چلے گئے بالی ووڈ کے شیر خان

p-11bتیرانوے سال کی عمر میں گزشتہ دنوں عظیم فلم اداکار پران کا انتقال کر گئے ۔ پران جیسے عظیم اداکاروں کے جانے سے بالی ووڈ میں ایسا خلاء پیدا ہوتا جا رہا ہے ، جو شاید اب کبھی پورانہ ہو پائے۔ پران کے ذریعہ ادا کئے گئے ان کے سینکڑوں یادگار ان کی کمی ہمیشہ بالی ووڈ کو محسوس کراتے رہیں گے۔ پیش ہے ان کا تفصیلی فلمی سفرنامہ۔
لیجنڈری اداکار پران ہمیشہ کے لئے بالی ووڈ کو خیرآباد کہہ گئے۔ 93سال کی عمر میں انھوں نے ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں اپنی آخری سانس لی۔ پران بالی ووڈ ان اداکاروں میں شمار کئے جاتے ہیں، جنھوں نے نفرت انگیز کردار اداکر کے بھی لوگوں میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔اگر انہیں بالی ووڈ کا پہلا ولین سپر اسٹار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، اور ظاہر ہے آخری بھی۔آج اگر پران زندہ ہوتے اور کوئی دوسرا انتقال کر جاتا تو وہ اپنے سنجیدہ لہجہ میں کہتے ’’تم نے ٹھیک ہی سنا ہے برخوردار ‘‘ اور ساتھ ہی یہ مکالمہ جوڑتے کہ پرانوں کے ہی اصول ہوتے ہیں جناب۔ایسے کردار مرتے نہیں ہیں للی، وہ تو امر ہو جاتے ہیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔پران کیے اندر خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔جیب میں پیسے نہ ہونے کے باوجود انھوں نے ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں ایک کمرا بک کرایا لیا تھا، جبکہ انھوں نے بطور فوٹوگرافر اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ اس وقت ان کی تنخواہ 200روپے تھی۔ جی ہاں، انہیں توقع تھی کہ کام ضرور ملے گا۔ یہ ان کی خوداعتمادی ہی تھی کہ انہیں کام مل گیا اور خوب ملا۔ ان کے ذریعہ ادا کئے گئے تمام کردار آج زندہ جاوید ہیں خواہ وہ منگل چاچا ہو یا رام اور شیام کا گجیندر بابو یا پھر جس دیش میں گنگا بہتی ہے کا راکا۔
پران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جس کردار کو ادا کرتے تھے، اس میں گہرائی تک اتر جاتے تھے۔ ولین کی شکل میں لوگوں نے ان سے بھلے ہی نفرت کی ہو، لیکن اصل زندگی میں وہ بے حد نیک دل اورسادہ مزاج انسان تھے۔ سال 1940میں یملا جٹ فلم میں پہلی بار پران بڑے پردے پر نظر آئے۔ پران کھلنائک ہی نہیں، ایک مؤثر کیریکٹر اداکار بھی رہے۔1968میں اُپکار ، 1970میں آنسو بن گئے پھول اور 1973میں بے ایمان فلم کے لئے پران کو بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں سینکڑوں اعزازات اور ایوارڈز ملے ۔ اس سال یعنی 2013میں پران کو بالی ووڈ کے سب سے معزز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

پران مزاج کے بے حد شرمیلے تھے ۔ شوکت حسین کی فلم خاندان میں وہ نور جہاں کے ہیرو بن کر آئے۔ یہ فلم سُپر ہٹ ہوئی ، لیکن پران ہیرو کے کردار میں کام کرتے ہوئے بے حد جھجکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پیڑوں کے آگے پیچھے چکر لگانا اپنے کو جمتا نہیں ۔ اس کے بعد وہ دوبارہ ہیرو نہیں بنے۔ پران فوٹو گرافر بننا چاہتے تھے اور اس خواب کو پورا کرنے کے لئے انھوں نے دہلی کی اے داس کمپنی میں کام کرنا شروع کیا ۔ پران کے والد ایک سرکاری ٹھیکیدار تھے، اس لئے ان کی پڑھائی ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہوئی۔ پران نے اپنے والد کو نہیں بتایا تھا کہ وہ شوٹنگ کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ان کے والد کو ان کا فلموں میں کام کرنا پسند نہیں آئے گا۔

پران کی پیدائش ایک سرکاری ٹھیکیدار لالا کیول کرشن سکندر کے گھر 12فروری ، 1920کو دہلی میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم کپورتھلا، انائو ، میرٹھ، دہرادون اور رامپور جیسے شہروں میں ہوئی۔سال 1945میں پران کی شادی شکلا اہلووالیہ سے ہوئی، جن سے انہیں دو بیٹے اروند اور سنیل ہیں جبکہ ایک بیٹی پنکی ہے۔50اور 60کی دہائی ، جسے ہندوستانی کا سنہرا دور مانا جاتا ہے، میں اگر کوئی فنکار کھلنائکی کی علامت تھا، تو وہ تھے پران۔پردے پر تمام تمام اداکاروں سے ٹکر لینے والے پران نے یکے بعد دیگرے ہٹ فلموں میں کھلنائکی کی ۔اس دور میں ان کی کھلنائکی کا لوگوں پر اتنا خوف طاری ہو گیا تھا کہ لوگوں نے اپنے بچوں کا نام پران رکھنا ہی بند کر دیا۔ بطور کھلنائک پران پردے پر خوف و دہشت کی علامت بن چکے تھے۔ پران کے کریئر میں تاریخ ساز موڑ اس وقت آیا ، جب سال 1967میں منوج کمار نے انہیں اپنی فلم اُپکار میں ایک اہم اور مثبت کردار کے لئے آفر کیا۔
اس فلم کی کہانی ایک عام کسان بھارت (منوج کمار) اور اس کے ارد گرد کے لوگوں پر مبنی تھی۔ اس فلم میںانہیں ملنگ چاچا کا رول ملا ۔ ملنگ چاچا کے رول میں پران اس قدر ڈوبے کہ وہ اور ملنگ چاچا امر ہو گئے۔ان پر فلمایا گیا گانا قسمیں، وعدیں، پیار ، وفا سب باتیں ہیں ، باتوں کیا … نے اس فلم میں چار چاند لگا دئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب کلیان جی -آنند جی کو معلوم ہوا کہ اندیور کے جس نغمہ کو انھوں نے کسی مخصوص موقع کے لئے سنبھال کر رکھا تھا، وہ پران پر فلمایا جانے والا ہے ، تو انھوں نے منوج کمار سے شکایت کی کہ پران تو پردے پر اس گانے کو برباد کر دیں گے۔ بعد میں جب گانا مکمل ہو گیا اور انھوں نے دیکھا تو وہ بھی پران کا لوہا مان گئے۔ فلم اُپکار کے لئے پران کو فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا، لیکن ان کا سب سے بڑا ایوارڈ انہیں جب ملا جب وہ لوگوں کے اندر سے اپنی خوفناک شبیہ کو بدلنے میں کامیاب رہے۔
فلم صحافی بنی روبین نے پران کے زندگی نامہ میں لکھا ہے کہ 11اگست کو ان کے بچے کا پہلا یوم پیدائش تھا۔ بیوی کی ضد تھی کہ وہ اس موقع پر ساتھ ہوں۔ فلموں کی شوٹنگ میں مصروف پران بمشکل لاہور سے نکلے اور اندور پہنچے۔ اس وقت وہاں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھے۔ پران پھر کبھی لاہور نہیں لوٹ پائے۔ وہ بے گھر تھے اور ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ آٹھ مہینے بعد وہ اندور سے قسمت آزمانے ممبئی گئے۔ کئی مہینوں کے طویل انتظار اور کوششوں کے باوجود کام نہیں ملا۔ لاہور سے جتنے پیسے لائے تھے، خرچ ہو چکے تھے۔ فاقہ کشی کی نوبت آ گئی تو انھوں نے اروند کو بہتر پرورش کی خاطر اندور چھوڑ دیا۔ پران نے کہا کہ میں پھر کبھی لوٹ کر نہیں جا سکا، کیونکہ 15اگست 1947کو میرا گھر ولایت بن چکاتھا۔ پران کا پورا نام پران کرشن سکند تھا۔ انہیں سگریٹ پینا کافی پسند تھا، لہٰذا ان کے پاس سگریٹ پائپس کا بڑا سلیکشن تھا۔ پران مزاج کے بے حد شرمیلے تھے ۔ شوکت حسین کی فلم خاندان میں وہ نور جہاں کے ہیرو بن کر آئے۔ یہ فلم سُپر ہٹ ہوئی ، لیکن پران ہیرو کے کردار میں کام کرتے ہوئے بے حد جھجکتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پیڑوں کے آگے پیچھے چکر لگانا اپنے کو جمتا نہیں ۔ اس کے بعد وہ دوبارہ ہیرو نہیں بنے۔
پران فوٹو گرافر بننا چاہتے تھے اور اس خواب کو پورا کرنے کے لئے انھوں نے دہلی کی اے داس کمپنی میں کام کرنا شروع کیا ۔ پران کے والد ایک سرکاری ٹھیکیدار تھے، اس لئے ان کی پڑھائی ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہوئی۔ پران نے اپنے والد کو نہیں بتایا تھا کہ وہ شوٹنگ کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ان کے والد کو ان کا فلموں میں کام کرنا پسند نہیں آئے گا۔ جب اخبار میں ان کا پہلا انٹرویو شائع ہوا تھا، تو انھوں نے اخبار ہی چھپا لیا تھا، لیکن پھر ان کے والد کو اس کی خبر مل گئی۔ پران کے اس کریئر کے بارے میں جا ن کر ان کے والد کو اچھا لگا تھا ، جیسا کہ پران نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ انھوں نے 1942میں آئی فلم ’’خاندان‘‘ میں بطور ہیرو بھی کام کیا۔
——چوتھی دنیا بیورو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *