آندھرا پردیش: علیحدہ تلنگانہ ریاست تمام حکومتوں کا عوام سے فریب

راجیو رنجن
p-5bیوں تو کسی بھی تحریک کا شروع ہونا اور اس کی کامیابی بے حد مشکل کام ہے، لیکن سب سے مشکل کام ہے حکومت کی ان گھٹیا چالوں سے ہوشیار رہنا، جو کہ تحریک کو گمراہ کرنے کے لیے چلی جاتی ہیں۔ آندھرا پردیش میں علیحدہ تلنگانہ ریاست کے مطالبہ کا حال بھی دھیرے دھیرے کچھ ایسا ہی ہوتا جا رہا ہے، لیکن حکومت ہے کہ سیاست کرنے سے باز نہیں آتی اور عوام کے پاس اس موقع پرست حکومت پر اعتماد کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ نتیجتاً یہ تحریک بھی حکومتوں کی سیاسی رسہ کشی کی نذر ہوتی جا رہی ہے۔ آندھرا پردیش میں علیحدہ تلنگانہ ریاست کا مطالبہ کر رہی تلنگانہ حامی پارٹی، تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس ) اور عثمانیہ یونیورسٹی کے طلباء کے ایک گروپ نے گزشتہ دنوں تلنگانہ بند کا اعلان کیا۔ ’چلو اسمبلی‘ ریلی کے دوران تلنگانہ حامی کارکنوں کی گرفتاری کی مخالفت میں بند کا اصرار کیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پولس نے تلنگانہ حامی پارٹیوں کے ذریعہ آندھرا پردیش اسمبلی تک مارچ نکالنے کی کوشش کو ناکام کر دیا تھا۔ بی جے پی کے سینئر لیڈروں سمیت دیگر ریاستوں کی تشکیل کے مطالبہ کی حمایت میں سڑکوں پر اترے تقریباً 1400 لوگوں کو احتیاطاً حراست میں لے لیا گیا تھا۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) کے صدر چندر شیکھر رائو نے آندھرا حکومت پر تلنگانہ تحریک کو کچلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تلنگانہ علاقہ میں بند کااصرار کیاتھا۔ بی جے پی ہو یا کانگریس وقتاً فوقتاً دونوں ہی پارٹیوں نے مسلمانوں کے نمائندے ہونے کا ڈھونگ رچا ہے، لیکن آندھرا پردیش میں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجود کسی بھی پارٹی نے اس جانب آج تک دھیان ہی نہیں دیا۔ ریاست میں چل رہے موجودہ منظرنامہ نے 1969 کی تحریک کی یاد تازہ کر دی ہے، جب تلنگانہ تحریک کے نام سے الگ ریاست کا مطالبہ کیا گیا تھا، تب تقریباً 360 طلبا ء کو اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔
1953میں جواہر لال نہرو نے آندھرا پردیش کی تشکیل نو کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔ جسٹس فضل علی کی صدارت والی اس کمیٹی نے مشاہدے کے بعد کہا تھا کہ تلنگانہ کو آندھرا سے الگ ہونا چاہیے یا نہیں اور الگ ہونے کے بعد اس کا مستقبل کیسا ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ تلنگانہ کے لوگوں کو ہی کرنا ہے۔ یہ علاقہ اقتصادی طور پر آندھرا پردیش سے پسماندہ ہے، لیکن ٹیکس یہیں سے زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کرشنا اور گوداوری پر بنے باندھوں (ڈیموں) کا فائدہ آندھرا کے لوگوں کو زیادہ ملے گا، یہ ڈر بھی تلنگانہ کے لوگوں کو ہے ۔ تیسری بات، تعلیم اور روزگار میں آندھرا کے لوگوں کو ترجیح دی جائے گی، یہ شبہ بھی یہاں کے لوگوں کو ہے۔ ان تمام حقائق کے پیش نظر کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ تلنگانہ علیحدہ ریاست بننا چاہیے، لیکن اس وقت کی کانگریسی حکومت نے یہ وعدہ کر کے کہ تلنگانہ کے لوگوں کے ساتھ کبھی نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی، اسے آندھرا پردیش سے الگ نہیں ہونے دیا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وہ اس وعدے پر زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی اور آج بھی تلنگانہ کے عوام کو یہ احساس بار بار ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انہیںدھوکہ دے رہی ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کا مطالبہ آندھرا پردیش کی سیاست کا اہم جزو رہا ہے۔ ریاست علیحدہ بنے نہ بنے، لوگوں کے جذبات کااحترام ہو ناچاہیے، لیکن اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں سیاسی جماعتوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس وقت مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی، تب اس کا وعدہ تھا کہ وہ الگ تلنگانہ ریاست ضرور بنائے گی۔ اس کے دور اقتدار میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ تو بن گئے، لیکن تلنگانہ کی تشکیل آج تک نہیں ہو پائی۔ بی جے پی کی حلیف جماعت تیلگو دیشم پارٹی نے اس کی مخالفت کی۔ سال 2000 کے بعد تلنگانہ کے کانگریسی ارکان اسمبلی نے تلنگانہ کانگریس لیجسلیٹو فورم کی تشکیل کی، بعد میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تشکیل سے اس تحریک میں مزید رفتار آئی، لیکن یہ بھی سیاسی چالوں سے باز نہیں رہ پائی۔ ٹی آر ایس جب یو پی اے حکومت میں ساتھ تھا، تو انھوں نے کئی بار حکومت پر تلنگانہ کو علیحدہ کرنے کا دبائو بنایا۔ 2006 میں باقاعدہ ڈیڈ لائن بھی دے دی گئی، لیکن پھر بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ویسے صورتحال کانگریس کے لیے بھی چیلنج بھری ہے۔ عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑکے بجائے ایسا راستہ نکالنا چاہیے جس سے مسئلہ کامدلل طریقہ سے حل نکل سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *