آئین میں سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے، آزادی کی حفاظت ہر قیمت پر ہونی چاہئے

p-8bدوسرا الزام یہ لگتا رہتا ہے کہ مرکز کو جو اختیارات دیے گئے ہیں، انہیں وہ ریاستوں پر تھوپتا ہے۔ اس الزام پر یہاں ضرور بحث ہونی چاہیے، لیکن مذکورہ اختیارات کو لے کر آئین کی مذمت کرنے سے پہلے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ مذکورہ اختیارات آئین کی عام تصویر نہیں پیش کرتے۔ مذکورہ اختیارات کا استعمال اور ان کا نفاذ صرف ایمرجنسی میں ہی ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ دھیان دینے لائق ہے کہ کیا مرکز کو جو اختیارات ملے ہوئے ہیں، ان کا استعمال ہم ایمرجنسی نافذ ہونے پر روک سکتے ہیں؟ جو لوگ ایمرجنسی میں مرکز کے مذکورہ اختیارات کو لے کر انصاف نہیں کرنا چاہتے، سمجھئے کہ انہیں اس مسئلہ کے بارے میں ٹھیک سے معلوم ہی نہیں ہے کہ آخر اس کی جڑ کہاں ہے۔ ایک مشہور میگزین میں ایک مضمون نگار نے اس مسئلہ کے بارے میں بہت صاف صاف بتایا ہے۔ راؤنڈ ٹیبل میگزین کے دسمبر، 1935 کے شمارہ میں شائع ہونے والے مذکورہ مضمون کے لیے میں نے کبھی معافی نہیں مانگی تھی۔
مذکورہ مضمون میں کہا گیا ہے، سیاسی نظام اختیارات اور ذمہ داریوں کو لے کر ایک تعصب ہے، جو اِن سوالوں پر منحصر کرتا ہے کہ نظام کس کے لیے ہے اور اِس نظام کا کیا مطلب ہے؟ کیا شہریوں کے دل میں اس کے تئیں فرمانبرداری کے لیے کوئی جگہ ہے؟ عام طور پر اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ قانون کو ماننے والے اور ایسے شخص، جو اپنا کاروبار کر رہے ہیں، صرف ایک ہی ادارہ کی بات مان سکتے ہیں۔ پریشانی کے وقت شکایتوں کو لے کر تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔ فرمانبرداری کے مدعے کا تعین بھی عدالتی دخل اندازی سے ممکن نہیں ہوسکتا۔ قانون ان حقائق کو تسلیم کر سکتا ہے، لیکن یہ اس کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا۔ تمام کارروائیوں سے پردہ ہٹنے کے بعد ایک بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ نظام نے شہریوں کی اعتماد بحالی کے لیے کیا کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ یہ مرکز ہے یا پھر آئینی ریاست؟
اس مسئلہ کا حل صرف ایک کے جواب پر منحصر ہے، جو اس مسئلہ کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ زیادہ تر لوگ مرکز کے اس اختیار کے حق میں ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایمرجنسی میں شہریوں کی جوابدہی صرف مرکز کے تئیں ہونی چاہیے، نہ کہ ریاستوں کے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عام لوگوں کی دلچسپی اور وہ کیا چاہتے ہیں، اس کا خیال صرف مرکز ہی رکھ سکتا ہے، یہ ریاستوں کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ عوامی رائے کو دیکھتے ہوئے ہی مرکز کو ایمرجنسی میں کچھ خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ صرف انہی لوگوں کو اس کے خلاف شکایت ہے، جو اسے نہیں سمجھ سکے۔ حالانکہ اب میں اِن چیزوں کو ختم کر سکتا ہوں۔ میں اپنے ملک کے مستقبل کو لے کر پر امید ہوں۔ 26 جنوری، 1950 کو ہندوستان آزاد ملک بنا۔ ہندوستان کے آزاد ہونے سے کیا ہوا؟ کیا اس نے اپنی آزادی کی حفاظت کی یا یہ اپنی آزادی پھر سے کھو دے گا؟ یہ پہلا سوال تھا، جو میرے دماغ میں آیا۔ ایسا نہیں تھا کہ ہندوستان کبھی آزاد ملک نہیں تھا۔ بڑا سوال یہ تھا کہ ہندوستان پھر ایک بار اپنی آزادی کھو دے گا۔ کیا دوسری بار اپنی آزادی کھو دے گا؟ یہ ایک ایسی سوچ تھی، جس نے مستقبل کو لے کر میرے اندر تجسس پیدا کر دیا۔
سب سے زیادہ میں اس بات کو لے کر فکرمند تھا کہ ہندوستان پھر سے ایک بار صرف اپنی آزادی ہی نہیں کھو دے گا، بلکہ یہ ہندوستانیوں کے ساتھ دھوکہ بھی ہوگا۔ محمد بن قاسم کے ذریعے سندھ پر حملہ کے دوران راجہ داہر کے سپہ سالار نے اپنے راجہ کی طرف سے نہ لڑنے کے لیے محمد بن قاسم کے ایجنٹ سے رشوت لی تھی۔ جے چند نے محمد غوری کو ہندوستان پر حملہ کرنے اور پرتھوی راج کے خلاف لڑنے کے لیے مدعو کیا تھا۔ جے چند نے محمد غوری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی اور سولنکی راجاؤں کی مدد کرے گا۔ جب شوا جی ہندوؤں کی آزادی کے لیے لڑ رہے تھے، تو اس وقت دیگر مراٹھا اور راجپوت راجاؤں نے مغل حکمرانوں کی طرف سے جنگ کی تھی۔ جب انگریز سکھ حکمراں گلاب سنگھ کے اقتدار کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو ان کا اہم سپہ سالار خاموش بیٹھا رہا اور اس نے سکھ سلطنت کی حفاظت کی کوئی کوشش نہیں کی۔ 1857 میں ہندوستان کے ایک بڑے حصے میں آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف لڑائی کا بگل پھونک دیا گیا، تو اس وقت سکھوں نے کھڑے ہو کر صرف اسے دیکھا۔
کیا تاریخ پھر سے ان تمام چیزوں کو دہرائے گی؟ یہ ایسے خیالات ہیں، جن کے بارے میں جب میں سوچتا ہوں، تو فکرمند ہو جاتا ہوں۔ اس فکر مندی سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ہمارے پرانے دشمن اب ذات اور مذہب کے نئے روپ میں ہمارے سامنے ہیں۔ ہم لوگ مختلف سیاسی پارٹیوں کے الٹے اصولوں کو ماننے لگے ہیں۔ کیا ہندوستانی اِن اصولوں کو لے کر اپنے ملک کے ساتھ سمجھوتہ کر سکتے ہیں یا انہیں اپنے ملک سے زیادہ توجہ دے سکتے ہیں؟ میں نہیں جانتا، لیکن یہ طے ہے کہ اگر کسی پارٹی نے اپنے اصولوں کو ملک کے اوپر رکھنے کی کوشش کی، تو ہماری آزادی دوسری بار خطرے میں پڑ سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی آزادی ہمیشہ کے لیے کھو دیں۔ اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے ہمیں اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *