سیاسی پارٹیوں کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی

سنتوش بھارتیہ 
کرناٹک کے انتخاب نے پھر ایک حقیقت کو ثابت کیا کہ ہندوستان کے عوام پرچار کے بھلاوے میں نہیں آنے والے یا نہیں آتے ہیں۔ دراصل، پورے ملک میں نریندر مودی کو لے کر میڈیا نے ایسا سماں باندھا کہ سبھی دیکھتے ہی رہ گئے۔ ظاہر ہے، اس کے پیچھے بڑے پیسے کا رول رہا ہوگا یا پھر بڑی پبلک رلیشن کمپنیوں کے رابطوں کا جادو رہا ہوگا، جس نے پورے ملک میں نہ صرف نریندر مودی کو واحد متبادل کے روپ میں کھڑا کیا، بلکہ ان کا قد اتنا بڑھا دیا کہ وہ قد پارٹی سے زیادہ بڑھنے لگا۔ لیکن کرناٹک انتخاب میں نریندر مودی بھی چھوٹے ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی چھوٹی ہوئی۔ سوال یہ نہیں ہے کہ وہاں کانگریس کیوں جیتی اور کیسے جیتی یا وہاں کے لوگوں نے کانگریس کی بدعنوانی کو اچھا مانا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی بدعنوانی کو برا مانا۔ ہاں، سوال یہ ضرور ہے کہ نریندر مودی کے پرچار کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی اس بری حالت میں کیسے پہنچ گئی۔ اس کا مطلب، نریندر مودی کی اپیل کا پورے ملک پر اثر نہیں پڑا ہے۔ انہیں پورا ملک وزیر اعظم بنانا چاہتا ہے، یہ بھی حقیقت نہیں ہے۔
اور کئی سوال ہیں۔ کیا کرناٹک کے الیکشن میں بدعنوانی کا سوال کپور کی طرح گم ہو گیا ہے۔ کیا کرناٹک کے عوام نے کانگریس کو بھارتیہ جنتا پارٹی سے اچھا مانا یا کانگریس کا پرچار کرنے والے راہل گاندھی کی وجہ سے کرناٹک میں کانگریس کو اتنے ووٹ ملے۔ ویسے تو سارے سوالوں کا جواب نہ صرف کرناٹک کے لوگ، بلکہ پورے ملک کے لوگ بھی جانتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم یہی کہیں گے کہ ان لیڈروں نے ہمارے پارٹی پر مبنی نظام میں جوڑ توڑ کرکے لوگوں کو ووٹ دینے کے لیے بندھوا بنا دیا ہے۔ ان کے پاس متبادل کی کمی ہو سکتی ہے اور ان کے پاس امکانات کی بھی کمی ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ کمی نہیں ہے۔ دراصل، اس نقلی کمی کو ہی حقیقت بنا کر ان سیاسی پارٹیوں نے عوام کو بھرم میں ڈالنے کی کامیابی کے ساتھ کوشش کی، جس کی مثال الیکشن ہے۔ یاد رہے، اس سے پہلے کرناٹک میں بدعنوانی کی وجہ سے کانگریس ہاری تھی۔ کرناٹک میں جنتا دل (ایس) بدعنوانی کی وجہ سے ہارا اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی بھی بدعنوانی کی وجہ سے ہی ہاری۔ لیکن پھر بھی لوگوں نے کانگریس کو ووٹ اس لیے دیا، کیوں کہ ان کو لگا کہ ان کے پاس کوئی ایسا متبادل نہیں ہے، جسے عوام کا متبادل مانا جا سکے، کیوں کہ یہ جمہوریت پارٹیوں کے ذریعے ہی چل سکتی ہے یا اسی کے ذریعے حکمرانی کی جا سکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کانگریس کو اسی سوچ کا فائدہ ملا اور اسی وجہ سے کرناٹک کے عوام نے حال میں کی گئی بدعنوانی کی مثالوں کو ایک طرف کر دیا اور پہلے کی گئی بدعنوانی کی مثال کو انہوں نے ووٹ دے کر اپنا لیا۔
اس کا مطلب یہی ہوا کہ اگر عوام کے پاس متبادل ہو، تو عوام اسی جماعتی بنیاد پر لڑنے والی پارٹیوں کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ حقیقت میں متبادل موجود ہیں اور وہ ہیں غیر سیاسی پارٹیاں، لیکن سیاسی پارٹیوں نے آپس میں مل کر عوام کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ کرناٹک میں اگر وہاں کے لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ وہ کسی پارٹی کے مقابلے اپنا امیدوار کھڑا کر سکتے ہیں اور یہ مکمل پارٹی سسٹم آئین کی تشریح اور آئین کی روح کے خلاف ہے، تو وہ ضرور ایک دوسرا فیصلہ لیتے۔
حالانکہ اب دوسرا فیصلہ لینے کا وقت آ گیا ہے، لیکن ہم بات یہاں نریندر مودی اور راہل گاندھی کی کر رہے ہیں۔ نریندر مودی کے آگے کچھ صوبے ہیں، جہاں وہ چناؤ پرچار کرنے جائیں گے۔ وہاں راہل گاندھی بھی چناؤ پرچار کرنے جائیں گے۔ کہیں پر بھارتیہ جنتا پارٹی جیتے گی، تو کہیں پر کانگریس جیتے گی۔ اور میں پھر کہہ رہا ہوں کہ اس کا مطلب یہ نہیں نکالا جانا چاہیے کہ ملک نریندر مودی کو سننے آتا ہے یا ان کی جگہ راہل گاندھی کی بات پر زیادہ بھروسہ کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے، دو ہی لوگوں کے اوپر یہ ملک بھروسہ نہیں کر رہا ہے۔
دراصل، آئین میں لکھی باتوں کی تفصیل جس دن عوام کو معلوم ہو جائے گی، اسی دن سے سیاسی بدلاؤ کی شروعات ہو جائے گی۔ آئین میں کہیں پر بھی سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے۔ آئین بناتے وقت آئین سازوں کے دماغ میں یہ صاف تھا کہ ہم جن تنتر لا رہے ہیں یا ہم لوک تنتر (عوامی جمہوریت) لا رہے ہیں اور ملک کو جمہوریہ بنا رہے ہیں، تو پارلیمنٹ میں لوگوں کے نمائندے ہونے چاہئیں نہ کہ پارٹیوں کے نمائندے ہونے چاہئیں۔ اور لوگوں اور عوام کے نمائندے کو ایک جگہ الیکشن کمیشن نے ایک پارٹی کے ستون کی پیدائش کر دی۔ یہاں یہ بھی بتا دیں کہ ہندوستانی جمہوریت میں پارٹی سسٹم آئینی نقطہ نظر سے غیر قانونی ہے۔ پر حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یہ غیر قانونی کام 1952 سے ہندوستان میں ہو رہا ہے اور ہندوستان کے عوام کو 1952 سے غیر قانونی طور سے سیاسی پارٹیوں کو منتخب کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں غیر قانونی طریقے سے اس ملک کے عوام کے اوپر حکومت کر رہی ہیں۔
میں نے دنیا کی جمہوریتوں کا مطالعہ کیا۔ دنیا کی پہلی جمہوریت یا ڈیموکریسی لچھوی جمہوریہ تھا۔ اس جمہوریہ میں لوگوں کے نمائندے تو تھے، لیکن پارٹیوں کے نمائندے نہیں تھے۔ دراصل، جمہوریت میں لوگ اور پارٹی ایک نظر سے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آج ہندوستان میں پارٹیوں کا اقتدار ہے اور پارٹیاں عوام کے مفاد کے کسی بھی سوال کو اپنا مدعا نہیں بنا رہی ہیں۔ ان کا مدعا ایک ہی ہے کہ وہ کس طرح سے اقتدار میں آئیں، لوگوں کو بھرمائیں، وہ ذات پات کے نام پر ہو، زبان کے نام پر ہو، مذہب کے نام پر ہو یا پھر انہیں شراب بانٹ کر یا پیسہ دے کر اپنے کنٹرول میں کیا جائے اور ان کا ووٹ حاصل کیا جائے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں ذات کو بھی کھڑا کیا، ووٹوں کے سوالوں کو بھی کھڑا کیا اور ابھی تھوڑے دنوں پہلے تک بوتھ کیپچر کرنے والے سسٹم کو بھی پالا پوسا تھا۔ یہ سارے طریقے جمہوریت کے برخلاف تھے اور عوام کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ ان کے خلاف بھی کھڑا ہوا جا سکتا ہے یا ان کو بھی نیست و نابود کیا جاسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے بوتھ کیپچرنگ کو جزوی طور پر روک دیا ہے، اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے، لیکن الیکشن کمیشن نے ملک کو جمہوری نظام دینے کی جگہ پارٹی سسٹم دے دیا اور اس کی آبیاری کرنے میں وہ اپنی ساری طاقت لگاتا رہا ہے اور آج بھی لگا رہا ہے۔ اس پارٹی سسٹم میں ہر الیکشن میں کوئی نہ کوئی نئی شخصیت سامنے آتی ہے۔ حالانکہ عوام اس شخصیت کو پرکھ کر اس کے بارے میں اپنا فیصلہ دیتے ہیں، پر زہر کھانا کوئی متبادل نہیں ہے، لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ ہم جمہوریت میں زہر کھا رہے ہیں۔
یہ الیکشن عوام کو شاید اس بات کے لیے مجبور کرے کہ اگر کہیں ملک اس آئین کی سمت سے چلی ہوتا، تو مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، ناخواندگی اور خراب ہیلتھ کیئر سسٹم کے اوپر کنٹرول پایا جاسکتا تھا۔ اگر یہ ملک آئین کے حساب سے چل رہا ہوتا، تو اچھے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں جانے کا موقع ملتا، پر المیہ تو یہ ہے کہ اس ملک میں آئین کو لے کر ہی جب بھرم پھیلائے جاتے ہیں، تو پھر ان مسائل سے حال فی الحال چھٹکارے کا کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔
جس جمہوریت کو اس ملک میں سب کے لیے قابل قبول اور بالاتر ہونا چاہیے تھا، ان سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے اسی جمہوریت کے اوپر اب سوال اٹھنے لگے ہیں۔ نکسل وادیوں نے تو سیدھا سوال اٹھایا ہے کہ جمہوری نظام میں غریب کی کیا کوئی سنوائی ہے۔ کیا جمہوری نظام میں اس ملک کے اقلیتی طبقہ کے لوگ، جن کے پاس ترقی کی روشنی نہیں پہنچتی ہے یا آگے نہیں پہنچے گی، کیا ان کے لیے کوئی کام ہے؟ نکسل وادی صاف کہتے ہیں کہ ہندوستان کے نظام میں غریب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور غریب کو اپنا مقام بندوق کی طاقت پر بنانا پڑے گا۔ نکسل وادیوں کی یہ تھیوری ہندوستان کے بہت سارے لوگوں کو تب سمجھ میں آ جاتی ہے، جب وہ دیکھتے ہیں کہ جمہوری نظام کے نام پر ان کے اوپر حکومت کر رہے لوگ زبردست لوٹ پاٹ میں مصروف ہیں۔ لوگوں کو نہ صرف بانٹ رہے ہیں، بلکہ انہیں ملک کے بارے میں سوچنے سے بھی روک رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو بانٹا، عورتوں کو بانٹا، ذات کے نام پر بانٹا، زبان کے نام پر بانٹا، مذہب کے نام پر بانٹا اور لالچ کے نام پر بھی بانٹا۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سیاسی پارٹیاں واقعی میں جمہوریت کے لیے کام کر رہی ہیں یا یہ اپنے لوٹ کے پیسے سے خوشی منانے کے لیے اس پورے ملک کو انتشار کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں۔
نریندر مودی اور راہل گاندھی کے پاس کیا ان سوالوں کا کوئی جواب ہے؟ کیا یہ دونوں عوام کو بتائیں گے کہ انہوں نے آئین کو سمجھ لیا ہے اور آئین میں سیاسی نظام کے لیے جگہ ہے؟ کیا انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہمارے ملک کے سارے قانون، جن کا رشتہ آئین سے نہیں ہے، غیر قانونی مانے جانے چاہئیں؟ کیا اس کے اوپر ان دونوں کے بیچ اتفاق رائے ہے یا ان دونوں نے آئین کا مطالعہ نہیں کیا ہے؟ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ کیا ان دونوں نے خود آئین کا مطالعہ کیا ہے۔
ہم یہ نہیں جانتے کہ کیا نتیجہ نکلے گا، لیکن کم از کم ایک چیز ضرور دکھائی دے رہی ہے کہ ملک کو نریندر مودی کی ضرورت ہے یا راہل گاندھی کی ضرورت ہے۔ یہ بھی سیاسی طور پر اتنے ہی اَن پڑھ ہیں، جتنا انہوں نے دوسروں کو اَن پڑھ بنائے رکھنے کی کوشش کی اور عوام کو، عوام ہی نہیں اپنے کارکنوں کو، اپنے کارکنوں کو ہی نہیں، بلکہ اپنے صوبائی سطح کے لیڈروں کو بھی انہوں نے سیاسی طور پر اَن پڑھ اور جاہل بنا دیا ہے۔
اسی لیے اس ملک کے عوام کو کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ انھیں آئین کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ جاننے کی ضرورت بھی ہے کہ انھیں کون سا سسٹم چاہیے۔ اگر انھیں آئین کے مطابق سسٹم چاہیے، تو انھیں سیاسی پارٹیوں کی بالادستی سے باہر نکلنا ہوگا اور سیاسی پارٹیوں کے خلاف بغاوت کرنی پڑے گی اور اپنے بیچ میں سے امیدواروں کو کھڑا کرکے جیت دلانی ہوگی، تاکہ یہ لوک سبھا میں جائیں اور وہاں جاکر ان کے مفاد کے قانون بنائیں۔ سیاسی پارٹیاں قانون اپنے مفاد کے حساب سے بناتی ہیں کہ وہ کس طریقے سے جیت سکتی ہیں، کس طریقے سے لوگوں کو شکست دلا سکتی ہیں اور کس طرح سے لوگوں کو لبھا سکتی ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اسے دھیان میں رکھتے ہوئے نہ صرف قانون بناتی ہیں، بلکہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا استعمال بھی کرتی ہیں۔ اب عوام کے اوپر یہ منحصر کرتا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں کس طرح کا فیصلہ لیتی ہیں۔ حالانکہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جس طریقے سے عوام میں بیداری آ رہی ہے، اس بات کا فیصلہ ویسا نہیں ہوگا، جیسا ابھی تک کے پندرہ عام انتخابات کا ہوا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *