کیا ملک میں تیسرا مورچہ بن پائے گا

روبی ارون

یوں تو تیسرا مورچہ بنانے کی نورا کشتی ہندوستان کی سیاست میں گزشتہ 25 برسوں سے چل رہی ہے، لیکن اس قواعد میں لگے نیتاؤں کی، میں بھی وزیر اعظم – میں بھی وزیر اعظم والی حسرتوں نے اسے ٹھوس شکل اختیار کرنے ہی نہیں دیا۔ آئندہ لوک سبھاانتخابات کے مد نظر تیسرے مورچہ کی تشکیل کے لیے ایک بار پھر سیاسی ہلچل شروع ہو گئی ہے، لیکن اس میں شامل ہونے والے موقع پرست اور شاطر لیڈر جھوٹی شان کی وجہ سے اپنی جماعت تیار ہی نہیں کر پا رہے ہیں۔ نتیجتاً، اس کی آڑ میں چوتھا مورچہ تو تشکیل پاتا نظر آ رہا ہے، لیکن تیسرے مورچہ کا تصور ایک بار پھر ہوا ہوائی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

Mastسیاست میں نا ممکن کچھ بھی نہیں ہوتا۔ 1975 اور 1989 کے تجربے بھی یہی بتاتے ہیں کہ سیاست کی مجبوریاں ایک دوسرے کی کٹر مخالف پارٹیوں اور نظریات کو بھی ایک ساتھ کھڑا کر سکتی ہیں۔ لیکن، مشکل یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس سے یکساں دوری بنائے رکھنے کی خواہش مند پارٹیوں کے نیتاؤں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کے درمیان نظریاتی سطح پر آپس میں کوئی تال میل ہی نہیں ہے۔ یہ نیتا ایک دوسرے کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ مثلاً، اتر پردیش میں بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی، دونوں کو ہی تیسرے مورچہ کی تلاش ہے، لیکن ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کسی بھی قیمت پر ایک ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔ تمل ناڈو میں ایم کروناندھی بھی جے للتا کے ساتھ چلنے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ اُدھر، کانگریس نے راجیہ سبھا الیکشن میں بھلے ہی کروناندھی کی پارٹی، ڈی ایم کے کے امیدوار کو حمایت دی ہو، لیکن یہ امکان نہیں کے برابر ہی نظر آتا ہے کہ کروناندھی اگلے لوک سبھا الیکشن میں یو پی اے کو حمایت بھی دیں گے۔ دوسری طرف، جے للتا بھلے ہی نریندر مودی کی بہت اچھی دوست ہوں، لیکن وہ بی جے پی کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتیں، کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ تیسرے مورچہ کے حق میں ہی بیان دیا ہے۔ گزشتہ دنوں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے مل کر جے للتا نے نئے متبادل پر بات کی ہے۔ حالانکہ وہ اس پر فیصلہ الیکشن کے بعد ہی کریں گی۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل اور جے ڈی یو بھی اسی کشمکش سے گزر رہے ہیں، کیوں کہ یہ دونوں پارٹی ایک ساتھ کسی ایک مورچہ میں نہیں رہ سکتی۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن کی لڑائی چوطرفہ ہی ہوگی اور یو پی اے اور این ڈی اے، دونوں اتحادوں کے انتخابی اکیویشن میں الٹ پھیر ہونے کی پوری گنجائش بھی بنتی ہے۔ ان لیڈروں کی باہمی عداوت پر نظر ڈالیں، تو بڑی آسانی سے چوتھا مورچہ اپنی شکل لیتا ہوا نظر آتا ہے۔
بہرحال، ہم بات کر رہے ہیں تیسرے مورچہ کی تشکیل اور اس کے امکانات کی۔ اِن دنوں کچھ انتخابی سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملک کے لوگوں کا مزاج علاقائی پارٹیوں کی جانب جھک رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگلے لوک سبھا چناؤ میں یہ تمام علاقائی پارٹیاں مل جل کر ایک بڑی طاقت کے طور پر بھی ابھر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تیسرے مورچہ میں ہر وہ پارٹی شامل ہونا چاہتی ہے، جو خود کو بی جے پی اور کانگریس سے الگ رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن تیسرے مورچہ کا المیہ یہ ہے کہ گزشتہ 25 برسوں میں ہندوستان کی سیاست میں یہ بس ایک مفروضہ بن کر رہ گیا ہے، لیکن جب جب تیسرے مورچہ کی تشکیل کے لیے ہوا بہتی ہے، تب تب کرسی کی جنگ میں تیسرا مورچہ بنتے بنتے بکھر جاتا ہے۔ دراصل، تیسرا مورچہ اتنی بار بنا اور بکھرا ہے کہ اب اسے ملک کے عوام سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اس لیے گزشتہ دنوں جب ملائم سنگھ یادو نے تیسرے مورچہ کا اپنا پرانا راگ الاپا، تو ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی رہی کہ ایک طرف ملائم سنگھ بی جے پی سے الگ دکھائی دینے کی جدو جہد میں تیسرے مورچہ کی بات کرتے ہیں، تو دوسری طرف ان کے بھائی رام گوپال یادو لال کرشن اڈوانی کی تعریف میں قصیدے پڑھتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہی سماجوادی پارٹی ہے، جس کی پہل پر یو این پی اے بنا تھا اور جس میں وہ تمام پارٹیاں شامل ہوئی تھیں، جو نہ این ڈی اے میں تھیں اور نہ ہی یو پی اے میں، لیکن بعد میں سماجوادی پارٹی ہی یو این پی اے سے الگ ہو گئی اور اس نے یو پی اے کے حق میں اپنی حمایت دے دی۔

ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کسی بھی قیمت پر ایک ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔ تمل ناڈو میں ایم کروناندھی بھی جے للتا کے ساتھ چلنے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ اُدھر، کانگریس نے راجیہ سبھا الیکشن میں بھلے ہی کروناندھی کی پارٹی، ڈی ایم کے کے امیدوار کو حمایت دی ہو، لیکن یہ امکان نہیں کے برابر ہی نظر آتا ہے کہ کروناندھی اگلے لوک سبھا الیکشن میں یو پی اے کو حمایت بھی دیں گے۔ دوسری طرف، جے للتا بھلے ہی نریندر مودی کی بہت اچھی دوست ہوں، لیکن وہ بی جے پی کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتیں، کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ تیسرے مورچہ کے حق میں ہی بیان دیا ہے۔

موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے جہاں ایک طرف ممتا بنرجی نے فیڈرل فرنٹ کے نام سے ایک نیا سیاسی شگوفہ چھوڑا، تو وہیں دوسری طرف تیلگو دیشم سپریمو چندر بابو نائڈو نے بھی اپنا قدم بڑھا دیا۔ اُدھر نوین پٹنائک بھی ملک کے عوام کے سامنے خود کو کانگریس اور بی جے پی سے دور اور الگ دکھائی دینے کی کوشش میں تیسرے مورچہ کی آگ کو ہوا دینے میں لگ گئے۔ تیسرے مورچہ کی وکالت کر رہے لیڈروں میں سے نوین پٹنائک کو چھوڑ کر باقی سبھی کی اس سیاسی جنگ میں پہچان غیر بھاجپائی اور غیر کانگریسی کی ہی رہی ہے، لیکن مشکل پھر وہی آئے گی کہ ممتا کے فیڈرل فرنٹ میں ملائم سنگھ یادو شامل نہیں ہو سکتے، تو ایسے میں ان کی قریبی لیفٹ پارٹیوں کا تو ممتا کے ساتھ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ کئی موقعوں پر کانگریس کے مشکل کشا بنے ملائم سنگھ یادو کوئی الگ راہ تلاش کر رہے ہیں، تو وہیں کانگریس کے ہر فیصلے میں تقریباً اس کی ہم قدم رہنے والی این سی پی کو بھی تیسرے مورچہ کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ وزیر زراعت اور این سی پی لیڈر شرد پوار نے اپنی حکمت عملی پر باقاعدہ عمل کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ پوار نے بیجو جنتا دل اور سی پی آئی (ایم) سے لوک سبھا الیکشن سے پہلے ہی گٹھ بندھن کی بات کی ہے، تو ساتھ ہی ساتھ وہ این ڈی اے اور یو پی اے میں شامل دیگر پارٹیوں سے بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ الیکشن کے بعد کے اکیویشن کو نظر میں رکھتے ہوئے انہوں نے شرد یادو سے بھی بات چیت کی ہے، لیکن فی الحال پیچ وہیں آکر پھنس رہا ہے، یعنی نجی سیاسی حسرتوں پر۔ شرد پوار کی پرانی خواہش ہے کہ وہ وزیر اعظم بنیں اور ایسے ہی خواب ان تمام سرداروں کے ہیں، جو تیسرے مورچہ کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ سبھی لیڈر اور پارٹیاں مل کر بھی سوا سو یا ڈیڑھ سو سے زیادہ ایم پی لوک سبھا میں نہیں لا سکتے۔ اس کے علاوہ، قومی سطح پر تیسرے مورچہ کی تشکیل کے لیے جس طرح کے اتحاد، لچیلے پن، تال میل، تجربہ، ڈھانچے اور نظریاتی اتفاق کی ضرورت ہے، اس کی زبردست کمی نظر آتی ہے۔ ممتا بنرجی نے بھی ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ان کا فیڈرل فرنٹ ایک پریشر گروپ کے طور پر کام کرے گا، یا غیر کانگریس اور غیر بی جے پی مورچہ کے طور پر۔ سوال یہ ہے کہ کیا فیڈرل فرنٹ ملک کے اقتدار پر اسی بہانے قابض ہونے کی بھی کوشش کرے گا۔ دراصل، ایشوز کے قحط کے درمیان تیسرے مورچہ کی تشکیل کا سیاسی طوفان کھڑا کرنا بھی آج سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک بڑا ایشو ہے۔ مورچہ کی تشکیل ہو نہ ہو، لیکن فوری طور پر اس کے بڑے فائدے ضرور مل جاتے ہیں، کیوں کہ کم از کم اسی بہانے قومی سیاست کے حاشیہ پر پڑے نیتا بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ حالانکہ ملک کو اس وقت تیسرے مورچہ کی سخت ضرورت ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے، جب کانگریس اور بی جے پی، دونوں کو ہی ملا کر لوک سبھا میں 272 سے بھی کم سیٹیں ملیں۔ مثال کے طور پر ہم ایگزٹ پول پر بھی نظر ڈالیں، تو اس کے حساب سے کانگریس 125 اور بی جے پی 200 کے آس پاس سیٹیں لا سکتی ہے۔ اگر ہم اسے صحیح مان لیں، تو یہ عدد کل ملا کر 325 ہو گی۔ اب کیا ایسے میں تیسرا مورچہ اقتدار میں آ سکتا ہے یا وہ سرکار بنا سکتا ہے؟ تب اس مورچہ کو سرکار بنانے میں مدد لینے کے لیے بی جے پی یا کانگریس کا ہی منھ دیکھنا پڑے گا۔ بات پھر وہی ہو جائے گی۔ یا تو ملک میں کانگریس کے اثر والی سرکار بنے گی یا پھر بی جے پی کے اثر والی۔ ایسے میں تیسرے مورچہ کا کوئی وجود ہی نہیں رہ جائے گا۔ مطلب یہ کہ تیسرا مورچہ ایک بار پھر منھ کی کھائے گا۔
چلئے پل بھر کے لیے مان لیتے ہیں کہ تیسرا مورچہ بن گیا اور اُس حالت میں کانگریس اور بی جے پی، دونوں ہی مل کر 272 سیٹیں نہیں لا پائیں، تو ویسے میں مشکلیں اور بھی بڑھ جائیں گی۔ تب سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ تیسرے مورچہ میں شامل لیڈروں میں سے وزیر اعظم کون بنے گا، کیوں کہ اس پارٹی میں لگ بھگ سبھی وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار ہوں گے! اگر یہاں وزیر اعظم بننے کا پیمانہ یہ طے کیا جائے گا کہ جو پارٹی سب سے بڑی ہوگی، یعنی سب سے زیادہ سیٹیں لے آئے گی، اس کا لیڈر وزیر اعظم بنے گا، تب تو ایک اندازہ کے طور پر، فی الحال ہم یہ مان کر چلیں کہ سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناتے اتر پردیش سے ملائم سنگھ یادو تیسرے مورچہ میں سب سے زیادہ سیٹیں لے کر آئیں گے۔ تو کیا ایسے میں انہیں وزیر اعظم بنا دیا جائے گا؟ یہاں ایک اور حالت خاص ہوگی، وہ یہ کہ لگ بھگ سبھی پارٹیوں کی طاقت برابر ہو گی۔ تب کون، کس کی سنے گا؟ کیا سبھی کسی بھی مسئلہ پر ایک رائے ہو سکیں گے؟ اب اگر نتیش کمار کو وزیر اعظم بنا دیا جائے، تو کیا یہ بات ملائم سنگھ برداشت کر پائیں گے؟ فرض کیجئے کہ نتیش بن بھی گئے، تو پھر وہ سرکار ملائم سنگھ کے رحم و کرم پر ہی رہے گی۔

ایسے میں اُس سرکار کے کتنے دنوں تک بنے رہنے کا امکان رہے گا، اس کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان خیالات کی بنیاد پر بھی فی الحال تجزیہ کریں، تو کوئی غیر بھاجپائی یا غیر کانگریسی طاقت تشکیل پاتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ پر ہاں، اٹلی کی طرز پر ہندوستان میں بھی ایک نیا سیاسی تجربہ دیکھنے کو ضرور مل سکتا ہے، جس میں این ڈی اے اور یو پی اے کی شکل میں دو مورچوں کی بجائے چار مورچے نظر آئیں۔ حالانکہ اٹلی کے لیے یہ سیاسی تجربہ بے حد خطرناک ثابت ہوا ہے۔ یورو پ کی سب سے بڑی اقتصادیات کی حالت آج بہت نازک ہے، لیکن اپنے ملک کے بارے میں ہم بہتر کی ہی امید کریں تو اچھا ہے۔
اب بات کرتے ہیں تیسرے مورچہ کے تناظر میں لیفٹ پارٹیوں کے رول اور ان کے نظریے کی۔ ہندوستان میں تھرڈ فرنٹ کی قیادت ہمیشہ لیفٹ پارٹیوں نے ہی کی ہے، کیو ںکہ انہیں بی جے پی کی ہندتوا وادی سیاست کی مخالفت کرتے ہوئے ایک سیکولر اتحاد کا تصور برقرار رکھنا تھا۔ اس لیے بھی لیفٹ پارٹیوں نے اپنے اقتصادی اور دیگر پروگراموں کی ہیئت دوسری پارٹیوں سے بالکل الگ رکھی۔ ملک کے سیاسی حالات میں تیزی سے آئی تبدیلی اور ممتا بنرجی کی کوششوں نے لیفٹ پارٹیوں کے اندر تجسس پیدا کر دیا ہے۔ ویسے بھی، لیفٹسٹوں کو مغربی بنگال میں اپنا وجود برقرار رکھنے کی لڑائی ابھی بھی لڑنی ہے۔ اس لیے ممتا کے ساتھ کسی بھی مورچہ میں شامل ہونے کی بات وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ اپنا وجود برقرار رکھنے کی خاطر، ان کے لیے بے حد ضروری ہے غیر بھاجپائی اور غیر کانگریسی متبادل تیار کرنے کی، تاکہ ان کی جدو جہد جاری رہے۔ یہی وجہ رہی کہ جہاں ایک طرف سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے شرد یادو سے اس سلسلے میں ملاقات کی اور تمل ناڈو کے راجیہ سبھا الیکشن میں ڈی ایم کے کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا، تو وہیں دوسری طرف سی پی آئی کے جنرل سکریٹری اے بی وردھن سے بھی مل کر اس موضوع پر غور و فکر کیا۔ جو خبریں آ رہی ہیں، ان کے مطابق، بائیں محاذ کے لیڈروں نے اپنی حکمت عملی کے تحت صف بندی کی شروعات بھی کر دی ہے۔ قیاس آرائی اس بات کی بھی کی جا رہی ہے کہ لیفٹسٹ اور ڈیموکریٹک پارٹیاں کوئی باقاعدہ مورچہ نہ بنائیں، بلکہ وہ انتخابی تال میل کا ہی کوئی راستہ اختیار کر لیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت لیفٹ پارٹیاں بھٹکنے کی حالت میں ہیں، ورنہ جب تیسرے مورچہ کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہو رہی ہو، اس وقت ملک کے سب سے بڑے لیفٹسٹ لیڈر پرکاش کرات اگر یہ کہیں کہ الیکشن سے پہلے کسی تیسرے مورچہ کی تشکیل کا کوئی امکان ہی نہیں بنتا ہے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ فی الحال لیفٹ پارٹیوں کے دائرے میں مرکز نہیں ہے۔ جس وقت ملائم سنگھ ، نتیش کمار اور نوین پٹنائک سبھی ممتا بنرجی کی بات کر رہے ہوں، ایسے میں اگر اسی وقت پرکاش کرات وزیر اعظم منموہن سنگھ کی چین سے متعلق پالیسیوں کی تعریف کرنے لگیں، تو یہ بات فطری طور پر سمجھ میں آجاتی ہے کہ لیفٹسٹ چاہتے ہیں کہ کانگریس کی مدد سے مغربی بنگال سے ممتا بنرجی کو اکھاڑ پھینکیں، تاکہ وہاں اپنے وجود کو دوبارہ پوری مضبوطی سے قائم کر سکیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ کانگریس کی حمایت بھی کر سکتے ہیں۔
ان تمام حالات، سیاسی پارٹیوں کے ذاتی مفادات اور ان کی بنیاد پر بنتے بگڑے اکیویشن پر اگر غور کریں، تو بس ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ تیسرا مورچہ بنانے کے لیے بے تاب تمام سیاسی پارٹیوں کا مقصد یہ قطعی نہیں کہ وہ تیسرا مورچہ بنا کر ملک کو ایک نئی سرکار دیں، جو واقعی سیکولر ہو، جس کا مقصد ملک کو صاف ستھرا اور بدعنوان مخالف حکومت عطا کرنی ہو، جو ایسی پالیسیاں بنائے، جس سے عام ہندوستانی روزمرہ کی دشواریوں سے نجات پا سکے اور اس کی زندگی بہتر آسان ہو سکے۔ اس کے برعکس ان کا مقصد صرف اتنا ہے کہ وہ تمام پارٹیاں مل جل کر ایک ایسا تیسرا مورچہ بنائیں، جو کسی طرح مرکز میں بننے والی کسی بھی سرکار پر دباؤ بنائے رکھ سکے، جس سے ان کی جائز و ناجائز سیاسی خواہشیں پوری ہوتی رہیں۔

ملک کو اس وقت تیسرے مورچہ کی سخت ضرورت ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے، جب کانگریس اور بی جے پی، دونوں کو ہی ملا کر لوک سبھا میں 272 سے بھی کم سیٹیں ملیں۔ مثال کے طور پر ہم ایگزٹ پول پر بھی نظر ڈالیں، تو اس کے حساب سے کانگریس 125 اور بی جے پی 200 کے آس پاس سیٹیں لا سکتی ہے۔ اگر ہم اسے صحیح مان لیں، تو یہ عدد کل ملا کر 325 ہو گی۔ اب کیا ایسے میں تیسرا مورچہ اقتدار میں آ سکتا ہے یا وہ سرکار بنا سکتا ہے؟ تب اس مورچہ کو سرکار بنانے میں مدد لینے کے لیے بی جے پی یا کانگریس کا ہی منھ دیکھنا پڑے گا۔ بات پھر وہی ہو جائے گی۔ یا تو ملک میں کانگریس کے اثر والی سرکار بنے گی یا پھر بی جے پی کے اثر والی۔ ایسے میں تیسرے مورچہ کا کوئی وجود ہی نہیں رہ جائے گا۔ مطلب یہ کہ تیسرا مورچہ ایک بار پھر منھ کی کھائے گا۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *