڈ سیکورٹی بل کے ذریعے سماجی ایجنڈے کو لاگو کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ پیسوں کی کمی کے سبب ان اسکیموں کو لاگو کرنے میں پریشانی آ رہی ہے، کیوں کہ سرکار کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ ان اسکیموں کے لیے گرانٹ دے۔ تمام لوگوں کی نظریں تیسرے مورچہ پر ٹکی ہیں اور یہی مناسب بھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *