ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ : امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے مصیبت

وسیم احمد 
p-9جس طرح سے ایڈورڈاسنوڈین نے انٹر نیٹ ڈاٹا کی امریکی جاسوسی کا انکشاف کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا تھا اسی طرح جسٹس جاوید اقبال کی سربرا ہی میں تیار کی گئی ایبٹ آباد کمیشن رپوٹ کو الجزیزہ چینل نے ٹی وی پرنشر کرکے لوگوں کو چوکنا اور پاکستان کے لئے درد سر پیدا کردیا ہے۔
ایبٹ آبادپاکستان کا ایک خوبصورت شہر ہے۔یہ راولپنڈی سے تقریباً 100 کلومیٹرکی دوری پر واقع ہے۔2 مئی 2011سے پہلے اس پُرفضا شہر کوکم لوگ ہی جانتے تھے مگر یکم اور دو مئی 2011 کی درمیانی شب میں امریکی فوجی آپریشن کے ذریعہ اسامہ بن لادن کے قتل نے اس شہر کو عالمی شہرت دے دی۔ مگر اسی فوجی آپریشن نے پاکستانی حکومت کو پوری دنیا میں بدنام بھی کردیا۔وہ اس طرح کہ اس آپریشن میں جسٹس جاوید اقبال کی ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ میں پاکستانی حکومت کے کردار کو مشکوک دکھایا گیا ہے۔کیونکہ اس وقت کے پاکستانی سربراہ آصف زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج چیف اشفاق پرویز کیانی تینوں ہی دعویٰ کررہے تھے کہ انہیں ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بار ے میں کوئی اطلاع نہیں تھی جبکہ کمیشن میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ایبٹ آباد پرحملہ کرنے والے امریکی ہیلی کاپٹروں کے پائلٹ پاکستانی ریڈاروں کے مقام اور رینج سے واقف تھے اور ہیلی کاپٹروں کو ایبٹ آباد سے زمینی رہنمائی فراہم کی جا رہی تھی۔حیرت کی بات تھی کہ اتنی بڑی فوجی سرگرمی پاکستان کی زمین پر ہورہی تھی اور پاکستانی انتظامیہ اس سے بے خبر ہو۔ دراصل ایبٹ آباد واقعہ کو لے کر پاکستانی حکومت کا موقف شروع سے ہی واضح نہیں تھا جس کی وجہ سے عوام میں شکوک و شبہات پائے جارہے تھے،چنانچہ واقعہ کی سچائی کا پتہ لگانے کے لئے ایک کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن پریشانی کی بات یہ تھی کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔پاکستان میں کوئی بھی اس ذمہ داری کو لینے کے تیار نہیں تھا کیونکہ تحقیقات کا معاملہ امریکی آپریشن،پاکستانی لیڈروں کے کردار اور القاعدہ کے سربراہ کی موت سے جڑا ہوا تھا۔ اگر رپورٹ میں فوجی آپریشن کو غلط ٹھہرایا جاتا تو امریکہ ناراض،اگر پاکستانی فوج کے رویے کی تنقید کی جاتی تو حکومت ناراض اور اگر القاعدہ کے خلاف کوئی بات ہوتی تو پختونخواہ کے عوام ناراض۔غرض سچائی جس شکل میں بھی سامنے آتی، کسی نہ کسی ایک طبقے کا ناراض ہونا طے تھا اور پاکستانی ماحول میں ان میں سے کسی ایک کی بھی ناراضگی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی تھی۔لیکن ایسے وقت میں جب کوئی بھی اس کمیشن کی سربراہی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیںتھا تو شاعر انقلاب علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال نے حوصلہ دکھاتے ہوئے نہ صرف کمیشن کی سربراہی قبول کی بلکہ چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس کے ارکان میں عباس خان، اشرف جہانگیر قاضی اور لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد جیسے لوگ شامل تھے اور انہوں نے پورے معاملہ کی چھان بین کرکے 336 صفحات کی رپورٹ 4 جنوری 2013 کو حکومت کے سامنے پیش کردی۔
رپورٹ پیش ہونے کے بعد حکومت کی ذمہ داری تھی کہ اس کو آگے بڑھائے اور اس پر کارروائی کرے مگر مہینوں گزر جانے کے بعد بھی حکومت کی طرف سے خاموشی چھائی رہی اور شاید ہمیشہ کے لئے خاموشی ہی چھائی رہتی۔بھلا ہو کہ یہ رپورٹ نہ جانے کیسے الجزیرہ چینل کے ہاتھ لگ گئی اور اس نے اس رپورٹ کو جاری کردیا اور اسے اپنے ویب سائٹ پر بھی ڈال دیاجس سے یہ خلاصہ ہوا کہ کمیشن نے اس آپریشن میں نہ صرف امریکی طریقہ آپریشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ اس سلسلے میں پاکستانی حکومت کے کردار پر بھی شک و شبہے کا اظہار کیا ہے اور غالباً یہی وجہ تھی کہ اس رپورٹ کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔بہر کیف رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے قتل کو ایک غلط قدم بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے زندہ پکڑا جا سکتا تھا مگر امریکی فوج نے اسے زندہ پکڑنے کے بجائے قتل کو ترجیح دی۔رپورٹ میں اس وقت کے پاکستانی صدر آصف زرداری،وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور فوجی چیف کیانی کے اس دعوے پر کہ انہیں اس تعلق سے کچھ معلوم ہی نہیں تھا‘ شبہے کا اظہار کیا گیاہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ اس گناہ میں کہیں نہ کہیں پاکستانی حکومت بھی شریک ہے۔ اس رپورٹ میں ایک عجیب چونکانے والی بات کہی گئی ہے،جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کہیں بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ کرتا ہے تو اس کے پیچھے اس کا سیاسی مفاد ہوتا ہے۔چنانچہ 2010 میں جب پاکستان میں زبردست سیلاب آیا تھا تو اس وقت امریکہ نے متاثرین کی خوب مدد کی تھی ۔ان کی دیکھ بھال کے لئے جابجا کیمپ لگائے گئے تھے اور فضائی نگرانی بھی کی گئی تھی ۔اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ یہ سب کچھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہورہا ہے مگر ایبٹ آباد کمیشن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ جاسوسی نقطہ نظر سے انجام دیا گیا تھا اور فضائی نگرانی کے نام پر پورے ایبٹ آباد کے راستے پر نظر رکھی جارہی تھی۔ بلکہ جن راستوں پر پیڑ پودوں کی وجہ سے راستہ کی شناخت میں دشواری ہوتی تھی ان پیڑوں کو رسد رسانی میں سہولت کے نام پر کاٹ دیا جاتا تھا اور پھر ان کے نقشے کو محفوظ کرلیا جاتا تھا‘۔ اس طرح دیکھا جائے تو 2010 میں ہی اس آپریشن کا ذہن بنا لیا گیا تھا جس کو 2011 میں ایبٹ آباد کے اندر انجام دیا گیا۔
جسٹس جاوید اقبال کی اس رپورٹ نے پاکستان اور پاکستان سے باہر ایک ہلچل پیدا کردی ہے اور لوگوں کے دماغ میں یہ سوال ابھرنے لگا ہے کہ آخر ملک کے اہم لیڈروں نے قوم سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا اور امریکی سازشوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیوں کی۔حالانکہ اس رپورٹ میں بھی کچھ کمیاں ہیں اور جن کو دور کیا جانا ضروری تھا مثلاً رپورٹ میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ’ اہم لیڈروں نے اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا ‘ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کمیشن نے صدر آصف علی زرداری، اس وقت کے وزیراعظم محمد یوسف رضا گیلانی یا چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ میٹنگ کی خواہش کی تھی یا نہیں۔تاہم کمیشن نے یہ اشارہ دیا ہے کہ اس بات کا بہت ہی کم امکان ہے کہ امریکیوں نے اس مشن کے حوالے سے متعلقہ پاکستانی حکام کے ساتھ اشتراک نہ کیا ہو۔اس دلیل پر یقین کرنا انتہائی مشکل ہے کہ امریکی ذمہ داروں نے آپریشن سے قبل، یہاں تک کے اس کے دوران کسی بھی وقت پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرز کی کمیونیکیشن نہیں کی ہو۔کیونکہ ایسی صورت میں پاکستانی فوج کی طرف سے کسی طرح کی کارروائی ہوسکتی تھی اور ایسی صورت میں امریکی فوج کو نقصان اٹھانا پڑسکتا تھا۔کمیشن کا کہنا ہے کہ2 مئی کے واقعہ میں مسلح افواج بشمول پاک فضائیہ کی ناکامی کو قبول کرنے کے بجائے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن اس بات پر زور دیتے رہے کہ یہ ایک ایسے ملک کی طرف سے دھوکہ دہی اور بداعتمادی جیسا اقدام ہے جو پاکستان کے ساتھ ایک مشترکہ دشمن کے خلاف اتحادی ہے۔کمیشن نے یہ سوال اْٹھایا ہے کہ ایبٹ آباد پر ہیلی کاپٹروں کی آمد کے بعد 90 منٹوں کے درمیانی عرصے میں اور ایک ہیلی کاپٹر کے ٹکرانے سے اس کی تباہی اور دھماکے کے ساتھ، یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ کسی ایک نے بھی یہ معاملہ ملٹری کمانڈ تک نہیں پہنچایا۔ خصوصاً جیسا کہ یہ سب جانتے ہیں کہ پاکستانی ہیلی کاپٹر کبھی کبھار ہی رات کے وقت پرواز کرتے ہیں تو پھر چیف آف ایئر اسٹاف کو رات کے وقت ایبٹ آباد پر پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں کے بارے میں براہ راست اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟
رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ کے کچھ اہلکاروں میں یہ شبہہ دیکھا گیا ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر پاک فضائیہ نے جان بوجھ کر امریکی مداخلت کاروں کے خلاف کارروارئی نہیں کی، شاید اس لیے کہ امریکہ نے پاکستانی قیادت کو کسی قسم کی اطلاعات فراہم کی ہوں۔عام طور پر پاکستانی اخباروں میں یہ بات کہی جارہی تھی کہ امریکہ کی طرف سے یہ وارننگ دی گئی ہے کہ آپریشن کے دوران پاکستان کسی طرح کی مزاحمت نہ کرے مگر کمیشن کی رپورٹ سے اس بات کا خلاصہ ہورہا ہے کہ یہ سب محض افواہ تھی ۔چنانچہ رپورٹ کی متن میں کہا گیا ہے کہ ’ اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں پیش کیا جاسکا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو یہ وارننگ دی ہو کہ اس کارروائی کے دوران یا اس سے پہلے کسی قسم کے خطرات پیدا نہ کیے جائیں‘۔ رپورٹ میں اسامہ بن لادن کی اہلیہ امن سعدیہ کے بیانات بھی شامل ہیں۔امن سعدیہ کو آپریشن کے وقت ان کے پائوں میں گولی ماری گئی تھی۔ کمیشن کے رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایبٹ آباد آپریشن مکمل کرنے کے بعد امریکی سیل کمانڈوز اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ سے سونے اور جواہرات سے بھرا ڈبہ اور اسامہ کی وصیت بھی اپنے ساتھ لے گئے۔بہر کیف کمیشن کی رپورٹ میں پاکستانی لیڈروں کے اس بیان پر شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس آپریشن کے سلسلے میں انہیں اطلاع نہ دی گئی ہو۔اگر ان کی باتوں کو صحیح مان لیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کیا کررہی تھی؟کیا یہ ممکن ہے کہ دنیا کا انتہائی مطلوب ترین آدمی ایبٹ آباد میں ایک مکان کے اندر اپنے اہل و عیال کے ساتھ کئی برسوں سے چھپا ہوا ہو اور حکومت کو کان و کان خبر نہ ہو۔اگر واقعی ایسا ہی تھا تو یہ پاکستان انٹلی جنس اور خفیہ محکمے کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے اور اس طرح کے عمل کی ذمہ داری کسی ادارے یا فرد کو قبول کرنی ہی چاہئے۔
یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ آخر اتنی اہم رپورٹ الجزیرہ کے ہاتھ کیسے لگی ۔ پاکستان کے تمام متعلقہ محکمے اپنی اپنی صفائی میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید اپنی صفائی میں کہتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ وزیراعظم ہائوس سے لیک نہیں ہوئی۔ ایبٹ آباد کمیشن کی اصل رپورٹ حکومت کے پاس محفوظ ہے۔ کمیشن رپورٹ حکومت کی حفاظتی تحویل میں ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ کمیٹی وزیر قانون،وزیر خارجہ اور وزیر دفاع پر مشتمل ہے۔ کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کی رسائی رپورٹ تک نہیں ہوسکتی ۔پاکستانی وزیروں کے ان بیانات سے تو لگتا ہے کہ ویکلکس کی طرح ہی کوئی ہے جو پاکستان کی خفیہ فائلوں تک رسائی حاصل کررہاہے اور اسی نے ایبٹ آباد کے اس اہم واقعہ کو الجزیرہ کے حوالے کیا ہے۔اگر ایسا ہے تو یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ کوئی آکر اس کے ملک کے اندر آپریشن کرتا ہے اور انتظامیہ کو پتہ نہیں چلتا ہے اور اسی طرح ایک اہم رپورٹ لیک ہوجاتی ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ حکومت بے خبر ہے۔بہر کیف جسٹس جاوید اقبال کی کمیشن کی رپورٹ نے جہاں ایک طرف پاکستان کے نظام کو شک کے دائرے میں رکھ دیا ہے وہیں امریکہ کے لئے بھی ایک چیلنج کھڑا کردیا ہے کہ وہ جہاں بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ کرتا ہے تو اس کے پیچھے اس کا سیاسی مفاد چھپا ہوتا ہے۔اس طرح ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے مصیبت بن گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *