مائو واد مسئلہ کی اصل جڑ ہے سیاسی نظام

ششی شیکھر 
p-10

ماؤ واد کو اگر آپ سماجی و اقتصادی مسئلہ مانتے ہیں، تو ایک بار پھر سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ سوال ہے کہ ایک ریاست کا وزیر داخلہ یہ کیوں چاہتا ہے کہ اس کی ریاست کے زیادہ سے زیادہ ضلعوں کو نکسل متاثرہ ہونے کا اعلان کیا جائے؟ ماؤ وادیوں کی بنیادی لڑائی کی جڑ میں جل، جنگل، زمین اور معدنیات ہے، تو پھر موجودہ سیاسی نظام اِن وسائل کی لوٹ کی چھوٹ کارپوریٹ گھرانوں کو دے کر اِن علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کیا پیغام بھیجنا چاہتا ہے۔ آخر، لوک سبھا اور وِدھان سبھا کے آگے گرام سبھا کیوں بے بس اور لاچار ہو جاتی ہے؟ کیوں ماؤ وادی، جو اسی ملک کے شہری ہیں، کو اپنے ہی نمائندوں یعنی لیڈروں پر اب بھروسہ نہیں رہا؟

عام طور پر ماؤ واد کے مسئلہ کو ایک سماجی و اقتصادی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن جب اس مسئلہ کے پیدا ہونے کے اسباب کی جڑ میں جائیں گے، تو پتہ چلے گا کہ یہ مسئلہ بھی ہندوستان کے دیگر مسائل کی طرح ہی ہے اور اس کی وجہ بھی وہی ہے۔ وہ وجہ ہے، اقتدار، انتظامیہ اور نظام پر سیاسی پارٹیوں کے ذریعے مکمل قبضہ بنائے رکھنے کی ذہنیت۔ سنٹرلائزڈ پاور، انتظامیہ اور نظام کی وجہ سے اس ملک میں آج بدعنوانی ہے، قدرتی وسائل کی کھلے عام لوٹ مچی ہوئی ہے۔ یہی وہ اسباب ہیں، جو ماؤ واد کو کھاد اور پانی مہیا کراتے ہیں۔
ظاہر ہے، آئین کی بنیادی روح (جس میں سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے) کے برخلاف یہ ملک آج سیاسی پارٹیوں کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ عوامی نمائندے آج عوام کے نہیں، بلکہ اپنی پارٹیوں کے نمائندے بن چکے ہیں اور انہیں عوام کے مسائل سے کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے۔ جمہوریت پر اِن سیاسی پارٹیوں کے ذریعے قبضہ جمانے اور لامرکزیت (Decentralisation) کے نام پر انتظامیہ کو مرکزیت عطا کردینے کی وجہ سے بھی آج اس ملک میں ماؤ واد کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ان سب کی جگہ اگر اقتدار واقعی میں گاؤوں اور عام آدمی کے ہاتھوں میں ہوتا، تو وہ ساری وجہیں پیدا ہی نہیں ہوتیں، جن کی وجہ سے ماؤواد جیسا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر واقعی عوامی نمائندگی، یعنی عوام کی حصہ داری گرام سبھا سے لے کر وِدھان سبھا (ریاستی اسمبلی) اور لوک سبھا تک ہوتی، تو آج یہ مسئلہ ہوتا ہی نہیں۔
ایک مثال لیتے ہیں۔ اکیلے چھتیس گڑھ میں 30 سے زیادہ تھرمل پاور ابھی لگائے جانے ہیں۔ اس میں جندل سے لے کر بھوشن، بالکو، ایسار، جی ایم آر وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کانکنی کے کام میں شامل کمپنیوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اِن سب کے لیے ضروری پانی اور زمین ریاستی اور مرکزی حکومت مل کر اِن کمپنیوں کو مہیا کراتی ہے، تب کیا اس میں مقامی لوگوں کی بھی رائے لی جاتی ہے؟ بالکل نہیں، اس پورے عمل میں مقامی لوگوں کی رائے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ سرکاریں اپنی مرضی سے زمین یا کانوں (Mines) کا بٹوارہ کرتی ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتیں کہ اس سے بے گھر ہوئے لوگوں کی کیا حالت ہوگی یا ان کی باز آبادکاری کے لیے کیا قدم اٹھائے جانے چاہئیں۔ ایسی کہانی صرف چھتیس گڑھ کی نہیں ہے، بلکہ ان تمام ریاستوں کی ہے، جہاں ماؤ واد کا مسئلہ ہے، چاہے وہ اڑیسہ ہو یا جھارکھنڈ۔ ابھی اڑیسہ میں پوسکو اور ویدانتا کو لے کر جس طرح کی عوامی جدو جہد چل رہی ہے، اس سے ان علاقوں میں ماؤ واد اور ماؤ وادیوں کی طاقت بڑھے گی یا کم ہوگی؟
اب ذرا سرکاروں کے ذریعے بنائے گئے قانون پر بھی نظر ڈالیے۔ 1996 میں پیسا (Panchayat Extension to the Schedules Areas) قانون آیا، جس کے تحت پنچایتی راج سسٹم کو درج فہرست علاقوں تک پھیلایا گیا۔ پندرہ برس گزر گئے، لیکن ابھی تک 9 میں سے 3 ریاستوں نے ہی اس سلسلے میں قانون بنائے ہیں۔ پیسا کے تحت گرام سبھا کو اہم اختیارات تفویض کیے گئے، لیکن کہیں بھی اس قانون کا نہ تو صحیح استعمال ہو رہا ہے اور نہ ہی سرکاریں اس کے نفاذ میں دلچسپی دکھاتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر مقامی سطح پر لوگوں کو جل (پانی)، جنگل، زمین اور معدنیات سے جڑے فیصلے لینے کا اختیار حاصل ہو جائے گا، تو پھر ریاستی حکومت کیا کرے گی، یہ بات بھی سرکاروں کو انتظامیہ کی مقامی اکائی کو مضبوط بنانے سے روک دیتی ہے۔ نتیجتاً اقتدار، انتظامیہ اور نظام سے عام آدمی دور ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر جو نتیجہ ہمارے سامنے آتا ہے، اسے ہم ماؤ واد کے روپ میں بھی دیکھتے ہیں۔
جہاں تک جنگلات سے متعلق قانون کا سوال ہے، تو اس قانون کے تحت جنگلوں میں روایتی طور پر رہ رہے لوگوں کو کچھ جنگلاتی پیداوار اکٹھا کرنے بھر کا ہی حق دیا گیا ہے یا پھر انہیں پٹّے پر کھیتی کے لیے زمین دی جا سکتی ہے۔ لیکن کسی بھی قیمت پر یہ لوگ یہاں کی زمین یا قدرتی وسائل کو بیچ نہیں سکتے یا اُس پر ان کا مالکانہ حق نہیں ہو سکتا۔ آخر اس طرح کے حق سے ان لوگوں کو کیا فائدہ ملے گا، جو سینکڑوں سال سے اس جنگل میں رہتے آ رہے ہیں اور اس جنگل کی بھی حفاظت کرتے آ رہے ہیں؟ دوسری طرف، سرکاریں جب چاہیں، انہیں ان کی زمین سے بے دخل کر کے پرائیویٹ کمپنیوں کو دے سکتی ہیں۔ اب یہ کیسا قانون ہے، کیسا اختیار ہے، جہاں لوگ اپنی ہی زمین پر کرایے دار کی حیثیت سے رہنے کو مجبور ہیں۔ ایسے میں ایک جمہوریت کا روایتی تعارف شک کے دائرے میں آ جاتا ہے، جہاں عوام اپنے ہی نمائندوں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔

نکسل واد سے مائوواد تک
آخر وہ کیا وجہ رہی کہ گزشتہ 45 سالوں سے چلے آرہے مسئلہ کا حل اس ملک کی سرکار نہیں ڈھونڈ پائی؟ ایک نظر میں دیکھتے ہیں کہ کیسے اس ملک میں نکسل واد سے شروع ہوئی ایک تحریک آج ماؤ واد کے نام سے جانی جا رہی ہے۔
ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (ماؤ وادی) کا قیام 21 ستمبر، 2004 کو عمل میں آیا تھا۔
پی ڈبلیو جی اور ایم سی سی آئی کے انضمام سے یہ وجود میں آئی۔
پیپلز وار گروپ کا قیام 1980 میں عمل میں آیا تھا۔
کونڈا پلّی سیتا رمیّہ اس گروپ کے لیڈر تھے۔
نارائن سانیال کی قیادت والے یونٹی گروپ کا اگست 1998 میں پیپلز وار گروپ کے ساتھ انضمام۔
ایم سی سی کی تشکیل 20 اکتوبر ، 1969 کو کانائی چٹرجی کی قیادت میں ہوئی۔
پہلے یہ گروپ ’دکشن دیش‘ کے روپ میں جانا جاتا تھا۔
جنوری، 2003 میں ایم سی سی اور پنجاب میں واقع ریوولیوشنری کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا انضمام۔
نیا نام ماؤ وِسٹ کمیونسٹ سنٹر آف انڈیا (ایم سی سی آئی) ہو گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *