نواز شریف کی پہلی آزمائش

اعجاز حفیظ خاں
p-8میاں نواز شریف نے 5جون کو تیسری بار وزارت ِ عظمیٰ کا حلف اُٹھایا ۔اس طرح سے وہ اس عہدے پر اپنی ہیٹ ٹرک بھی کریں گے ۔اس سے پہلے یہ اعزاز کسی اور کو حاصل نہیں ہوا ۔ شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو یہ کارنامہ انجام دے سکتی تھیں، لیکن زندگی نے اُن سے وفا نہ کی ۔پچھلی پارلیمنٹ میں18ویں ترمیم کا میاں صاحب کی ہیٹ ٹرک میں سب سے اہم کردار ہے ۔جنرل مشرف نے اپنے دور میں دو سے زائد مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کی اُس وقت کی پارلیمنٹ سے ترمیم کروا لی تھی ۔ایک طرف جہاں میاں صاحب کی مسلم لیگ ن کے لئے جشن کی کیفیت ہے تو دوسری طرف ماتم کا بھی خوف ہے ۔اُنہوں نے الیکشن میں ایک سے بڑھ کر ایک پاپولر وعدہ کیا، جس میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ بھی شامل تھا ۔نگراں حکومت کے دور میں توحد ہی کر دی گئی ۔ میاں صاحب کی ہیٹ ٹرک کے حوالے بھی کئی اور ’’ریکارڈ ‘‘بنے ۔لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں18 سے 20گھنٹے کی روزانہ اور دیہاتوں میں دو تین دنوںکی مسلسل لوڈ شیڈنگ نے پچھلے تمام ریکارڈ تو ڑدیے ۔اوپر سے مئی کے دوسرے ہفتے میںگرمی بھی ریکارڈ سا ز رہی ۔آج کل لاہور کی زندگی لوڈ شیڈنگ کی’’سنگینوں ‘‘تلے گزر رہی ہے ۔یہ پروردگار کا خاص کرم ہے کہ ایسے موسم میں بارش سے انسانوں کا دیا ہوا یہ زخم مندمل ساہونے لگتا ہے ۔گرمیوں کی راتوں میں گھر کی چھت ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ۔ صبح لکھنے کی عادت ہے ۔ رات کو کچھ دیر کے لئے آنکھ لگے گی تو پھر ہمارے کالم کے لئے الفاظ کُھلیں گے۔ دوسری طرف کسی پوش ایریا کے گھر کی چھت پر سونے کو جہالت سمجھا جاتا ہے ۔شکر ہے کہ ہمارا گڑھی شاہو شہرکی غریب بستیوں میں شمار ہوتا ہے ۔گرمیوں کے یہ دن بھی گزر جا ئیں گے ۔ البتہ اس بار سیاسی ماحول بہت بدلا بدلا سا ہو گا ۔مسلم لیگ ن کو بڑے سوچ بچار کی ضرورت ہو گی ۔پچھلے پانچ سال …زرداری صاحب کے نام …اپنے ناکامی پر بھی… اُن پر ہی الزام ۔ یہ تُرپ کا پتہ اب اُن کے ہاتھ میں نہیں ہو گا ۔
نواز شریف نے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی 28مئی (یوم ِ تکبیر،اس تاریخ کو1998میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے )کی پر جوش تقریب سے عوام کو لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اُن کی حکومت کے آتے ہی بجلی نہیں آ جائے گی ۔لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں دو سے تین سال بھی لگ سکتے ہیں‘‘۔ اس پر پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے کہا کہ میاں صاحب نے پہلے سچ کیوں نہیں بولا ۔بلاشبہ لوڈ شیڈنگ آج پاکستان کا سب سے اہم اندورنی مسئلہ ہے، جس سے پاکستانیوں کے لئے روح اور جسم کے درمیاں رشتہ بحال کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔جس کی وجہ سے اُن کے چہروں سے مسکراہٹ بھی رخصت ہو گئی ہے ۔

نواز شریف نے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی 28مئی (یوم ِ تکبیر،اس تاریخ کو1998میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے )کی پر جوش تقریب سے عوام کو لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اُن کی حکومت کے آتے ہی بجلی نہیں آ جائے گی ۔لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں دو سے تین سال بھی لگ سکتے ہیں‘‘۔ اس پر پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے کہا کہ میاں صاحب نے پہلے سچ کیوں نہیں بولا ۔بلاشبہ لوڈ شیڈنگ آج پاکستان کا سب سے اہم اندورنی مسئلہ ہے، جس سے پاکستانیوں کے لئے روح اور جسم کے درمیاں رشتہ بحال کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔جس کی وجہ سے اُن کے چہروں سے مسکراہٹ بھی رخصت ہو گئی ہے۔

ایک طرف اس قسم کے ’’عوام نامے ‘‘ ہیں تو دوسری طرف سیاست نامے میں بڑے ناموں نے مسلم لیگ ن کے سامنے سرنگوں ہونا شروع کر دیا ہے ۔سابق وزیر اعظم میر ظفر اﷲجمالی بھی غیر مشروط طور پر مسلم لیگ ن میںشامل ہو گئے ۔جنرل مشرف کے دور میں اُن کی وزارت عظمیٰ کے حوالے سے بہت سے یادیں بھی ہیں ۔ہمارے خیال میں جنرل صاٖ حب کو اپنا’’ باس‘‘ کہنا سب ناقابل ِ فراموش ہے ۔کیا وہ میاں نواز شریف کو بھی یہ درجہ دیں گے ؟یہ بھی کہا جاتا ہے کہ Boss Is Always Right۔معاف کیجئے گا ! ہماری سیاست میں اس قسم کی سوچ سے اکثر ’’لیفٹ رائٹ ‘‘کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔جمالی صاحب کی حد درجہ ’’عاجزی‘‘ کے ہوتے ہوئے بھی اُنہیں سابق وزیراعظم بنا دیا گیا ۔کہا جاتا ہے کہ اُن دنوں اُن کا جدہ میں میاں نوازشریف سے ملنا وزارت عظمیٰ سے بچھڑنے کا سبب بن گیا ۔بہر کیف اس کے چند ماہ بعد تک بھی واپسی کی خوش فہمی میں وہ جنرل صاحب کو باس ہی کہتے رہے۔
سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ارباب رحیم صاحب نے بھی شاید میر ظفر اﷲجمالی سے متاثر ہو کر اپنی جماعت پیپلز مسلم لیگ کو مسلم لیگ ن میں ضم کردیا ہے ۔اس دوڑ میںمرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پارٹی اُن سے آگے رہی ۔الیکشن سے پہلے میاں نواز شریف سندھ کے دورے پر دورے کرتے تھے ۔اب اُن کی جگہ میاں شہباز شریف صاحب نے لے لی ہے ۔اُن کے اعلانات سے ایسا لگتا ہے کہ سندھ میں بھی مسلم لیگ ن کی حکومت بنے گی ۔پیپلز پارٹی تو وہاں حکومت بنانے کے لئے کسی پارٹی کی بھی محتاج نہیں ۔ اس پر اُن کی جانب سے یہ کہنا کہ ’’سندھ میں جس کی بھی حکومت بنی …’’بھی ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟سندھ کی جماعتوں کے ن لیگ میں ضم ہونے کا سلسلہ … کیاایک بار سے وہاں کے صوبے کے منڈیٹ کو توڑنے کا پروگرام بن چکا ہے ؟کہیں مسلم لیگ ن تھوڑی کے چکر میں پوری سے بھی نہ جا ئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست کا ایک نام گرگٹ کی طرح سے رنگ بدلنا بھی ہوتاہے ۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جس کے ہاتھ میں ’’پینٹ اور بُرش‘‘آجائے ،وہ رنگ بازی کرتا پھرے۔کہنے کو ہم نے لکھ دیا لیکن ہمارے یہاں کے زمینی حقائق …اس کا حتمی فیصلہ اسلام آباد کی ’’رنگ رلیاں‘ ‘ہی کر سکتی ہیں۔
پیپلز پارٹی میں فرینڈلی اپوزیشن بننے کے حوالے سے اندر ہی اندرایک سمندر بنتا جا رہا ہے ۔ سینیٹر جناب اعتزاز احسن سمیت پارٹی کی پنجاب کی لیڈر شپ اس کی شدید مخالف ہے ۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو آئندہ الیکشن میں ہمیں اُمیدوار بھی مشکل سے ہی مل سکیں ۔دوسری طرف سندھ کی لیڈرشپ کی رائے اس سے باالکل الٹ ہے ۔سندھ میں پیپلز پارٹی حکمران جماعت کے طور پر ہو گی ۔معاف کیجئے گا!حکمران طبقہ یہاں ہو یا وہاں ،اِ ن کے چلن ایک جیسے ہوتے ہیں ۔یہ کچھ دیکھ کر دل اور دماغ کے درمیان بھی دوریاں ،مجبوریاں ،محرومیاں وغیرہ وغیرہ بڑ ھ جانے کا ڈر تو رہے گا ۔ہمارے نزدیک آخری فتح دل والوں کی ہی ہوتی ہے ۔پنجاب اسمبلی میں اس پیپلز پارٹی کے پاس صرف 6نشستیں ہیں ، جبکہ پچھلی پارلیمنٹ میں یہ تعداد 106 تھی ۔قارئین کی اطلاع کے لئے 1997 کے الیکشن نتیجے میںیہ صرف ایک تھی ۔شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اُن دنوں کہا تھا کہ ’’اگرا سٹیبلشمنٹ نے ہی حکومتیں بنانا اور گرانا ہیں تو وہ خود الیکشن کیوں نہیں لڑ لیتی ‘‘۔اس الیکشن میں تو یہ بات ہماری سرحدوں سے بھی بہت دور تک نکل گئی ۔
قارئین کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ 1997 کے الیکشن کے بعد ہی میاں شہباز شریف کو پنجاب کی کُنجی ملی ۔چند ہفتوں کی خاموشی کے بعد شہید رانی نے میاں برادران کو للکارنا شروع کر دیا ۔اُن دنوں میاں نواز شریف وزیراعظم اور میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ اُن دنوں وفاقی حکومت اندھا دھند نجکاری کر رہی تھی ۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے چوہدری اعتزاز احسن کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہو ئے یہ تاریخی جملہ بھی کہا کہ ’’ایک بھائی بیچ رہا ہے اور دوسرا بھائی اُسے خرید رہا ہے ‘‘۔ شہید رانی کی سیاست کا واحد ایجنڈا عوام کی زندگی میں رنگ بھرنا تھا اور ایک شام …لیاقت باغ(راولپنڈی ) میں اُن کے لہو کا رنگ اس بات کی گواہی دے رہا تھا ۔کیا پارٹی اُن کے دُکھ کو بھی بھول گئی ہے؟حرف ِ آ خر میاں صاحب کی پہلی آزمائش لوڈ شیڈنگ میں کمی اور پھراُ س کا خاتمہ ہے ۔ g
نوٹ !کالم نگار پاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *