آر ٹی آئی اور سیاسی پارٹیاں

ششی شیکھر 
p-5bسینٹرل انفارمیشن کمیشن، سی آئی سی کا ایک حکم کیا آیا، گویا سیاسی گلیاروں میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ بڑی بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کے ایسے ایسے بیان آنے لگے، گویا کوئی ان سے انفارمیشن نہیں مانگ رہا، بلکہ کسی نے ان کی عزت پر حملہ کر دیا ہو۔ دراصل، آر ٹی آئی کارکن سبھاش اگروال کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سنٹرل انفارمیشن کمیشن نے یہ حکم دیا کہ سیاسی پارٹیاں آر ٹی آئی کے دائرے میں آتی ہیں۔اس فیصلہ کے پیچھے کمیشن نے یہ اسباب گنوائے تھے کہ سیاسی پارٹیاں بہت ہی کم قیمت پر زمین لیتی ہیں، انہیں بنگلہ ملتا ہے، انکم ٹیکس میں چھوٹ ملتی ہے، سیاسی پارٹیاں عوام کا کام کرتی ہیں، الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ کمیشن نے صاف لفظوں میں کہا کہ ہمارے جمہوری نظام میں سیاسی پارٹیوں کا رول، ان کے کام کاج اور کردار بھی انہیں آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں لاتے ہیں۔ آئینی اور قانونی التزامات میں بھی ان کا کردار عوامی تنظیموں کا ہے۔ ان تمام وجوہات سے سیاسی پارٹیاں آر ٹی آئی کے دائرے میں آتی ہیں۔
ظاہر ہے، سنٹرل انفارمیشن کمیشن کا یہ فیصلہ ان سیاسی پارٹیوں کو اچھا نہیں لگا، جو بات تو شفافیت کی کرتی ہیں، لیکن خود کی باری آتی ہے، تو کھلے عام اس کی مخالفت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ دراصل، ان پارٹیوں کو اب یہ خوف ستا رہا ہے کہ اس فیصلہ کی وجہ سے اب اُن پیسوں کے بارے میں بھی عوام معلومات حاصل کر پائیں گے، جن کا کوئی ریکارڈ یہ پارٹیاں یہ کہہ کر نہیں رکھتیں کہ فلاں چندہ 20 ہزار سے کم کا ہے۔ ارب پتی بن چکی ان پارٹیوں کو مل رہے چندے کی جانکاری ویسے تو الیکشن کمیشن سے ملتی رہی ہے، لیکن اس میں وہ چندہ شامل نہیں ہوتا، جو 20 ہزار سے کم ہوتا ہے۔ دوسرا، اگر یہ فیصلہ نافذ ہوتا ہے، تو کسی بھی پارٹی کے ایسے زمینی کارکن، جن کے پاس پیسہ نہیں ہوتا، لیکن جنہوں نے پارٹی کے لیے جی جان سے کام کیا اور جنہیں تا عمر نہ تو کوئی عہدہ ملا، نہ ٹکٹ ملا، ویسے کارکن اپنی پارٹی میں آر ٹی آئی ڈال کر اندر کی خبر باہر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی ہائی کمان چاہ کر بھی من مانے فیصلے نہیں کر پائے گا، یعنی شروع سے چلے آ رہے سیاسی پارٹیوں میں ہائی کمان کے کلچر کو اس فیصلہ سے خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔

پنچ کا حکم بھی نہیں مانیں گے اور نالا بھی وہیں بہے گا، یعنی چوری بھی کریں گے اور سینہ زوری بھی کریں گے، کیوں کہ سیّاں اور بھیا ہے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔ اور ایسا ہو بھی کیوں نہ، جب حمام میں سب ننگے ہوں یا کہ پھر چور چور موسیرے بھائی۔ اتنے سارے محاوروں کے استعمال کے پیچھے ایک مجبوری ہے۔ وہ یہ کہ آخر آپ چاہ کر بھی موجودہ حالات میں، موجودہ طریقے سے سیاست کر رہی موجودہ سیاسی پارٹیوں کے لیے کن الفاظ کا استعمال کریں گے؟ بدعنوانی کی بات رہنے دیجیے، لوک پال کی بھی بات تھوڑی دیر کے لیے روک دیجیے۔ صرف ایک سوال ان سیاسی پارٹیوں سے پوچھیے، آخر آپ آر ٹی آئی کے دائرے میں آنا کیوں نہیں چاہتے؟

بہرحال، آر ٹی آئی پاس کرنے والی کانگریس کی بات تو چھوڑیے، جس کے ایک سینئر لیڈر جناردن دویدی یہ کہتے ہوئے اس فیصلہ کی مخالفت کر رہے ہیں کہ ہم ایک خودکار تنظیم ہیں۔ اس ایک فیصلہ نے سینئر سماجوادی اور بائیں محاذ کے لیڈروں کی دقیہ نوسی سوچ کو بھی عوام کے سامنے لا دیا ہے۔ جے ڈی (یو) کے صدر، شرد یادو اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہم کوئی کیرانہ یا پرچون کی دکان نہیں ہیں کہ ہمارے یہاں کوئی بھی آر ٹی آئی لگا کر کوئی بھی اطلاع مانگ لے۔ وہیں سی پی ایم کے جنرل سکریٹری، پرکاش کرات یہ کہتے ہیں کہ آر ٹی آئی سرکاری اداروں میں شفافیت کے لیے ہے، یہ ہمارے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ وہیں بی جے پی اس مسئلے پر ابھی تک اپنی کوئی واضح رائے نہیں دے سکی ہے۔ اصل میں، بی جے پی اس معاملے میں بھی سیاست ہی کر رہی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جب اتنی ساری اس کی ساتھی سیاسی پارٹیاں اس فیصلہ کی مخالفت کر رہی ہیں، تو اسے کچھ الٹا بول کر اپنی کھنچائی کیوں کروانی چاہیے؟ لیکن یہ وہی بی جے پی ہے، جو ’ڈاؤ‘ کمپنی سے بھی لاکھوں کا چندہ لیتی ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ وہی ’ڈاؤ‘ ہے، جس نے ہزاروں لوگوں کی ہلاکت کے لیے ذمہ دار ’یونین کاربائڈ‘ کو خریدا ہے۔
ویسے اس فیصلہ کے خلاف ابھی جو مخالفت سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دکھائی دے رہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ اسے سپریم کورٹ میں چنوتی دی جا سکتی ہے۔ لیکن، اب چاہے جو بھی ہو، اس فیصلہ کا ہندوستانی سیاست پر دور رَس اثر پڑے گا۔ کچھ اثر تو ابھی سے ہی پڑنے شروع ہو گئے ہیں، مثلاً شفافیت کے نام پر تمام سیاسی پارٹیوں کا مکھوٹا اتر چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ عوام کو بھی اپنے لیڈروں کی پالیسی اور نیت کو ایک بار پھر قریب سے جاننے کا موقع مل گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلہ کی قیمت کون چکاتا ہے، سیاسی پارٹیاں، چیف الیکشن کمشنر یا پھر آر ٹی آئی قانون۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *