آئین میں سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں

ہندوستان 26 جنوری 1950 کو ایک جمہوری ملک بن گیا، لیکن اس سے پہلے کئی خدشات آئین سازوں کو فکر مند کر رہے تھے کہ مستقبل میں کیا ہوگا، کیسے ہوگا اور اس کے کیا نتائج ہوں گے؟

p-8چھبیس جنوری، 1950 کو ہندوستان جمہوری ملک بن جائے گا۔ اس دن سے ہندوستان میں لوگوں کی، لوگوں کے ذریعے اور لوگوں کے لیے سرکار ہوگی۔ میرے دل میں ایک خیال آیا کہ ہندوستان کے جمہوری آئین کا کیا ہوگا؟ کیا ہم لوگ اسے سنبھال کر رکھ پائیں گے یاپھر اسے کھو دیں گے؟ یہ دوسرا خیال تھا، جو میرے دل میں آیا۔ اس سوال نے میرے دل میں پہلے سوال کی طرح ایک الگ طرح کا تجسس پیدا کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جمہوریت کیا ہے؟ یہ ایسا وقت تھا، جب ہندوستان کے پاس جمہوریاؤں کا تجربہ تھا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ ہندوستان پارلیمنٹ یا پارلیمانی عمل کو نہیں جانتا تھا۔ قدیم بودھ راہب یونینز کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں یونینز کے لیے صرف پارلیمنٹ ہی نہیں تھی، بلکہ وہ راہب یونینز، جدید پارلیمانی عملیات اور ضابطوں کو بھی بہت اچھی طرح سے جانتی تھیں۔ انھیں نظام نشست، پارلیمنٹ کے ضابطے، تجاویز، کورم، وہپ، ووٹوں کی گنتی، بیلٹ سے ووٹنگ، سینسر مشین اور کنفرمیشن کے بارے میں بھی معلومات تھیں۔ حالانکہ پارلیمانی عمل کے مذکورہ اصول یونین کی میٹنگوں میںان کے ذریعے اپنائے گئے تھے۔ انھوں نے ان اصولوں کو یقینا اپنے دور میں ملک میں چلنے والے سیاسی ایوان اور اجلاس سے لیا ہوگا۔

اس جمہوری طریقہ کو ہندوستان نے سنبھال کر نہیں رکھا۔ کیا اسے ہندوستان دوسری باربھی کھو دے گا؟ میں نہیں جانتا، لیکن یہ ہندوستان جیسے ملک میں کافی حد تک ممکن ہوسکتا ہے، کیونکہ یہاں اس کا بہت دنوں سے استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ یہ سیاست کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ آمریت کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ہندوستان جیسے نئے جمہوریہ کے لیے کافی حد تک ممکن ہے کہ یہ اس کی شکل کو روک سکے گا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کی جگہ پر آمریت کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ اگر ہم جمہوریت کو صرف خانہ پری کے لیے نہیں بنائے رکھنا چاہتے ہیں اور سچ مچ اس کے لیے سنجیدہ ہیں، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ پہلی بات تو یہ ہونی چاہیے کہ ہمیں پارلیمانی جمہوریت میں آئینی طریقوں سے سماجی اور اقتصادی مقاصد کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں سول نافرمانی، عدم تعاون اور ستیہ گرہ کے طریقوں کو ترک کردینا چاہیے۔ سماجی اوراقتصادی مقاصد حاصل کرنے کے لیے آئینی طریقوں کا جب کوئی راستہ نہیں بچا تھا، تب آئین سے ہٹ کر اپنائے جانے والے طریقوں پر بات کرنی چاہیے تھی، لیکن جب آئینی طریقے سامنے ہوں، تو غیر آئینی طریقوں پر بات نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری بات توجہ دینے کے لائق ہے کہ جان اسٹوارٹ مل کے ذریعے جمہوریت کی تعمیر نو میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو بتائی گئی احتیاطیں ہمیں ضرور دھیان میں رکھنی چاہئیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا، سبھی کو برابر آزادی ملنی چاہیے، تاکہ وہ اپنی طاقت سے نظام کی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھا سکے۔ عظیم انسانوں کا احسان لینا غلط نہیں ہے، خاص طور پر ایسے شخص کا، جس نے اپنی زندگی میں طویل وقت تک ملک کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا ہو، لیکن احسان کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آئرش پیٹریٹ ڈینیل او کو نیل نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے وقار کی قیمت پر کسی پر احسان نہیں کرسکتا، نہ ہی کوئی عورت اپنی عزت داؤں پر لگاکر کسی پر احسان کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی ملک اپنی آزادی کے بدلے کسی پر احسان کر سکتا ہے۔ یہ احتیاط کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں ہندوستان کے لیے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں دنیا کے کسی بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں لگن کچھ زیادہ ہی ہے۔ مذہبی لگن روح کی نجات کی راہ ہے، لیکن سیاست میں بھکتی یا شخصیت پرستی زوال کی راہ ہے اور یہ آمریت کی آخری شکل بھی ہے۔
تیسری بات جو ہمیں ضرور کرنی چاہیے، وہ یہ کہ ہم جس طرح سے اپنی سیاسی جمہوریت کی تعمیر کرتے ہیں، اسی طرح سے ہمیں اپنی سماجی جمہوریت کی تعمیر بھی کرنی چاہیے۔ سیاسی جمہوریت تب تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ اس کا وجود سماجی جمہوریت پر قائم رہے گا۔ آخر سماجی جمہوریت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں مساوات، آزادی اور بھائی چارہ کے راستے پر چل کر ان خصوصیات کو ہی زندگی کا اصلی اصول بنایا جائے۔ مساوات، آزادی اور بھائی چارے کو تثلیث کے مختلف اجزاء کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ یہ تثلیث کے ایک جز کی شکل میں ہو اور ایک کا دوسرے سے الگ ہونا جمہوریت کی ہار کی طرح ہو۔ آزادی مساوات سے الگ نہیں ہوسکتی، مساوات بھی آزادی سے الگ نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آزادی اور مساوات بھائی چارے سے الگ ہوسکتی ہیں۔ بغیر برابری کے مساوات کچھ لوگوں کے ذریعہ زیادہ تر لوگوں پر برتری جتانے کے مترادف ہوگی۔ آزادی کے بغیر مساوات شخصیت خاص کی خواہش یا نتائج کو ختم کردے گی۔ بھائی چارے کے بغیر آزادی ہونے سے بیشتر لوگوں پر کچھ لوگوں کاغلبہ ہوجائے گا۔ آزادی کے بغیر مساوات شخصیت خاص کے فیصلوں کو مٹادے گی۔ مساوات، آزادی اور بھائی چارے کے بغیر چیزیں فطری اصولوں کے خلاف ہوں گی۔ اس لیے ان سبھی اصولوں کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ ہم یہاں دو چیزوں کے بارے میں جانکاری دیں گے، جو ہندوستانی سماج سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ ان میں سے ایک مساوات ہے۔ ہندوستانی سماج میں گہری عدم مساوات دیکھنے کو ملتی ہے۔ کسی کے پاس بے پناہ جائیداد ہے، تو کوئی نہایت مفلسی میں زندگی جینے کو مجبور ہے۔
26جنوری، 1950 کو ہم ایک ایسی زندگی کی شروعات کریں گے، جس میں ہمیں ڈھیر سارے تنازعات دیکھنے کو ملیں گے۔ سیاسی زندگی میں ہمارے پاس مساوات تو ہو گی، لیکن سماجی اور اقتصادی زندگی میں ہمارے سامنے عدم مساوات ہو گی۔ سیاست میں ہم ایک آدمی ایک ووٹ، اور ایک ووٹ ایک قیمت کے اصول کو منظوری دے رہے ہوں گے، وہیں سماجی اور اقتصادی زندگی میں ہم اپنے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کے سبب ایک آدمی ایک قیمت کے اصول پر عمل نہیں کر پائیں گے اور اسی پر آگے بھی عمل کرتے رہیں گے۔ آخر ہم اس طرح کے تنازعات والی زندگی کو کتنے دنوں تک جی سکتے ہیں؟ آخر کب تک ہم اپنی سماجی اور اقتصادی زندگی کو نظر انداز کرتے رہیں گے؟ اگر ہم انھیں طویل وقت تک قائم رکھتے ہیں، تو اپنی سیاسی جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ ہمیں یہ تنازعات جتنی جلدی ممکن ہو، دور کرلینے چاہئیں یا پھر جو لوگ عدم مساوات کا شکار ہیں، انھیں سیاسی جمہوریت کا وہ ڈھانچہ ختم کردینا چاہیے، جو ایوان میں سخت محنت کے بعد تیار کیا جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *