بنگلہ دیش : بلدیاتی انتخابات کے نتائج عوامی لیگ کے لئے بڑا چیلنج

p-11bگزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے چار بڑے شہروں کھلنہ،سلہٹ، راجشاہی اور باریسال میں بلدیاتی انتخاب ہوئے ہیں ۔ان میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت ’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ کو واضح اکثریت سے کامیابی ملی ہے اور بر سر اقتدار’ عوامی لیگ‘ کودھچکا لگا ہے۔اگرچہ بلدیاتی انتخاب میں عام طور پر علاقائی موضوع چھائے ہوتے ہیں مگر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ 6 ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات پر اس کے اثرات گہرے پڑیںگے۔کیونکہ ان انتخابات میں اپوزیشن نے جس طرح سے حکمراں پارٹی کو بڑی شکست دی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ موجودہ حکمراں پارٹی سے نجات چاہتے ہیں۔دراصل وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے جس طرح سے بی این پی اور اس کی حلیف اسلام پسند پارٹی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف تاناشاہ رویہ اختیار کر رکھا تھا ،اس کی وجہ سے عوام میں سخت غم و غصہپایا جارہاتھا اور انہیں ایسا لگنے لگا تھاکہ ڈھاکہ میں موجودہ حکومت اسلام دشمن ہے اور اسلام دشمنی کی وجہ سے ہی گزشتہ کچھ مہینوں سے حکومت اسلام پسندوں کے خلاف پوری طاقت سے کریک ڈاؤن کررہی تھی۔

قارئین کو معلوم ہوگا کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سمیت بہت سے اسلام پسندوں کے خلاف1971میں آزادی کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں ایک متنازعہ عدالت میں مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔ اب تک چار اسلام پسند رہنماؤں کو سزائے موت کا حکم بھی سنایا جا چکا ہے۔ ان سزاؤں کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے مسلسل مظاہروں کے دوران اب تک 150 سیاسی کارکن ہلاک بھی ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے ہے۔شیخ حسینہ کے اس عمل کا رد عمل عوام پر کیسا ہے ،اس کا اندازہ ان چار بڑے شہروں کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے لگایاجاسکتا ہے۔
118 سیٹوں والے اس بلدیاتی انتخابات میں بی این پی 18 پارٹیوں کے اتحاد سے 73 سیٹوں اور عوامی لیگ 14 پارٹیوں کے اتحاد سے 27 سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے۔اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے پاس 6 سیٹیں اور سابق صدر ایچ ایم ارشاد کی پارٹی ’جاتیا پارٹی‘ کے پاس 2 سیٹیں ہیں اور ’اسلامی آندولن‘ کے پاس ایک سیٹ ہے۔ 5 سیٹیں آزاد امیدوار کے حصے میں گئیں جبکہ2 سیٹیں ان کے علاوہ ہیں۔چونکہ یہ الیکشن 2014 میںآنے والے عام انتخابات کے لئے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جارہا تھا ،اس لئے نہ صرف سیاسی پارٹیاں بلکہ عوام میں بھی بڑی امنگ پائی جارہی تھی، الیکشن سے پہلے تہوار کا ماحول بنا ہوا تھا۔الیکشن کے دن صبح سے ہی لوگ پولنگ اسٹیشنوں کی طرف چل پڑے۔نظم و نسق برقرار رکھنے کے لئے پولیس، پٹرولنگ کا زبردست انتظام کیا گیا تھا۔اس الیکشن میں عوام کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس الیکشن میں مجموعی طور پر 1.2 ملین ووٹر میں سے تقریباً80 فیصد ووٹروں نے حصہ لیا اور ووٹروں نے 60 فیصد ووٹ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور ان کے اتحادیوں کو دیا جبکہ حکمراں پارٹی اور ان کے اتحادیوں کے حصے میں صرف40 فیصد آئے۔چونکہ ان بلدیاتی انتخابات کے اثرات آنے والے عام انتخاب پر پڑنے کے امکانات غالب تھے ،اسی لئے اپوزیشن کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ دھاندلیاں ہوسکتی ہیں ،لیکن الیکشن کمشنر کی مستعدی اور حکمت عملی سے چند چھوٹے واقعات کے علاوہ کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔ الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے288 پریزائڈنگ آفیسر،1428اسسٹنٹ پریزائڈنگ آفیسر، اور 2856 پولنگ آفیسر مقرر کیے گئے تاکہ یہ افسران کل 288 سینٹر اور 1428 مستقل اور 33 عارضی پولنگ بوتھ کی نگرانی کرسکیں۔اس موقع پر قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے 9000 ممبروں کی مدد لی گئی۔

118 سیٹوں والے اس بلدیاتی انتخابات میں بی این پی 18 پارٹیوں کے اتحاد سے 73 سیٹوں اور عوامی لیگ 14 پارٹیوں کے اتحاد سے 27 سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے۔اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے پاس 6 سیٹیں اور سابق صدر ایچ ایم ارشاد کی پارٹی ’جاتیا پارٹی‘ کے پاس 2 سیٹیں ہیں اور ’اسلامی آندولن‘ کے پاس ایک سیٹ ہے۔ 5 سیٹیں آزاد امیدوار کے حصے میں گئیں جبکہ2 سیٹیں ان کے علاوہ ہیں۔چونکہ یہ الیکشن 2014 میںآنے والے عام انتخابات کے لئے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جارہا تھا ،اس لئے نہ صرف سیاسی پارٹیاں بلکہ عوام میں بھی بڑی امنگ پائی جارہی تھی، الیکشن سے پہلے تہوار کا ماحول بنا ہوا تھا۔الیکشن کے دن صبح سے ہی لوگ پولنگ اسٹیشنوں کی طرف چل پڑے۔

ان تمام بندو بست کے بعد جونتیجہ سامنے آیا ،وہ چونکانے والا تھا۔،اس نتیجے سے یہ اشارہ ملا کہ عوام اب حکومت میں تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی حکمراں پارٹی سے نجات کی صورت میں ہے۔حالانکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حسینہ واجد کی اس شکست کے پیچھے پارٹی کے کارکنوں میں پائی جانے والی بد نظمی اور ٹکٹ کو لے پیدا ہونے والے اختلافات ہیں،مگر سیاسی دانشوروںکا کہنا ہے کہ فروری سے جماعت اسلامی نے بیگم حسینہ واجد کی طرف سے کریک ڈائون کے خلاف جو مہم چھیڑ رکھی تھی ،اسی کا یہ نتیجہ ہے۔کیونکہ کسی بھی جمہوری ملک میں حکومت کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ تاناشاہ بن کر طاقت کا غلط استعمال کرے اور سیاسی پارٹیوں کو دبا کر اقتدار پر قابض رہنے کی راہ ہموارکرے،مگر شیخ حسینہ یہی طریقہ اختیار کیے ہوئی تھیں اور اپوزیشن کو طرح طرح کے الزامات میں پھنسا کر انہیں سلاخوں میں ڈال رہی تھیں جس کی وجہ سے عوامی لیگ کے تئیں لوگوں میں غم و غصہ تھا اور انہوں نے اپنے غصے کا اظہار بلدیاتی انتخاب میں کھل کر کیا ۔بلدیاتی انتخاب میںبی این پی کی کامیابی کو جہاں ایک طرف ملک کے اندر اچھی علامت کے طور پر دیکھا جارہا ہے وہیں کچھ مغربی میڈیا کی طرف سے یہ بات پھیلائی جارہی ہے کہ اگر یہی صورت حال آنے والے عام انتخاب میں رہی تو بنگلہ دیش اسلامی بنیاد پرستوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ لیکن یہ گمان اس لئے بھی بے بنیاد ہے کہ بیگم حسینہ واجد سے پہلے خالدہ ضیاء وہاں حکومت کرچکی ہیں اور تب بنگلہ دیش کسی بنیاد پرست کے ہاتھوں میں نہیں تھا تو پھر اب اگر بنگلہ دیش بی این پی کی قیادت میں اسلام بنیاد پرستوں کے ہاتھوں میں کیسے چلا جائے گا؟
دراصل مغربی میڈیا بی این پی سے نہیں بلکہ اس کے اتحادی جماعت اسلامی سے خوفزدہ ہے۔ کیونکہ حسینہ واجد کی طرف سے کریک ڈائون کے بعد جماعت اسلامی کے سیاسی اثرو رسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور یہی اضافہ مغربی میڈیا کے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ اگر وہاں عام انتخابات میں جماعت اسلامی کو زیادہ سیٹیں مل جائیںگی توایسی صورت میں حکومت کے فیصلوںمیں جماعت اسلامی کا اہم رول رہے گا اور ظاہر ہے اس صورت حال کو مغربی میڈیا کسی بھی حالت میں پسند نہیں کرے گا۔بہر حال عام انتخابات پر اس کے اثرات کتنا پڑتے ہیں ،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اتنا تو طے ہے کہ فی الوقت بلدیاتی انتخاب موجودہ حکمراں کے لئے ایک چیلنج کے طور پر تو دیکھا ہی جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *