بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری

کمل مرارکا 
بدعنوانی ایک اہم ایشو ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ایشو ہے روزگار کے مواقع کی کمی۔1991 سے پہلے کی اقتصادی نظام میں ترجیحات تھیں، غریبوں کو سستی غذائی اشیاء فراہم کرانا ، اناج کی کمی سے بچنے کے لئے زراعتی علاقے کو سبسڈی دینا اور پبلک یا نجی علاقے کے توسط سے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ۔یہ ترقی یقینا نظر نہیں آرہی تھی لیکن ہومسلسل رہی تھی ۔لیکن 1991 کے بعد اقتصادی شرح نمو کئی گنا بڑھ گئی۔ اس سال بھی 7 فیصد کی نمو ہوئی،جسے کم مانا جارہا ہے،کیونکہ امید 10-9 فیصد کی تھی۔یہ صحیح بات ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے ہائی ایکونومک ڈیولپمنٹ لازمی ہے لیکن 7فیصد ترقی ریٹ کو بھی کم نہیں مانا جانا چاہئے،کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی معیشتوں کی ترقی کا گراف بھی 3 سے 4 فیصد ہی رہا ہے۔
ہندوستان کے مسئلے ہیں، 7فیصد کی ترقی میں شامل کنٹینٹ ،آخر یہ ترقی کہاں ہو رہی ہے، کیسے ہو رہی ہے اور اس میں کیا کیا شامل ہے؟وافر روزگار پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔ ہزاروں کسانوں کو محروم کرکے جس زراعتی زمین کو ایکوائر کیا گیا، دراصل وہ بھی لازمی روزگار پیدا کرنے میں ناقابل ہے آج کارپوریٹ سیکٹر سرکار پر خردہ اور دیگر مختلف حلقوں میں براہ راست بڑے سرمایہ کاری کے معاملے میں فیصلہ لینے کے لئے شور مچا رہا ہے،لیکن حقیقت میں سرکار پورے ملک کے لئے ذمہ دار ہے، نہ کہ صرف کارپوریٹ سیکٹر کے لئے۔ پورے ملک کو ایک بنیے کی دکان کی طرح مان کر سرکار صرف فائدہ اور نقصان کے نقطۂ نظر سے سب کچھ نہیں دیکھ سکتی۔ مغربی ملکوں کی نظر میں ہندستان ان کے اپنے مال اور سروسز کے لئے ایک بڑا ممکنہ بازار ہے اور ہمارے لئے سوا سو ارب لوگوں والا ایک قابل فخر ملک ہے۔
آج بنیادی پریشانی اخلاقیات اور اخلاقی قدروں میں گراوٹ کا ہے۔ آزادی کی لڑائی میں اپنی تجارت میں ایکمناسب انکم پانے والے لوگوں نے اپنی نوکری چھوڑ دی اور خود کے ذاتی خسارے کے باوجود مہاتما گاندھی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔ یہ سب مِشنری جذبے کی وجہ سے تھا۔لیکن ایک کڑوا سچ یہبھی ہے کہ آج اپنے کاروبار میں جو کچھ حد تک بھی کامیاب ہے، وہ شاید ہی اپنا پیشہ چھوڑ کر سیاست اور عوامی زندگی میں شامل ہونا چاہے گا۔نتیجتاً آج سیاست میں ایسی سیاسی پارٹیاں اور لوگ ہیں جن کے لئے سیاست ہی بنیادی تجارت ہے۔ انّا ہزارے صر ف ایک لوک پال پاس کراکر کامیاب نہیں ہو سکتے،کیونکہ حتمی اقتدار تو عوامی نمائندوں کے ہاتھوں میں ہے اور جب تک اخلاقی صورت حال میں سدھار نہیں ہوتا ،تب تک ہمیں ہمیشہ دوسرے درجے کی ہی سرکار ملتی رہے گی،نہ کہ اول درجے کی۔
مغربی ملکوں میں بھی بد عنوانی ہے، لیکن وہاں بڑے پیمانے پر عوام متأثر نہیں ہیں۔کیونکہ وہاں کی پولیس ، عدالت ، اسکول ، اسپتال وغیرہ غریب آدمی سے دولت جمع نہیں کرتی،یعنی بد عنوانی اعلیٰ سطح تک ہی محدود ہے۔ ہندوستان میں کارپوریٹ سیکٹر اور سیاست دانوں کے بیچ آپسی فائدہ کے لئے اعلیٰ سطح پر ہی بد عنوانی ہے،لیکن وہیں دوسری طرف بے سہارا عام آدمی بھی اپنا صحیح کام کرانے کے لئے نچلی سطح پرجبراً وصولی کا شکار ہے۔ یہی وہ وقت ہے، جبکہ منموہن سنگھ کو بد عنوان وزیروں اور قصوروار کارپوریٹ ہائوسوں کے خلاف حتمی طریقے سے کام کرنا چاہئے ۔ساتھ ہی نوکر شاہوں کے لئے ایک سخت ہدایت جاری ہونا چاہئے، تاکہ عام آدمی کو راحت مل سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب تک سیاسی لیڈر بد عنوان بنے رہیں گے، تب تک سکریٹری سطح سے لے کر کلرک تک پیسہ بنانے کے کھیل میں لگے رہیں گے اور سرکار ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کر پائے گی اور ایسے میں اگر سب کچھ ایسا ہی چلتا رہا تو جمہوریت خود ہی خطرے میں پڑ جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *