فسادات ہونے ہی والے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار 

ملک میں جس طرح کا سیاسی ماحول بنایا جا رہا ہے، اس سے صاف لگتا ہے کہ فسادات ہونے ہی والے ہیں۔ ملک کا میڈیا، سیاسی پارٹیاں اور سیاسی لیڈران اس ملک میں فسادات کرانے پر آمادہ ہیں۔ فسادات کرانے والوں میں فرقہ وارانہ طاقتوں کے ساتھ ساتھ وہ نام نہاد سیکولر طاقتیں بھی ہیں، جن کی نگاہ اس 19 فیصد ووٹوں پر ہے، جنہیں وہ بڑی بے شرمی سے مسلم ووٹ بینک کہتی ہیں۔ کوئی چہرہ دکھا کر مسلمانوں کو ڈرا رہا ہے، تو کوئی ہمدرد ہونے کا دکھاوا کرکے۔ حیرانی اِس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کے لیے تو سب لڑ رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کے لیے لڑنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے مسائل ختم کرنے کے لیے نہ تو کسی کے پاس ٹھوس پالیسی ہے اور ن ہی ارادہ۔ تمام سیاسی پارٹیوں کی واحد حکمت عملی ہے، مسلمانوں کے ساتھ فریب کرنا۔ سیاست کے ایسے پر فریب ماحول میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ کیا کریں اور کہاں جائیں؟

Mastسب سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بات کرتے ہیں۔ بی جے پی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا۔ اس سے صاف طور پر ایک اشارہ ملتا ہے کہ وہ لوک سبھا الیکشن نریندر مودی کی قیادت میں لڑے گی۔ اڈوانی نے مودی کی مخالفت کی، لیکن بی جے پی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ انہوں نے پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے استعفیٰ بھی دے دیا، لیکن اس کا بھی اثر نہیں ہوا۔ بی جے پی کے درجنوں نیتا مودی کے خلاف ہو گئے، پھر بھی آر ایس ایس نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔ مودی کے لیے بی جے پی بہار سرکار سے باہر ہو گئی اور وزیروں کو کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا، لیکن پھر بھی مودی بنے رہے۔ بی جے پی کو اپنے سب سے بھروسے مند ساتھی جے ڈی یو سے رشتہ توڑنا پڑا، باوجود اس کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اب جب کہ نریندر مودی پر پارٹی اتنا بڑا داؤ کھیل رہی ہے، تو اس کا مطلب صاف ہے کہ سنگھ پریوار کسی خاص حکمت عملی پر کام کر رہا ہے اور اس حکمت عملی کی مخالفت میں جو بھی کھڑا ہوگا، اسے درکنار کر دیا جائے گا۔ اب سمجھتے ہیں کہ مودی کی قیادت میں الیکشن لڑنے کے معنی کیا ہیں۔
نریندر مودی چاہے ترقی کی بات کریں یا پھر مستقبل کے ہندوستان کا کوکئی حسین خواب دکھائیں، لیکن ان کے سامنے آتے ہی الیکشن کا پولرائزیشن ہونا طے ہے۔ یہ بات بی جے پی اور سنگھ پریوار کے حکمت سازوں کو اچھی طرح معلوم ہے۔ اس کے باوجود، بی جے پی نے اپنے سب سے بڑے لیڈر کے روپ میں مودی کو سامنے رکھ کر یہ واضح کر دیا کہ وہ 2014 میں ہندو مسلم ووٹوں کا پولرائزیشن چاہتی ہے۔ دراصل، بی جے پی کو یہی لگتا ہے کہ جتنا زیادہ پولرائزیشن ہوگا، اسے اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس لیے اس حکمت عملی کے تحت ہی مودی کے ہاتھوں الیکشن کی کمان سونپ دی گئی ہے۔ ایسی حکمت عملی پر الیکشن لڑنے کا مطلب یہی ہے کہ ملک میں بھائی چارہ ختم ہو جائے، فسادات ہوں یا پھر لوگوں کی جانیں چلی جائیں، لیکن الیکشن جیتنے کے لیے پولرائزیشن کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ مودی اب تک ترقی کی باتیں کرتے آئے ہیں اور اس حکمت عملی کی تصدیق انہوں نے پٹھان کوٹ میں کر ہی دی۔ مودی نے اپنی انتخابی مہم کی شروعات پٹھان کوٹ سے کی۔ یہاں انہوں نے یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے اور دفعہ 370 ختم کرنے کی بات کرکے یہ واضح کر دیا کہ ’سد بھاؤنا مشن‘ صرف مسلمانوں کو بہلانے کے لیے ہے، جب کہ ان کا اصلی ایجنڈہ کچھ اور ہی ہے۔
دوسری طرف، ایودھیا میں وشو ہندو پریشد کے لیڈروں کا جماؤڑا شروع ہوگیا۔ گزشتہ 12 جون کو وشو ہندو پریشد کی کور کمیٹی، یعنی مرکزی ’مارگ دَرشک منڈل‘ کی میٹنگ یہاں ہوئی۔ وشو ہندو پریشد نے یہ اعلان کیا کہ ایودھیا میں رام مندر بنانے کے لیے وہ 25 اگست سے یاترا شروع کرے گی، جو 19 دنوں کی ہوگی اور یہ ایودھیا سے منسلک بستی سے شروع ہو کر 13 ستمبر کو ایودھیا میں ہی ختم ہوگی۔ یاترا کے دوران یو پی اے سرکار سے یہ مانگ کی جائے گی کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون بناکر متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر کرائے۔ اور اگر سرکار ایسا نہیں کرتی ہے، تو 18 اکتوبر کو وشو ہندو پریشد ایودھیا میں سادھو سنتوں کا ایک مہا کمبھ منعقد کرے گی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور ایسے میں سرکار سے اس طرح کی مانگ کرنے کا مطلب صاف ہے کہ سرکار قانون پاس نہیں کر سکتی ہے۔ دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ یاترا بستی سے شروع ہو کر اتر پردیش کے اُن علاقوں میں جائے گی، جو نہ صرف حساس ہیں، بلکہ جہاں مسلمانوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے لوگ خطرے سے کھیلنا چاہتے ہیں، کیو ںکہ یہاں کی ایک چنگاری پورے ملک میں آگ لگا سکتی ہے۔ اتنے برسوں تک سوئے رہنے کے بعد، الیکشن سے ٹھیک پہلے اس طرح کا پروگرام طے کرنے کا مطلب صاف ہے کہ بی جے پی نے وشو ہندو پریشد کے کندھے پر بندوق رکھ کر ماحول کو فرقہ وارانہ بنانے کی پوری تیاری کر لی ہے۔ بی جے پی اس الیکشن کے دوران رام جنم بھومی، دفعہ 370 اور یونیفارم سول کوڈ کو ایشو بنانے والی ہے۔ دراصل، یہ ایسے ایشوز ہیں، جو نہ صرف مسلم مخالف ہیں، بلکہ ایک طرح سے یہ ملک کے اتحاد و سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والا ڈائنامائٹ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے ایشوز سے نہ صرف جذبات بھڑک سکتے ہیں، بلکہ فسادات بھی ہو سکتے ہیں۔
الیکشن کا پولرائزیشن کرنے اور جذبات کو بھڑکانے میں کانگریس پارٹی بھی پیچھے نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی مودی کو آگے کرکے پولرائزیشن کی سیاست کر رہی ہے اور کانگریس اور تمام دوسری سیکولر پارٹیاں سنگھ پریوار کا خوف دکھا کر۔ کانگریس کے ترجمان اور لیڈر اور کانگریس کے ذریعے کنٹرولڈ میڈیا مودی کے نام کا اتنا بڑا ہوّا بنا رہی ہے کہ جیسے ملک میں مودی کے علاوہ کوئی دوسرا ایشو ہی نہیں ہے۔ کانگریس نے 2014 کا الیکشن ایک سال پہلے سے ہی مودی پر مرکوز کر دیا ہے۔ کانگریس نے مودی کے ہر بیان کا جواب دینااپنا بنیادی فریضہ سمجھ لیا ہے۔ مودی جو کرتے ہیں، اس کے بارے میں یا تو تبصرہ آتا ہے یا پھر اسی کام میں پوری کانگریس لگ جاتی ہے۔ آفاتِ سماوی کے بعد مودی اتراکھنڈ گئے۔ پہلے تو انہیں روک کر کانگریس نے بے وجہ تنازع کھڑا کیا اور پھر اپنے تین تین وزیروں کو اتراکھنڈ بھیج دیا۔ مودی دو دن اتراکھنڈ میں رہے، تو راہل گاندھی بھی دو دن اتراکھنڈ میں لوگوں سے ملتے رہے۔ مودی کے بارے میں کوئی خبر شائع ہو جاتی ہے، تو کانگریس کے وزیر فوراً اس کا جواب دینے کے لیے میڈیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جتنا مودی خود اپنا پرچار کرتے ہیں، اس سے زیادہ ان کا پرچار کانگریس کر رہی ہے۔ ایسا اس لیے، کیوںکہ کانگریس کے حکمت سازوں کو لگتا ہے کہ مودی کے آگے آنے سے انہیں فائدہ ہونے والا ہے، کیوں کہ مسلمانوں کے پاس کانگریس کے سوا کوئی اور دوسرا متبادل نہیں ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا صرف مودی کی مخالفت کردینے سے ہی کانگریس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے؟ کیا ملک میں سیکولر ازم کے معنی صرف مودی کی مخالفت تک ہی محدود ہیں؟ بی جے پی مسلمانوں کو لبھانے کے لیے ان کی سماجی و اقتصادی ترقی کا ایک روڈ میپ لے کر سامنے آ گئی، لیکن کانگریس نے کیا کیا؟ کیا مسلمانوں کو پھر سے ریزرویشن کا لالی پاپ دکھا کر دھوکہ دیا جائے گا، جیسا کہ اتر پردیش میں اسمبلی الیکشن کے دوران ہوا تھا؟ اسمبلی الیکشن میں تو کانگریس نے حد ہی کر دی تھی۔ پہلے اردو اخباروں اور دیگر میڈیا کے ذریعے اقلیتوں کے ریزرویشن کو مسلم ریزرویشن بتا کر مسلمانوں کو ٹھگنے کی کوشش کی گئی۔ جب یہ چوری پکڑی گئی، تو سلمان خورشید نے مسلمانوں کو 9 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کر دیا، لیکن جب کانگریس پارٹی کا انتخابی منشور سامنے آیا، تو مسلمانوں کے حوالے سے لکھی گئی باتیں اردو اور انگریزی میں الگ الگ تھیں۔ یہ کس طرح کی سیاست ہے؟ کیا کانگریس کو لگتا ہے کہ ہر بار کی طرح اِس بار بھی جھوٹے وعدے کرکے وہ مسلمانوں کو ٹھگنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ جیسا کہ اب تک کی تاریخ رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ کانگریس پھر مسلمانوں کے لیے ریزرویشن اور کسی پیکیج کا جھوٹا اعلان کرکے ان کے ووٹ لینے کی تیاری میں لگی ہوئی ہے۔ ایسی سیاست کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ لگتا کچھ بھی نہیں ہے، الٹے مسلمانوں کی منھ بھرائی کی مخالفت میں پولرائزیشن ضرور ہو جاتا ہے۔ شاید کانگریس بھی یہی چاہتی ہے۔ لگتا ہے، کانگریس جھوٹے وعدے کرکے، افواہیں پھیلا کر، ڈرا دھمکا کر اور مودی کا خوف دکھاکر پولرائزیشن کی حکمت عملی کو انجام دینے میں لگی ہوئی ہے، تاکہ مسلمانوں کے 19 فیصد ووٹ اسے بیٹھے بیٹھائے مل جائیں۔ کانگریس بھی اس انتظار میں بیٹھی ہے کہ ماحول میں فرقہ واریت کا زہر گھلے، تاکہ وہ اس کا انتخابی فائدہ اٹھا سکے۔
لیکن کانگریس کی حکمت عملی میں ایک بہت بڑی خامی ہے۔ مسلمان یا مودی کے مخالفین کا ووٹ اسی امیدوار کو ملے گا، جو بی جے پی کے امیدوار کو ہرانے میں سب سے زیادہ اہل ہوگا۔ چونکہ یہ الیکشن مودی کی حمایت اور مخالفت کے درمیان ایک لڑائی ہے، اس لیے مودی کے مخالفین کوئی جوکھم نہیں اٹھائیں گے۔ اس بار اسٹریٹیجک ووٹنگ کے ساتھ انٹیلی جنٹ ووٹنگ بھی ہوگی۔ یہی سوچ ملائم سنگھ یادو کی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ مودی کے آگے آنے سے لوک سبھا الیکشن کے سارے ایشو ختم ہو جائیں گے اور اقلیتیں فرقہ واریت کو ایشو بنائیں گی اور بی جے پی کو ہرانے کے لیے سماجوادی پارٹی کے ساتھ آ جائیں گی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جتنا زیادہ پولرائزیشن ہوگا، سماجوادی پارٹی کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی سرکار مودی کے وہاں آنے کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے، کیوں کہ مودی ہی اس کی جیت کی کنجی ہیں۔ آنے والے وقت میں سماجوادی پارٹی مودی اور وشو ہندو پریشد کے کہرام مچانے کے لیے نہ صرف چھوٹ دے گی، بلکہ جم کر مخالفت بھی کرے گی۔ مطلب یہ کہ الیکشن سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی فرقہ واریت کا زہر گھولے گی، تو کانگریس اور سماجوادی پارٹی آگ میں گھی ڈالنے کا کام کریں گی۔
ایسی ہی حکمت عملی کی مثال نتیش کمار ہیں۔ نتیش کمار کی سیاست کو مسلمانوں نے پھر سے 30 سال پیچھے دھکیل دیا ہے اور بی جے پی کو فرقہ وارانہ سیاست کرنے کی پوری چھوٹ دے دی ہے۔ بہار میں نتیش کمار کے جنتا دل یونائٹیڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان اتحاد تھا اور سرکار چل رہی تھی۔ دونوں نے مل جل کر کئی الیکشن بھی لڑے۔ بہار میں پہلی بار مسلمانوں نے کھل کر بی جے پی کو ووٹ دیا۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر مسلم امیدوار بھی الیکشن جیت کر آئے۔ …..
نتیش کمار اور سشیل مودی نے اپنی فہم و فراست سے فرقہ واریت کو ریاست سے دور ہی رکھا۔ ان کی مخلوط حکومت کے دوران بھاگلپور فسادات کے قصورواروں کو سزا بھی ملی۔ الیکشن میں بی جے پی نے متنازع ایشو کبھی نہیں اٹھائے اور نہ ہی نریندر مودی کو بہار میں پیر جمانے کا کوئی موقع دیا۔ جب جب الیکشن ہوئے، نریندر مودی کو بہار آنے سے روکا گیا۔ اس میں جتنا کردار نتیش کمار کا تھا، اتنا ہی سشیل مودی کا بھی تھا۔ مسلمان ترقی اور گڈ گورننس کے نام پر بلا خوف ووٹ کرتے رہے۔
نتیش کمار نے بی جے پی سے اب رشتہ توڑ لیا ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں یہ فیصلہ سیکولر سیاست کی ایک مثال ضرور لگتا ہے، لیکن اس سے جو مستقبل کی لکیر کھنچتی ہے، وہ بہار میں فرقہ واریت کو مضبوط کرنے والی ہے۔ جیسے کہ پہلے مودی بہار میں چناؤ پرچار کے لیے نہیں جاتے تھے، اب وہ آرام سے بہار کا دورہ کر سکیں گے۔ پہلے بی جے پی متنازع ایشو اٹھانے سے بچتی تھی، اب وہ ایسے سارے ایشو اٹھا سکے گی، جو متنازع اور سماج کو بانٹنے والے ہیں۔ نتیش کمار کے فیصلے کے پیچھے بھی انتخابی سیاست کا ایکویشن (Equation) ہے۔ بہار میں 15 سالوں تک لالو یادو کا دبدبہ رہا۔ وہ الیکشن نہیں ہارتے تھے، کیوں کہ ان کی جیت کا فارمولہ مسلمانوں اور یادوؤں کے ووٹوں کا گٹھ جوڑ تھا، جسے ’ایم وائی‘ بھی کہتے تھے۔ لیکن جب سے مسلمانوں نے لالو یادو کو ووٹ دینا بند کر دیا، تب سے وہ بہار کے اقتدار سے باہر ہو گئے۔ مسلمانوں نے لالو یادو کو اس لیے ووٹ دینا بند کیا، کیوں کہ 15 سالوں میں ان کی سرکار نے مسلمانوں کی ترقی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ مسلمانوں کو لگا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، اس لیے انہوں نے جے ڈی یو – بی جے پی اتحاد کا ساتھ دیا۔ نتیش کا بی جے پی سے الگ ہونے کا فیصلہ نظریاتی اختلافات سے زیادہ انتخابی ایکویشن کا نتیجہ ہے۔ نتیش جانتے ہیں کہ بہار میں لالو یادو کو کمزور کرکے ہی اقتدار میں برقرار رہا جا سکتا ہے۔ جس دن مسلمان واپس لالو کے ساتھ ہو گئے، اسی دن ان کے اقتدار کی بنیاد کمزور ہو جائے گی۔ اس لیے ہر الیکشن سے پہلے وہ مودی کی مخالفت کرکے مسلمانوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہے۔ اس لیے جیسے ہی بی جے پی نے مودی کے نام کا اعلان کیا، ویسے ہی انہوں نے اس سے رشتہ توڑ لیا۔ اس سے نتیش کو الیکشن میں کتنا فائدہ ہوگا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ان کا فیصلہ اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس پر کانگریس اور سماجوادی پارٹی کام کر رہی ہے۔
دراصل، ہندوستانی سیاست خالی الذہن ہو گئی ہے۔ سیکولر ازم کا مطلب صرف اقلیتوں کے ووٹ دھوکے سے حاصل کر لینا بھر رہ گیا ہے۔ مرکز میں کانگریس کی سرکار ہے، بہار میں نتیش کمار اور اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو کی۔ یہ سب دن رات سیکولر ازم کی دُہائی دیتے ہیں، لیکن ان میں سے کس کی سرکار نے غریب اقلیتوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے کوئی مجموعی منصوبہ تیار کیا ہے؟ کس نے انہیں جہالت کے اندھیرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی ہے؟ ہر کسی نے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ نے مسلمانوں کی پس ماندگی کی حقیقت بتا دی۔ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ نے کئی سارے مشورے دیے۔ تین چار سال سے یہ رپورٹ سرکار کی الماری میں سڑ رہی ہے اور کسی سیکولر پارٹی کو اس کی خبر لینے کی فرصت بھی نہیں ہے۔ باقی جن مسائل سے یہ ملک دوچار ہے، ان کا تو مسلمانوں پر اثر پڑ ہی رہا ہے، لیکن جس طرح کی اقتصادی پالیسی ملک میں نافذ کی جا رہی ہے، اس سے مسلمان الگ سے پریشان ہو رہے ہیں۔ کسی سیکولر پارٹی نے اب تک اِس بات پر کیوں دھیان نہیں دیا کہ لبرلائزیشن کی اقتصادی پالیسی کی وجہ سے سب سے زیادہ مسلمان پسے ہیں، سب سے زیادہ مسلمان بے روزگار ہوئے ہیں، بازار میں چینی سامان آنے سے سب سے زیادہ مسلمان کاریگر پریشان ہیں، ایف ڈی آئی کی وجہ سے سب سے زیادہ مسلمانوں کا کاروبار چوپٹ ہوگا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی سیاسی پارٹیوں نے سیکولر ازم کا مطلب صرف مسلمانوں سے ووٹ لینا سمجھ لیا ہے۔ جھوٹے وعدے کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہی سیکولر ازم کا صحیح مطلب سمجھ لیا گیا ہے۔ الیکشن آتے ہی سیاسی پارٹیوں کو مسلمانوں کا ریزرویشن یاد آتا ہے۔ بولیاں لگنے لگتی ہیں۔ کوئی 5 فیصد، تو کوئی 9 فیصد، تو کوئی 19 فیصد ریزرویشن کی بات کرتا ہے اور جب الیکشن ہو جاتے ہیں، تو سب کچھ زیرو ہو جاتا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور جنتا دل یونائٹیڈ بہار اور اتر پردیش میں پولرائزیشن کو بڑھاوا دینے والی سیاست پر آمادہ ہیں۔ ان سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو لگتا ہے کہ 2014 میں ان کے وزیر اعظم بننے کا سنہرا موقع ہے۔ اِن پارٹیوں کو یہ بھی لگتا ہے کہ جتنا زیادہ پولرائزیشن ہوگا، انہیں اتنا ہی فائدہ ملے گا۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن میں ووٹوں کے پولرائزیشن کے لیے یہ پارٹیاں کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ کوئی ڈرا دھمکا کر، متنازع تقریر کرکے، تو کوئی میٹھا زہر گھول کر ووٹروں کو بانٹنے کی کوشش کرے گا۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی پارٹیاں ہیں، جو اِس دوڑ میں تھوڑی پیچھے ضرور نظر آ رہی ہیں، لیکن وہ الیکشن کے دوران کیٹلسٹ کا کام کریں گی، جیسے لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل، رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی۔ یہ پارٹیاں بھی سیکولر سیاست کی دُہائی دے کر ووٹروں کو بانٹنے کی کوشش کریں گی۔ جب اتنی ساری پارٹیاں ایک ساتھ ایک مقصد پر کام کریں گی، تو نتیجہ کیا نکلے گا، یہ بالکل صاف ہے۔ اس لیے ہمیں یہ خوف ہے کہ فسادات ہونے ہی والے ہیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *