کیا ہے اسمبلی کے خصوصی اختیار کی خلاف ورزی

اس بار ہم بات کریں گے پارلیمانی خصوصی اختیار کے بارے میںکہ کیسے اور کب پھنستا ہے پارلیمانی خصوصی ا ختیار کاپینچ۔ سب سے پہلے ایک مثال کے ذریعے اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ سے ایٹمی ڈیل کے دوران یو پی اے سرکار کو جب ایوان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا، اس کے کچھ گھنٹے پہلے ایوان میں ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا۔ بی جے پی کے تین ارکان پارلیمنٹ نے نوٹوں کی گڈیاں لہراتے ہوئے سماجوادی پارٹی اور کانگریس پر یہ الزام لگایا کہ یہ نوٹ انھیں اعتماد کے ووٹ کے دوران حکومت کے حق میں ووٹ دینے کے لیے رشوت کے طور پرملے ہیں۔ اسے ایک میڈیا چینل نے اسٹنگ آپریشن کے دوران اپنے کیمرے میں قید کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر سومناتھ چٹرجی کو سونپ دیا تھا۔بعد میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں اور لوگوں نے جب حقِ اطلاع قانون کے تحت درخواست کر کے ویڈیو ٹیپس عام کرنے کا مطالبہ کیا ، تو پارلیمنٹ نے ان ٹیپس کو عام کرنے سے منع کر دیا۔
پارلیمنٹ نے بتایا کہ ویڈیو ٹیپس ابھی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہیں اور ان کی جانچ کی کارروائی چل رہی ہے، اس لیے جب تک جانچ کا عمل پورا نہیں ہوجاتا، تب تک اس اطلاع کے دینے سے دفعہ 8(1) (C)کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس دفعہ میں بتایا گیا ہے کہ ایسی اطلاع، جس کے عام کرنے سے پارلیمنٹ یا کسی ریاست کی اسمبلی کے خصوصی اختیار کی خلاف ورزی ہو، اسے حقِ اطلاع قانون کے تحت دینے سے روکا جاسکتا ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ اور ہے، جس میں اس وقت کے سینٹرل انفارمیشن کمشنر شیلیش گاندھی نے مہاراشٹر کے جنرل ایڈمنسٹریٹو ڈپارٹمنٹ سے وزیر اعلیٰ کے امدادی فنڈ میں ممبئی ٹرین دھماکوں کے بعد حاصل کی گئی گرانٹس کے اخراجات کا بیورا مانگا تھا، مگر اس بارے میں اطلاع دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کا امدادی فنڈ ایک نجی ٹرسٹ ہے اور یہ حقِ اطلاع قانون کے دائرے میں نہیں آتا، جبکہ شیلیش کا ماننا تھا کہ امدادی فنڈ ایک پبلک باڈی ہے اور یہ انکم ٹیکس کی چھوٹ کا فائدہ اٹھاتی ہے، وزیر اعلیٰ عوام کا خادم ہوتا ہے، اس لیے اس اطلاع کے دینے سے اسمبلی کے خصوصی اختیار کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔ ایک ماہنامہ سے تعلق رکھنے والے رمیش تیواری نے اتر پردیش کے اسپیکر اور اسٹیٹ اسمبلی کے سیکریٹری کو ایک درخواست دے کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ کیا کوئی لیجسلیٹر ، خود کوئی سرکاری ٹھیکہ لے سکتا ہے اور اگر ایسا ٹھیکہ لیا گیا ہے، تو کیا ایسے ممبر کی اسمبلی سے ممبر شپ ختم کی جاسکتی ہے؟ اسمبلی سے رمیش کو جب کوئی جواب نہیں ملا، تو وہ اس معاملے کو اتر پردیش کے اسٹیٹ انفارمیشن کمشنر کے پاس لیگئے۔ کمیشن کے اس وقت کے چیف انفارمیشن کمشنر ایم اے خان نے اسپیکر اور سیکریٹری کو حقِ اطلاع قانون کے تحت نوٹس جاری کردیا۔ نوٹس پاتے ہی سب سے پہلے تو رمیش کی درخواست خارج کر دی گئی اور اس کے بعد اسمبلی میں ایک ریزولیوشن پاس کیا گیا، جس کے ذریعے انفارمیشن کمیشن کو وارننگ دی گئی کہ اس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس طرح کی اطلاع مانگنے اور کمیشن کے ذریعے نوٹس بھیجے جانے سے اسمبلی کے خصوصی اختیار کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہی نہیں کمیشن کو آگے سے ایسے معاملوں کے تئیں محتاط رہنے کی وارننگ بھی دی گئی۔
راہل وبھوشن نے انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ اور تین ممبرانِ اسمبلی کے درمیان ہوئی خط و کتابت کی کاپی مانگی تھی۔ دراصل ایک پیٹرول پمپ کو معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب بند کردیا گا تھا۔ اس پیٹرول پمپ کو دوبارہ کھلوانے کے لیے تین ممبرانِ پارلیمنٹ نے پیٹرولیم منسٹر کو خط لکھا تھا۔ راہل نے اس خط کے جواب کی کاپی مانگی تھی، جسے یہ کہہ کر دینے سے منع کردیا گیا کہ اسے دینے سے پارلیمنٹ کے خصوصی اختیارات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کمیشن میں سنوائی کے دوران انفارمیشن کمشنر نے مانا کہ ممبرِ پارلیمنٹ کے ذریعے لکھے گئے خط کاپارلیمنٹ یا پارلیمانی کارروائی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ اطلاع عام کیے جانے سے پارلیمنٹ کے خصوصی اختیار کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔ کمیشن نے مانگی گئی اطلاع 15دنوں کے اندر درخواست گزار کو دینے کا حکم دیا۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو زیادہ تر معاملوں میں پبلک انفارمیشن آفیسر ، پارلیمانی خصوصی اختیار کی آڑ میں اطلاع دینے سے انکار کردیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ معاملہ پارلیمانی خصوصی اختیار سے متعلق ہی نہیں ہوتا ہے۔

بدعنوانی سے متعلق شکایتوں کی صورتحال
بخدمت شریف، بتاریخ
پبلک انفارمیشن آفیسر
ڈسٹرکٹ فوڈ پروسیسنگ آفیسر
پتہ ————————————————————
—————————————————————
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
موضوع:حقِ اطلاع قانون- 2005کے تحت درخواست۔
جناب عالی،
میں ۔۔۔(نام) ۔۔۔(گاؤں کا نام) کا باشندہ ہوں۔ میرا راشن کارڈ نمبر۔۔۔اور راشن دکان نمبر۔۔۔۔ہے۔ برائے کرم مندرجہ ذیل اطلاع فراہم کرائیں:
-1میرے راشن کارڈ پرہرماہ جاری کیے گئے راشن، کیروسن تیل وغیرہ کی مقدار، جو آپ کے رجسٹر میں درج ہے، کی پوری تفصیل درج ذیل اطلاعات کے ساتھ فراہم کرائیں:
(ا) مہینہ ۔ (ب) جاری کیے گئے راشن اور کیروسن تیل کی مقدار۔ (ج) تاریخ، جس دن راشن اور کیروسن بانٹا تھا۔
-2مذکورہ راشن دکان سے متعلق گزشتہ چھ ماہ کی مندرجہ ذیل تفصیل کی ایک تصدیق شدہ کاپی فراہم کرائیں:
(ا) ماسٹر کارڈ رجسٹر(ب) ڈیلی سیلز رجسٹر(ج ) ڈیلی اسٹاک رجسٹر(د)منتھلی اسٹاک رجسٹر (ہ) اسیسمنٹ بک (و) کیش میمو
3 -ابھی تک مذکورہ دکاندار کے خلاف کتنی شکایتیں درج ہوئی ہیں؟ ان پر کس طرح کی کارروائی کی گئی ہے؟ مذکورہ شکایتوں اور ان پر کی گئی کارروائی کی مکمل تفصیل دیں۔
میں درخواست فیس کے طور پر دس روپے جمع کررہی ہوں /رہا ہوں۔
منسلک: (اگر کچھ ہو)
شکرگزار
نام ———————————- دستخط ————————————
پتہ ————————————————–

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *