ہندوراشٹر، مسلم راشٹر : کیا ہندوستان سیکولر ملک رہ پائے گا

ڈاکٹر قمر تبریز 

ایک طرف جہاں آر ایس ایس اور اس کی تمام ذیلی تنظیموں کا خواب ہندوستان کو ایک ’ہندو راشٹر‘ بنانے کا ہے، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کے ایک حلقہ میں اس ملک کو ’مسلم ریاست‘ بنانے کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس بات کا کافی غم ہے کہ ملک کو آزاد ہوئے 66 سال گزر گئے، لیکن اب تک کوئی مسلم وزیر اعظم نہیں بنا۔ لیکن یہ ممکن کیسے ہو؟ مسلمانوں میں نہ تو کوئی مضبوط سیاسی قیادت موجود ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی ایسی کوئی پارٹی ہے، جو ملک گیر سطح پر اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہو، حکومت بنانا تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کی طرف سے ایک نیا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس ملک کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کا خواب دیکھنے والوں نے جس قسم کی پلاننگ کی ہے، تقریباً ویسی ہی پلاننگ ’مسلم راشٹر‘ بنانے کا خواب دیکھنے والوں کی بھی ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان ایک سیکولر ملک بنا رہے گا؟

Mastاگلے لوک سبھا الیکشن کی آمد آمد ہے۔ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی کمر کس لی ہے۔ لوک سبھا کی سب سے زیادہ، یعنی 80 سیٹیں اتر پردیش سے آتی ہیں۔ اس لیے سخت گیر ہندوؤں اور سخت گیر مسلمانوں، دونوں نے ہی ملک کے اقتدار پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے اتر پردیش کو اپنی سیاسی لڑائی کا میدان بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس ملک میں فرقہ واریت کے علم بردار نریندر مودی نے اپنے سپہ سالار امت شاہ کو یو پی میں بھیج کر ہندوؤں کی ذہن سازی کے کام میں لگا دیا ہے، وہیں دوسری طرف ندوۃ العلماء کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی ایک بار پھر مسلمانوں کا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی فراق میں لگے ہوئے ہیں۔ مودی کے کام میں جہاں ایک طرف ملک کا پورا قومی میڈیا اپنا تعاون پیش کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب سلمان ندوی کے میڈیا وِنگ کی ذمہ داری عزیز برنی نے سنبھال لی ہے۔ مودی کی سیاسی چالوں کا ذکر تو ہر طرف ہو رہا ہے، لیکن سلمان ندوی کی تیاریوں کا علم ابھی ملک کے زیادہ تر لوگوں کو نہیں ہے۔ چوتھی دنیا اس ملک کے عوام کو اس خبر سے روبرو کرانا چاہتا ہے۔

لکھنؤ کے مشہور و معروف مذہبی ادارہ ندوۃ العلماء کے محدث اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اہم رکن مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے گزشتہ 8 مئی کو جنوبی دہلی میں آزاد رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی رہائش گاہ پر مسلم لیڈران اور علماء کرام کی ایک اہم میٹنگ منعقد بلائی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری اور سابق رکن پارلیمنٹ مولانا سید محمود مدنی، آسام یو ڈی ایف کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل، یو پی کی سیاسی پارٹی قومی ایکتا دَل کے افضال انصاری، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر مجتبیٰ فاروق، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور ویلفیئر پارٹی کے نائب صدر مولانا عبدالوہاب خلجی، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (سید شہاب الدین) کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام، تنظیم علماء حق کے صدر ڈاکٹر اعجاز عرفی، مسلم مجلس مشاورت (مولانا سالم قاسمی) کے الیاس ملک، راحت محمود چودھری، زیڈ کے فیضان، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے نیشنل سکریٹری ڈاکٹر تسلیم رحمانی، مولانا یعقوب بلند شہری اور عز یز برنی کے علاوہ تقریباً 100 اہم مسلم شخصیات نے شرکت کی۔ میٹنگ میں اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا کہ کیا اس ملک میں مسلمانوں کی قیادت میں کوئی سیاسی محاذ (جسے ہم تیسرا مورچہ بھی کہہ سکتے ہیں) کھڑا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مولانا سلمان ندوی نے محمد ادیب کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل کی، جس میں مولانا محمود مدنی اور بدرالدین اجمل کے علاوہ دوسرے رہنماؤں کو شامل کیا گیا، تاکہ وہ دینی اور مذہبی رہنماؤں کے علاوہ مسلم مفکروں کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کریں۔ حتمی فیصلہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں نہ سہی، لیکن اس کی ابتدا اتر پردیش سے ضرور کرنی چاہیے اور پھر بہار، مغربی بنگال اور آسام میں اس کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اس کے لیے ان مسلم رہنماؤں نے اپنا ایک سیاسی منشور تیار کرنے پر بھی غور و فکر کیا، جس کے جلد ہی منظر عام پر آنے کی امید ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں کی اس میٹنگ میں عزیز برنی نے اپنی نہایت جذباتی تقریر میں کہا کہ ’’65 سال سے ہم مشورہ ہی کرتے رہے اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکے، جس کی وجہ سے بڑی بڑی سیاسی جماعتوں نے ہمارا استحصال کیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پروگرام کے ذریعے ہم اس ضمن میں قدم اٹھائیں اور آگے بڑھیں۔‘‘

دارالعلوم ندوۃ العلماء کے محدث اور مشہور و معروف اسلامی اسکالر مولانا سلمان حسینی ندوی نے ایک سال قبل یو پی کے اسمبلی انتخاب کے دوران ’جمعیۃ العلماء ہند سے ایک درخواست‘ عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا، جس پر انہوں نے متعدد علماء اور ائمہ مساجد سے دستخط کروائے تھے اور پھر مساجد و مدارس سمیت یو پی کے مسلمانوں کے درمیان اس کو تقسیم کرایا تھا۔ اس پمفلٹ میں ایک جگہ یہ لکھا ہوا ہے کہ ’’کیا حضرت مولانا اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں رام لیلا گراؤنڈ میں دس لاکھ کے مجمع کے سامنے مولانا محمود مدنی صاحب نے مولانا سلمان حسینی صاحب کے ذریعہ حضرت مولانا اسعد مدنیؒ اور مولانا ارشد مدنی کے ایما پر اور اتفاق کے ساتھ اقلیتوں کی نمائندہ ایک نئی سیاسی پارٹی کی تجویز پیش نہیں کرائی تھی، جس پر مسلمانوں کی تمام تنظیموں کے نمائندوں اور رام لیلا گراؤنڈ میں جمع دس لاکھ مسلمانوں نے پر جوش اتفاق کیا تھا اور اس کی پرجوش تائید کی تھی؟ آج مولانا سید سلمان حسینی ندوی اس تجویز کو تنفیذ کے دائرہ میں لاکر ایک مضبوط اتحاد ہندوؤں اور مسلمانوں کا قائم کر چکے ہیں، تو کیا وہ تمام مسلمانوں پر اور بالخصوص جمعیۃ العلماء پر حجت قائم نہیں کر رہے ہیں؟

مسلمانوں کے ان نام نہاد رہنماؤں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ بعد میں اگر ماحول سازگار ہوا، تو کانگریس، بی جے پی، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کو مائنس (Minus) کرکے ہندوستان کی بقیہ چھوٹی چھوٹی، لیکن اہم علاقائی سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ یہی وجہ تھی کہ محمد ادیب کے گھر پر اس میٹنگ کو بلانے سے پہلے اجیت سنگھ، لالو پرساد یادو، رام ولاس پاسوان، اے بی وردھن اور شرد یادو سے بھی رابطہ کیا گیا تھا۔ گویا کہ مسلمانوں کی طرف سے ایک نیا سیاسی محاذ اس ملک میں بنانے کی تیاری اب زور پکڑنے لگی ہے۔
ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامہ پر اگر نظر ڈالیں، تو یہ بات اب واضح ہونے لگی ہے کہ اس ملک کے تمام کٹر ہندو نریندر مودی کو ملک کا اگلا وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014 کے انتخابات کی کمان نریندر مودی کو سونپ دی ہے۔ دوسری طرف آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور اس جیسی بی جے پی کی تمام ہم نوا ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ ’رام مندر‘ کی تعمیر ایودھیا میں ہی ہوگی۔ مودی نے اپنے سپہ سالار امت شاہ کو اتر پردیش بھیج کر اس پورے منصوبہ کی کمان سنبھالنے کے کام میں پہلے ہی لگا دیا ہے۔ ’رام مندر‘ کو انتخابی ایشو بنا کر بی جے پی ایک بار پھر اس ملک میں فسادات کرانا چاہتی ہے۔ دوسری طرف کانگریس ہے، جسے سب کچھ پکایا پکایا مل رہا ہے۔ فسادات ہوں گے، تو مسلمان بے چارہ بھیک مانگنے کے لیے کانگریس کے پاس ہی جائے گا کہ ہماری جان بچاؤ۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے ہندوستان میں جتنے بھی مسلم لیڈر ہیں، خاص کر ایسے لیڈر جو نہ تو بی جے پی میں ہیں اور نہ کانگریس میں، ان سب کے اندر یہ خواہش جاگ اٹھی ہے کہ ملک گیر سطح پر ایک ایسا سیاسی محاذ بننا چاہیے، جس میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑی تعداد میں تو ہو ہی، ساتھ میں اس کی پوری قیادت کا موقع بھی کسی مسلمان کو ہی ملے۔ مسلمانوں کا سیاسی محاذ اس ملک میں بنے، یہ سوچ کس کی تھی، اسے جاننے کے لیے ہمیں تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء کے محدث اور مشہور و معروف اسلامی اسکالر مولانا سلمان حسینی ندوی نے ایک سال قبل یو پی کے اسمبلی انتخاب کے دوران ’جمعیۃ العلماء ہند سے ایک درخواست‘عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا، جس پر انہوں نے متعدد علماء اور ائمہ مساجد سے دستخط کروائے تھے اور پھر مساجد و مدارس سمیت یو پی کے مسلمانوں کے درمیان اس کو تقسیم کرایا تھا۔ اس پمفلٹ میں ایک جگہ یہ لکھا ہوا ہے کہ ’’کیا حضرت مولانا اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں رام لیلا گراؤنڈ میں دس لاکھ کے مجمع کے سامنے مولانا محمود مدنی صاحب نے مولانا سلمان حسینی صاحب کے ذریعہ حضرت مولانا اسعد مدنیؒ اور مولانا ارشد مدنی کے ایما پر اور اتفاق کے ساتھ اقلیتوں کی نمائندہ ایک نئی سیاسی پارٹی کی تجویز پیش نہیں کرائی تھی، جس پر مسلمانوں کی تمام تنظیموں کے نمائندوں اور رام لیلا گراؤنڈ میں جمع دس لاکھ مسلمانوں نے پر جوش اتفاق کیا تھا اور اس کی پرجوش تائید کی تھی؟ آج مولانا سید سلمان حسینی ندوی اس تجویز کو تنفیذ کے دائرہ میں لاکر ایک مضبوط اتحاد ہندوؤں اور مسلمانوں کا قائم کر چکے ہیں، تو کیا وہ تمام مسلمانوں پر اور بالخصوص جمعیۃ العلماء پر حجت قائم نہیں کر رہے ہیں؟ کیا جمعیۃ العلماء پر اپنی تجویز پر عمل ضروری نہیں ہے؟؟ ہم علماء اور ائمۂ مساجد جمعیۃ العلماء سے درخواست کرتے ہیں کہ ’’اتحاد فرنٹ‘‘ (ایکتا منچ) کی کھلے بندوں تائید فرماکر کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیوں کے جھوٹ، فراڈ اور مکرو فریب کی قلعی کھول دیں اور ہندو مسلم اتحاد کے ذریعہ مسلمانوں کی فکری اور اخلاقی قیادت کا علم بلند کریں۔‘‘گویا یہی وہ محرک ہے، جو مولانا سلمان ندوی کو بار بار مسلمانوں کا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور یو پی اسمبلی الیکشن کے دوران ناکامی ہاتھ لگنے کے بعد بھی وہ ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں اور ملک میں اگلے لوک سبھا کے انتخابات سے قبل ایک بار پھر اس سیاسی محاذ کو کھڑا کرنے کے کوشاں نظر آ رہے ہیں۔
ایک سال قبل یو پی اسمبلی انتخاب کے وقت مسلمانوں کا ووٹوں کا حاصل کرنے کے لیے بہت سی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں وجود میں آئی تھیں، جنہیں پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان تمام پارٹیوں میں کوئی نہ کوئی مسلم چہرہ ضرور تھا، لہٰذا اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کا ووٹ بری طرح تقسیم ہوگا۔مسلم ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ کسی فرقہ پرست پارٹی اور خاص کر بی جے پی کو نہ پہنچ جائے، یہ سوچ کر یو پی کے دوسرے سب سے بڑے مذہبی ادارے، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ایک محدث مولانا سلمان حسینی ندوی نے 14 جنوری، 2012 کو اتر پردیش میں 26 پارٹیوں کا ایک سیاسی محاذ ’اتحاد فرنٹ‘ (ایکتا منچ) بنایا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس فرنٹ میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس بھی شامل تھی، جو اس وقت مغربی بنگال میں برسر اقتدار ہے، یہی نہیں، ممتا خود بھی پہلے مرکز کی یو پی اے سرکار کا حصہ رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ راشٹریہ پریورتن مورچہ، بھارتیہ سماج پارٹی، قومی ایکتا دل، نیشنل لوک تانترک پارٹی، آل انڈیا اتحاد ملی کونسل، بندیل کھنڈ وِکاس دل، انڈین جسٹس پارٹی، راشٹریہ پیس پارٹی، انڈین نیشنل لیگ، پیس منچ، ویلفیئر پارٹی (جماعت اسلامی ہند)، بھارتیہ جن سیوا پارٹی، آل گروناگر تنتر پارٹی، جے بھارت سمانتا پارٹی، مسلم مجلس، بھارت کرانتی رکشک پارٹی، جن ستا پارٹی، گونڈوانا گنتنتر پارٹی، کسان مزدور یونین پارٹی، پچھڑا سماج سوابھیمان پارٹی، سمست بھارتیہ پارٹی، پرچم پارٹی آف انڈیا، راشٹریہ سروودے کرانتی پارٹی، انڈین مسلم لیگ اور مسلم مجلس اتر پردیش جیسی پارٹیاں شامل تھیں۔حالانکہ یہ پہل ندوۃ العلماء کی روایت کے خلاف تھی۔ ندوۃ کے چوکھٹ پر بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کی حاضری کی ایک لمبی فہرست ہے، لیکن ندوۃ نے بذاتِ خود سیاست میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ لہٰذا، مولانا سلمان ندوی کے ذریعے 26 سیاسی پارٹیوں کی قیادت کرنے کے فیصلہ سے ندوۃ کے ایک طبقے میں تھوڑی بے چینی بھی پیدا ہوئی۔

دوسری جانب ندوۃ کے بہی خواہوں کو اِس بات کا خوف لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں مولانا سلمان ندوی کے اس فیصلہ سے ملک کی فرقہ پرست طاقتوں کو مسلمانوں کے خلاف ایک بارپھر زہر اگلنے کا موقع نہ مل جائے، کسی کونے سے یہ آواز نہ اٹھنے لگے کہ ہندوستان کے ایک بڑے مدرسہ کا عالم بھی پاکستان اور افغانستان کی طرز پر ملک کے اندر طالبان کی ایک فوج بنانے کی تیاری کر رہا ہے، اقتدار پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ حالانکہ اتحاد فرنٹ نے اپنے ایک پریس نوٹ میں واضح طور پر لکھا کہ ’’چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے لیڈران آج ایکتا منچ پر اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ انہیں تبدیلی لانا ہے، ایک چور کی جگہ دوسرے چور اور ایک ظالم کی جگہ دوسرے ظالم کی تبدیلی نہیں، ظالم کی جگہ منصف کی، حاکم کی جگہ خادم کی تبدیلی لانا ہے۔‘‘لیکن دوسری جانب مولانا سلمان حسینی ندوی نے کانگریس، بی جے پی، سماجوادی پارٹی یا بہوجن سماج پارٹی کے خلاف جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے، اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کا کوئی سیاسی محاذ کھڑا کریں گے، تو اس کی نوعیت اور صورت و شکل کیا ہوگی۔ ہندوستان کی ان سرکردہ سیاسی پارٹیوں کے بارے میں مولانا سلمان ندوی کی رائے کچھ یوں ہے : ’’کانگریس، جو ملک کی قدیم اور بڑی پارٹی ہے اور جس کو سب سے زیادہ حکومت کا موقع ملا، اپنی کوئی بنیاد ووٹوں کی نہیں رکھتی۔ وہ مسلمانوں اور اقلیتوں کے ووٹوں سے جیتتی ہے اور برہمن کی جھولی بھرتی ہے۔ مسلمانوں اور اقلیتوں کو مزید کمزور کرنا اس کا مشن رہا ہے۔
سماجوادی پارٹی یادوؤں کی پارٹی ہے، ان کے ووٹ صرف 6-7 فیصد ہیں۔ مسلمانوں کے ووٹوں سے وہ کامیابی حاصل کرتی ہے اور پھر مسلمانوں کو چند ٹکڑے پھینک کر خوش کرنا چاہتی ہے۔ مسلمان بھی طاقت کے توازن سے غافل اور غلامی اور بھیک کے عادی بن کر اس کے سامنے سوالی بنے رہتے ہیں۔
بی ایس پی کے اپنے ووٹ جاٹو برادری کے 11 فیصد ہیں۔ وہ ہندوؤں کے مظالم کے خلاف کھڑی ہوئی۔ 1984 میں اسے انتخابات میں کچھ نہ ملا۔ 1989 میں اس کے 13 امیدوار کامیاب ہوئے، پھر مسلمانوں کو رجھا کر اور مزید اپنے قریب کرکے مسلمانوں کے تعاون سے اس کو 1993 میں 63 سیٹیں اور 1996 میں 67 سیٹیں ملیں۔

………………..
لیکن اس نے مسلمانوں سے غداری کرکے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور مایاوتی وزیر اعلیٰ بن گئیں۔ 2009 میں اس کے 98 امیدوار کامیاب ہوئے اور پھر بی جے پی کی مدد سے مایاوتی نے سرکار بنائی۔ 11 فیصد ہوتے ہوئے اور چند بے ضمیر مسلمانوں کو خرید کر مسلمانوں کا 25 فیصد ووٹ لے کر یہ پارٹی مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپتی رہی۔‘‘
ان تینوں سرکردہ سیاسی پارٹیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد اتر پردیش میں مسلمانوں کے سیاسی محاذ کی ہموار زمین تلاش کرنے کی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا سلمان حسینی ندوی اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’1989 سے 2007 تک مسلمان 80 سے 90 سیٹوں پر سیدھے مقابلے میں رہے ہیں اور 40 سے 56 سیٹوں پر کامیاب رہے (ماسوائے 1991-93 کے، جب بابری مسجد رام مندر کا معاملہ گرم تھا)۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بغیر کسی حکمت عملی اور منصوبہ سازی کے مختلف پارٹیوں میں بکھر کر ملی مفادات سے بے نیاز رہ کر بھی 80 سے 90 سیٹوں پر مقابلہ آرائی میں کامیاب رہے ہیں۔ اگر یہی کام ہر سیٹ کا تجزیہ کرکے ملی اتحاد کو ملحوظ رکھ کر اقتدار میں حصہ داری کی غرض سے ایک پارٹی، ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر کیا جائے، تو یقینی طور پر 100 سے 125 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ضرورت صرف اتحاد اور اس حکمت عملی پر سنجیدگی سے عمل کرنے اور اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کو سمجھ کر زیادہ سے زیادہ ووٹ پول کرنے اور اتر پردیش میں اپنے ووٹ کی طاقت دکھانے اور گنانے کی ہے۔ آج اتر پردیش کے سیاسی منظر نامے میں کوئی بھی جماعت، خواہ وہ بہوجن ہو یا سماجوادی، کانگریس ہو یا بی جے پی، کوئی بھی 100 کے آنکڑے کو پار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ صورتِ حال غور و فکر کا موقع فراہم کرتی ہے اور مسلمان اقتدار میں حصہ داری کے بہت نزدیک ہیں، بشرطیکہ وہ اتحاد اور حکمت عملی کے ساتھ ووٹ کا استعمال کریں۔ مسلمان جب تک متحد ہو کر اپنی جماعت کو ووٹ دے کر مضبوط بنانے کی عادت نہیں ڈالیں گے، کوئی بھی مسلم جماعت مضبوط ہو کر نہیں ابھر سکتی۔ یہ انتخاب مسلمانوں کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں ہے۔ انہیں سیاسی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے اتحاد و اتفاق کے ساتھ مسلم سیاست کو اتنی قوت و طاقت دینی ہوگی کہ وہ اقتدار میں حصہ داری کر سکیں۔ موقع سے فائدہ اٹھانے کا نام ہی سیاست ہے۔ یہی طریقہ کار بالآخر مسلم جماعتوں کو ایک جماعت بننے پر مجبور کر دے گا۔ انتخاب اعداد و شمار کا ایک کھیل ہے، جسے مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے اور اپنی عددی قوت کا احساس کرانا چاہیے۔‘‘
اس طرح مسلمانوں کا سیاسی محاذ کھڑا کرنے کی زور شور سے تیاری چل رہی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے اس سیاسی محاذ کے میڈیا وِنگ کی ذمہ داری عزیز برنی کو دے دی گئی ہے، جو آج کل اپنے اخبار ’عزیز الہند‘ کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی ذہن سازی میں لگے ہوئے ہیں۔ مولانا سلمان ندوی کی انہی باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے عزیز برنی کہتے ہیں کہ ’’دامے، درمے، سخنے ہر پارٹی مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے یا برباد کرنے کی حکمت عملی کیوں بناتی ہے؟ ایسی ہی منصوبہ بند کوششیں دیگر طبقات کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیوں نہیں کی جاتیں؟ مسلمانوں کی طرح دلتوں، یادوؤں، جاٹوں، بنیوں، ٹھاکروں اور پنڈتوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے تمام پارٹیاں ایڑی چوٹی کا زور نہیں لگاتیں۔ آخر کیوں؟ کیوں؟؟ کیوں؟؟؟
لڑکیاں ہر گھر میں جوان ہوتی ہیں، مگر ان گھروں میں کوئی تاک جھانک نہیں کرتا، کنکر نہیں پھینکتا، اٹھا کر لے جانے کا منصوبہ نہیں بناتا۔ جن گھروں میں ان کے سرپرست مضبوط ہوتے ہیں، وہاں گھر اور خاندان کی عزت محفوظ رہتی ہے، ترقی کے راستے بھی کھلتے رہتے ہیں اور جہاں سرپرست مضبوط نہیں ہوتے، ان گھروں پر سب کی نظر لگی رہتی ہے۔ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے سب اپنا اپنا طریقہ اپناتے رہتے ہیں، کوئی ڈرا دھمکا کر، کوئی سبز باغ دکھا کر، کوئی اپنا حق جتا کر تو کوئی جال بچھا کر ہمارے گھروں میں نقب لگانے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے اور پھر ہم اپنی قسمت کا رونا روتے رہتے ہیں، دروازہ دروازہ اپنی بربادی کی داستان سناتے پھرتے ہیں، لیکن کوئی ہمارا پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ چاہیں تو ہم بھی اوروں کی طرح اپنی قسمت بدل سکتے ہیں، ہم بھی اوروں کی طرح ایک سیاسی طاقت بن سکتے ہیں۔ ہم بھی اپنی سیاسی قیادت کے لیے کسی ایک شخص کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ مگر ہم ایسا کر نہیں پاتے۔ آخر کیوں؟ کیوں؟؟ کیوں؟؟؟
آج سوچنا ہوگا۔ اس کیوں؟ کیوں؟؟ کیوں؟؟؟ کا جواب ہمیں تلاش کرنا ہوگا۔ کوئی ایک راستہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر، اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ گفتگو کرکے، مسجدوں میں بیٹھ کر، ہر نماز کے بعد اپنے امام اور نمازیوں سے تبادلہ خیال کرکے، گاؤں کی چوپال پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے کے بعد، مدرسوں میں بیٹھ کر درس و تدریس کے بعد، اب ہمیں ان سوالوں کا جواب طے کرنا ہی ہوگا۔ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے، ہمارے مسائل کے حل کے لیے، اپنی قوم کے مظلومین کو ان کا حق اور انصاف دلانے کے لیے۔ یہ سوال سیاست کا نہیں، ہمارے ایک ووٹ کا نہیں، ہمارے مستقبل کا ہے۔‘‘
گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی سوچ پر اگر نظر ڈالیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں ایک بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کا واقعہ کیا پیش آیا، مسلمان اپنی اپنی سیاسی دکان سجانے میں مصروف ہو گئے۔ دہشت گردی اور بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری پر بات کرنا اِس قوم کے لیے آج ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ دوسری طرف ہیمنت کرکے نے شہید ہونے سے پہلے، دہشت گردی کے واقعات میں ہندوؤں کے بھی شامل ہونے کی بات کیا کہہ دی، گویا ہندوستان میں 66 سال سے بے بسی اور لاچاری کی زندگی بسر کرنے والے مسلمانوں کو ایک طرح سے نسخہ کیمیا مل گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایشو جیسے ہی حل ہوگا، مسلمانوں کی تمام تکلیفیں اور پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو نہ تو اپنا حق مانگنے آتا ہے اور نہ ہی انہیں سیاست آتی ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک اِس ملک میں مسلمانوں کی طرف سے اپنا آئینی حق مانگنے کے لیے ایک بھی بڑی تحریک دیکھنے کو نہیں ملی اور نہ ہی اس قوم نے دوسری قوموں کے ساتھ مل کر اپنا مسئلہ حل کرانے کی کوشش کی۔ ہاں، البتہ مسلمانوں کو غیرت دلایا جاتا ہے کہ تم ایک نہیں ہو سکتے۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ اگر تم ہریجن برادری کی طرح ایک ہو جاؤ گے، تو تمہارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ایسا سوچنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے مسلمان یا تو کانگریس کے خیمے میں چلا جاتا ہے یا پھر مختلف علاقائی پارٹیوں کے فریب کا شکار ہو جاتا ہے۔ بی جے پی سے تو اسے پرہیز ہے ہی، لیکن ووٹوں کی اس تقسیم کی وجہ سے مسلم ووٹ مشترکہ طور پر اپنا کوئی خاص مقصد پورا نہیں کر پاتا۔ مسلمانوں نے کبھی بھی متحد ہو کر کانگریس یا بی جے پی کے خلاف تیسرے محاذ پر اپنی مہر لگانے کی بات نہیں سوچی۔ اب تھوڑی بہت سوچ مسلمانوں میں ابھرنے بھی لگی ہے، تو وہ بھی مذہب کی بنیاد پر۔ اس قسم کی سوچ سے ملک میں فرقہ واریت کو ہی بڑھاوا ملے گا۔
گاندھی جی نے پورے ہندوستان کو ایک سبق دیا تھا کہ جیسے ہی کوئی تمہارے خلاف ظلم و ستم کرے، تم دھرنے پہ بیٹھ جاؤ، احتجاج کرو، ہڑتال کرو، عدم تحریک چلاؤ اور اس سے بھی کام نہ چلے، تو غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاؤ۔ گاندھی جی نے کبھی بندوق نہیں چلائی، کبھی لاٹھی ڈنڈے کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی اپنے دشمن کے خلاف کبھی ایک پتھر اُچھالا۔ لیکن مسلمانوں پر جب بھی ظلم ہوا، انہوں نے گاندھی جی کے طریقے کو نہیں اپنایا، بلکہ چند جذباتی مسلمانوں نے تشدد کا راستہ اپنایا اور ملک کے سارے مسلمانوں پر دہشت گردی کا داغ لگ گیا۔ چوتھی دنیا نام نہاد مسلم رہنماؤں سے یہ سوال کرنا چاہتا ہے کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد کیا کسی نے رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر بے میعادی بھوک ہڑتال کی؟ کانگریس کے دورِ حکومت میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر ہوا تھا۔ کانگریس پارٹی کے اندر درجنوں مسلم لیڈر ہیں۔ کیا انہوں نے مشترکہ طور پر سونیا گاندھی پر اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے کے لیے دباؤ ڈالا اور اپنی بات نہ ماننے پر مشترکہ طور پر استعفیٰ دیا؟
دوسری جانب، جب اس ملک میں انا ہزارے بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے رام لیلا میدان میں اَنشن کر رہے تھے، تو کیا ملک کے مسلم رہنما مشترکہ طور پر اُن کے پاس اپنی یہ بات لے کر گئے کہ آپ ہمارے مسائل کو بھی اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیجئے، ہم آپ کی اس تحریک میں شامل ہو جائیں گے؟ مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا، لیکن پورے مسلم سماج نے انا پر آر ایس ایس کا آدمی ہونے کا الزام لگا دیا۔ کسی نے حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ یہ سچائی ہے کہ انا ہزارے نے گاندھی جی کا راستہ اپنایا اور آج وہ پورے ملک میں گھوم گھوم کر لوگوں کو موجودہ کرپٹ سسٹم کے خلاف بیدار کر رہے ہیں۔ لیکن مسلم رہنما ہیں، جو ایک بار پھر اس ملک میں کمیونلزم کو بڑھا وا دینا چاہتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد بننے کی کوشش نہیں کر رہا ہے، بلکہ یہ سب کے سب محمد علی جناح بننا چاہتے ہیں۔ خوف اس بات کا ہے کہ مسلمان اگر اس ملک میں اپنی الگ سے سیاسی پارٹی بنانے کی کوشش کرے گا، تو ایک بار پھر پاکستان بننے جیسی صورتِ حال پیدا کرے گا۔ ایک بار پھر اس کے اوپر غدار ہونے کا الزام لگے گا اور عام مسلمانوں کے بنیادی مسائل حل ہونے کی بجائے، دہشت گردی کی ہی طرح ان کے اوپر ایک اور الزام لگے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *