کوئلہ گھوٹالہ: کیا منموہن سنگھ جیل جا سکتے ہیں؟

ڈاکٹر قمر تبریز 
p-5پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ کیسے یو پی اے سرکار کے وزیر قانون، اشونی کمار کو کوئلہ گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ رپورٹ میں چند تبدیلیاں کرنے اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام ہٹوانے کی کوششوں کی وجہ سے اپنے عہدہ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت اور اس کے وزرا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو خاص ہدایت دی کہ اسے جانچ کی رپورٹ سرکار کے کسی بھی وزیر کو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے اور ایسے کسی وزیر کو تو ہرگز بھی نہیں، جس کے خلاف خود معاملے کی جانچ چل رہی ہو۔
اب ایک بار پھر سرکار کی طرف سے سی بی آئی جانچ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سی بی آئی نے یو پی اے سرکار کو ایک خط لکھ کر سابق کوئلہ سکریٹری، ایچ سی گپتا سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت مانگی، لیکن منموہن سرکار نے اسے ٹھکرا دیا۔ مسٹر گپتا اِن دنوں کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا کے ایک رکن ہیں۔
1971 بَیچ کے یو پی کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر، ایچ سی گپتا کو 2 جنوری، 2006 کو پی سی پارکھ کے ریٹائرمنٹ کے بعد کوئلہ سکریٹری بنایا گیا تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک میں 26 لاکھ کروڑ کا کوئلہ گھوٹالہ 2006 سے 2009 کے درمیان ہی ہوا تھا، جب اُس وقت کے وزیر کوئلہ شیبو سورین کے جیل میں ہونے کی وجہ سے اس وزارت کو وزیر اعظم اعظم منموہن سنگھ خود دیکھ رہے تھے۔ ان دِنوں کوئلہ بلاکوں کی تقسیم پی ایم او کی طرف سے مقرر کردہ ایک اسکریننگ کمیٹی دیکھ رہی تھی، جس کی نگرانی اُس وقت کے کوئلہ سکریٹری، ایچ سی گپتا کر رہے تھے۔ یہ اسکریننگ کمیٹی تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیسے کوئلہ کانوں کی بندر بانٹ کر رہی تھی، اس کا اندازہ اس وقت مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کوئلہ سکریٹری، مسٹر گپتا پی ایم او کو بار بار خط لکھ کر آگاہ کر رہے تھے کہ کوئلہ کانوں کی تقسیم میں نیلامی کا طریق کار اپنایا جانا چاہیے، جیسا کہ قانون ہے، لیکن پی ایم او نے ان کی باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا اور ان کی تجویزوں کو ہر بار ٹھکراتا رہا۔ اب، جب کہ سی بی آئی کوئلہ گھوٹالے کی جانچ کر رہی ہے، تو وہ مسٹر گپتا سے ان تمام واقعات کی تفصیل جاننا چاہتی ہے، لیکن سرکار ہے کہ بے شرمی کے تمام ریکارڈ توڑ دینا چاہتی ہے۔ اس نے سی بی آئی کی مسٹر گپتا سے پوچھ گچھ کی درخواست کو ٹھکرا دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کوئلے کی کانوں کی نیلامی کرانے کی کوئلہ سکریٹری کی صلاح کو وزیر اعظم کے دفتر نے کیوں نظر انداز کیا؟ اس کے علاوہ اس بات کی بھی جانچ ہونی چاہیے کہ پی ایم او میں بیٹھے کس آدمی نے یا کس افسر نے کوئلہ سکریٹری کی رائے کو رجیکٹ کیا۔ ملک کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم کے دفتر نے یہ فیصلہ کس قانون کے تحت کیا۔

یہ بات ہے 2006-2007 کی جب شیبو سورین جیل میں تھے اور وزیر اعظم خود ہی کوئلہ کے وزیر تھے۔ اس مدت میں داسی نارائن اور سنتوش باگڈودیا وزیر مملکت تھے۔ وزیراعظم کی قیادت میں کوئلہ کے ترمیم شدہ علاقوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ تیزی سے تقسیم کیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ کوئلے کی کانیں صرف 100 روپے فی ٹن کی کوئلے کی معدنیات پر رائلٹی کے عوض میں بانٹ دی گئیں۔ ایسا اس وقت کیا گیا جب کوئلے کی بازاری قیمت 1800 سے 2000 روپے فی ٹن سے اوپر تھی۔ جب پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں کچھ ممبران پارلیمنٹ نے ہنگامہ کیا، تب شرمندہ ہو کر حکومت نے کہا کہ مائنس اور منرل (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 1957 میں ترمیم کی جائے گی اور تب تک کوئی بھی کوئلے کی کان نہیں الاٹ کی جائے گی۔ 2006 میں یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور یہ مانا گیا کہ جب تک دونوں ایوان اسے منظوری نہیں دے دیتے اور یہ بل پاس نہیں ہو جاتا، تب تک کوئی بھی کوئلے کی کان الاٹ نہیں کی جائے گی۔ لیکن یہ بل چار سال تک لوک سبھا میں جان بوجھ کر التوا میں رکھا گیا اور 2010 میں ہی یہ قانون میں تبدیل ہوپایا۔ اس درمیان پارلیمنٹ میں کیے گئے وعدے سے حکومت منحرف ہوگئی اور کوئلے کے بلاک بانٹنے کا گورکھ دھندہ چلتا رہا۔ دراصل اس بل کو التوا میں رکھنے کی سیاست بہت گہری تھی۔ اس بل میں صاف صاف لکھا تھا کہ کوئلے یا کسی بھی معدنیات کی کانوں کی عام نیلامی ضابطے سے کی جائے گی۔ اگر یہ معاملہ التوامیں نہ رہتا، تو حکومت اپنے چہیتوں کو مفت میں کوئلہ کیسے تقسیم کر پاتی؟ اس مدت میں تقریباً 21.69 بلین ٹن کوئلے کی پیداواری صلاحیت والی کانوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے دلالوں اور سرمایہ داروں کو مفت دے دیا گیا۔ اس درمیان وزیراعظم بھی کوئلہ کے وزیر رہے اور سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں کے نیچے سب سے زیادہ کوئلے کے بلاک بانٹے گئے، وزیراعظم نے تو حد ہی کردی، جب انہوں نے کل 63 بلاک بانٹ دیے اور ان 4سالوں میں تقریباً 175 بلاک آناً فاناً میں سرمایہ داروں اور دلالوں کو مفت میں دے دیے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے چوتھی دنیا نے بتایا تھا کہ ملک میں 26 لاکھ کروڑ کا کوئلہ گھوٹالہ ہوا ہے۔ یہ ایسا گھوٹالہ تھا، جس نے ہندوستان میں اب تک ہونے والے گھوٹالوں کے تمام ریکارڈ کو توڑ دیا۔ پہلے تو کسی نے چوتھی دنیا کی اس رپورٹ پر دھیان نہیں دیا، لیکن پچھلے سال جب سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ہاں، کوئلہ گھوٹالہ ہوا ہے، تب جاکر سب کو یقین ہوا۔ لیکن سی اے جی نے اس گھوٹالے کو کم کرکے دکھایا اور بتایا کہ کوئلہ کے بلاکوں کی تقسیم میں ہونے والی گڑ بڑی سے ملک کے خزانے کو 10.67 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے برعکس ’چوتھی دنیا‘ اب بھی اس بات پر قائم ہے کہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جن دنوں وزارتِ کوئلہ دیکھ رہے تھے، ان دنوں کوئلے کی کانوں کی تقسیم میں ہونے والی گڑبڑیوں کی وجہ سے ملک کو 26 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ہوا۔چونکہ کوئلہ بلاک کی تقسیم میں جن دنوں گڑبڑی ہوئی، اس وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ ہی اس وزارت کو دیکھ رہے تھے، لہٰذا انہیں اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے اب تک ایسا نہیں کیا ہے اور پوری کانگریس پارٹی اب بھی انہیں ایماندار اور صاف ستھرا لیڈر ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سی بی آئی کوئلہ گھوٹالے کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کر پائے گی، وہ بھی اس وقت جب منموہن سنگھ خود وزارتِ عظمیٰ کے عہدہ پر قائم ہیں؟

 1993 سے لے کر 2010 تک 208 کوئلے کے بلاک بانٹے گئے، جو کہ 49.07 بلین ٹن کوئلہ تھا۔ ان میں سے 113 بلاک پرائیویٹ سیکٹر میں 184 پرائیویٹ کمپنیوں کو دیے گئے، جو کہ 21.69 بلین ٹن کوئلہ تھا۔

اگر بازار کی قیمت پر اس کا اندازہ لگایا جائے تو 2500 روپے فی ٹن کے حساب سے اس کوئلے کی قیمت 5,382,830.50 کروڑ روپے نکلتی ہے۔ اگر اس میں سے1250 روپے فی ٹن کاٹ دیا جائے، یہ مان کر 850 روپے پیداوار کی قیمت ہے اور 400 روپے منافع، تو بھی ملک کو تقریباً 26 لاکھ کروڑ روپے کا مالی خسارہ ہوا۔

 2006-2009 کے درمیان 17 بلین ٹن کوئلہ پرائیویٹ کمپنیوں کو دیا گیا۔ سی بی آئی کے مطابق، اگر اسے 50 روپے فی ٹن کی کم از کم قیمت پر بھی بیچا گیا ہوتا تو 850,000 کروڑ کا فائدہ ہوتا۔
 بازار میں کوئلہ کی قیمت 2500 روپے فی ٹن ہے۔ 2006-2009 کے درمیان تقسیم کیے گئے کوئلے کو اگر اس قیمت پر بیچا گیا ہوتا تو ملک کو 42 لاکھ 50 ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہوتا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *