ایبلٹی انلمیٹڈ فائونڈیشن

جیسا کہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ رواں صدی کے شروع ہوتے ہی دنیا کو ترقی کے لیے ایک جامع ایجنڈا دینے کی غرض سے ملینیم ڈیو لپمنٹ گولس (ایم ڈی جی) کے نام سے ایک ہزار سالہ ترقیاتی عزائم طے کیے گئے تھے، مگر 8نکاتی اس ڈاکومینٹ میں سب سے بڑی کمی یہ رہ گئی تھی کہ اس میں دنیا کی آبادی کے 15فیصد حصے کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا، جوکہ سب سے زیادہ حاشیہ پر رہ رہے طبقات میں سے ایک ہے۔ اس میں وہ لوگ ہیں جو کہ جسمانی ، ذہنی و نفسیاتی طور پرمعذور (Disabled) ہیں۔ ان 15فیصد معذور لوگوں میں 80فیصد انتہائی غربت و دیگر نابرابریوں اور ناانصافیوں سے گلوبل جنوب میں نبرد آزما ہیں، جوکہ دنیا کے غریب لوگوں کا 20فیصد ہے۔

Read more

سلیپر گھوٹالہ: نتیش کو کیوں بچا رہی ہے سی بی آئی

ملک کی سب سے بڑی ایجنسی سی بی آئی کیا واقعی دباؤ میں ہے؟ ہزاروں کروڑ روپے کے سلیپر گھوٹالے کی جانچ کو لیکر سی بی آئی جس طرح سے غلط فہمی پیداکر رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سلیپر گھوٹالے کی جانچ میں ابھی کئی پینچ پھنسے ہوئے ہیں۔ لوک تانترک سمتادل کے صدر پی کے سنہا اور نائب صدر متھلیش کمار سنگھ نے گھوٹالے کی جانچ سے متعلق جو دستاویز عام کیے ہیں، انھیں دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ سی بی آئی الگ الگ موقعوں پر الگ الگ بات کرکے کچھ نہ کچھ چھپارہی ہے۔ حالانکہ مذکورہ لیڈروں کا

Read more

اکھلیش سرکار کی کابینہ میں تیسری توسیع : ترقی کا نعرہ، ذات پات کا سہارا

اجے کمار
اتر پردیش کے جوان سال وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو 16 مہینے کی حکومت میں تیسری مرتبہ اپنی ٹیم (کابینہ) کو مضبوطی دینے کے لئے توسیع کا سہارا لینا پڑا۔ ویسے توکابینہ میں کون رہے گا اور کون نہیں، یہ طے کرنا وزیر اعلیٰ کا حق ہے لیکن اس کا اثر پوری ریاست پر پڑتا ہے۔ اس لئے ایسے مسئلوں پر کسی کو بھی تبصرہ کرنے کا اختیار ہے ۔ خاص طور پر یہ اس وقت اور بھی ضروری ہوجاتاہے جب ریاست کے ’سلطان‘ عوام کے سامنے ترقی کا نعرہ دیتے ہیں اور پیچھے سے اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لئے ذات پات کی سیاست ( کابینی سطح پر توسیع یہی پیغام دیتی ہے)کا سہارا لیتے ہیں ۔وہ ایسے قدم کسی کے دبائو میں اٹھاتے ہیں یا پھر ٹیک نوٹیک سی ایم کو سیاست کا یہ راستہ (ذات پات) زیادہ آسان لگتا ہے۔

Read more

یو این آئی کے مالی بحران کا انجام کیا ہوگا ؟

ڈاکٹر قمر تبریز
ہندوستان دنیا کے اُن چند جمہوری ممالک میں سے ایک ہے، جہاں پریس آزاد ہے۔ یہاں کے پریس کی تاریخ 203 برس پرانی ہے۔ مولوی اکرم علی کو یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اولین ہندوستانی کے طور پر 1810 میں کولکاتہ سے ’اردو اخبار‘ نکالا، جو کہ کسی بھی ہندوستانی زبان میں کسی ہندوستانی کے ذریعے شائع کیا گیا پہلا اخبار تھا۔ ہندوستانیوں کے ذریعے نکالے گئے زیادہ تر اخبارات محب وطن تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1857 کے واقعہ کے ایک سال بعد نئے برطانوی قانون ’پریس گیگنگ ایکٹ‘ کے تحت زیادہ تر اخبارات کو بند ہو جانا پڑا۔ 19 ویں صدی کے اواخر اور 20 ویں صدی کے نصف اول میں متعدد اخبارات مختلف زبانوں میں نکلے۔

Read more

چلے گئے بالی ووڈ کے شیر خان

تیرانوے سال کی عمر میں گزشتہ دنوں عظیم فلم اداکار پران کا انتقال کر گئے ۔ پران جیسے عظیم اداکاروں کے جانے سے بالی ووڈ میں ایسا خلاء پیدا ہوتا جا رہا ہے ، جو شاید اب کبھی پورانہ ہو پائے۔ پران کے ذریعہ ادا کئے گئے ان کے سینکڑوں یادگار ان کی کمی ہمیشہ بالی ووڈ کو محسوس کراتے رہیں گے۔ پیش ہے ان کا تفصیلی فلمی سفرنامہ۔
لیجنڈری اداکار پران ہمیشہ کے لئے بالی ووڈ کو خیرآباد کہہ گئے۔ 93سال کی عمر میں انھوں نے ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں اپنی آخری سانس لی۔ پران بالی ووڈ ان اداکاروں میں

Read more

خواتین کا مخصوص بینک: بیٹر ہاف کے امپاورمنٹ کا بہترین ذریعہ

وزیر خزانہ پی چدمبرم کے سال رواں کے بجٹ میں خواتین کے لیے خصوصی پبلک سیکٹر بینک کی تجویز سب سے بڑا سرپرائز تھا، کیونکہ اس سے قبل کسی وزیرخزانہ نے ہندوستان میں اس قسم کے تجربہ کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں 1989میں ’فرسٹ ویمنس بینک‘ اور تنزانیہ

Read more

صرف مودی کی مخالفت نتیش کا بیڑا پار نہیں لگائے گی

اشرف استھانوی
نریندر مودی کے سوال پر بی جے پی سے ناطہ توڑ کر راتوں رات سیکولرازم کے علمبردار اور سیکولر ووٹروں خصوصاً مسلمانوں کی آنکھوں کا تارا بنے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے لئے آئندہ لوک سبھا انتخاب اور اس کے بعد 2015 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کی ڈگر آسان نہیں ہے، کیوں کہ ایک طرف خود انہوں نے بی جے پی ، کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل تینوں سے یکساں دوری بنائے رکھنے کا فیصلہ کرکے اپنی مشکلیں بڑھالی ہیں، تو دوسری طرف بہار کے سیکولر عوام خصوصاً مسلمانوں کی توقعات میں حد درجہ اضافہ نے

Read more

بھوٹان و چین کی بڑھتی نزدیکی : ہندوستان کے لئے نئی سرکار کتنی بھروسے مند؟

راجیو رنجن
پی ڈی پی نے بھوٹان نریش کی قریبی سمجھی جانے والی پارٹی ڈی پی ٹی کو ہرا دیا ہے۔ پورے انتخاب کے دوران ہندوستان کے ساتھ تعلقات کا ایشو چھایا رہا جو آنے والے دنوں میںہند و بھوٹان رشتے کو فیصلہ کن دور میں پہنچا سکتا ہے،کیونکہ وہاں کے عوام کو ہندوستان کو نظر انداز کرنا پسند نہیں۔
بھوٹان میں اپوزیشن پارٹی پپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے برسراقتدار پارٹی ڈرک پھو اینسم ٹشو گپا(ڈی پی ٹی) کو شکست دے دیا ہے۔ڈی پی ٹی بھوٹان نریش کی قریبی سمجھی جانے والی پارٹی ہے۔ایسے میں اس کی ہار ملک کے لئے دور رس نتائج کی حامل ثابت ہوگی۔دوسری طرف ایک بات ہندوستان کے تعلق سے غور کرنے کے لائق ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا

Read more