مودی کی وجہ سے ملک کا سیکولر کردار بدل جائے گا

سنتوش بھارتیہ 
ملک انتخاب کے قریب جیسے جیسے پہنچ رہا ہے، سیاسی پارٹیوں میں انتخابی ہلچل اتنی ہی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے الیکشن کی تیاری عوامی طور پر کرنی شروع کر دی ہے۔ نریندر مودی لگ بھگ بی جے پی کو کنٹرول کرنے کی حالت میں ہیں اور جان بوجھ کر ایسی تصویریں باہر آ رہی ہیں، جن میں لال کرشن اڈوانی نریندر مودی کے ساتھ بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی بساط بچھا دی ہے، لیکن اُس بساط پر انہوں نے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ وہ خود نہیں کھیل رہے ہیں، بلکہ امت شاہ کے ذریعے کھیل کھلا رہے ہیں۔ امت شاہ کو اتر پردیش بھیجنے کا فیصلہ اور انہیں پہلے پارلیمانی بورڈ میں رکھنے کا فیصلہ نریندر مودی کا تھا۔ امت شاہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ اتنے بڑے رول میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس جگہ کسی کو ہونا چاہیے تھا، تو ارون جیٹلی کو ہونا چاہیے تھا، لیکن نریندر مودی کا اعتماد نہ ارون جیٹلی پر ہے اور نہ سشما سوراج پر۔ ان کا اعتماد امت شاہ پر ہے۔ امت شاہ کے ذریعے انہوں نے اتر پردیش کو سیدھا پیغام بھی دے دیا ہے۔ پیغام کہ اگر مسلمان بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ نہیں آتے ہیں، تو مسلمانوں کی جان و مال کی گارنٹی نہ سماجوادی پارٹی دے سکتی ہے، نہ کانگریس دے سکتی ہے اور نہ ہی بہوجن سماج پارٹی دے سکتی ہے۔ میں یہ بات یقین کے ساتھ اس لیے لکھ رہا ہوں، کیوں کہ اگر نریندر مودی امت شاہ کی جگہ کسی دوسرے کو اتر پردیش کا انچارج بنا دیتے، تو مجھے ان کے ارادے کے بارے میں کبھی شک ہوتا ہی نہیں، لیکن ابھی اس لیے شک ہو رہا ہے، کیوں کہ امت شاہ کا دماغ، امت شاہ کا طریقہ، امت شاہ کا سوچنا اور امت شاہ کی تاریخ ملک کے سامنے بہت صاف ہے۔ سپریم کورٹ امت شاہ کے خلاف سماعت کی منظوری بھی دے چکا ہے اور شاید امت شاہ کو لے کر کئی ساری اپیلیں بھی سپریم کورٹ میں پڑی ہیں۔

ملک کو پھر ایسا لگا کہ دیوے گوڑا یا اندر کمار گجرال جیسے لیڈر یا نام نہاد تیسرا مورچہ ملک میں سرکار نہیں چلا سکتا۔ ملک کو ایک بہت بڑے طبقہ کی دلچسپی پالیسی سے متعلق فیصلوں میں نہیں، بلکہ صحیح ڈھنگ سے سرکار چلانے میں ہے۔ اسی لیے لوگوں نے اٹل بہاری واجپئی کو وزیر اعظم بنایا۔ یہ بات بہت لوگ نہیں سمجھتے ہیں کہ ان کا وزیر اعظم بننا تیسرے مورچہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اس وقت اٹل جی جب وزیر اعظم بنے، تو انہوں نے وزیر اعظم بننے کے لیے جن پارٹیوں کو ساتھ لیا، ان پارٹیوں کی سبھی شرطیں انہوں نے مان لیں۔

امت شاہ کے بہانے نریندر مودی صرف مسلمانوں کو نہیں دھمکا رہے ہیں، بلکہ امت شاہ کے بہانے دلتوں کو بھی دھمکا رہے ہیں۔ امت شاہ ایک شہ زور قسم کے وزیر رہے ہیں اور ایسے وزیر رہے ہیں، جو کچھ واقعات کو انجام دے کر کچھ گروہوں کو سیدھا پیغام دیتا ہے۔ ایسا وزیر جب سیاسی لیڈر کے طور پر اترپردیش میں جائے، تو یہ سیدھا پیغام ان لوگوں کے لیے ہے، جو کٹر ہندو ہیں کہ آپ لوگ کھڑے ہو جائیں۔ آپ اگر کھڑے ہو جائیں گے، تو آپ کے سامنے نہ مسلمان آنے کی ہمت کریں گے اور نہ ہی دلت۔ امت شاہ کے ذریعے نریندر مودی کا پیغام اتر پردیش میں پھیل رہا ہے، لیکن اس سے بڑا پیغام اتر پردیش میں کلیان سنگھ کے وقت وشو ہندو پریشد نے دینے کا کام کیا تھا۔ دہلی میں نرسمہا راؤ کی سرکار تھی اور بابری مسجد شہید کر دی گئی تھی، جسے بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ ڈھانچہ گرا دیا گیا تھا۔ یہ پیغام اتر پردیش کے ساتھ دوسری ریاستوں کے کٹر ہندوؤں کے لیے بھی تھا۔ اب اگر وہ کھڑے ہو جائیں گے، تو نرسمہا راؤ کے بعد جو بھی وزیر اعظم ہوگا، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا وزیر اعظم ہوگا، کیوں کہ مسجد گرا دی گئی ہے اور بھگوان رام کا عالیشان مندر وہاں بننا ہے۔ وشو ہندو پریشد کے ذریعے پورے ملک کو دیے گئے اس پیغام کے بعد، خاص کر اتر پردیش کو دیے گئے پیغام کے بعد ہی انتخابات ہوئے۔ اُن انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو پوری طرح ہار ملی۔ کلیان سنگھ وزیر اعلیٰ تھے، جب بابری مسجد گری تھی۔ کلیان سنگھ ایسے وزیر اعلیٰ تھے، جنہوں نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے کہا تھا کہ مسجد کو کچھ نہیں ہوگا، سرکار سپریم کورٹ کے فیصلہ کی عزت کرے گی۔ لیکن کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی عزت نہیں کی۔ لیکن اس پیغام کو اتر پردیش کے ہندوؤں نے کیسے لیا؟ اتر پردیش کے ہندوؤں نے اگلے الیکشن میں ملائم سنگھ یادو کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ اتر پردیش کے یا ملک کے ہندوؤں نے اٹل بہاری واجپئی کو وزیر اعلیٰ نہیں بنایا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف دوسری پارٹیوں کو اکثریت دلائی اور اندر کمار گجرال ہندوستان کے وزیر اعظم بنے۔ اس کے بعد اٹل جی وزیر اعظم ضرور بنے، لیکن اٹل بہاری واجپئی کے وزیر اعظم بننے کے پیچھے وجہ رام مندر نہیں تھا یا بابری مسجد کا گرنا نہیں تھا۔ اٹل بہاری واجپئی کے وزیر اعظم بننے کے پیچھے صرف ایک وجہ تھی کہ تیسرے مورچہ کے نام پر دیوے گوڑا اور اندر کمار گجرال وزیر اعظم بنیں۔ انہوں نے ملک کے لوگوں کے بھرم کو توڑا۔ لوگوں کی خواہش بی جے پی کو اقتدار میں لانے کی نہیں تھی، لیکن دونوں نے ملک کی بنیادی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ہاں، دیوے گوڑا کو جب کانگریس نے اقتدار سے ہٹایا، تو اندر کمار گجرال کو انہوں نے وزیر اعظم بنایا، لیکن اندر کمار گجرال کو بھی کانگریس نے اقتدار سے ہٹا دیا۔
ملک کو پھر ایسا لگا کہ دیوے گوڑا یا اندر کمار گجرال جیسے لیڈر یا نام نہاد تیسرا مورچہ ملک میں سرکار نہیں چلا سکتا۔ ملک کو ایک بہت بڑے طبقہ کی دلچسپی پالیسی سے متعلق فیصلوں میں نہیں، بلکہ صحیح ڈھنگ سے سرکار چلانے میں ہے۔ اسی لیے لوگوں نے اٹل بہاری واجپئی کو وزیر اعظم بنایا۔ یہ بات بہت لوگ نہیں سمجھتے ہیں کہ ان کا وزیر اعظم بننا تیسرے مورچہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اس وقت اٹل جی جب وزیر اعظم بنے، تو انہوں نے وزیر اعظم بننے کے لیے جن پارٹیوں کو ساتھ لیا، ان پارٹیوں کی سبھی شرطیں انہوں نے مان لیں۔ شرطیں تھیں دفعہ 370 کے بارے میں بات نہیں ہوگی، رام مندر – بابری مسجد کی حالت جوں کی توں رہے گی، کوئی بات چیت اس پر نہیں ہوگی اور کامن سول کوڈ لاگو کرنے کی مانگ نہیں اٹھائی جائے گی اور ان تمام امور پر کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ اٹل جی نے ان باتوں کو مانا اور اٹل جی لگ بھگ سات سال وزیر اعظم رہے۔ اٹل نے ان امور پر بات تک نہیں کی، جب کہ وشو ہندو پریشد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ چاہتے تھے کہ مندر بھی بنے اور 370 بھی ختم ہو۔ اٹل جی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ جب ہمارے دوست بھائی دو تہائی کی تعداد میں ممبرانِ پارلیمنٹ ہو جائیں گے، تبھی یہ کام ہو سکتا ہے۔
اب نریندر مودی اتر پردیش اور پورے ملک کو ایک پیغام دے رہے ہیں۔ یہ پیغام بہت خاص ہے۔ امت شاہ ان کے معتبر سپہ سالار ہیں اور یہ مان لینا چاہیے کہ اگر نریندر مودی وزیر اعظم بنتے ہیں، تو وزیر داخلہ یا نائب وزیر اعظم امت شاہ ہوں گے۔ امت شاہ نے جیسے گجرات میں پولس کا استعمال کرکے مسلمانوں کو ڈرایا، دھمکایا، امت شاہ ٹھیک ویسا ہی کام وزیر داخلہ یا نائب وزیر اعظم بننے کے بعد کریں گے۔ امت شاہ ملک میں نریندر مودی کے سب سے بڑے رازدار سپہ سالار ہیں اور امت شاہ نریندر مودی کی پالیسیوں کا جیتا جاگتا چہرہ ہیں۔
اب نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں بنیں گے، یہ الگ بات ہے۔ لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ نریندر مودی جس سمت میں چل رہے ہیں، وہ کٹر ہندوتوا کی طرف جاتی ہے۔ اگر سارے ہندو نریندر مودی کی اس سمت کی حمایت کر دیتے ہیں، تو ملک کی قسمت ہی بدل جائے گی۔ پھر مسلمان یہاں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں گے۔ اور اگر نریندر مودی وزیر اعظم نہیں بنتے ہیں، تو اس ملک میں ویسی ہی جمہوریت چلے گی، جس کی تعریف ہمارے آئین میں کی گئی ہے۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے پر آئین بدلنے کا امکان دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ آئین عوام کے حق میں نہیں، بلکہ کٹر ہندوؤں کے حق میں بدل جائے گا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ملک کا عام ہندو، جسے ہم ماڈریٹ ہندو کہتے ہیں، کیا وہ نریندر مودی کے ساتھ جائے گا۔ اب تک کی تاریخ تو یہی کہتی ہے کہ عام ہندو کہا جانے والا شہری اتنا سمجھدار ہے کہ وہ ملک کو پہلے اور مذہب کو بعد میں دیکھتا ہے، کیوں کہ عام ہندو نام سے جانے جانا والا شہری جانتا اور مانتا ہے کہ وہ مذہب سے ہندو نہیں، بلکہ مذہب سے سناتنی ہے۔ اور سناتن مذہب اور ہندو مذہب میں فرق ہے۔ فرق بہت صاف ہے کہ ہندو نام سے کوئی مذہب ہے ہی نہیں اور سناتن نام سے مذہب ہے۔ سناتن مذہب کے نعرے الگ ہیں اور ہندو مذہب کے نعرے الگ۔ ہندو مذہب وشو ہندو پریشد نے چلایا ہے۔ اور وشو ہندو پریشد کے ذریعے چلائے ہوئے مذہب کو ابھی تک ہندوستان کے شہریوں نے قبول نہیں کیا ہے۔ اسی لیے 2014 میں جو فیصلے لیے جائیں گے، ان میں ایک فیصلہ یہ بھی ہوگا کہ اس ملک کا ہندو اس ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے یا فرقہ واریت کی آگ سے بچا کر ترقی اور جمہوریت کی راہ پر دوبارہ کھڑا کرنا چاہتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *