مہاراشٹر: مسلمانوں کے مسائل جوں کے توں

ڈاکٹر قمر تبریز

2014 کے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کانگریس نے اپنی تیاریاں زور و شور سے شروع کردی ہیں۔ مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس نے ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اپنی ریاستی یونٹ اور خاص کر اپنے اقلیتی سیل کو فعال بنا دیا ہے۔ مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کانگریس نے مسلم ماس کنٹیکٹ(مسلم عوام رابطہ) مہم شروع کی ہے، لیکن وہاں کے مسلمان کانگریس سے خوش نہیں ہیں۔ ایسے میں سوال ہے کہ کیا کانگریس مہاراشٹر کے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرپانے میں کامیاب ہو پائے گی؟ آئیے دیکھتے ہیں اِس رپورٹ میں …

p-5گزشتہ لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد اب تک متعدد ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا ووٹ کسی بھی سیاسی پارٹی کی جیت یا ہار میں فیصلہ کن رول ادا کرتا ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد ملک میں اگلی لوک سبھا کے لیے عام انتخابات ہونے والے ہیں، لہٰذا تمام سیاسی پارٹیوں کی ایک بار پھر مسلم ووٹوں پر سب سے زیادہ نظر ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے بہار میں دیکھا کہ کیسے وہاں کے 17 فیصد مسلم ووٹ کو حاصل کرنے کی کوشش میں نتیش کمار کی سربراہی والی جنتا دل یونائٹیڈ نے بی جے پی سے اپنا ناطہ توڑ لیا اور اس طرح این ڈی اے سے جے ڈی یو کا 17 سالہ پرانا رشتہ ٹوٹ گیا۔اسی طرح اتر پردیش میں بھی گزشتہ دنوں کانگریس نے بنارس میں اپنے اقلیتی سیل کی ایک میٹنگ کی، جس میں بجائے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے اور یو پی اے سرکار کی مسلمانوں کے تعلق سے اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کے، اس نے وہاں کی سماجوادی حکومت پر الزام عائد کرنے شروع کر دیے۔ تقریباً یہی حال مہاراشٹر کا بھی ہے، جہاں گزشتہ 14 جون کو ممبئی کانگریس کے صدر، پروفیسر جناردن چنڈولکر نے کانگریس کے یوراج راہل گاندھی کی ایما پر مسلم ماس کنٹیکٹ مہم کے تحت جماعت اسلامی مہاراشٹر کے ممبئی کے ذمہ داروں سے ملاقات کی۔ اس میٹنگ میں جناردن چنڈولکر نے کانگریس کی پرانی روِش اختیار کرتے ہوئے مسلمانوں کے سامنے ایک بار پھر جھوٹا وعدہ کیا کہ مہاراشٹر کے مسلمانوں کی نہ صرف بات سنی جائے گی، بلکہ ان کے مسائل حل بھی کیے جائیں گے۔ یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ صرف انتخاب کے وقت ہی کانگریس کو مسلمانوں کی یاد کیوں آتی ہے؟

مہاراشٹر کے مسلمانوں کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے بے قصور مسلم نوجوانوں کا جیلوں میں بند ہونا۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے، جو خود مہاراشٹر کے رہنے والے ہیں، نے گزشتہ دنوں ملک بھر کے مسلمانوں کو یقین دلایا تھا کہ مرکز میں برسر اقتدار اُن کی حکومت جلد ہی بے قصور مسلمانوں کو رہا کرانے کی پوری کوشش کرے گی، لیکن اب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مہاراشٹر کے مسلمان اپنے مسائل کو لے کر نہ تو اپنے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان سے مل سکتے ہیں اور نہ ہی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے سے۔ مہاراشٹر کے مسلمانوں کو تو یہ بھی شکایت ہے کہ انہیں اپنی کسی ریلی کو کرنے کے لیے ممبئی کے آزاد میدان میں جمع ہونے تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ ملک کا آئین اپنے تمام شہریوں کو پرامن طریقے سے کہیں بھی جمع ہوکر ریلی کرنے اور اپنے مسائل کو اٹھانے کی پوری اجازت دیتا ہے، لیکن مہاراشٹر کی کانگریس اور این سی پی کی مخلوط حکومت نے وہاں کے مسلمانوں سے ان کا یہ آئینی حق بھی چھین لیا ہے۔ پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ کیسے مہاراشٹر کے مسلمانوں نے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر مالیگاؤں سے ممبئی تک، تقریباً 350 کلومیٹر تک پیدل مارچ کیا، لیکن جب وہ ممبئی پہنچے، تو وہاں کی پولس نے انہیں آزاد میدان میں جمع ہونے کی اجازت تک نہیں دی۔ یہی نہیں، وزیر اعلیٰ پرتھوی راج نے ریزرویشن کی مانگ کر رہے اِن مسلمانوں سے پہلے تو ملاقات کرنے کا وعدہ کیا، لیکن بعد میں وہ اپنے اِس وعدے سے مُکر گئے۔

مہاراشٹر کے مسلمانوں کو ایک اور شکایت یہ بھی ہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی، وقف بورڈ مہاراشٹر، ریاستی اردو اکیڈمی اور ریاستی مائناریٹی کمیشن جیسے تمام سرکاری ادارے پوری طرح سے مفلوج پڑے ہوئے ہیں، کہیں کسی کا صدر نہیں ہے، تو کہیں ارکان پورے نہیں ہیں اور اکثر اداروں میں معقول ، مخلص اور ایماندار اسٹاف کی کمی ہے، جب کہ کانگریس سے تعلق رکھنے والے مہاراشٹر کے وزیر برائے اقلیتی امور نسیم خان ریاست کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ ریاست کے مسلمانوں کا الزام ہے کہ نسیم خان نے سرکاری مسلم اداروں میں صرف اپنے جاننے والوں کی ہی تقرری کی ہے، جن کے اندر صلاحیتوں کی کمی ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے مسائل حل ہونے کی بجائے اور سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے، تو مہاراشٹر کی اقلیت اور خاص کر مسلمان شدت سے اس بات کو محسوس کرنے لگے ہیں کہ سرکاری مشینری کے اشاروں پر انہیں ترقی کی دوڑ میں جان بوجھ کر پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر مسلمانوں کی اس تشویش کا ازالہ کانگریس یا ریاست کی دوسری سیاسی جماعتیں نہیں کرتی ہیں، تو آنے والاانتخاب ان کے لیے مہنگا اور غیر سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔

مہاراشٹر کی جیلوں میں بند مسلمان
سچر کمیٹی نے 2006 میں تیار کی گئی اپنی رپورٹ کے ایک حصہ جسے وزیر اعظم کو سونپتے وقت حذف کر دیا گیا تھا، میں بتایا تھا کہ ملک کی کسی ریاست میں اگر مسلم قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، تو وہ ریاست ہے مہاراشٹر۔ حالانکہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی دسمبر 2010 تک کی گنتی کے مطابق، آج مہاراشٹر اس معاملے میں اتر پردیش اور مغربی بنگال کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے سال 2010 کے اخیر تک کے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر کی مختلف جیلوں میںبند قیدیوں کی کل تعداد 7663 ہے، جن میں سے سزا یافتہ مسلم قیدیوں کی کل تعداد 2503 ہے، جب کہ زیر سماعت قیدیوں کی کل تعداد 5147 ہے۔ ظاہر ہے، اِن زیر سماعت قیدیوں میں سے زیادہ تر ایسے بے قصور مسلمان ہیں، جنہیں دہشت گردی کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ سے ہی متاثر ہو کر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی نے ڈاکٹر وجے راگھون اور مس روشنی نائر کی سربراہی میں 2011 میں مہاراشٹر کی متعدد جیلوں کا سروے کرایا اور ان میں بند مسلم قیدیوں کی صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کی ۔ اس کی تحقیق کے دوران مسلم قیدیوں سے متعلق درج ذیل حقائق سامنے آئے :
پورے مہاراشٹر میں 18 سے 30 سال کی عمر کے جتنے بھی قیدی ہیں، ان میں مسلم قیدیوں کا حصہ 65.5 فیصد ہے۔ یہ مسلم قیدی یا تو اَن پڑھ ہیں یا پھر انہوں نے صرف پرائمری اسکول تک ہی تعلیم حاصل کی ہے۔
گرفتاری کے وقت بہت کم مسلم ایسے تھے جو بے روزگار رہے ہوں گے، بلکہ زیادہ تر کچھ نہ کما ضرور رہے تھے اور ان کی ماہانہ آمدنی 2000 روپے سے لے کر 5000 روپے تک تھی۔
جن مسلم قیدیوں کا انٹرویو کیا گیا ان میں سے 75.5 فیصد ایسے تھے، جنہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا، یعنی وہ کرمنل بیک گراؤنڈ کے نہیں تھے۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ زیادہ تر معاملوں میں قیدیوں نے اپنی گرفتاری کے لیے ناقص پولس سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جرم کرنے سے باز آنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بار جرم کرنے اور گرفتار ہوجانے کے بعد ان کے علاقہ میں جب بھی کرائم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولس پہلے انہیں ہی گرفتار کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار جیل پہنچ جاتے ہیں اور جرائم کی دنیا سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے ہیں۔ کچھ مسلم قیدیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولس کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے مسلمانوں کو بار بار گرفتار کیا جاتا ہے۔

مہاراشٹر پولس اسٹیٹ بن چکا ہے
ممبئی کے ایک صحافی نہال صغیر نے چوتھی دنیا سے بات چیت کے دوران بتایا کہ کانگریس نے مہاراشٹر کو ایک پولس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، مہاراشٹر ہندوستان کا حصہ نہیں لگتا، کیو ںکہ یہاں کے عوام اور خاص کر مسلمانوں کو ان کا جمہوری حقوق نہیں دیا جاتا۔ ان کی یہ بھی شکایت ہے کہ مسلمانوں نے کئی بار ممبئی کے آزاد میدان میں اپنی ریلی کرنی چاہی، وہاں جمع ہو کر اپنے مسائل کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہا، لیکن کانگریس اور این سی پی کی مخلوط حکومت نے آزاد میدان میں مسلمانوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر برائے اقلیتی امور نسیم خان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف نے مہاراشٹر کے مسلمانوں کا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے ممبئی میں ایک خبر رساں ایجنسی کے رپورٹر کو ایک طرح سے خرید لیا ہے، جو اُن کے تعلق سے ہمیشہ واہ واہی کی خبریں پورے ملک میں پھیلاتا رہتا ہے، حالانکہ ان خبروں کا سچائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ مہاراشٹر کے مسلمانوں کے ذریعے ریزرویشن حاصل کرنے کے لیے پیدال مارچ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس میں مجموعی طور پر ایک ہزار لوگ شریک تھے، ویسے الگ الگ مقامات پر ان کے استقبال میں پانچ پانچ ہزار مسلمان بھی بعض دفعہ جمع ہو گئے۔ انہوں نے کے رحمن خان کو پروپیگنڈہ پھیلانے والا کانگریسی وزیر بتایا اور کہا کہ مولانا آزاد فاؤنڈیشن کی طرف سے مسلم بچوں کو جو اسکالر شپ دی جاتی ہے، اس کے لیے ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں جمع ہیں، لیکن ابھی تک ان پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس صرف جھوٹے وعدے کرتی ہے، جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔

اعلیٰ تعلیم کے لئے اردو میڈیم کالج کی کمی ہے
شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد نے چوتھی دنیا کو بتایا کہ ’’مہاراشٹر کے مسلمانوں کی صورت حال ہندوستان کے دوسرے صوبوں کی بہ نسبت بہتر ہے، کیوں کہ یہ ایک صنعتی شہر ہے، اس لیے لوگوں کو روزگار مل جاتا ہے، مگر تعلیمی سطح پر بہت پسماندگی نظر آتی ہے۔ تقریباً پانچ ہزار اُردو میڈیم اسکول قائم کیے گئے ہیں، مگر اعلیٰ تعلیم کے لیے اردو میڈیم کالج نہ ہونے کی وجہ سے مسلم طلبا کے ڈراپ آؤٹ کا فیصد دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اعلیٰ تعلیم کے لیے اردو میڈیم کالج کھول کر، جامعہ اردو علی گڑھ کی سند اور مدرسہ بورڈ کو منظوری دے کر اور قومی و ریاستی سطح پر مقابلہ جاتی امتحانات اردو زبان میںمنعقد کرکے اس مسئلے کوحل کیا جاسکتا ہے۔‘‘

مراٹھی میڈیم سے تعلیم حاصل کرنا مسلمانوں کی مجبوری
ممبئی سے تقریباً 210 کلومیٹر دور پونہ کے ایک چھوٹے سے گاؤںججوری میں رہنے والے حاجی اقبال پانسرے نے چوتھی دنیا کو بتایا کہ ان کے علاقے میں تقریباً 200 گھر مسلمانوں کے ہیں۔ ان میں سے صرف 20 یا 25 گھروں کے مسلمانوں کے پاس اپنی زمینیں ہیں جن پر وہ کھیتی باڑی کرتے ہیں، بقیہ 175 گھروں میں سے زیادہ تر مسلمان پھل اور سبزیوں کی خرید و فروخت کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ اقبال پانسرے کے مطابق، پہلے یہاں کے مسلمانوں میں تعلیم کی کمی تھی، لیکن اب مسلم بچے تعلیم پر دھیان دے رہے ہیں۔ البتہ، ان کے لیے سب سے بڑی پریشانی اس علاقے میں اردو میڈیم اسکولوں کا نہ ہونا ہے۔ سرکاری سطح پر صرف تیسری کلاس تک اردو کی تعلیم کا انتظام ہے، جس کے بعد انہیں لامحالہ مراٹھی میڈیم میں تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ ان کی یہ بھی شکایت ہے کہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے۔ مسلم بچے پڑھ لکھ کر پرائیویٹ کمپنیوں میں تو نوکری حاصل کر لیتے ہیں، لیکن سرکاری نوکریاں انہیں نہیں ملتی ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *