نہ ختم ہونے والی جنگ

میگھناد دیسائی
p-4bسرد جنگ کے خاتمے کے بعد بہت سارے لوگوں نے سوچا کہ اب پُر امن دور کی شروعات ہوگی۔ امن کے لیے کس نے کتنی کوشش کی، اس بارے میں بات ہونے لگی، لیکن ایک جنگ کے ختم ہونے کے فوراً بعد دوسری جنگ شروع ہو گئی اور یہ جنگ تھی دہشت گردی کے خلاف۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ امریکہ کا ہمیشہ سے کوئی نہ کوئی دشمن رہا ہے، اس لیے اس نے ایک نئی جنگ کھوج نکالی۔ مگر ناقدین نے اس کی تاریخ صحیح طریقے سے نہیں پڑھی تھی۔ حال ہی میں جس طرح سے اس کے فوجیوں کا قتل کیا گیا، اس نے ایک بار پھر سے تاریخ کی طرف دیکھنے کا موقع دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی نئی نہیں ہے، اسے سمجھنے کے لیے سو سال پہلے کی تاریخ میں جانے کی ضرورت ہے۔ بیسویں صدی کی تاریخ کو جاننے کاواحدراستہ یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے ذریعے پیدا ہونے والے مسائل سے پردہ اٹھایا جائے، جو 94 سال پہلے کا واقعہ ہے۔ پہلا معاملہ جرمنی کے ساتھ پیش آیا، جس کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ لیکن پہلی جنگ عظیم کے وقت ایسٹر اپرائزنگ ہوا، جس کے سبب سلطنت برطانیہ کی تقسیم کی ابتدا ہوگئی۔ اس کے اگلے تیس سالوں میں ہندوستان سے سلطنت برطانیہ کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی 1918 میں دولتِ عثمانیہ بھی تحلیل ہو گئی تھی، جس سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل ابھی تک نہیں نکل پایا ہے۔ جنگ کے وقت برطانیہ اور فرانس کے بیرونی ممالک میں واقع دفتروں نے ایک خفیہ معاہدہ (سائکس پکوٹ پیکٹ) کیا تھا۔ اس معاہدے نے برطانیہ اور فرانس کی نگرانی میں دولتِ عثمانیہ کو ملکوں میں بانٹ دیا اور پہلی بار یروشلم غیر مسلم کے قبضے میں چلا گیا۔ شام اور لبنان کو فرانس کی نگرانی میں رکھا گیا۔ اردن اور عراق برطانیہ کی کھوج تھے، لہٰذا فلسطین کی ذمہ داری برطانیہ کو دے دی گئی۔
اس صورتحال سے ہندوستان بھی متاثر ہوا اور گاندھی جی نے خلافت تحریک کی حمایت کی۔ پہلی بار ہندو اور مسلم دونوں نے مل کر برطانیہ کی مخالفت کی اور وہ بھی کسی گھریلو مدعے پر نہیں، بلکہ استنبول کے مدعے پر مخالفت کی۔ چوری چورا کے واقعہ کے بعد عدم تعاون تحریک ملتوی کر دی گئی اور خلافت کو اپنے آپ ختم کردیا گیا اوراس کا خاتمہ برطانیہ کے ذریعے نہیں، جس کا ڈر گاندھی جی کو تھا، بلکہ کمال اتا ترک کے ذریعے خلافت کو ختم کردیاگیا۔ چنانچہ ہندو مسلم اتحاد ٹوٹ گیااور پھر کبھی یہ اتحاد قائم نہیں ہوسکا۔ ملک کی تقسیم اسی ترتیب میں رکھنی چاہیے، کیونکہ خلافت تحریک کے بعد مسلمانوں کو اپنی حالت کا اندازہ ہوا، اس سے پہلے تووہ استنبول کو ہی اقتدار کا مرکز مانتے تھے۔ پاکستان صرف جنوبی ایشیا کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ مغربی ایشیا، وسطی مشرقی ایشیا کی مشرقی سرحد بھی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جڑ مشرق وسطیٰ کے اسی بٹوارے میں ہے۔ فلسطین اسرا ئیل تنازعہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک پہلو ہے، جس میں مسلمان اس تنازعہ کے لیے برطانیہ اور امریکہ پر الزام لگاتے ہیں۔ 1945 کے بعد مشرق وسطیٰ میں سیکولر حکومت، یہاں تک کہ سماجوادی حکومت کا دور بھی آیا تھا، لیکن تین بار اسرائیل سے عرب کے ہارنے کے بعد، عرب نے سیکولر نظریہ کو چھوڑ دیا اور پرانی راہ کی طرف لوٹ آیا۔ سعودی عرب میں تیل سے آنے والے پیسے سے وہابی تحریک کو مغربی ایشیا کے مسلم ممالک میں پھیلایا گیا۔ اب بدلہ لینے کا وقت تھا۔ اسامہ بن لادن کا نظریہ اس بارے میں صاف تھا۔ وہ اپنے جہاد کو خلافت کے ٹوٹنے اور یروشلم کو ناپاک کرنے کے خلاف کارروائی مانتا تھا۔ وہ سعودی عرب میں امریکی فوج کے سبب افسردہ تھا، جہاں مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہر ہیں۔ سوویت یونین کی افغانستان کے ساتھ لڑائی نے طالبان اور القاعدہ کو امریکی وسائل کا استعمال کرکے مضبوط کرنے کا موقع دیا۔ جب سوویت یونین افغانستان سے چلا گیا، تو ان کی توجہ امریکہ اور اس کے ساتھیوں کی طرف گئی۔ ہندوپاک نے امریکہ کا ساتھی بننا طے کیا اور انھیں دہشت گردی کا شکار ہونا پڑا۔ یہی صورتحال مملکت برطانیہ کی بھی ہے۔ گزشتہ بیس سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ یہ نوے کی دہائی میں پہلی بار ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ، امریکہ اور کینیا میں بم گرائے جانے سے شروع ہوئی۔ کئی مجاہدین، جنھیں مسلم تنظیموں نے تربیت اور ہتھیار دیے تھے، سرحد پارکرکے کشمیر پہنچے اور ہندوستان میںحملے کیے۔ ہم لوگ یو ایس اے میں 9/11، لندن میں 7/7 اور میڈرڈ، بالی اور کئی دیگر جگہوں پرہوئے بم دھماکے کے واقعے کے گواہ ہیں۔ حال ہی میں لندن میں ہوا ایک فوجی کے قتل کا واقعہ، اسی سلسلے کا ایک باب ہے۔ یہ لڑائی جلدی ختم نہیں ہوگی۔ ہندوستان بھی اس جنگ کا اسی طرح حصہ بنا ہوا ہے، جیسے کہ یو کے یا یو ایس اے اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *