مصر میں جمہوریت کا قتل: مرسی کا تختہ کیوں پلٹ گیا؟

وسیم احمد

مصر میں 25 جنوری 2011 کے انقلاب میں جو کچھ حاصل کیا گیا تھا وہ 3 جولائی2013 کو کی گئی فوجی بغاوت کے سبب چھن گیا ۔کہنے کو تو یہ فوجی بغاوت عوام کے حق میں کی گئی مگر سچ تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کا قتل ہوا ہے اور منتخب صدر کو معزول کردیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہوا،کیسے ہوا اور ان سب کے پیچھے کون کون لوگ اور کون ممالک تھے۔ ان سب حقائق پر روشنی ڈالتی ہوئی انکشافاتی اور پر مغز تحریر

p-9پچیس جنوری 2011 کو مصر کے تاریخی انقلاب کے نتیجے میں حسنی مبارک کی رخصتی اورایک سال بعد فوج کی نگرانی میں ہوئے عام انتخابات میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اسلام پسند اخوان المسلمون کی پیش رفت پر بنی سیاسی پارٹی الحریۃ والعدالہ اور سلفیوں کی تنظیم النور کے ذریعے کل تقریباً دو تہائی سیٹوں پر جیت جانے نیز ایوان بالا میں بھی انہی عناصر کے چھا جانے اور پھر 30جون 2012 کو الحریۃ کے سربراہ انجینئر محمد مرسی کے51.7 فیصد ووٹوں سے صدر منتخب ہونے اور پھر اوائل سال رواں میں ہوئے ریفرنڈم میں تقریباً 50 فیصد ووٹ سے پاس کیے گئے ملک کے آئین کی اپوزیشن کے ذریعے مخالفت کے بعد 3جولائی 2013 کی شب میں مصر ایک بار پھر فوجی بغاوت کا شکار ہوگیا۔ فوجی بغاوت کے فوراً بعد فوجی سربراہ جنرل عبد الفتح السیسی نے ٹیلی ویژن پر براہ راست خطاب میں ملک کے آئین کو منسوخ کردیا اور چیف جسٹس عدلی منصور کو عبوری انتظامیہ کا سربراہ یعنی عبوری صدر بنانے کا اعلان بھی کردیا۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ حالات نارمل ہونے پر صدارتی اور عام انتخابات جلد ہی کرائے جائیں گے۔ان کے ساتھ مرسی مخالف تحریک کے محمود بدر خصوصی طور پر موجود تھے جس سے نئی تبدیلی کے رجحان کا صاف طور پر پتہ چل رہا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ السیسی ٹی وی پر قوم سے خطاب کرنے سے قبل انٹرنیشنل انرجی کمیشن کے سابق سربراہ اور اپوزیشن کی جانب سے مرسی کے خلاف چلائی گئی تحریک کے میر کارواں محمدالبرادعی، عالم دین شیخ احمد الطیب اور قبطی پادری پوپ توادروس دوم و دیگراپوزیشن کارکنان اور سلفی تحریک کے چند رہنمائوں سے ملاقات کرچکے تھے جبکہ اس ملاقات کا اخوان نے بائیکاٹ کیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ عدلی منصور جنہیں محمد مرسی کو بر طرف کرکے عبوری صدارت کاچارج دیا گیا ہے،ان کو حسنی مبارک سپریم کورٹ میں جج بناکر لائے تھے اور وہ اس سے قبل 1983 سے 1990 تک سعودی عرب کی وزارت تجارت میں قانونی مشیر رہ چکے تھے۔واضح رہے کہ السیسی نے 30 جون کو مرسی کے اقتدار میں ایک برس پورا ہونے پر تحریر اسکوائر پر مظاہرین کے مطالبات کے پیش نظر صدر مملکت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اور پھر جب مرسی اپنے اصولی و جمہوری موقف پر جمے رہے تب انہوں نے ان کے اس موقف کو فوجی ایکشن کے لئے جواز بنایا اور فوجی بغاوت کی۔ اطلاعات کے مطابق محمد مرسی اور ان کے تمام معاونین کے علاوہ متعدد اخوانیوں کو قید کرلیا گیا ہے۔
ویسے تو ملک کے آئین کو عارضی طور پر منسوخ کردیا گیا ہے مگر یہ ابھی بالکل واضح نہیں ہے کہ وہ آئین جس پر یہ الزام ہے کہ اس میں اسلام پسندی حاوی ہے میں کیا ترمیمات کی جائیںگی اور پھر اس کے بعد کیا اس پر ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا؟السیسی کے اقدام کو پوری دنیا میں حیرت سے دیکھا جارہا ہے۔کیونکہ ان کے مذکورہ اقدام سے جمہوری طور پر منتخب ایک صدر معزول کردیا گیا ہے۔حتیٰ کہ وہاں جو کچھ کیا گیا ہے ،اس سے امریکہ بھی خوش نہیں ہے۔ صدر امریکہ براک اوبامہ نے تو مرسی کی حکومت کا تختہ پلٹنے اور ملک کے آئین کو منسوخ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ یہ جائزہ لے کر بتائے کہ حالیہ فوجی بغاوت کی صورت میں امریکہ کی جانب سے مصر کو 1.5بلین ڈالر سالانہ فوجی و اقتصادی تعاون دینے کا کیا مطلب ہے؟۔ انہوں نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر معلوم ہوجاتا ہے کہ وہاں فوجی بغاوت ہوئی ہے تب امریکہ مصر کو دیے جارہے فوجی و اقتصادی تعاون کو بند کردے گا۔ظاہر سی بات ہے کہ اوبامہ کی اس بات میں ان کا غصہ صا ف جھلک رہا ہے کیونکہ امریکہ مصر کو جو کچھ امداد دے رہا ہے وہ وہاں جمہوری کاز کو آگے بڑھانے کے لئے ہے،اسے کچلنے کے لئے نہیں۔براک اوبامہ نے ملک میں جلد از جلد منتخب اور جمہوری گروپ کو اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
54 ممالک رکنی افریقین یونین نے مصر میں موجودہ تبدیلی کو ’’غیر آئینی تبدیلی‘‘ قرار دیتے ہوئے 5 جولائی کو اپنی اہم یونین سے مصر کی رکنیت کو منسوخ کردیا۔ علاوہ ازیں ترکی اور ایران نے بھی مصر میں فوجی بغاوت کی تنقید کی ہے اور اسے غیر ملکی و دشمنوں کی موقع پرستی سے خبردار کیا ہے۔ ویسے عرب ممالک میں سعودی عرب ،کویت ، متحدہ عرب امارات، اردن،قطر، شام وغیرہ مصر میں محمد مرسی کی بر طرفی سے بہت خوش ہیں اور فوج کو اس کے لئے مبارکباد بھی دیا ہے۔ ان عرب ممالک کا خوشی سے جھوم اٹھنا فطری ہے کیونکہ محمد مرسی کی بقاء ان کے لئے مستقل طور پر خطرے کی گھنٹی تھی۔ ان ممالک کو اب اطمینان ہو چلا ہے کہ مرسی کے جانے سے اخوان کے بڑھتے اثرات پر قابو پایا جاسکے گا اور عرب خطہ میں عرب بہاریہ کے پھیلتے پنجے کو روکا جا سکے گا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس سے اس خطے میں جمہوری کاز کو نقصان پہنچے گا اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوگا۔
یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ موجودہ فوجی بغاوت کے ساتھ ساتھ میڈیا پربڑی حد تک کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وہیںفی الوقت مصر کی قومی میڈیا میں وہی آرہا ہے جو کہ فوج چاہ رہی ہے۔ اخوان ، الحریۃ و دیگر اسلام پسند میڈیا بشمول قاہرہ میں الجزیرہ ٹی وی پر پابندی لگادی گئی ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ 3جولائی کو جس وقت فوج حرکت میں آئی ،اس وقت قاہرہ میں دو الگ الگ مقام پر مرسی مخالف اور مرسی حامی مظاہرے ہورہے تھے اور ہر ایک مظاہرہ میں کئی کئی لاکھ افراد بی بی سی، سی این این اور الجزیرہ ٹی وی چینلوں پردکھائی پڑ رہے تھے۔یہ اندازہ کرنامشکل ہورہا تھا کہ مرسی کی مخالفت اور حمایت میں کس کی تعداد زیادہ تھی۔ ویسے جو لوگ معنوی اعتبار سے تحریر اسکوائرپرمرسی مخالفت مظاہر ہ کاموازنہ جنوری 2011 کے تاریخی مظاہرہ سے کررہے ہیں وہ صحیح نہیں ہیںکیونکہ دونوں میں بڑا فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ تب عوام بے روزگاری، مہنگائی کو لے کر مظاہرہ کررہے تھے مگر اب یہ مظاہرہ اعتدال پسندی کے خلاف ہے۔ اگر چہ اس باربھی مظاہرین کہتے تھے کہ یہ مظاہرہ اقتصادی تنگ دستی کو لے کر ہی ہے ،مگر سچائی یہ تھی کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھی اور یہ سازش ان طاقتوں کی طرف سے انجام دی گئی تھی جو حسنی مبارک کے دور سے ہی دل میں اقتدار کی خواہش لئے بیٹھے تھے۔ یہ طاقتیں مصر میں عوام کی بہتری کے لئے نہیں ، بلکہ اپنے لئے اقتدار تک پہنچنے کے لئے لڑائی لڑ رہی تھیں یا پھر مرسی سے انتخاب میں اپنی سیاسی شکست کا بدلہ لے رہی تھیں۔دراصل 2011 میں جب حسنی مبارک کے خلاف تحریر اسکوائر پر انقلاب ہوا ، تو کچھ سیاسی و سماجی چہرے نوجوانوں کے ساتھ اس مظاہرے میں پیش پیش تھے۔انہیں یہ توقع تھی کہ جب اقتدار کی منتقلی ہوگی تو وہ بھی اس میں حصہ دار ہوں گے لیکن جب عام انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو یہ تمام چہرے اسکرین سے غائب تھے اور اخوان المسلمین کی پیش رفت سے بنی نئی سیاسی پارٹی الحریۃ و العدالہ اور سلفیوں کی تنظیم النور کے افراد پارلیمنٹ کی دو تہائی سیٹ پر جیت گئے ۔بعد ازاںعوام نے الحریۃ کے سربراہ انجینئر محمد مرسی کو صدر کے طور پر منتخب بھی کرلیا۔
محمد مرسی جیسے ہی مصر کے صدر بنے تواقتدار کی خواہش نے ان لوگوں میں انتقامی جذبہ پیداکردیااور اسی انتقامی جذبے کے تحت انہوں نے مرسی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے عوام کو بھڑکانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ان افراد میں محمد البرادعی، عمرو موسیٰ، حمدین صباحی اور حسنی مبارک دور کے وزیر اعظم اور سابق صداتی امیدوا ر احمد شفیق پیش پیش تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صدر مرسی کی حکومت کوختم کرنے کے لئے مظاہروں اور صدارتی محل پر حملے کو منظم کیا تھااور 30 جون کو تحریر اسکوائر پر ہزاروں افراد کے اکٹھا ہونے میں بھی انہی لوگوں کا ہاتھ تھا اور انہیں عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کی حمایت تھی جو کہ خطہ عرب میں جمہوریت کے قیام کے مخالف ہیں۔اس ضمن میں یہ حقیقت کم اہم نہیں ہے کہ مرسی کو بر طرف کرکے جس شخص کو عبوری کرسیٔ صدارت پر فائز کیا گیا ہے وہ 7 برس تک سعودی عرب کی وزارت تجارت میں خدمت انجام دے چکاہے اور اسے ملک سے بہت قربت بھی ہے۔ دراصل اقتدار سنبھالنے کے بعدمرسی نے ملک میں کچھ ضروری اصلاحات کی اور ملک میں معیشت، تعلیم اور بے روزگاری کے تئیں کئی اہم فیصلے کیے ۔ ان کے ان فیصلوں کو مصر کی بگڑی ہوئی معیشت کو سدھارنے کی راہ میں ایک ٹھوس کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ویسے بہت سارے کام ابھی انجام دینے باقی بھی تھے ۔سچ تو یہ ہے کہ مرسی کو کچھ اور وقت مل جاتا تو مصر کے عوام کی وہ تمام شکایتیں دور ہوجاتیں ۔دراصل یہ وہ شکایتیں تھیںجن کو لے کر عوام نے حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کی تھی یعنی بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی مہنگائی۔مگر مشکل یہ تھی کہ اس صورت میں مصر ایک مثالی جمہوری ملک بن کر ابھرتا اور اس سے سعودی عرب و دیگر عرب ممالک و اسرائیل کو دقت اور پریشانی ہوتی۔
صدر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس بات کو محسوس کیا کہ مصر افریقہ کا ایک ایسا ملک ہے جہاں کی زمین زرخیز ہے ،مگر ان کو صحیح طور پر استعمال نہیں کیا گیاہے ۔ اگرنئی نسل کو کاشت کی نئی تکنالوجی سے واقف کرایا جائے اور زمین سے وافر مقدار میں فصل اگائی جائے تو مہنگائی خود بخود قابو میں آجائے گی۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوںنے اوسیڈ (United States Agency for International Development )سے کئی معاہدے کیے،جس کی رو سے نوجوانوں کو بہتر اور زیادہ فصل اگانے کے ہنر سے آگاہ اور نوجوانوں میں درمیانی درجے کی تجارت میں مہارت کے علاوہ دیگر میدانوں میں ٹکنالوجی سے واقف کراناتھا۔اس کے علاوہ مرسی نے اوسیڈ سے جو معاہدے کیے اس کی رو سے مصر میں54 نئے ٹیکنیکل اسکول میں بچوں کو نہ صرف ٹریننگ دی جائے گی بلکہ ان ٹریننگ اسکول سے ہر سال تقریباً ایک لاکھ بچوں کو مختلف میدان میں ماہر بنانے کے علاوہ 8000 انسٹرکٹر کے لئے نوکری کے لئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔یہی نہیں ،مصر کا ’ای انقلاب‘ یعنی جس ’فیس بک اور ’ ٹویٹر‘ کے ذریعہ مصر میں انقلاب بپا ہوا تھا ، اسی فیس بک اور ٹویٹر کو محمد مرسی نے نوجوانوں کو نئی ملازمتیں فراہم کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔یعنی نیٹ پر جو خرید و فروخت ہورہی تھی اس کو بڑے پیمانے پر مارکیٹ سے جوڑ دیا۔
ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مصر میں انٹرنیٹ پر ہونے والی مارکیٹنگ میں ماہانہ 25 فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔ عام آدمی کے لئے انٹرنیٹ تک رسائی کو آسان بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ آسانی سے مارکٹنگ میں حصہ لے سکیں۔ وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق اس وقت ملک میں 3 کروڑ 10 لاکھ مصریوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے جو ملک کی آبادی کاتقریباً 39 فی صد ہے۔اس طرح مرسی نے اپنی حکمت عملی اور سیاسی سوجھ بوجھ کی وجہ سے مصر کی اقتصادی شرح نمو کو 3 فیصد تک پہنچا دیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ تھوڑے عرصے میں مصری نوجوانوں کی امید بن کر ابھرے ،لیکن مخالفین کی سازشوں نے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ مصر میں مرسی کے خلاف مظاہرہ کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے گزشتہ سال اپنے اختیارات کو وسیع کرنے کا قانون بنایا۔ اگر یہ قانون نافذ العمل ہوجاتا تو ان کے بنائے ہوئے قانون کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا۔وہ ایسا قانون اس لئے بنانا چاہتے تھے کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ جوملک کے مختلف شعبوں میں عدالت سے لے کر فوجی محکمے اور انتظامیہ تک میں کثرت سے موجود تھے ، یہ لوگ ان کی اصلاحات کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور عدالت میں موجود مغرب پرست ان کی اصلاحات پر روک لگائیں گے۔دراصل اسی اندیشے کے تحت انہوں نے وسیع اختیارات حاصل کرتے ہوئے عدالتوں کے دائرہ و اختیار کو محدود کردیا اور نئے آئین کی منظوری کے لئے ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا مگر مخالفین نے مرسی کے اس ریفرنڈم کو بہانہ بناتے ہوئے ملک کے اندر ہنگامی صورت حال پیدا کردی اور اس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔محمد مرسی کے خلاف ہنگامہ میں شدت پیدا کرنے میں مخالفین اس لئے بھی کامیاب رہے کہ الاخوان جس سے وہ وابستہ رہے ہیں ،کو ایک بنیاد پرست گروپ کے طورپر مشہور کردیا گیا تھا اور عام لوگوں میں یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ اگر مرسی اقتدار میں برقرار رہتے ہیں تو ملک میں بنیاد پرستوں کا غلبہ ہوجائے گا اور عام آدمی کی شخصی آزادی پر قدغن لگ جائے گا۔لہٰذا جو آزاد خیال لوگ ہیں او ر عریانیت کو پسند کرتے ہیں، اس مظاہرے میں آگے آگے تھے۔البتہ جو لوگ اعتدال پسند ہیں ،وہ اس بات کو سمجھ رہے تھے کہ الاخوان کٹر بنیاد پرست نہیں بلکہ اعتدال پسند گروپ ہے۔ بہر حال انہوں نے دونوں پہلوئوں میں توازن برقرار رکھتے ہوئے حکومت کا نظام قائم کیا۔یہی نہیں، خارجہ پالیسی میں بھی انہوں نے کئی ایسے قدم اٹھائے جن کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ انہوں نے مصر کو بہت آگے لے جانے کا عزم کر رکھا تھا۔ چنانچہ اسرائیل جس سے مبارک کے دور میں سفارتی تعلقات قائم تھے، اور مصر کو اسرائیل کا دوست ملک شمار کیا جاتا تھا،انہوں نے فلسطین کی حمایت میں کھڑے ہوکر اسرائیل سے اس دوستی کی گرماہٹ کو کم کردیا اور اسرائیل سے کھل کر دشمنی بھی مول نہیں لی۔اس کی دلیل تھی صدر محمد مرسی کا وہ مکتوب جوانہوں نے اسرائیل کے شمعون پیریز کے نام لکھا تھا۔اس میں ان کو ’’عزیزی و صدیقی العظیم‘‘ سے مخاطب کیا گیاتھا جس کے معنی ہیں میرے عزیز و محترم دوست۔حالانکہ ان کے اس لفظ پر میڈیا اور ان کے مخالفین نے بہت ہنگامہ کیا ،لیکن ان کا یہ لفظ خارجہ پالیسی میں ان کی مثبت سوچ اور تمام ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا بہترین ثبوت تھا۔ایران وترکی سے لے کردیگر خلیجی ملکوں کے ساتھ بھی ان کا متوازن رویہ ان کی معتدل سو چ کو سامنے لاتا تھا۔بہر حال اب تو مصر میں صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ اخوان جو کہ مصر کی فی الوقت سب سے بڑی اور قدیم کیڈر بیسڈ تنظیم و تحریک ہے ،کا اب وہاں کیا رول رہتاہے؟اسے ملک کی تعمیر میں آئندہ کتنی آزادی دی جاتی ہے اورکتنا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ویسے کسی کے لئے بھی اخوان جیسی منظم تحریک و قوت کو 1950 کی دہائی کی طرح کچلنا آسان نہیںہوگا ۔اسے ساتھ لے کر چلنا ہی پڑے گا۔

ہندوستانی اکابر ملت کا ردعمل
امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی منتخب جمہوری حکومت کا فوج کے ذریعہ تختہ پلٹنے کو انتہائی غلط ، غیر قانونی، غیر اسلامی، جمہوریت کش اقدام اور اسلام بیزار داخلی و خارجی قوتوں کی سازش اور فتنہ پردازی قرار دیتے ہوئے مصری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک کی اسلام سے تاریخی وابستگی کو متاثر نہ ہونے دیں اور اسے استحکام اور ترقی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ محمد مرسی نے اپنے ایک سالہ دور صدارت میں غیر معمولی حکمت و دانش ، صبر و تحمل اور عزم و استقامت کے ساتھ اپنے ملک کی داخلہ و خارجہ محاذوں پر قابل قدر سعی کی۔ان کا کہنا تھا کہ مصر میں منتخب اسلام پسند حکومت کا ختم کیا جانا افسوس ناک ضرور ہے لیکن بہت زیادہ حیرت انگیز نہیں ہے، کیونکہ اس کے قیام کے اول روز سے ہی ملکی ماحول کو اس کے خلاف تیارکرنے کی تدابیر کی جا رہی تھیں۔ امیر جماعت نے نئی صورت حال میں مصری عوام کو یہ غور کرنے کی دعوت دی کہ ملک کے لئے منتخب دستوری و جمہوری حکومت بہتر ہے یا فوجی اقتدار جو جمہوری تقاضوں کے سراسر خلاف ہے ۔ مصری عوام کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا فوج کو ملکی تحفظ کی ذمہ داری کا فریضہ ادا کرنے کے بجائے اسے ملک پر حکمرانی کا بھی حق دے دیاجائے ؟ انہوں نے کہا کہ حال میں اپنے دورہ ہند کے دوران محمد مرسی نے حکومتی سطح کے علاوہ مسلم تنظیموں کے ذمہ داران سے خصوصی طور پر ملاقات کی تھی اور ناچیز سے الگ سے بات چیت کا موقع بھی نکالا تھا جس سے یہ اندازہ ہوا کہ وہ بہت ہی معتدل خیال کے ہیں اور ہندوستان اور ہندوستانیوں سے خوب واقف ہیں۔ جماعت کے رہنما نے امید کا اظہار کیا کہ اخوان المسلمون کے قائدین کے ساتھ فوج کے حکام انصاف و احترام کا رویہ اختیار کریں گے اور اس طرز عمل سے بچیں گے جس کی بنا پر سابق کے فوجی حکمرانوں کی دنیا بھر میں رسوائی ہوئی۔
صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور ماہر امور مصر و دیگر مسلم ممالک ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے کہا کہ مصر کا موجودہ واقعہ دراصل Counter Revolution ہے ۔جو لوگ مبارک کے دور میں ناکام ہوگئے تھے انہیں لوگوں نے دوسری قوتوں کے ساتھ مل کر اسے انجام دیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوںنے مبارک کے دور میں خطیر رقم جمع کی تھی اور اب وہی لوگ اس انقلاب میں پیسے لگا رہے ہیں۔اس میں کچھ خلیجی ملکوںکے پیسے بھی لگے ہیں ،کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں اخوان کے فکر و نظریہ کا اثر ان کے گھر تک دستک نہ دے دے۔جہاں تک مبارک کی واپسی کی بات ہے تو اب ان کی یا ان کے بچوں یا ان کے لوگوں کی واپسی کا امکان نہیں ہے البتہ ان پر ہلکے دفعات لگا کر معمولی سزا دی جائے گی یا انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔لیکن اب مصر کے اندر اخوان کے لئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔یہ اور بات ہے کہ 1954 کی طرح اب اخوان کو کچلا نہیں جاسکتا ہے مگر انہیں سیاست سے الگ تھلگ رکھے جانے کے اندیشے تو یقینا پیدا ہوگئے۔جہاں تک ہندو مصر تعلقات کی باتیںہیں تو اس سال کے اوائل میں محمد مرسی ہندوستان تشریف لائے تھے ۔اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں شیرینی آئی تھی ۔ان کا یہ دورہ مصر کے بریکس میں شامل ہونے کی کوشش کے طور پر تھا جو کہ بظاہر ناکام رہا۔

Share Article

One thought on “مصر میں جمہوریت کا قتل: مرسی کا تختہ کیوں پلٹ گیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *