مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کی ذمہ داری صرف حکومت ہے

وسیم احمد
مسلمانوں کو نظر انداز کرکے ملک ترقی نہیں کرسکتا ،تعلیمی میدان میں مسلم طلباء کو آگے آنے کی ضرورت ہے‘ ‘ ۔یہ بیان ہے نائب صدر جمہوریہ محترم حامد انصاری صاحب کا ۔ انہوں نے ممبئی میں دو روزہ مسلم تعلیمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔نائب صدر جمہوریہ نے بظاہر واضح الفاظ میں ممبئی یونیورسٹی کے وسیع ہال میں کہہ تو دیا کہ ہندوستان اپنی سب سے بڑی اقلیت کو ترقی میں شامل کئے بغیر اور سماجی ،سیاسی اور اقتصادی شعبہ میں قوم کے اصل دھارے سے اقلیت کو پوری طرح مربوط کئے بغیر، ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے نہیں ابھر سکتا،مگر حامد انصاری صاحب سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس وقت بھی وہ نائب صدر تھے جب پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ نے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے ہنگامہ کیا تھا۔ آپ نے اس وقت اگر اس رپورٹ کو لاگو کرادیا ہوتا اور اس رپورٹ پر عمل ہوجاتا تو آج مسلمانوں کی پسماندگی کی شرح یہ نہ ہوتی ۔ اس وقت بھی حامد انصاری صاحب سے گزارش کی گئی تھی کہ یہ رپورٹ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت اہم ہے۔ اسی رپورٹ میں ان کی معاشی ، تعلیمی اور اقتصادی حالت کا حل پوشیدہ ہے۔ تو آج ان کو یہ کہنے کی نوبت نہیں آتی۔ آج بھی ہمارے لیڈران زبانی جمع خرچ پر تلے ہوئے ہیں۔
اب جبکہ الیکشن کا بگل بجنے ہی والا ہے ۔2014 کی آمد آمد ہے ۔ اب پھر سے مسلمانوں کو رجھانے اور الجھانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ سبھی لیڈران بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کو کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو کانگریس ، سماجوادی ،بی جے پی کی ضرورت نہیں ہے۔ خود ان سبھی پارٹیوں کو مسلمانوں کی ضرورت ہے۔ہاں! مسلمانوں کو اگر ضرورت ہے تو وہ ہے روزگار، تعلیم اور ریزرویشن کی۔ مسلمانوں کو ضرورت ہے خصوصی پیکج کی، مسلمانوں کو ضرورت ہے سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر عمل در آمد کی۔ مسلمانوں کو ضرورت ہے اس مقابلہ جاتی دور میں مقابلوں میں شامل ہونے اور کامیاب ہونے کی اور ان سب کی ذمہ داری صرف اور صرف حکومت پر ہے۔ حکومت اگر خصوصی سہولیات فراہم کرکے مسلمانوں کی تعلیمی ،معاشی اور اقتصادی ترقی کی طرف دھیان نہیں دے گی تو دلتوں سے بھی بد تر اس قوم کو گندے غلیظ گڈھوں میں دھکیلنے کی ذمہ داری بھی حکومت کو ہی اٹھانی ہوگی۔ مسلمانوں کو حکومت کی طرف سے اس طرح مدد ملے کہ وہ اپنے آپ کو موجودہ سماجی، معاشی بدلائو میں شامل کرسکیں۔ با ر بار ہماری تنظیمیں یہ سوال کر رہی ہیں کہ یوپی ایس سی امتحان میں مسلمان کئی سالوں سے صرف 30سے33 ہی سیٹیں لا رہے ہیں، جبکہ کامیاب امیدواروں کا گراف بڑھتا جارہاہے، مگر ہم وہیں ہیں، جہاں کئی سالوں سے کھڑے تھے۔ اس کی وجہ صرف میٹنگیں کرکے ہی پتہ نہیں چلے گی،بلکہ ان مقابلوں میں مسلمان کمپیٹ کرسکتا ہے،اس کا اندازہ لگانا ،اس کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا،اس کے لئے پالیسی بنانا ضروری ہے۔حال ہی میں کے رحمن خاں صاحب نے پورے ملک کے سول سروسز ادارے جو آئی پی ایس اور آئی اے ایس کی تیاری کرا رہے ہیں ، ان سبھی کی میٹنگ کرکے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ملک میں مسلم طلباء کی تعداد یوپی ایس سی میں کامیاب ہونے والوں میں اتنی کم کیوں ہے؟بیشک رحمن خاں صاحب کا یہ قدم قابل تعریف ہے اور خدا کرے یہ جذبہ سچا اور نیک ہو ، مگر ہمارے ساتھ ہمیشہ ہی کھلواڑ ہوا ہے۔ ہم اب اس مقام پر آگئے ہیں جہاں کوئی اپنا نظر نہیں آتا۔

ہم اب اس مقام پر آگئے ہیں جہاں کوئی اپنا نظر نہیں آتا۔الیکشن کے وقت یوپی اے سرکارکے وزیر برائے اقلیتی امور کا اس طرف توجہ دینا شک و شبہ پیدا کررہا ہے،لیکن پھر بھی کہتے ہیں ’لڈو ٹوٹے گا توبورا تو جھڑے گا ہی‘تو چاہے الیکشن کے لئے مسلمانوں کو رجھانے کا یہ قدم ہو،مگر اس سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوگا ہی اور ہم اسی لئے بھی مثبت سوچ رکھتے ہوئے اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں کہ پہلی بار اس طرح کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔

الیکشن کے وقت یوپی اے سرکارکے وزیر برائے اقلیتی امور کا اس طرف توجہ دینا شک و شبہ پیدا کررہا ہے،لیکن پھر بھی کہتے ہیں ’لڈو ٹوٹے گا توبورا تو جھڑے گا ہی‘تو چاہے الیکشن کے لئے مسلمانوں کو رجھانے کا یہ قدم ہو،مگر اس سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوگا ہی اور ہم اسی لئے بھی مثبت سوچ رکھتے ہوئے اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں کہ پہلی بار اس طرح کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ کسی اقلیتی امور کی وزارت کا یہ قدم چاہے کسی بھی پالیسی کے تحت لیا گیا ہو، مگر اس سے بالواسطہ فائدہ مسلمانوں کو ہی ہوگا، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا سول سروسز امتحانات میں یہ تعداد سالوں سے 30،33 کے درمیان ہے۔ 2009 میں مجموعی کامیاب 791 تعداد طلباء میں سے مسلم طلباء 31 تھے،2010 میں 875 کامیاب طلباء میں سے صرف 21 مسلم طلباء شامل تھے۔2011 میں 910 مجموعی طلباء میں سے 30 مسلمان تھے۔2012 میں 998 میں سے مسلم طلباء کی تعداد 31 تھی اور 2013 میں یہ تعداد صرف 33 ہے۔ظاہر ہے پانچ سالوں میں یہ تعداد لگاتار اسی ہندسے کے آس پاس اٹکی ہوئی ہے ۔ ایسے میں حکومت سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ ان مقابلوں میں مسلمان کیسے کمپٹیشن کرسکتا ہے،جب کہ وہ مقابلوں کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا ۔اعلیٰ ذات اور دولت مند مسلما نوں کی بات نہیںہے۔ ان کے بچے تو کر ہی لیں گے،مگر سوال ہے مڈل کلاس کے مسلمانوں کا ۔ سوال ہے نچلے طبقے کے مسلمانوں کا،لیکن جب حکومت سب کو برابر کے مواقع فراہم کر رہی ہے تو پھر مسلمان کیوں پچھڑا ہواہے۔اس کا جواب تو یہی ہے کہ سرکار کی پالیسی ہی ایسی ہے ،جس سے مسلمان مقابلہ جاتی دوڑ میں پچھڑ گیا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ اسے ان مقابلوں کے لائق بنائے۔سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا رپورٹ لاگو کرے۔ مسلم اداروں کو خصوصی رعایتیں دے۔ مسلم طلباء کو خصوصی وظائف دے۔ یہ دونوں رپورٹ الماری میں پڑی سڑ رہی ہیں ۔انہیںلاگوکرایا جائے۔انہیں سامنے لایا جائے۔ ان پر عمل درآمد ہو۔ ’چوتھی دنیا‘ نے پہلی بار اس رپورٹ کو چھاپاتھا اور پارلیمنٹ میں ممبران نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر یہ سوال کیا تھا کہ کیوں ان سفارشات کو لاگو کرنے کے لئے حکومت پر دبائو نہیں ڈالا گیا۔اسی وقت کم سے کم اتنا تو کیا جا تا کہ حکومت سے سوال ہوتا کہ اصل رپورٹ کیا ہے۔یہ وہ رپورٹ تھی جو حکومت کئی سالوں سے دبائے بیٹھی تھی اور اس میںمسلمانوں اور عیسائیوں کو ریزرویشن دینے کی بات کہی گئی تھی۔ کمیشن 2007 میں یہ رپورٹ سونپ چکا تھا۔’چوتھی دنیا‘ نے بڑے حوصلے سے یہ رپورٹ شائع کی تھی اور اس وقت سبھی پارٹیوں سماجوادی، راشٹریہ جنتا دل،لوک جن شکتی پارٹی،کمیونسٹ پارٹی کے ممبران نے خوب ہنگامہ کیا ،لیکن اس کے بعد کئی سیشن ہوئے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اب 2013 میں 6 سال بعد مسلمانوں کی حالت اور بھی بد تر ہوگئی ہے۔ ایسے میں مسلمان سرکاری نوکریوں میں کہاں سے آپائیں گے۔ سلمان خورشید 9فیصد ریزرویشن کی بات تو کرتے ہیں ، مگر صرف انتخابی مدعا بنانے کے لئے، مگر خود ڈی پی ایس سوسائٹی کے کرتا دھرتا ہوکر انہوں نے مسلم بچوں کے لئے کیا کیا،کتنے ایڈمیشن دیے ڈی پی ایس میں۔اگر کوئی مسلم بچہ نرسری سے بہتر اسکول میں پڑھے گا تو وہ یقینا اتنا ہی ذہین ہوگا اور بہتر نمبر لائے گا جتنے دوسرے طالب علم لاتے ہیں، مگر اس غریب کو ایڈمیشن ملے گا تب نا۔ظاہر ہے اب پھر الیکشن آنے والے ہیں ۔پھر سلمان خورشید اور حکومت مسلمانوں کو لالی پاپ دے گی ،مگر اب یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلمان صرف استعمال کرنے کی چیز نہیں ہے۔
آج کل بڑے زورو شور سے مولانا محمد علی جوہر نیورسٹی کو اقلیتی کردار دینے کا خیر مقدم کیا جارہا ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو یہ کردار نہ ملنے پر زبردست بحث و مباحثہ و غم و غصہ ہے، مگر میری ناقص عقل تو یہ کہتی ہے کہ کسی انسٹی ٹیوٹ ،کسی ادارے یا یونیورسٹی کو اقلیتی کردار سے زیادہ ضرورت ہے آئی آئی ٹی سیکٹر میں مسلمانوں کے لئے مخصوص سیٹیں، ایمس اور میڈیکل میں مسلمانوں کے لئے ریزرویشن اور بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی۔مسلمانوں کے سرٹیفکیٹ کی اتنی ہی اہمیت ہونی چاہئے، جتنی کسی دوسرے طالب علم کی۔ وہ جب اپنا سرٹیفکیٹ، اپنی سند لے کر کہیں نوکری کے لئے جائے تو اسے حقیر سمجھ کر اس کی سند کو نظر انداز نہیں کیا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم کے طالب علم کو تو ایک لاکھ روپے مہینے کی نوکری ملے اور علی گڑھ ،جامعہ یا کسی دوسرے اقلیتی ادارے سے تعلیم یافتہ نوجوان کو دس ہزار کی نوکری ملے۔اگر ہمارا مسلم نوجوان ان مقابلوں کو نہیں کرسکتا تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لئے ساری سہولیات فراہم کرکے ان کو اس مقابلہ آرائی کے لائق بنائے۔ ہمارے مسلم لیڈران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر آج ہمارا نوجوان پچھڑ جائے گا تو ہمیشہ کے لئے اس کا مستقبل کھو جائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *