ایک لڑائی بدعنوانی کے خلاف

بدعنوانی اب اس لفظ سے عام آدمی چونکتا نہیں ہے، کیونکہ یہ روزمرہ میں پیش آنے والے واقعات کی طرح ہمارے سماج میں شامل ہو چکی ہے۔ عام آدمی نے یہ مان لیا ہے کہ یہ ایک لاعلاج بیماری ہے۔ ہم اور آپ جیسے عام لوگ بھی اس بیماری سے پریشان تو ضرور ہوتے ہیںلیکن اس کا علاج نہیں تلاش کرتے۔ یہ صحیح بات ہے کہ بدعنوانی اتنی بھیانک شکل اختیار کرتی جارہی ہے کہ ہم خود کومجبور مان بیٹھے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم خاموش بیٹھے رہیں گے۔ البتہ کچھ لوگوں نے اس مسئلہ کے خلاف ضرور آواز اٹھانا شروع کی ہے۔ اب ہم اور آپ جیسے عام لوگوں کو بھی اپنی آواز بلند کرنی پڑے گی اور اس مہم میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے حقِ اطلاع قانون آپ کے ساتھ ہے۔ ’چوتھی دنیا‘کا یہ شمارہ آپ کو بتارہا ہے کہ کیسے بدعنوانی کے خلاف اس لڑائی کی شروعات کی جاسکتی ہے۔ اس شمارے میں ہم آپ کو بتارہے ہیں کہ بدعنوانی کے معاملوں سے متعلق معاملوں کی شکایت پر مرکزی وجیلنس کمیشن کیا کارروائی کرتا ہے؟ اصل میں یہ کمیشن ایک ایسا ادارہ ہے جو کسی بھی افسر کے خلاف ملی ہوئی شکایت کی جانچ کرتا ہے۔ آپ اگرچاہیں تو کسی بدعنوان افسر کے خلاف اپنی شکایت بھی سی وی سی میں دائر کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد اپنی شکایت پر کی گئی کارروائی کے بارے میں اطلاع مانگ سکتے ہیں۔ آپ اپنی درخواست میں سینٹرل وجیلنس کمیشن کے پاس ایک خاص معینہ مدت کے اندر کتنی شکایتیں آئیں، ان شکایتوں کی مختصر تفصیل، شکایت کی تاریخ، جس کے خلاف شکایت کی گئی، اس افسر یا اتھارٹی کی مکمل تفصیل وغیرہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ کون سی شکایت فوری طور پر خارج کر دی گئی اور کون سی شکایت آگے کی جانچ کے لیے منظور کر لی گئی، ابتدائی جانچ کی تاریخ یا شکایت خارج کرنے کی تفصیل بھی آپ اپنی درخواست میں مانگ سکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس شمارے میں شائع کی گئی درخواست کا استعمال آپ ضرور کریں گے اور دیگر لوگوں کو بھی ایسا کرنے کے لیے ترغیب دیں گے۔ اگر آپ کو اس لڑائی میں کسی طرح کی دقت آتی ہے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

بدعنوانی سے متعلق شکایتوں کی صورتحال
بخدمت شریف، بتاریخ
پبلک انفارمیشن آفیسر
ڈسٹرکٹ فوڈ پروسیسنگ آفیسر
پتہ ————————————————————
—————————————————————
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
برائے کرم درج ذیل اطلاعات فراہم کرائیں:
-1 سینٹرل وجیلنس کمیشن کے ذریعہ مورخہ——-سے——-کے درمیان موصول کی گئیں شکایات کی مختصر تفصیل، کیا شکایت گمنام تھی، شکایت کی تاریخ، ان اتھارٹیز یا افسران کی مکمل تفصیل(نام، عہدہ اور رابطہ کا پتہ وغیرہ) جن کے خلاف شکایت کی گئی ہے۔
-2 مذکورہ بالا میں سے کون سی شکایتیں فوراً خارج کر دی گئیں اور کون سی شکایتیں آگے کی جانچ کے لیے منظور کی گئیں۔ کیس کے مطابق ابتدائی جانچ کی تاریخ یا خارج کرنے کی تفصیل بھی دیں۔
4 – مختلف قانون، ضابطے، ہدایات،مینوئل وغیرہ کے مطابق سینٹرل وجیلنس کمیشن میں شکایت درج کرانے کے بعد کتنی مدت میں جانچ پوری ہوجاتی ہے۔ برائے کرم ایسی ہدایات کی کاپی فراہم کرائیں، جس میں شکایت موصول ہونے سے لے کر اس پر کارروائی اور سزا تک کے مختلف مرحلوں کے لییمعینہ مدت بیان کی گئی ہو۔
-5 مورخہ ——-سے اب تک کمیشن کو مجموعی طور پر کتنی شکایتیں موصول ہوئی ہیں؟ ان میں سے کتنی فوری طور پر خارج کر دی گئیں اور کون کون سی شکایتیں آگے کی جانچ کے لیے رکھی گئیں؟ جانچ کے لیے رکھی گئی شکایتوں میں سے کتنی شکایتوں کی چھان بین میں مذکورہمعینہ مدت پر عمل کیا گیا؟
میں درخواست فیس کے طور پر 10روپے الگ سے جمع کر رہا ہوں/رہی ہوں یا
میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لیے ہر طرح کی فیس سے آزاد ہوں۔میرا بی پی ایل کارڈ نمبر ——-ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمہ /دفتر سے متعلق نہیں ہو تو حقِ اطلاع قانون 2005کی دفعہ 6(3)کے تحت میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ روز کے دوران ٹرانسفر کریں، اس کے ساتھ ہی ضابطہ کے مطابق فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹی کا نام و پتہ ضروربتا ئیں۔
منسلک: (اگر کچھ ہو)
شکرگزار
نام ————————————————- دستخط ——————————————–
پتہ ————————————————–

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *