کدھر جائیں گے مسلمان؟

ارشاد الحق 

سیاست اور حسابیات میں ایک بنیادی فرق ہے۔ حسابیات میں دو اور دو کا جمع ہر حال میں چار ہی ہوتا ہے، لیکن سیاست میں یہ جمع پانچ بھی ہو سکتا ہے۔ بی جے پی سے الگ ہونے کے جے ڈی یو کے فیصلے کا خلاصہ یہی ہے، کیوں کہ اب عام آدمی بھی اسے دو اور دو برابر پانچ سے جڑی سیاست ہی سمجھ رہا ہے، لیکن جے ڈی یو قیادت اسے اصول کی لڑائی بتاکر الگ رنگ دینا چاہتا ہے۔

p-4b

جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) بی جے پی قیادت والے این ڈی اے سے خود کو الگ کرکے یہ ثابت کرنے میں لگا ہے کہ وہ شہید ہونے کے لیے تیار ہے، لیکن ملک کو تھیوکریٹک اسٹیٹ میں بدلنے کی بی جے پی کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ وہیں عام لوگوں کی سمجھ یہ ہے کہ جے ڈی یو کا بی جے پی سے الگ ہونے کا مقصد بہار کے 17 فیصد، یعنی تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ مسلمانوں کے دلوں میں جگہ بنانا ہے۔ یہ قدم انہیں یہ بتانے کی کوشش ہے کہ گجرات قتل عام کے ملزم کو جے ڈی یو نے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار تسلیم نہ کرکے بہت بڑا کام کیا ہے۔ مقصد طے شدہ ہے کہ جے ڈی یو مسلمانوں کے ووٹ ٹھیک اسی طرح یک مشت اپنے نام کرنا چاہتا ہے، جس طرح ایک زمانے میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا روک کر اور انہیں گرفتار کرکے لالو یادو مسلمانوں کے راتوں رات ہمدرد بن گئے تھے۔ ایسے میں سنگین سوال یہ ہے کہ کیا نتیش کا یہ فیصلہ انہیں اتنا ہی فائدہ دلا پائے گا، جتنا لالو یادو نے اٹھایا تھا؟
یہ سوال جتنا سنگین ہے، اس کا جواب بھی اتنا ہی جوکھم بھرا ہے، کیوں کہ 1990 اور 2013 کے درمیان 23 برسوں کے فاصلے نے ملک میں دو نئی نسلیں عطا کی ہیں، جو اب ووٹر کی حیثیت سے آخری فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ ساتھ ہی اِن 23 برسوں میں بدلے سیاسی رحجان کو بھی درکنار نہیں کیا جا سکتا۔ 1990 میں ملک میں ایک خاص قسم کا ہنگامہ برپا تھا، یعنی رام مندر تحریک کا ہنگامہ۔ اس سے پہلے 1989 میں بہار کے بھاگلپور کا فرقہ وارانہ فساد مسلمانوں کا دل بری طرح زخمی کر چکا تھا۔ مذکورہ فساد کانگریس کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔ ایسے میں لالو پرساد یادو واحد متبادل کے روپ میں مسلمانوں کے سامنے تھے۔ ان باتوں کے علاوہ، اُن دنوں مسلمانوں میں پس ماندہ سیاست کی کوئی پہچان ہی نہیں تھی، یعنی مسلمان ایک اکائی کی شکل میں سیاسی پہچان رکھتے تھے، لیکن اب، یعنی 2013 میں چیزیں بدل گئی ہیں، کیوں کہ پس ماندہ سیاست اب اپنی پہچان بنا چکی ہے۔ پس ماندہ قیادت اپنی سیاسی حصہ داری کے بطور ایک مضبوط خیمہ کے روپ میں سامنے ہے۔ وہیں نتیش کمار گزشتہ 17 برسوں سے اسی پارٹی کے ساتھ اقتدار میں حصہ داری کرتے آ رہے ہیں، جسے وہ اچانک فرقہ وارانہ اور نریندر مودی کو ناقابل قبول بتا رہے ہیں۔ جہاں تک دیگر سیکولر پارٹیوں کی بات ہے، تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لالو پرساد اب بھی ایک ایک طاقت کے روپ میں بہار میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی طاقت پچھلے دنوں مہاراج گنج لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں دکھا بھی دی ہے۔ گاندھی وادی مفکر رضی احمد کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل اب اُس طرح فیصلہ نہیں لے گی، جیسا اس نے 1990 میں لیا تھا۔ مطلب صاف ہے کہ ایک طرف پس ماندہ مسلمان اپنی سیاسی پہچان بناکر اپنے مفاد کو حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہیں دوسری طرف نئی نسل فرقہ وارانہ فسادات جیسے ایشوز کے دائرے سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ سیکولر ازم کی دعویدار مختلف پارٹیاں مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں، تو ایسے میں جے ڈی یو کے مودی تیر کی کامیابی کا فلسفہ خطروں بھرا ہونا فطری ہے۔
آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے چیف اور جے ڈی یو کے سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایم اعجاز علی کہتے ہیں کہ نتیش کمار نے 17 برسوں تک سانپ کو دودھ پلایا ہے۔ اب چیزیں اتنی بگڑ چکی ہیں کہ وہ نتیش کے لیے ایک بڑی چنوتی بن گئی ہیں۔ نتیش نے جس طبقہ (اعلیٰ ذات کے ایک طبقہ) کو آگے بڑھایا ہے، وہی ان کا مخالف ہو چکا ہے اور وہی طبقہ بدعنوانی میں ملوث ہے۔ فاربس گنج میں مسلمانوں پر گولیاں چلوانے میں بی جے پی لیڈر کا ہاتھ تھا، یہ بات سب لوگ جانتے ہیں، لیکن بدنام نتیش حکومت ہوئی۔ مطلب صاف ہے کہ گناہ بی جے پی نے کیا اور بدنامی نتیش کمار کی ہوئی۔ اب وہ سامنا کریں اِن چنوتیوں کا۔
غور طلب ہے کہ یہ وہی اعجاز علی ہیں، جنہوں نے جے ڈی یو ایم پی کی حیثیت سے 2009 کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے پارٹی کے ’راجگیر چنتن شیور‘ میں قیادت پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ بی جے پی سے ناطہ توڑ لیں، لیکن تب ان کے بیان کو نتیش کمار نے بغاوت کے روپ میں لیا تھا۔ نتیجتاً، اعجاز علی کو جے ڈی یو چھوڑنا پڑا، لیکن آج ان کی بات سچ ثابت ہوئی اور تقریباً چار سالوں کے بعد جے ڈی یو نے بی جے پی کا دامن چھوڑ دیا۔
باوجود اس کے، اعجاز علی بی جے پی- جے ڈی یو اتحاد ٹوٹنے کو ایک مثبت قدم مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دراصل، کانگریس اور بی جے پی ملک پر ’ٹو پارٹی سسٹم‘ تھوپنا چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ علاقائی پارٹیوں کا صفایا ہو جائے۔ اگر ان کی سازش کامیاب ہو گئی، تو یہ دلتوں، پچھڑوں (پس ماندہ مسلمانوں) اور اقلیتوں کے مفاد کے خلاف ہوگا۔ اس لحاظ سے نتیش نے نریندر مودی کے غبارے میں سوراخ کر دی ہے۔ اب ممتا، چندر بابو نائڈو اور ملائم سنگھ جیسے لیڈروں کو اس موضوع پر سوچنا چاہیے۔ اعجاز کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو نتیش کی حمایت کرنی چاہیے، کیوں کہ قومی پارٹیاں ریاستوں کا بھلا نہیں چاہتیں۔ حالانکہ اعجاز بھی اس بات کو لے کر پر امید نہیں ہیں کہ صوبے کے مسلمان کس حد تک جے ڈی یو کے ساتھ جائیں گے۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی جوڑنا نہیں بھولتے کہ ان کا جے ڈی یو قیادت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے یا جے ڈی یو قیادت نے ایک دوسرے سے کوئی بات چیت کی ہے۔اب جب کہ نریندر مودی کے نام پر جے ڈی یو بی جے پی سے الگ ہو چکا ہے، تو یہ طے ہے کہ نتیش سرکار مستقبل قریب میں ایسے فیصلے ضرور لے گی، جو مسلمانوں کو رجھانے والے ہوں۔ مذکورہ فیصلے سیاسی بھی ہو سکتے ہیں اور پالیسی کے تحت بھی، کیوں کہ اب تک نتیش اپنے مسلم کارکنوں کو یہ جتاتے رہے ہیں کہ کئی فیصلے اتحاد کے سبب نہیں لیے جا سکے۔
جے ڈی یو کارکن اور آل انڈیا پس ماندہ مسلم محاذ کی بہار اکائی کے صدر تاج الدین منصوری کہتے ہیں کہ اب، جب کہ بی جے پی کے 11 وزیر اپنا عہدہ چھوڑ چکے ہیں اور کئی بورڈوں کے عہدے خالی ہیں، ایسے میں نتیش کو پس ماندہ مسلمانوں کو آگے لا کر انہیں اقتدار میں حصہ داری دینی چاہیے۔ تاج الدین منصوری کی سیاسی عہدہ دینے والی بات اپنی جگہ ہے، لیکن جب مسلمانوں کے ذریعے 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں نتیش کی حمایت کی بات آتی ہے، تو وہ کافی محتاط ہو کر کہتے ہیں کہ آر جے ڈی اپنی ناکامی کی سب سے نچلی سطح پر ہے اور اس کے صرف چار ممبرانِ پارلیمنٹ ہیں، وہ اور زیادہ کیا ناکام ہوگی، بلکہ اس کی سیٹیں بڑھیں گی ہی۔ تاج الدین اس سوال کا جواب نہیں دے پاتے کہ آر جے ڈی کی سیٹیں بڑھیں گی، تو آخر کس کی قیمت پر؟ ظاہر ہے، وہ جے ڈی یو بھی ہو سکتی ہے اور بی جے پی بھی۔
روایتی طور سے مسلمانوں کی حمایت پانے والی راشٹریہ جنتا دل اس معاملے میں کوئی واضح بیان دینے سے بچ رہی ہے، لیکن جے ڈی یو کا بی جے پی سے الگ ہونا اس کے لیے بھی فکرمندی اور چیلنج کی بات ہے۔ آر جے ڈی صدر لالو پرساد اس پورے واقعہ پر لگاتار بولتے رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کے کسی بیان میں یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ اس سے آر جے ڈی کو نقصان ہوگا۔ وہ اتنا ضرور کہتے ہیں کہ مودی کو اچانک کمیونل بتاکر الگ ہونا نتیش کمار کا ناٹک ہے اور وہ ایسا صرف مسلم ووٹوں کے لیے کر رہے ہیں۔ لالو پرساد کہتے ہیں کہ گجرات فسادات کے بعد نتیش مرکزی حکومت میں وزیر کی کرسی پر چپکے رہے، لیکن اچانک آج وہ نریندر مودی کو سیکولر ازم کے لیے خطرہ بتا رہے ہیں اور یہ سراسر ناٹک ہے۔ ویسے، لالو یہ بھی کہتے ہیں کہ لال کرشن اڈوانی میں انہیں پھر بھی سیکولر چہرہ دکھائی دیتا ہے، جب کہ اڈوانی تو اور زیادہ کمیونل ہیں، کیوں کہ انہوں نے ہی بابری مسجد کو گروانے کا کام کیا تھا۔ بھلے ہی لالو اس بات پر کھل کر نہ بولیں کہ نتیش کو مسلمانوں کی حمایت ملے گی یا نہیں، لیکن یہ تو طے ہے کہ نتیش کے اس قدم سے اگر کوئی پارٹی سب سے زیادہ فکر مند ہے، تو وہ راشٹریہ جنتا دل ہی ہے۔ مودی معاملے پر جے ڈی یو کا بی جے پی سے الگ ہونے کا نتیجہ اس بات پر بھی منحصر کرے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آنے والے لوک سبھا الیکشن میں کن ایشوز کو اٹھاتی ہے۔ اگر وہ ہندوتوا کے ایشو کی طرف بڑھے گی، تو یقینی طور پر ووٹوں کا پولرائزیشن بھی اسی بنیاد پر ہوگا۔

سیکولرازم بنام کمیونل ازم کی تیاری
جے ڈی یو ایم پی علی انور کی قیادت میں گزشتہ یکم جولائی کو ’پس ماندہ جگاؤ – دیش بچاؤ سمیلن‘ کا انعقاد کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ملک کے لیے باقی سارے ایشوز بے معنی ہیں۔ علی انور جے ڈی یو ایم پی کے ساتھ ساتھ پس ماندہ مسلم محاذ کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے عبدالقیوم انصاری اور شہید عبدالحمید کی برسی پر جو ایشوز اٹھائے، ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں بدعنوانی اور مہنگائی جیسے ایشوز پیچھے چھوٹیں گے اور سیکولر ازم بنام فرقہ واریت جیسے ایشوز ہی حاوی رہیں گے۔ اس پروگرام میں علی انور نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری نے ملک کے بٹوارے کی مخالفت کی تھی، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ مذہب کو بنیاد بناکر ملک کی تقسیم خطرناک ہے۔ جب مذہب کے نام پر مسلم لیگ نے الگ ملک کی مانگ کی، تو وہ ملک تین دہائیوں میں ہی ٹوٹ گیا اور بنگلہ دیش کے روپ میں اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ پھر اس ملک کو مذہب پر مبنی ریاست بنانے کی سازش شروع ہو گئی ہے۔ یہ ملک کو توڑنے اور منتشر کرنے کی سازش ہے۔ ایسے میں ہم ہر سطح پر اس کی مخالفت کریں گے۔ علی انور کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ سیکولر ازم کی حفاظت کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ اس پروگرام میں نتیش کمار کو بھی آنا تھا، لیکن جس دن یہ پروگرام تھا، اس دن، یعنی پیر کو وزیر اعلیٰ کا جنتا دربار منعقد ہوتا ہے، جس میں ہزاروں فریادی جمع ہوتے ہیں۔ اس لیے نتیش اس میں شریک تو نہیں ہو پائے، لیکن پس ماندہ محاذ کے اس پروگرام کے پیچھے نتیش کا سیاسی ذہن ہی کام کر رہا تھا۔ مطلب صاف ہے کہ نتیش بھلے ہی اس میں شامل نہیں ہو سکے، لیکن وہ ضرور چاہتے ہیں کہ ایسے مدعے گرمائے جائیں، تاکہ مسلمانوں کو لالو یادو سے الگ کیا جاسکے۔ خبر تو یہ بھی آ رہی ہے کہ جے ڈی یو سے وابستہ دوسری مسلم تنظیمیں بھی آنے والے دنوں میں ایسے پروگرام منعقد کریں گی، جن کا مقصد صاف طور پر مسلمانوں میں یہ پیغام دینا ہوگا کہ نریندر مودی جیسے متنازع شبیہ والے لیڈروں کو سماج کو تقسیم کرنے والی طاقت ہونے کا اعلان کیا جائے۔ جیسے جیسے مودی کی مخالفت کی آواز مسلم سماج میں مضبوط ہوگی، ویسے ویسے جے ڈی یو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ اس سے ایک طرف اسے مسلمانوں میں پکڑ مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، تو وہیں دوسری طرف اس کی وہ حکمت عملی بھی کامیاب ہوگی کہ آر جے ڈی حامی مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ کرکے اسے کمزور کر دیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *