راجستھان: مسلمان کانگریس سے دور ہو رہا ہے

p-4ریاست راجستھان میں مسلمانوں کی کانگریس سے بے اطمینانی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ بے اطمینانی اس حد تک بڑھتی جا رہی ہے کہ گزشتہ 9 جون کو راجستھان کانگریس کے مسلم لیڈروں نے مائنارٹیز ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام یک روزہ کنونشن کے دوران کانگریس کو خبردار کیا کہ اگر مسلم ایشوز میں پارٹی نے عملی دلچسپی نہیں لی، تو راجستھان میں کانگریس کا حشر اتر پردیش اور بہار جیسا ہو سکتا ہے۔ اس کنونشن میں ریاست کے متعدد ڈویژنوں جے پور، جودھپور، اُدے پور، بھرت پور، بیکانیر اور کوٹا سے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں کونسلرس، پردھان و دیگر منتخب اداروں کے افراد شامل تھے۔ عام طور پر یہ شکایت ابھر کر سامنے آئی کہ کانگریس نے اپنے گزشتہ انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔

کنونشن کے کنوینر سید اصغر علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاست میں کم از کم 25 ایسے اسمبلی حلقے ہیں، جہاں سے مسلمان انتخاب جیت سکتے ہیں، مگر انہیں اس لحاظ سے ٹکٹ نہیں دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ اسمبلی انتخابات کے وقت صرف 17 مسلمانوں کو کانگریس نے ٹکٹ دیا تھا، جن میں دس کامیاب ہوئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کل مسلم امیدواروں میں 62.5 فیصد کو کامیابی ملی، جو کہ یقینا ایک ریکارڈ ہے۔ اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر مسلم آبادی والے 25 حلقوں میں مسلمانوں کو ٹکٹ دیا جائے، تو تعداد اس لحاظ سے مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی سوال تھا کہ وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں 200 کروڑ روپے کی رقم کا اقلیتوں کے لیے جو اعلان کیا ہے، اس میں سے اس سال کتنا استعمال ہو پائے گا؟ کنونشن میں سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی رپورٹوں کے عدم نفاذ کی بات بھی اٹھائی گئی، جس کے سبب ریاست میں مسلمانوں کی پس ماندگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ ساڑھے چار برس حکومت میں رہنے کے بعد کانگریس نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جس کا اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ شرکاء کو یہ شکایت تھی کہ مسلم کمیونٹی کے مستقل مطالبہ کے بعد بھی ریاستی حکومت نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے ذریعے پڑھائے جا رہے نصاب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس دوران گوپال گڑھ و دیگر مقامات میں فرقہ وارانہ فسادات میں حکومت کے غیر اطمینان رول پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ عام طور پر رائے یہ بنی کہ ریاست میں مسلمانوں کا اب ووٹ اسے ہی ملے گا، جو ان کے تعلق سے فکرمند ہوگا اور عملی طور پر آگے بڑھے گا۔ ریاستی کانگریس کے مقامی لیڈروں کا یہ کنونشن اس اعتبار سے بہت اہم و غیر معمولی تھا کہ پہلی مرتبہ وہ خود اپنی ہی پارٹی کی حکومت کی مسلم تناظر میں کارکردگی کا جائزہ لے رہے تھے۔ لہٰذا اس کی اہمیت کے پیش نظر ریاست کی چند دیگر مسلم تنظیموں و شخصیات سے بات چیت کی گئی، جس سے کانگریس سے وابستہ مقامی مسلم لیڈران کے علاوہ عام مسلم رہنماؤں کی آراء سامنے آئیں۔ ان کا یہ عام احساس ہے کہ کانگریس نے اپنے دورِ اقتدار میں ریاست میں مسلمانوں کی ترقی کے لیے صرف چند اعلانات کے سوائے کوئی عملی اقدام نہیں کیے اور مختلف مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے اور اس دوران جان و مال کے تحفظ کا بھی مناسب نظم نہیں ہوا۔

کنونشن کے کنوینر سید اصغر علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاست میں کم از کم 25 ایسے اسمبلی حلقے ہیں، جہاں سے مسلمان انتخاب جیت سکتے ہیں، مگر انہیں اس لحاظ سے ٹکٹ نہیں دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ اسمبلی انتخابات کے وقت صرف 17 مسلمانوں کو کانگریس نے ٹکٹ دیا تھا، جن میں دس کامیاب ہوئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کل مسلم امیدواروں میں 62.5 فیصد کو کامیابی ملی، جو کہ یقینا ایک ریکارڈ ہے۔ اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر مسلم آبادی والے 25 حلقوں میں مسلمانوں کو ٹکٹ دیا جائے، تو تعداد اس لحاظ سے مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی سوال تھا کہ وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں 200 کروڑ روپے کی رقم کا اقلیتوں کے لیے جو اعلان کیا ہے، اس میں سے اس سال کتنا استعمال ہو پائے گا؟ کنونشن میں سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی رپورٹوں کے عدم نفاذ کی بات بھی اٹھائی گئی، جس کے سبب ریاست میں مسلمانوں کی پس ماندگی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

آل انڈیا ملی کونسل، راجستھان کے جنرل سکریٹری عبدالقیوم اختر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت نے اقلیتوں اور مسلمانوں کے تعلق سے متعدد اعلانات تو ضرور کیے ہیں، مگر یہ ان کا نفاذ نہیں کر پا رہی ہے نیز مرکز کی اقلیتوں کے تعلق سے اسکیمیں بھی رک رک کر آ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2012-13 میں میٹرک کے بعد طلباء کے لیے 28000 روپے کی رقم منظور ہوئی، مگر اسے بعد میں 14000 روپے کر دیا گیا۔ ان کے مطابق، سچر رپورٹ کے بعد اقلیتوں میں مسلمان فوکس ہو گیا ہے، لیکن ان کی پس ماندگی ہر گز دور نہیں ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ او بی سی میں 30 سے زائد مسلم برادریاں ہیں، جن میں بیشتر نو مسلم ہیں اور جن میں سے ایک بڑی تعداد نے خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے اخلاق و کردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ ان افراد میں سے بیشتر او بی سی کے 27 فیصد کوٹہ سے مستفیض نہیں ہو پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حال میں پولس میں 10 ہزار افراد کی بھرتی ہوئی، مگر اس میں مسلم فیصد ایک کے اندر ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریزرویشن ہوتا، تو یہ 4.5 فیصد ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، پولس میں مناسب مسلم نمائندگی سیکورٹی کے لحاظ سے ضروری ہے۔ ایڈووکیٹ عبدالقیوم اختر کہتے ہیں کہ اس مایوس کن حالت میں مسلمان یقینا کانگریس سے ناراض ہو چلا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ تیزی سے بی جے پی کی جانب مائل ہو رہا ہے۔ ان کے خیال میں، اس میں مسلم نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اصل مقابلہ ہوتا ہے، لہٰذا یہ کانگریس کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
جماعت اسلامی ہند، راجستھان کے امیر حلقہ انجینئر خورشید حسین بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ ریاست میں بر سر اقتدار گروپ کو مسلم ایشوز سے کوئی عملی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوپال گڑھ، سراڈا، بالیشور اور گلاب پورہ جیسے مقامات پر جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، ان میں حکومت کا رویہ معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے جیسا رہا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ 40 سیٹوں پر مسلم اثرات ہیں اور ان میں 25 سیٹوں پر تو یہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار اور یوپی والی صورتِ حال کانگریس کے لیے راجستھان میں پیدا ہونے کا فی الحال سوال نہیں ہے، لیکن تیسرے مضبوط متبادل کے بننے کی صورت میں یہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ریاستی ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے تنظیمی سکریٹری محمد ناظم الدین بھی مذکورہ بالا تنظیموں و شخصیات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کانگریس نے جو کچھ کیا ہے، وہ صرف کاغذی طور پر ہے اور کوئی چیز عملی طور پر تو دکھائی نہیں پڑ رہی ہے۔ ان کے خیال میں، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں عمومی طور پر مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات میں سی بی آئی انکوائری ضرور ہوئی اور متاثرین کو معاوضہ بھی ملا ہے، لیکن کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیے گئے ہیں۔ ناظم الدین کے مطابق، اصل مسئلہ یہ ہے کہ انصاف نہیں مل رہا ہے اور اس کے سبب عام آدمی مایوس ہو رہا ہے۔
معروف دانشور پروفیسر ایم حسن جان و مال کے تحفظ کو سب سے بڑا مسئلہ مانتے ہیں۔ ان کے خیال میں، حکومت کو اس تعلق سے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاست میں گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت ٹھیک سے نہیں کر پائی۔ ان کے مطابق، محض چند سیٹوں کو مسلمانوں کو دے دینے یا فنڈ کے اعلانات سے اصل مسئلہ ہرگز حل نہیں ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے ہیں کہ کانگریس کا یہاں بہار اور یو پی جیسا حشر ہوگا، مگر اس تلخ حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ مسلمانوں کے تعلق سے کچھ نہیں ہوا ہے۔ انہیں یہ شکایت ہے کہ مولانا فضل الرحیم مجددی کے جے پور میں منعقد حالیہ کنونشن، جس میں متعدد مرکزی وزراء موجود تھے، جان و مال کے تحفظ کا ایشو نہیں اٹھایا گیا۔ پروفیسر حسن جو کہ راجستھان اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن، جودھپور یونیورسٹی اور کینیا کی نیروبی یونیورسٹی میں استاد رہ چکے ہیں، یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ان تمام باتوں سے متاثر ہو کر راجیو گاندھی سوشل سیکورٹی مشن، حکومت راجستھان کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔مذکورہ بالا تمام شخصیات و تنظیموں کی آراء سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی کانگریس سے بے اطمینانی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور وہ ناراض ہو چلا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کانگریس اس صورت میں اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتی ہے اور اب بھی کیا عملی اقدام اٹھاتی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *