منی پور: سرکاری ملازمین کرتے ہیں ڈرگس کا کاروبار

ایس بجین سلام
p-2bہند میانمار سرحد پر ڈرگس لے کر جاتے لوگوں کوپکڑے جانے کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے۔ ڈرگس کا یہ سیاہ اور جان لیوا کاروبار رفتہ رفتہ اب شمال مشرق تک پہنچ گیا ہے۔ سب سے افسوسناک اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اس کاروبار میں سرکاری مشینری کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی مل رہے ہیں۔ ہندوستانی فوج اور منی پور پولس کے جوان اور وزیروں و سیاستدانوں کے بیٹے وغیرہ سبھی اس کاروبار میں بڑے پیمانے پرشریک کار ہیں۔ جب فوج کے لوگ اس کالے کاروبار میں ملوث پائے جارہے ہیں، تو ایسے میں شمال مشرق میں نافذ ’آرمڈ فورسیز اسپیشل پاورس ایکٹ‘ پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ کہیں فوج کے لوگ اس ایکٹ کی آڑ میں تو یہ سب نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ یہ ایکٹ انھیں کافی اختیارات فراہم کرتا ہے؟
گزشتہ 26 مئی کو تھوبال ضلع میں پولس نے دو لوگوں کو بڑی مقدار میں ڈرگس کے ساتھ گرفتار کیا، جس کی قیمت بین الاقوامی بازار میں 2.50 کروڑ روپے ہے۔ ڈرگس کی اس کھیپ کے ساتھ پکڑے گئے وانجنگ کے بوکل اور تھوبال کے ایم ڈی تاج الدین شاہ پولس آفیسر ہیں۔ مذکورہ دونوں پولس آفیسر باقاعدہ یونیفارم میں ایک سرکاری جپسی پر ڈرگس کی یہ کھیپ لے کر ناگالینڈ کی طرف جا رہے تھے۔ جپسی میں ’اِفِڈرن بائوسیٹ‘ نامی ٹیبلٹ سے بھرے تین بکس لدے ہوئے تھے، جن میں ٹیبلیٹس (گولیوں) کی تعداد 3,19,200 پائی گئی۔ تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ یہ کھیپ سرحد سے ملحق شہر مورے (منی پور) ہوتے ہوئے میانمار (برما) جارہی تھی۔
اس کالے کاروبار سے متعلق یہ ایک معمولی واقعہ ہے۔ اس سے زیادہ حیران کرنے والی بات تو منی پو رکے پلیل نامی مقام سے گزشتہ 24 فروری کو امپھال میں تعینات کرنل رینک کے ڈیفنس پی آر او، اجے چودھری کا 25 کروڑ روپے کے ساتھ گرفتار ہونا ہے۔ اجے چودھری کے ساتھ چھ لوگ اور بھی تھے، جن میں اس کا اسسٹنٹ آر کے ببلو، اسسٹنٹ منیجر انڈ گوبرو جیندرو، ہاؤپو ہاؤکپ، مننتھ ڈونگیل، ملان ہاؤکپ اور سائیکھولین ہاؤکپ شامل تھے۔ سائیکھولین ہاؤکپ موجودہ کانگریسی ایم ایل اے ٹی این ہاؤکپ کا بیٹا ہے۔ اجے چودھری بھی ڈرگس لے کر مورے جارہے تھے۔ غور طلب ہے کہ ہند میانمار روڈ پر 77 دن کے اندر ڈرگس کے 19 کاروباری گرفتار کیے گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ قریب 90 فیصد ڈرگس میانمار سے ہندوستان آتا ہے۔ میانمار سے ہندوستان میں ڈرگس لانے کے لیے چار روٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان چاروں روٹوں میں سب سے زیادہ ڈرگس منی پور – ناگالینڈ ہوتے ہوئے ہندوستان لائے جاتے ہیں۔اس سلسلے میں حالیہ دنوں کاسب سے اہم واقعہ مورے کمانڈو کے سابق آفیسر انچارج و سب انسپکٹر آر کے بینود جیت کی گرفتاری کا ہے، جن کے پاس سے برآمد ڈرگس کی قیمت بین الاقوامی بازار کے مطابق 3.64 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ بینود جیت کو گزشتہ 8 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے 11 پولس والوں کو یہ ڈرگس ٹرانسپورٹ کرنے کا آرڈر دیا تھا، جو اسے میانمار کی طرف لے جارہے تھے۔ فی الحال بینود جیت اور اس کے 11 منی پور پولس کمانڈو ساتھی جیل میں ہیں۔ اس ڈرگس کی ڈلیوری مورے میں ہونی تھی۔
مورے منی پور – میانمار کی سرحد پر بسا ایک چھوٹا سا بازار ہے اور یہ ہندوستان کا ایک تجارتی مرکز بھی ہے۔ جب سے ہند- میانمار تجارتی معاہدہ نافذ ہوا ہے، تب سے یہاں تجارتی شعبے میں تیزی آگئی ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی کئی اشیاء میانمار سے ہندوستان لا کر فروخت کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد انھیں شمال مشرق اوردیگر ہندوستانی بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں سوال یہ ہے کہ ایسی جگہ پر تعینات پولس ملازمین کا ڈرگس کے ساتھ گرفتار ہونا آخر کیا ثابت کرتا ہے؟ اسی طرح 29 مئی کو نارکوٹکس افیئرس بارڈر پولس (این اے بی پی) نے لمپھیل کی سینٹرل ایگریکلچر یونیورسٹی ایرواسیمب گیٹ سے تقریباً 50 لاکھ روپے قیمت کی 25 کلو اِڈِ رن ٹیبلٹ کے ساتھ تین لوگوں کوگرفتار کیا۔ اس سے پہلے ایک جنوری کو 1.5 کروڑ روپے کا ڈرگس امپھال ایئر پورٹ پر پکڑا گیا تھا، لیکن اسے کون لے جارہا تھا، اس کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ کئی سماجی تنظیموں نے اس معاملے میں کسی سرکاری آدمی کے ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا تھا۔ ڈرگس کے اس کالے کاروبار کا شمال مشرق پر الٹا اثر پڑ رہا ہے۔
اس معاملے میں پورے شمال مشرق میں ناگالینڈ کا دیما پور سب سے آگے ہے، جبکہ دوسرے نمبر پر منی پور کا چرا چاند پور ضلع ہے۔ ان دونوں مقامات پر کھلے عام ڈرگس کی خرید و فروخت اور اس کا استعمال دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں ایچ آئی وی پازیٹو میں مبتلا کئی نوجوان لڑکے بہت بری حالت میں ملیں گے۔ صبح سے شام تک پورے دن ٹیبلٹ کھانا اور سرنج کے ذریعے ڈرگس لینا ہی ان کامحبوب مشغلہ ہے۔ وہ جو سرنج اپنے دوستوں کو لگاتے ہیں، اسے دوبارہ کسی اور کو بھی لگادیتے ہیں۔ اس سے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا خدشہ لگا رہتا ہے۔ ظاہر ہے، شمال مشرق میں چل رہے ڈرگس کے اس کالے کاروبار کو اگر فوراً نہیں روکا گیا، تو آگے جا کر یہ انتہا پسندی سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *