بی جے پی کا ہندوتو ایجنڈا اس بار کام نہیں آنے والا

شاہد نعیم 
p-8

1990اور 2010کی دہائیوں میں اتر پردیش کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ لہٰذا بی جے پی کا ہندوتوا کو ایجنڈا بنانا ہرگز اس کے مفاد میںنہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں اس کی سر پرستی والے این ڈی اے سے اس کے بیشتر حلیف اسے چھوڑ چکے ہیں۔ وہ تمام حلیف پارٹیاں اس وقت بی جے پی کے ساتھ اسی شرط پر جڑی تھیں کہ ہندوتوا ایجنڈے کو وہ ترک کر دے گی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں اقتدارحاصل کرنے کے لیے اپنے ’ہندوتو ایجنڈے‘ کواٹھائے گی اور ملک کی فضا میں فرقہ پرستی کا زہر گھولے گی، اس کا اندازہ تو اسی وقت ہو گیا تھا، جب گوا میں اس کی جانب سے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو انتخابی مہم کمیٹی کاچیئر مین مقرر کیا گیا تھا۔ چنانچہ اب مودی نے اپنا مورچہ سنبھال لیا ہے اور انھوں نے خود کو ہندو راشٹر وادی کہتے ہوئے ، مسلمانوں کے خلاف آگ اور انگارے بھی اگلنا شروع کردیے ہیں۔حال ہی میں ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی نے انٹر ویو کے دوران مودی سے پوچھا کہ کیا 2002کے فسادات کے دوران انھوں نے صحیح کام کیا تھا؟ اس پر مودی نے جواب دیا، بالکل صحیح، تبھی اس معاملے میں سپریم کورٹ نے جو اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بنائی تھی، اس نے مجھے پوری طرح کلین چٹ دے دی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں اس بات سے دکھ نہیں ہوتا کہ لوگ انھیں ابھی تک2002سے جوڑتے ہیں؟ اس کے جواب میں مودی نے کہا کہ یہ جمہوری ملک ہے اور ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، میں اپنے آپ کو گنہگار تب محسوس کروں گا جب میں نے کچھ غلط کیا ہو ۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جو کچھ ہوا اس پر آپ کو دکھ ہے؟ اس سوال کا جواب مودی نے ایک مثال کے حوالے سے دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم کار چلارہے ہیں ، ہم ڈرائیور ہیں یا کوئی دیگر کار چلا رہا ہے اور ہم پیچھے بیٹھے ہیں، تو بھی کسی پپی (کتے کے بچے) کا پہیے کے نیچے آنا افسوسناک ہوگایا نہیں؟ ایسا ہوگا، چاہے میں وزیراعلیٰ ہوں یا نہیں، میں ایک انسان ہوں۔ اگر کہیں بھی کچھ برا ہوتا ہے تو اس کا دکھ ہونا فطری ہے۔ اس انٹرویو کے ذریعے یہ بات صاف ہوگئی کہ مودی کی نظر میں مسلمان کی حیثیت ایک کتے کے پلّے سے بھی زیادہ گئی گزری ہے اور گجرات فسادات کے تعلق سے انھیں کوئی پشیمانی نہیں ہے، کیونکہ انھیں اس معاملے میں ایس آئی ٹی کی طرف سے کلین چٹ مل گئی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ بیان اس شخص کے ہیں، جو آئندہ ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار مانا جارہا ہے۔ادھر وشو ہندو پریشد کے کارگزار صدر پروین توگڑیا بھی ہندوتونواز حکومت کے ماڈل کی بات کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف روایتی انداز میں زہر اگل رہے ہیں۔توگڑیا نے ہندوتو تنظیموں کے نظریات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی ایکٹ کے تحت اجودھیا میں رام جنم بھومی (بابری مسجد )کی جگہ عالیشان رام مندرکی تعمیر، دفعہ 370کی منسوخی اور یکساں سول کوڈ نافذ کرنا ہندو نواز حکومت کے ماڈل کے لازمی جزو ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست تنظیمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے عام انتخابات کے تعلق سے ایک خاص ماحول تیا رکرنے میں جُٹ گئی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت نریندر مودی نے بھی اپنے معتمد خاص اور من پسند سپہ سالار امیت شاہ کو، جو کہ گجرات میں کئیمجرمانہ معاملات میں مبینہ طور پر ملوث ہیں، اتر پردیش کی انتخابی مہم کی کمان سونپی ہے ۔

بی جے پی کے لیڈر وں کو لگتا ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے سے ہندو ووٹ متحد ہوجائیں گے اوراس کی جیت کا کام آسان ہوجائے گا۔۔ اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے لیڈران مسلمانوں کے خلاف کھل کر بیان بازی کر رہے ہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہندوتو ایجنڈے کوکھل کر اٹھا رہے ہیں،تاکہ کسی بھی طرح اقتدار کی دیوی ان پر مہر بان ہو جائے۔ دریں اثنا ان تمام باتوں کے باوجود بی جے پی مسلم ووٹ کے تعلق سے مختلف چالیں بھی چل رہی ہے۔ کبھی گاندھی نگر سے توکبھی کہیں اور سے، دیگر پارٹیوں سے مایوس مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں یہ انتخابات میں ایک ہی حلقے سے دیگر پارٹیوں کی جانب سے اور آزاد امیدواروں کو کھڑا کرواکر سیکولر ووٹوں کو منقسم کروانے میں بہت دلچسپی لیتی ہے ، کیونکہ اس کے نتیجے میں اس کے امیدوار آسانی سے جیت جاتے ہیں۔

سیاسی ماہرین جانتے ہیں کہ دلّی تک پہنچنے کے لیے اتر پردیش کا قلعہ فتح کرنا لازمی ہوتا ہے۔اگر یہ قلعہ بی جے پی نے فتح کر لیا، تو پھراس کے لیے دلّی دور نہیں ہے۔ امیت شاہ ماحول کو اپنے حق میں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں، گجرات میں انھوں نے اپنے ہنر سے ہی مودی کو اس مقام تک پہنچادیا، جہاں سے وہ سوتے جاگتے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے لگے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کی آستین پر لگا بے گناہوں کا لہو اب مودی اور امیت شاہ دونوں کا تعاقب کر رہا ہے۔ بہر حال اپنے آقا کی سونپی ہوئی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے امیت شاہ نے بھی اتر پردیش میں اپنا مورچہ سنبھال لیا ہے۔ گزشتہ دنوں وہ اچانک اجودھیا پہنچے ا ور رام للا کے درشن کرنے کے بعد انھوں نے ملک کو کانگریس سے نجات دلانے کی پرارتھنا کیگویا انھوں نے بھی وہی کھیل کھیلا، جو اس سے پہلے لال کرشن اڈوانی کھیل چکے تھے۔انھوں نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ اب رام مندر کی تعمیر کا وقت آگیا ہے اور اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مضبوط قوتِ ارادی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے لوگوںپر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ’شبھ ‘ کام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھیں آنے والے انتخاب میں دلی کا اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں میں سونپنا ہوگا۔
عجیب سی بات ہے کہ ملک میں جب بھی عام انتخابات کی آہٹ سنائی دیتی ہے، تو بھارتیہ جنتا پارٹی زور شور سے رام مندر کی تعمیر کا راگ الاپنا شروع کردیتی ہے اور جب انتخابی موسم گزر جاتا ہے، تورام مندر کی تعمیر بھول جاتی ہے۔ دراصل بی جے پی کو رام مندر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ مذہبی عقیدت کی آڑ میں لوگوں کو ورغلا کر ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔اگر اسے رام مندر بنانا مقصود ہوتا تواسی وقت بنالیتی، جب اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں اس نے ملک کی حکومت این ڈی اے کی شکل میں چلائی تھی، اس وقت تو اس نے اقتدار کی ہوس میں رام مندر کے ساتھ ساتھ یکساں سول کوڈ اور دفعہ 370جیسے اپنے بنیادی مدعے بھی فراموش کردیے تھے۔دراصل بی جے پی جب اپنی قوت پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی ، تو وہ دیگر پارٹیوں سے اتحاد کرکے اقتدار میں آنا چاہتی ہے اور اس کے لییاسے اپنا من پسند’ ہندوتو ایجنڈا‘ وقتی طور پر ٹھنڈے بستے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اس طرح بی جے پی اور اس کے لیڈران اقتدار کی ہوس میں رام اور عوام دونوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ اب چونکہ ملک میں عام انتخابات کی دستک سنائی دینے لگی ہے ، اس لیے بھگوان رام کے سیاسی بھگتوں کو روایتی طور پر رام مندر کی یاد ستانے لگی ہے، وہ متنازعہ رام مندر میں پوجا کرکے بھگوان رام اور عوام سے رام مندر کی تعمیر کا عزم دہرانے لگے ہیں، ہندو راشٹر کی بات بھی کرنے لگے ہیں، دفعہ 370بھی انھیں کھٹکنے لگی ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر سید شاہنواز حسین نے ہاوڑہ ضلع کے مندر تلا میں جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی مورتی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آنے پر جموں و کشمیر کو خصوصی توجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل370 کو منسوخ کردے گی۔شاہنواز حسین کے بیان سے لگتاہے کہ آنے والے عام انتخابات میںیہ مدعا بھی گرمائے گا۔
اجودھیا میں کارسیوک پورم پہنچنے پر امیت شاہ نے اودھ علاقے کے بی جے پی کے موجودہ ا ور سابق ارکانِ پارلیمنٹ و اسمبلی کے علاوہ 18اضلاع کے پارٹی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی ۔ اس دوران امیت شاہ نے وہاں موجود رہنماؤں اور عہدیداروں سے ہندوؤں کے جذبات کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ پسماندہ اورانتہائی پسماندہ طبقے کو پارٹی سے جوڑنے پر زور دیا۔یہ بات توجہ طلب ہے کہ کہ بی جے پی دلتوں اور مہا دلتوں کو تو جوڑنے کی بات کر رہی ہے، جبکہ مسلمانوں کو توڑنے اور ان کی دل آزاری کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوارہی ہے۔
اتر پردیش ملک کی سیاست کا اہم مرکز اس لیے ہے کہ اس کے بطن سے ایک دوسری ریاست اتراکھنڈ کی پیدائش ہونے کے باوجود یہ آج بھی ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے، جہاں سے عام انتخابات میں 80ارکان منتخب ہوکرپارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ وزیر اعظم دینے کا اعزاز بھی اسی ریاست کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ ، جو کہ بی جے پی کا ایک اہم ایشو ہے ، اس کا تعلق بھی اسی ریاست سے ہے ۔ اسی لیے ہر سیاسی پارٹی اترپردیش میں اپنی پوزیشنمضبوط کرنا چاہتی ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواہش ہے کہ اتر پردیش سے اسے 40سیٹیں مل جائیں، توپھراس کے لیے اقتدار کے جادوئی ہندسے تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے نریندر مودی کے خاص الخاص امیت شاہ کیل کانٹے سے لیس ہو کر اتر پردیش پہنچ گئے ہیں۔اندیشہ ہے کہ اب وہاں کے ماحول میں فرقہ وارانہمنافرت کا زہر گھولنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس میں دورائے نہیں کہ امیت شاہ انتخابی کھیل کے شاطر کھلاڑی ہیں، گجرات میں وہ اپنیصلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں، وہ اپنی محنت ، لگن اور صلاحیت کے دم پر نریندر مودی کومسلسل جیتدلانے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن اس میں بھی دو رائے نہیں کہ گجرات اور اتر پردیش میں بہت بڑا فرق ہے۔ یہاں کی جغرافیائی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔اتر پردیش میں انتخابات ذات برادری کے دم پر لڑے جاتے ہیں، یہاں مسلمانوں کو بھی پارٹی کے منشور میں جگہ دی جاتی ہے، جبکہ گجرات میںمسلمانوں کو ڈرا دھمکاکر حاشیہ پر رکھا جاتا ہے، ذات برادری کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، وہاں بی جے پی اور کانگریس میں آمنے سامنے کا مقابلہ رہتا ہے، جبکہ اترپردیش میں ان دونوں قومی پارٹیوں کو عوام نے حاشیے پر لگادیا ہے۔ یہاں ہار جیت کامقابلہ مقا می پارٹیوں یعنی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان ہوتا ہے ۔ اور یہ وہ پارٹیاں ہیں جو نریندر مودی کو جتانے کے لیے گجرات میں ریاستی اسمبلی کا انتخاب لڑنے پہنچ جاتی ہیں۔ حالانکہ ان دونوں پارٹیوں کی گجرات میں کوئی زمین نہیں ہے، کوئی جن آدھار نہیں ہے، اس کے باوجود یہ پارٹیاں وہاں انتخاب میںحصہ لیتی ہیں اور سیکولر ووٹ کاٹ کربھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت میں اہم رول ادا کرتی ہیںاور سیکولر ووٹوں کے منقسم ہونے سے کانگریس اپنے گڑھ میں بھی ہار جاتی ہے۔چونکہ عام انتخابات میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اپنے میدان میں جنگ لڑیں گی ، اس لیے یہاں ان پارٹیوں سے مودی اور امیت شاہ کو کو ئی مدد نہیں ملنے والی، یہاں تو ہر پارٹی کو اپنی مدد آپ کرنا ہوگی۔
بی جے پی کے لیڈر وں کو لگتا ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے سے ہندو ووٹ متحد ہوجائیں گے اوراس کی جیت کا کام آسان ہوجائے گا۔۔ اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے لیڈران مسلمانوں کے خلاف کھل کر بیان بازی کر رہے ہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہندوتو ایجنڈے کوکھل کر اٹھا رہے ہیں،تاکہ کسی بھی طرح اقتدار کی دیوی ان پر مہر بان ہو جائے۔ دریں اثنا ان تمام باتوں کے باوجود بی جے پی مسلم ووٹ کے تعلق سے مختلف چالیں بھی چل رہی ہے۔ کبھی گاندھی نگر سے توکبھی کہیں اور سے، دیگر پارٹیوں سے مایوس مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں یہ انتخابات میں ایک ہی حلقے سے دیگر پارٹیوں کی جانب سے اور آزاد امیدواروں کو کھڑا کرواکر سیکولر ووٹوں کو منقسم کروانے میں بہت دلچسپی لیتی ہے ، کیونکہ اس کے نتیجے میں اس کے امیدوار آسانی سے جیت جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی جنتا پارٹی کے پاس انتخابی جنگ جیتنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی اورپائیدار ہتھیار نہیں ہے۔ اس وقت ملک بدعنوانی،مہنگائی، گھوٹالوںاوربھوک و افلاس کی راہ سے گزر رہاہے اور ملک کے عوام بے چینی اور بے بسی کے ساتھ سیاسی پارٹیوں اور لیڈرں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی ملک وقوم کی خدمت کے لیے اصلی عوامی مدعے اختیار نہیں کرسکتی۔بی جے پی کو سمجھنا چاہیے کہ اس کا ہندوتو ایجنڈا اس بار کام نہیں آنے والا ہے، کیونکہ یہ 1990کی دہائی نہیں ہے جب اس ایجنڈے کے ذریعے اس کا گراف ایکدم اونچا ہو گیا تھا، یہ 2010کی دہائی ہے، اب عوام ہندوتو ایجنڈے کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *