ممتا کو اب کیوں پسند نہیں مسلم پریشر گروپ؟

عبد العزیز 

مغربی بنگال ایک ایسی ریاست ہے، جہاں تحریک آزادی کا 1757 میں سراج الدولہ کی قیادت میں پہلا بگل بجا تھا۔ بعد ازاں سی آر داس ہوں یا نیتا جی سبھاش چندر بوس، مولانا آزاد ہوں یا مولانا محمد علی جوہر یا دیگر متعدد شخصیات، سبھوں نے اس بگل کو جاری رکھا۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنگ آزادی کے وقت میں ان تمام شخصیات نے انگریزوں کے خلاف پریشر گروپ کا کام کیا اور آزادی کے بعد بھی اس سلسلہ کو برقرار رکھا۔ اس تعلق سے سب سے پہلے تو مولانا محمد علی جوہر کے نوجوان ساتھی ملا جان محمد اور پھر اس کے بعد مشہور معالج و سماجی شخصیت ڈاکٹر مقبول احمد، مولانا ابو سلیم محمد شفیع، مولانا نعمت حسین، قمر الزماں اور اب سابق سی پی ایم لیڈر عبدالرزاق ملاّ نے کوششیں کیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے اقتدار میں آنے سے قبل مسلمانوں کے پریشر گروپ کی زبردست تائید کی، مگر اب اس سلسلے میں وہ کھل کر سامنے نہیں آ رہی ہیں۔ لہٰذا آزادی کے بعد سے لے کر اب تک مسلم پریشر گروپس کی تاریخ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتی ہوئی پیش ہے ذیل کی تفصیلی رپورٹ …

p-8آزادی کے بعد مغربی بنگال میں خلافت کمیٹی، جمعیۃ علماء ہند اور جماعت اسلامی ہند جیسی تنظیمیں اپنے اپنے دائرے میں مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں سر گرم عمل تھیں۔ خلافت کمیٹی کا کام صرف کلکتہ کے اندر محدود تھا، لیکن ملا جان محمد کلکتہ اور مغربی بنگال میں سب سے زیادہ مشہور و معروف لیڈر تھے۔ ان کے پاس مولانا محمد علی جوہر جیسی شخصیت کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ مولانا مرحوم کے چھوٹے بڑے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔ یہاں تک کہ چائے بنانے اور ناشتہ وغیرہ لانے میں بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔ ملا جان محمد حوصلہ مند اور نڈر تھے، لیکن پڑھے لکھے نہیں تھے۔ اردو سے واقفیت تھی اور اردو اخبارات پڑھ بھی لیا کرتے تھے۔ مولانا محمد علی جوہر کے اشعار انہیں بہت یاد تھے اور مولانا ظفر علی خاں، ایڈیٹر زمیندار کے اشعار اور رباعی بھی اکثر و بیشتر سناتے تھے۔ ملا جان محمد پشاوری تھے۔ پشاور سے کلکتہ آئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ فقیر محمد، جو پشاور کے تھے، انہوں نے ہی کلکتے میں خلافت کمیٹی قائم کی تھی۔ ملا جان محمد اسلامیہ اسپتال اور محمڈن اسپورٹنگ جیسے اداروں کے سرپرست اور مربی تھے۔ 1963-64 میں کلکتے کے فسادات کی وجہ سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تھے۔ اس موقع پر ملا صاحب نے بڑا حوصلہ دکھایا اور حکومت مغربی بنگال کی بے توجہی اور لاپرواہی کے خلاف آواز اٹھائی۔ جب مسلمانوں کی کئی بستیوں میں آگ لگی ہوئی تھی اور کئی بستیاں جھلس گئی تھیں، تو اس موقع پر اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ گلزاری لال نندا کلکتہ آئے، تو ملا جان محمد نے انہیںکھری کھری سنائی۔ یہ بات اخباروں میں کچھ اس طرح پھیلی کہ ملا جان محمد نے وزیر داخلہ کو آنکھیں دکھائیں اور روبرو ہوکر انہیں ڈانٹا اور ڈپٹا۔ راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی کوئی بات ہوتی، کوئی مسئلہ در پیش ہوتا، تو ملا جان مسلمانوں کی میٹنگ بلاتے۔ جمعیۃ علماء کے علاوہ ہر چھوٹی بڑی تنظیم کے صدر و سکریٹری اکٹھا ہوجاتے اور ملا جان کے زیر قیادت نہایت خوش اسلوبی سے کام انجام دیا جاتا۔ ملا صاحب ’آزاد ہند‘ اور ’آبشار‘ جیسے اخبارات کی تنقیدیں بھی برداشت کرتے، مگر ان کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوتا۔ ایک طرح سے ملا صاحب کے زمانے تک خلافت کمیٹی پریشر گروپ کی حیثیت سے کام کرتی رہی، لیکن ملا جان کے انتقال کے بعد خلافت کمیٹی محض عیدین کی نماز کے انتظام و انصرام کے سوا کوئی کام انجام دینے کے لائق نہ رہی اور کوئی بھی شخص خلافت کمیٹی میں میر کارواں بننے کے لائق نہ رہا۔ ویسے یہ ادارہ ابھی تک زندہ ہے اور سانس بھی لے رہا ہے۔

ممتا بنرجی جب وزیر اعلیٰ نہیں تھیں اور اپوزیشن لیڈر تھیں، اسمبلی کے انتخابات کو آٹھ نو مہینے باقی تھے، تو ان کے ایک رفیق اور ’اخبار مشرق‘ کے ایڈیٹر ندیم الحق نے روٹری کلب میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا تھا، جس میں ممتا نے شرکت کی تھی اور ان کی پارٹی کے سلطان احمد، جاوید خان اور سدیپ بندو پادھیائے بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ ممتا سے جب ایک سوال کیا گیا کہ کیا مسلمانوں کا کوئی پریشر گروپ آپ پسند کریں گی؟ ممتا بنرجی نے جواب میں کہا تھا کہ وہ یقینا پسند کریں گی، لیکن ’کور گروپ‘ ہونا چاہیے ’چور گروپ‘ نہیں۔ اب جبکہ ممتا بنرجی اقتدار کی کرسی پر فائز ہیں، تو ایسا نہیں لگتا کہ وہ کسی کور گروپ کو پسند کریں گی، اس لیے کہ اپنے خلاف اب وہ کسی آواز کو پسند نہیں کرتیں، یہاںتک کہ مغربی بنگال کے شاعر، ادیب، فلمساز، ہدایت کار پر مشتمل جو این جی اوز (NGOs) کام کررہے ہیں، ان پر بھی وہ اکثر و بیشتر برستی رہتی ہیں۔ممتا بنرجی کے کام کرنے کا طریقہ آہستہ آہستہ غیر جمہوری ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے مغربی بنگال کے دانشور طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر مقبول احمد اور مشاورت:ملا صاحب کے بعد ڈاکٹر مقبول احمد مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش رہے۔ ڈاکٹر مقبول گرچہ عوامی آدمی نہیں تھے، لیکن جب تک ملا صاحب زندہ رہے، یہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میںہاتھ بٹاتے رہے۔ خاص طور سے اسلامیہ اسپتال کو چلانے اور سنبھالنے میں ڈاکٹر مقبول احمد آج تک جانے جاتے ہیں۔ جب 1977 میں ہندستان میںجنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور مغربی بنگال میں کانگریس کا زوال شروع ہوا، تو پی سی سین، جو کانگریس کے لیڈر تھے اور مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے، جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے۔ ایمرجنسی کا زمانہ ختم ہوچکا تھا، اندرا گاندھی کی کانگریس کی زبردست شکست ہو چکی تھی۔ مغربی بنگال میں اسمبلی کا الیکشن ہونے والا تھا۔ ڈاکٹر مقبول احمد نے میری ہی گزارش پر اپنے چیمبر میں ایک میٹنگ بلائی، جس میں مولانا عبد الفتاح، کلیم الدین شمس، قسیم الدین اشک، شہریار بیگ اور شہر کے کچھ وکلاء اور دانشور جمع ہوئے۔ اس میٹنگ میں مسلم مجلس مشاورت کی شاخ کلکتے میں قائم کی گئی۔ ڈاکٹر مقبول احمد مشاورت کے صدر مقرر ہوئے اور سکریٹری کی ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی گئی۔ ڈاکٹر مقبول مشاورت سے ایسے لگے کہ مشاورت اور ڈاکٹر صاحب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئے۔ ہم نے اپنی زندگی میں کسی شخص کو ایسا نہیں دیکھا، جو کسی ادارے سے اتنی محبت کرتا رہا ہو اور اگر وہ ملک سے باہر بھی چلا گیا ہو، تو اس ادارے کو زندہ رہنے اور قائم رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب جب کینیڈا میں تھے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی، تو راقم کوکینیڈا سے بھی حمایت اور حوصلہ دیتے رہے، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کو بھی وصیت کی کہ ان کا چیمبر اور ان کی لائبریری بھی مشاورت کے حوالے کردی جائے، لیکن جس بلڈنگ میں ان کا چیمبر اور لائبریری تھی مالک مکان مسلمان تو ضرور تھا، لیکن اسے مسلمانوں کے کام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس نے ان کے وارثوں کو نہ تو چیمبر دیا اور نہ ہی اس کے بدلے میں رقم دی۔ ڈاکٹر صاحب تا حیات مشاورت اور اپنے رفقاء کے ذریعہ پریشر گروپ کا کام انجام دیتے رہے ۔ ان کی زندگی کے بعد مشاورت کو ڈاکٹر صاحب جیساکوئی آدمی نہیں ملا۔
ملی اتحاد کمیٹی:کلکتہ اور مغربی بنگال میں فسادات کا سلسلہ جب دراز ہوا، تو مسلمانوں میں، خاص طور پرکلکتہ کے مسلمانوں میں زبردست بے چینی پیدا ہوئی۔ مسلمانوں کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی، جس کے کنوینر مولانا ابوسلمہ محمد شفیع، حاجی منصور احمد، یونس خان اورصلاح الدین سابق کونسلر تھے۔ اس میٹنگ کو راقم اور شمیم اختر نے آرگنائز کیا۔ ڈاکٹر مقبول احمد اس میٹنگ میں صدر مسلم مجلس مشاورت کی حیثیت سے شریک تھے۔ ایڈیٹر ’اخبار مشرق‘ وسیم الحق بھی شریکِ مجلس تھے۔ جب ایک کمیٹی بنانے کی بات سامنے آئی، توڈاکٹر مقبول احمد نے مخالفت کی۔ اس کے برعکس وسیم الحق نے نئی کمیٹی پر زور دیا۔ اس طرح میٹنگ کے اندر دو رائیں الگ الگ ہوگئیں۔ اس موقع پر میں نے ڈاکٹر صاحب کو سمجھایا کہ مشاورت رہتے ہوئے کسی نئی کمیٹی کا وجود مشاورت یا کسی بھی ادارے کے لیے خطرے کی بات نہیں، بلکہ مشاورت کے لیے تقویت کی بات ہوگی۔ یہ کمیٹی مشاورت کے اندر شامل ہوجائے گی۔ اس پر ڈاکٹر مقبول راضی ہوگئے اور ملی اتحاد کمیٹی کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم ہوا۔ مولانا ابو سلمہ محمد شفیع امام عیدین اس کمیٹی کے صدر ہوئے اور صلاح الدین صاحب جنرل سکریٹری۔ یہ ادارہ بہت دنوں تک مسلمانوں کے مسائل، جو بھی درپیش ہوتے اسے حل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتارہا۔ خاص طورپر مسلمانوں کے اندر جھگڑے اور تنازعہ کو حل کرتا اور فساد کے موقع پر مسلمانوں کو تسلی اور راحت دینے کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا۔ مولانا محمد شفیع کے موت کے بعد بھی یہ ادارہ کام کرتا رہا، لیکن آہستہ آہستہ اس کے بہت سے اراکین سست پڑ گئے یا ضعیف ہوگئے اور اس طرح کام میںبھی سستی اور ضعف پیدا ہوگیا۔
ملی اتحاد پریشد:ملی اتحاد پریشد کا وجود 2007 میں عمل میں آیا۔ یہ ادارہ خاص طور پر تسلیمہ نسرین کو شہر بدر کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ اس کے کنوینر صدیق اللہ چودھری اور مجھے بنایا گیا۔ پہلا کام، جس کے لیے یہ ادارہ بنایا گیا تھا، ایک ڈیڑھ سال کے اندر ہی پورا ہوگیا، یعنی تسلیمہ نسرین کو کلکتے سے راتوں رات روانہ کردیا گیا۔ پریشد کا کام آج تک جاری ہے، گرچہ اس سے کئی ادارے جو دلچسپی لیتے تھے، وہ فی الحال نہیں لے رہے ہیں، خاص طور پر جمعیۃ علماء اور ملی کونسل، لیکن ان تنظیموں سے بھی پریشد کا ربط قائم ہے۔ مولانا نعمت حسین حبیبی اس کے صدر ہیں اور مجھ پر جنرل سکریٹری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ جب سے یہ پریشد قائم ہوا، سرگرم عمل رہا اور آج بھی سرگرم عمل ہے۔ بہت سارے ادارے اور بہت سی شخصیتیں اس سے جڑی ہوئی ہیں۔ پریشد جتنا بڑا کام انجام دیتا ہے اس کی مناسبت سے کولکاتا یا مغربی بنگال کے لوگ نہ تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور نہ اس کی معاونت اور مدد میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ مغربی بنگال کے اضلاع میں جب بھی کوئی فساد ہوا یا سیاسی قتل ہوئے، پریشدکے لوگوں نے ایسے علاقوں کا دورہ کیا۔ جب بھی مسلمان بے گناہ اور بے قصور گرفتار ہوئے، پریشد کے لوگ آگے آئے اور ان کی رہائی کرانے میں کامیاب بھی ہوئے۔
آل بنگال مائناریٹی یوتھ فیڈریشن:کئی سالوں سے آل بنگال مائناریٹی یوتھ فیڈریشن قمر الزماں کی سربراہی میں کام کر رہا ہے۔ قمر الزماں لوگوں کی بھیڑ جمع کرنے اور مختلف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں جب اسلام پسندوں پر آفت آئی اور عالموں کو ٹریبونل کے ذریعے سزائے موت کا حکم سنایا گیا اور کئی اہم لیڈروں کوعمر قید کی سزا کے فیصلے کا اعلان کیا گیا، تو قمر الزماں کی قیادت میں شہید مینار میں بہت بڑا جلسہ ہوا، جس کی چرچا مغربی بنگال میں ہی نہیں، بلکہ مغربی بنگال کے باہر بھی ہوئی۔ کئی جلسے شہید مینار میں قمر الزماں نے کیے اور ایک جلسہ ایسا بھی ہوا، جس میں انہوں نے موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس سے مغربی بنگال کے مسلمانوں کو حوصلہ ملا۔ آج جو رمضان اور پنچایت الیکشن کا مسئلہ درپیش ہے، قمر الزماں کی سربراہی میں گزشتہ دنوں ریلی نکالی گئی اور اس تعلق سے سپریم کورٹ میں فیڈریشن کے طرف سے عرضی بھی داخل کی گئی۔ اس طرح قمر الزماں کی سربراہی میں فیڈریشن کا کام مغربی بنگال میں اچھے اندازسے انجام پارہا ہے۔ یہ بھی ایک پریشر گروپ کی حیثیت سے کام کررہا ہے۔
آدم:اس وقت سابق وزیر حکومت مغربی بنگال اور ایم ایل اے عبد الرزاق ملا کا ادارہ ’ایسوسی ایسن فار ڈاؤن ٹروڈن اینڈ مسلم‘ (آدم) کا کافی چرچا ہے اور اس وقت سے کچھ زیادہ ہی چرچا ہونے لگا ہے، جب سے ترنمول کانگریس کے ایک ایم ایل اے ڈاکٹر نورالزماں اس ادارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس ادارے پرمیڈیا کی زبردست نظر ہے۔ آدم کی طرف سے بھی رمضان اور پنچایت کے مسئلے میں سرگرمی دکھائی گئی ہے۔ عبد الرزاق ملا نے وزیر اعلیٰ مغربی بنگال اور الیکشن کمشنر مغربی بنگال کو خطوط لکھے اور سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی داخل کی۔ ملا صاحب کی سربراہی میں کئی سماجی کارکن کام انجام دے رہے ہیں۔ بردوان، مالدہ، مرشدآباد، دیناج پور اور دیگر اضلاع میں آدم کا کام شروع ہوچکا ہے۔ کئی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ یہ ادارہ بھی پریشر گروپ کے طورپر کام کررہا ہے۔ اس طرح کئی چھوٹی بڑی تنظیمیں ابتدا ہی سے مغربی بنگال میں پریشر گروپ کے طور پر کام کررہی ہیں۔ ان کے اثرات بھی کچھ نہ کچھ دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ سب گروپ ایک ہوجائیں، تو جو آواز آج صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہے، وہ نہ ہواور حکومت کے ایوانوں میں اس کی آواز محسوس کی جانے لگے۔ ملا صاحب پہل کررہے ہیں اور مختلف تنظیموں کو اکٹھا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
ممتا بنرجی:ممتا بنرجی جب وزیر اعلیٰ نہیں تھیں اور اپوزیشن لیڈر تھیں، اسمبلی کے انتخابات کو آٹھ نو مہینے باقی تھے، تو ان کے ایک رفیق اور ’اخبار مشرق‘ کے ایڈیٹر ندیم الحق نے روٹری کلب میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا تھا، جس میں ممتا نے شرکت کی تھی اور ان کی پارٹی کے سلطان احمد، جاوید خان اور سدیپ بندو پادھیائے بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔ ممتا سے جب ایک سوال کیا گیا کہ کیا مسلمانوں کا کوئی پریشر گروپ آپ پسند کریں گی؟ ممتا بنرجی نے جواب میں کہا تھا کہ وہ یقینا پسند کریں گی، لیکن ’کور گروپ‘ ہونا چاہیے ’چور گروپ‘ نہیں۔ اب جبکہ ممتا بنرجی اقتدار کی کرسی پر فائز ہیں، تو ایسا نہیں لگتا کہ وہ کسی کور گروپ کو پسند کریں گی، اس لیے کہ اپنے خلاف اب وہ کسی آواز کو پسند نہیں کرتیں، یہاںتک کہ مغربی بنگال کے شاعر، ادیب، فلمساز، ہدایت کار پر مشتمل جو این جی اوز (NGOs) کام کررہے ہیں، ان پر بھی وہ اکثر و بیشتر برستی رہتی ہیں۔ممتا بنرجی کے کام کرنے کا طریقہ آہستہ آہستہ غیر جمہوری ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے مغربی بنگال کے دانشور طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ابھی تک یہ اچھی بات ہے کہ مسلمانوں کے کسی گروپ پر نہ وہ گرجی ہیں اور نہ وہ برسی ہیں اور یہ عجب اتفاق ہے کہ رمضان کے بعد پنچایت الیکشن ہو، ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی خود اس معاملے میں پیش پیش ہے اور مسلمانوں کے اکا دکا اداروں کو چھوڑ کر سبھی اس معاملے میں ہم آواز ہیں۔ امید یہ ہے کہ یہ آواز ممتا کو کافی پسند آرہی ہوگی، لیکن کیا ایسی آواز جو ممتا سے مختلف ہوگی، ممتا اسے پسند کریں گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *