علاقائی پارٹیاں شروعات کر سکتی ہیں

کمل مرارکا 
ضمنی انتخابات کے تازہ نتیجوں کے بارے میں چرچا ہے کہ فلاں شخص کی ذاتی جیت ہوئی اور فلاں شخص کی ذاتی ہار۔ کیا واقعی یہ سچ ہے؟ اس موضوع پر پیش ہے یہ تجزیاتی رپورٹ۔
کچھ صوبوں کے چناؤ نتیجے آئے ہیں اور سبھی ان کا اپنے اپنے انداز سے تجزیہ کر رہے ہیں۔ انتخابی نتائج اخباروں کی سرخیاں بنے۔ کس کی ہار اور کس کی جیت ہوئی، اس پر بحث ہوئی۔ کہا گیا کہ یہ مودی کے لئے ایک بڑی جیت ہے گجرات میں، لیکن یہ غیر متوقع نہیں تھی۔ دوسری طرف یہ بھی کہا گیا کہ نتیش کمار کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے، لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہوا ہے؟ ضمنی انتخاب سے پہلے بھی لالو پرساد یادو کی پارٹی آرجے ڈی کا ہی اس سیٹ (مہاراج گنج) پر قبضہ تھا۔ آرجے ڈی نے پھر سے یہ سیٹ جیت لی۔ مہاراج گنج ٹھاکروں کے غلبے والا انتخابی حلقہ ہے۔ پربھو ناتھ سنگھ لالو یادو کے امیدوار ہونے سے پہلے بھی ایم پی رہ چکے تھے اور انھوں نے یہ سیٹ جیتی۔ اب اس میں کیا خاص ہے، یہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔

اڈوانی کی طرح غیر متنازع لیڈر کو اگر بی جے پی آگے کرتی ہے، تو شاید اقتدار میں آنے کی بھی گنجائش بنے گی۔ اس لئے مودی کو صحیح وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے اور بی جے پی مودی کو آگے کرتی ہے، تو اس کا فائدہ کانگریس کو ہی ملے گا۔

اتر پردیش، تمل ناڈو، اڑیسہ، مغربی بنگال اور بہار جیسے مختلف صوبوں کی کئی پارٹیاں قومی پارٹیاں نہیں ہیں۔ وہ اپنے خود کے امیدوار لوک سبھا کے لئے چنتی ہیں۔ کم سے کم چار یا پانچ علاقائی پارٹیاں یہ طے کریں گی کہ وزیر اعظم کون ہوگا؟ ہاں، نتیش کمار ابھی این ڈی اے کا حصہ ہیں اور اگر نریندر مودی کو آگے کرنے کوشش کی جاتی ہے، تو وہ این ڈی اے چھوڑ دیں گے اور اس کا سیدھا فائدہ کانگریس پارٹی کو ہی ملے گا۔ دوسری طرف بی جے پی نے اٹل بہاری واجپئی کی شکل میں 1999کو چھوڑ کر، کبھی بھی پی ایم عہدے کو ابھی تک پروجیکٹ نہیں کیا ہے۔ اس کی حکمت عملی یہی ہو گی کہ اس کا فیصلہ انتخابی نتائج آنے کے بعد ہو۔ وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار طے کرنے کے لئے بی جے پی نے یہی پالیسی اپنائی ہے۔ اگر بی جے پی وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کا فیصلہ نہیں کرتی ہے، تو این ڈی اے جیسا ہے، ویسا ہی رہے گا۔
آج جو حالت ہے، جس طرح سے گھوٹالے سامنے نکل کر آرہے ہیں، اس سے کانگریس پارٹی نے اس ملک پر حکومت کرنے کے اپنے سبھی اخلاقی حق کھو دئے ہیں۔ آج اوسط رائے دہندگان کانگریس سے مایوس ہیں۔ حالانکہ بی جے پی اپنے اندرونی انتشار کی وجہ سے اس صورتحال کا فائدہ اٹھا نے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اڈوانی کی طرح غیر متنازع لیڈر کو اگر بی جے پی آگے کرتی ہے، تو شاید اقتدار میں آنے کی بھی گنجائش بنے گی۔ اس لئے مودی کو صحیح وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے اور بی جے پی مودی کو آگے کرتی ہے، تو اس کا فائدہ کانگریس کو ہی ملے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ کانگریس کے علاوہ دیگر سبھی سیکولر پارٹیاں ایک ساتھ آئیں، مل کر بیٹھیں، ایک حکمت عملی بنائیں اور یہ طے کریں کہ وہ ایک سیکولر اتحاد چاہتی ہیں یا پھراین ڈی اے کے ساتھ جاکر حکومت بنانا پسند کریں گی؟
ان اہم کھلاڑیوںمیں ملائم سنگھ یادو، ممتا بنرجی، جے للتا،نوین پٹنائک اورمایا وتی ہیں، لیکن ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے اور نہ ہی اس معاملے میں وہ شروعاتی بات چیت کے لئے میٹنگ کر رہے ہیں۔ ویسے، ایک بات طے ہے کہ کانگریس پارٹی اگلا چناؤ جیتنے نہیں جارہی ہے، جو اکتوبر نومبر 2013یا مئی 2014میں ہونا ہے۔ اگر مئی 2014میں چناؤ ہوتا ہے، تب تو وقت ہے، لیکن اگر یہ وقت سے پہلے ہوتا ہے، تب وقت بہت کم ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *