خالد مجاہد کا قتل: اور کتنے بے گناہ بھینٹ چڑھیں گے

وسیم راشد 

گھاٹ کوپر بم بلاسٹ 2003 کے الزام میں سافٹ ویئر انجینئر خواجہ یونس کی پولس حراست میں موت، یروڈہ جیل میں 8 جون 2012 کو بہار کے قتیل صدیقی کا قتل، ماہِ مئی کے آغا ز میں تہاڑ جیل کے اندر 27 سالہ جاوید کی ہلاکت اور اب جونپور کے خالد مجاہد کی اچانک پراسرار موت کی خبر نے کئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔

Mastتیئس ومبر2007 میں لکھنؤ، وارانسی اور فیض آباد میں صرف 25 منٹ کے وقفے میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں 15 افراد سے زیادہ ہلاک اور 50 سے زیادہ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔ ریاست اترپردیش میں ہونے والے ان سیریل بم دھماکوں نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا تھا اور پھر اس کے بعد وہی ہوا، جو ہر دھماکے کے بعد ہوتا ہے، یعنی مسلمانوں کی دھر پکڑ اور بم دھماکے کا مجرم بنا کر جیلوں میں بند کیے جانے کا سلسلہ۔ اس سیریل بم دھماکے کے الزام میں پولس نے اعظم گڑھ سے طارق قاسمی اور جونپور سے خالد مجاہد کو گرفتار کر لیا۔ 14 مارچ، 2008 کو اترپردیش کے اس وقت کے ڈی جی پی وکرم سنگھ نے چیف سکریٹری اترپردیش کو خط لکھ کر عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد اس وقت کی مایاوتی حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے ریٹائرڈ جج آرڈی برمن نمیش کی قیادت میں نمیش کمیشن کی تشکیل کی اور اس ایک رکنی کمیشن کو 6 ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا۔ کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے میں 6 ماہ سے زیادہ کا وقت لگ گیا اور 2012 میں جب اس نے اپنی یہ رپورٹ پیش کی، تو یو پی میں حکومت بدل چکی تھی۔ اب یو پی میں مایاوتی کی نہیں، بلکہ اکھلیش سنگھ کی حکومت تھی۔نمیش کمیشن نے اپنی جو رپورٹ اتر پردیش حکومت کو پیش کی، اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ خالد مجاہد اور طارق قاسمی کی گرفتاری غیر قانونی تھی۔ نمیش کمیشن نے ملزمین کی گرفتاری میں شامل رہے یوپی پولس کے اے ٹی ایس کے افسران کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی۔ تفتیش کے دوران کمیشن کے سامنے گرفتار ملزمین کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ طارق قاسمی کو 12 دسمبر 2007 کو اعظم گڑھ کی محمود پور پولس چوکی کے پاس سے گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ خالد مجاہد کو اس کے چار دن بعد جونپور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گائوں کے عینی شاہدین نے بھی اس بات کی گواہی دی، جبکہ پولس کہتی ہے کہ اس نے 22 دسمبر، 2007 کو اسے بارہ بنکی سے گرفتار کیا ہے۔ طارق اور خالد دونوں کے اہل خانہ نے اغوا اور مشتبہ حالت میں غائب ہونے کے بارے میں ایف آئی آر کی کاپی کمیشن کے سپرد کی تھی۔ دونوں کے اچانک غائب ہوجانے کے بعد اہل خانہ کئی دنوں تک انہیں تلاش کرتے رہے، مگر انہیں کامیابی نہیں ملی۔ پولس کے خلاف مقامی لوگوں کی طرف سے کیے گئے احتجاجی مظاہرے کے فوٹو بھی کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان دونوں کواے ٹی ایس کے دعوے کے بر خلاف ایک ہفتہ پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس دوران پولس کی حراست میں انہیں زبردستی دہشت گردانہ دھماکوں میں شامل ہونے کا اقبال کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ظاہر ہے کمیشن نے اے ٹی ایس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا جو مشورہ دیا تھا، اسی نے خالد مجاہد کی موت کو طے کردیا تھا، ورنہ خالد کے وکیل محمد شعیب کے بقول وہ فیض آباد جیل میں ساڑھے تین بجے تک خالد کے ساتھ تھے اور خالد پوری طرح صحت مند تھے۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو سلام بھی بھیجوایا تھا اور اس سے بھی ایک اہم بات یہ کہ وہ فیض آباد میں کرتا و پائجامہ میں تھے اور ہمیشہ ہی کرتا پائجامہ پہنا کرتے تھے، مگر جب ان کی لاش گھر لائی گئی، تو ان کے جسم پر ٹی شرٹ اور لوور تھا، جسے خالد کبھی نہیں پہنتے تھے۔ وہ ایک شرعی آدمی تھے اور ہمیشہ کرتا پائجامہ میں ہی رہتے تھے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے سامان میں بھی کہیں کرتا و پائجامہ نظر نہیں آیا۔ یہ تمام باتیں یقینا اس بات کی علامت ہیں کہ نمیش کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اور اے ٹی ایس پر شک کی سوئی گھومنے کے بعد خالد مجاہد کا وجود پولس اور اترپردیش کی اے ٹی ایس کے لیے خطرہ کا سبب بن گیا تھا۔ اتر پردیش حکومت کے گلے میں وہ ہڈی پھنس گئی تھی، جس کو نہ نگلنے بن پڑ رہا تھا نہ اگلتے، کیونکہ کمیشن کی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے، جب تک نمیش کمیشن رپورٹ کو ایکشن ٹیکن رپورٹ کے ساتھ اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاتا، تب تک اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور اسی لیے خالد مجاہد کو قتل کردیا گیا، تاکہ پولس افسران کارروائی سے بچ سکیں۔
خالد مجاہد بیمار نہیں تھا، کیونکہ لکھنؤ ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ ڈی آر موریہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بیمار نہیں تھا۔ پھر اچانک اس کو کیا ہوگیا۔ اسی دوران یوپی کے سابق آئی جی پولس ایس آر دارا پوری کا سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے، جس سے خالد مجاہد کے قتل کیے جانے کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خالد مجاہد کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ بے قصور مسلم نوجوانوں کو ایک خفیہ مقام پر رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، جس کا علم حقوقِ انسانی کمیشن کو اس وقت ہوتا ہے، جب اس کی موت ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی 32 سالہ سروس میں انہوں نے اس طرح کے لا تعداد واقعات دیکھے ہیں، مگر انہوں نے ان افسران کا ساتھ نہیں دیا۔ اسی لیے ان کا پروموشن بھی نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت اور کڑوی سچائی ہے، جس کے لیے ایس آر دارا پوری کا ہم کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ اندھیرے میں کوئی تو روشنی کی کرن ہے، جو ہم تک پہنچ رہی ہے۔ کوئی تو ہے، جو حقیقت سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت جانچ ایجنسیوں کی قید میں کئی مسلم نوجوان ہیں، جو اپنے ضلعوں سے لا پتہ ہیں، یعنی جس طرح سے خالد مجاہد اور طارق قاسمی کو اٹھایا گیا، اسی طرح نہ جانے کتنے معصوموں کو ان کے گھر والوں کو اطلاع دیے بغیر اٹھایا گیا ہوگا۔ سابق آئی جی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سبھی مسلم نوجوانوں کو اغوا کرکے نا معلوم مقام پر رکھا گیا ہے، تاکہ وقت آنے پر ان کو کسی دھماکہ میں شامل کیا جاسکے۔

خالد مجاہد بیمار نہیں تھا، کیونکہ لکھنؤ ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ ڈی آر موریہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بیمار نہیں تھا۔ پھر اچانک اس کو کیا ہوگیا۔ اسی دوران یوپی کے سابق آئی جی پولس ایس آر دارا پوری کا سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے، جس سے خالد مجاہد کے قتل کیے جانے کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خالد مجاہد کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ بے قصور مسلم نوجوانوں کو ایک خفیہ مقام پر رکھ کر غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے، جس کا علم حقوقِ انسانی کمیشن کو اس وقت ہوتا ہے، جب اس کی موت ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی 32 سالہ سروس میں انہوں نے اس طرح کے لا تعداد واقعات دیکھے ہیں، مگر انہوں نے ان افسران کا ساتھ نہیں دیا۔

ہم سبھی جانتے ہیں کہ اس بد قسمت قوم کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ہمارے پاس قیادت کا فقدان ہے۔ ہمارے رہنما کسی نہ کسی عہدے کے لیے سر جھکا دیتے ہیں۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ظاہر ہے، پولس افسران کے اشارہ پر ہی بے قصور نوجوانوں کو پھنسایا جاتا ہے۔ بقول سابق آئی جی پولس ’’ان لڑکوں کو خنزیر کھانے اور پیشاب پینے پر مجبور کیا جاتا ہے‘‘۔ کس قدر دردناک ہے یہ سب۔ سزا دینے کا یہ کون سا بہیمانہ طریقہ ہے۔ جسم کے نازک اعضاء پر الیکٹرانک شاک دینا، پیشاب پلانا۔ نہ جانے یہ سب کون سی غیر مہذب انسانیت سے عاری صدی کی باتیں ہیں، جس میں ایک انسان محض عہدے میں ترقی، نوکری بچانے اور واہ واہی لوٹنے، کچھ میڈل پانے کے لالچ میں دوسرے انسان کو اذیت دینے میں انسانیت کی تما م حدیں پار کرجاتا ہے۔ خالد مجاہد اور طارق قاسمی بھی ایسے ہی درندہ صفت ذہنیت کے ہتھے چڑھ گئے، ورنہ بقول ایس آر دارا پوری کہ جس وقت ان دونوں کو گرفتار کیا گیا، ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کے عوض ان سے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ روپے دے دو، تو تمہاری جگہ دوسرے کو پھنسا دیا جائے گا۔ مقدمہ کی پیروی کر رہے دوسرے وکیل رندھیر سنگھ سومن نے بھی اس تلخ حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ خالد مجاہد اور طارق قاسمی نے بتایا تھاکہ ان کو لوہے کے جال پر بیٹھا کر الیکٹرانک کرنٹ لگا یا جاتا تھا اور زبردستی جرم قبول کرنے کو کہا جاتا تھا۔ ان کے مخصوص اعضاء پر پٹرول ڈالا جاتا تھا۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سب مظالم کیوں لگاتار ہورہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے سامنے بھی آچکے ہیں، پھر ان کے خلاف میڈیا میں آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی ہے۔ وہ نیشنل میڈیا، جو لگاتار رات دن چھوٹی چھوٹی خبروں سے کھیلتا رہتا ہے، اسی میڈیا کو مسلمانوں پر ہو رہے غیر انسانی تشدد نظرنہیں آتے۔ بڑے بڑے نام والے چینلز رات دن چھوٹے سے چھوٹے ایشو پر خوب بحث کرتے ہیں، ان کو بار بار دکھاتے ہیں، مگر مسلم نوجوانوں سے جڑے ایشوز کو گول کر جاتے ہیں اور جواز یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے پولس کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ کتنا عجیب ہے ان چینلوں کا رویہ۔ اگر مسلمانوںپر ہورہے ظلم پر سوال اٹھانے سے پولس کی حوصلہ شکنی ہو گی، تو یہی صورت حال سب کے ساتھ کیوں نہیں؟ مگر ایسا نہیں ہے۔ یہی چینلز ہیں، جو خالد مجاہد اور طارق قاسمی کی گرفتاری کے وقت بار بار اسے دہشت گرد کہہ کر خبریں نشر کررہے تھے۔ جب نمیش کمیشن رپورٹ میں ان کی بے گناہی ثابت ہوئی، تو تمام چینلز ایسے خاموش ہوگئے، جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔یقینا پولس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے، لیکن نا انصافی، تشدد اور ظلم کی قیمت پر نہیں۔ اگر پولس کو اسی طرح ظلم کرتے رہنے دیا جائے گا، تو ان میں جو متعصب اور کٹر ذہنیت رکھنے والے افراد ہیں، وہ اسی طرح مسلمانوں پر تشدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس لیے اگر وہ قانون کی وردی پہن کر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے….
…. ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور میڈیا کو ان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میڈیا کو پولس کی حوصلہ شکنی کے خوف سے ملک کی دوسری بڑی اکثریت پر ہو رہے تشدد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کو حق اور غلط کو غلط کہے۔ آخر ملک کے عوام کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ یہ جانیں کہ پولس اور تفتیشی ایجنسیاں جھوٹ بول رہی ہیں یا سچ اور یہ جانکاری صرف میڈیا ہی دے سکتا ہے۔ اگر سارے چینلز ایک جٹ ہوکر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان پر ہورہے مظالم کو سامنے لائیں تو پولس، ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس جو گھنائونا کھیل کھیل رہی ہیں، وہ سب کے سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد کسی کی جرأت نہیں ہوگی کہ مسلم قوم کے ساتھ کھلواڑ کرے۔
ایک اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ کسی بڑی بدعنوانی کے معاملے میں جب پولس یا سی بی آئی جانچ کرتی ہے اور جانچ منشا کے مطابق نہیں ہوتی ہے، تو میڈیا اس پر سوال اٹھاتا ہے کہ یہ ایجنسیاں جھوٹ بول رہی ہیں، حقیقت کو چھپا رہی ہیں، مگر جب کوئی مسلمان پکڑا جاتا ہے، تو میڈیا انھیں ایجنسیوں پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیتا ہے اور ان کے بیان کو سو فیصد سچ مان کر، بلا کسی تفتیش کے اس گرفتار مسلمان کو دہشت گرد کہنا شروع کردیتا ہے، جس کی وجہ سے ایک ملزم، جس پر ابھی الزام طے بھی نہیں ہوا ہے، پورے ملک میں دہشت گرد کی حیثیت سے بدنام ہو جاتا ہے۔ اس طرح پولس کو میڈیا سے سپورٹ ملنے کی وجہ سے اس مسلمان کے خلاف فرضی مقدمات تیار کرنے، اس پر ظلم و ستم کرنے اور سازش رچنے کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی گھوٹالے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کی جاتی ہے اور نیشنل میڈیا اس پر بھروسہ نہیں کرتا ہے، لیکن جب مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے، تو اس پر بھروسہ کرکے غیر مصدقہ خبروں کو کیوں نشر کیا جاتا ہے؟ جب سی بی آئی دیگر معاملات میں بے ایمان ہے، تو مسلمانوں کے معاملوں میں ایماندار ثابت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ میڈیا اپنا فرض بھلا کر صرف مسلم مخالف سرگرمیوں پر زیادہ دھیان دے رہا ہے۔ میڈیا کے اس رویے سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہے، کوئی اس کا ساتھ نہیں دے گا۔ مسلمانوں کے معاملات میں پولس کا کھیل صاف نظر آرہاہے کہ کیسے وہ دہشت گردی کے الزام میں معصوموں کو پھنساتی ہے اور پھر کیسی کیسی اذیتیں دے کران سے جرم قبول کرواتی ہے اور جب معاملہ عدالت میں پہنچتا ہے، تو وہاں ان معصوموں کو خود کو بے گناہ ثابت کرتے کرتے زندگی ختم ہوجاتی ہے یا پھر زندگی کا قیمتی اور کاآمد حصہ گزر جاتا ہے۔
یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ جمہوریت کا چوتھا ستون، یعنی میڈیا ان کے بارے میں مخلص نہیں ہے۔ وہ تعصب پر مبنی خبریں نشر کرتا ہے۔ دوسری طرف پولس، جن پر ملک کا نظم و نسق منحصر ہے اور امن و امان بحال رکھنے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، وہی مسلمانوں کے تئیں مخلص نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں بھلے ہی مسلمانوں کی نمائندگی حد درجہ کم ہو، لیکن جیلوں میں سب سے زیادہ نمائندگی ان کی ہی ہے۔ خود چوتھی دنیا بھی پہلے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کر چکا ہے کہ مسلمان اپنے گھروں میں کم اور جیلوں میں زیادہ ہیں۔ اس کی تائید ہندی اور انگریزی کے دوسرے رسائل و جرائد بھی کر چکے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق مغربی بنگال کی جیلوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد بند ہے۔ مہاراشٹر میں ہر تیسرا قیدی مسلمان ہے، اترپردیش کا ہر چوتھا قیدی مسلمان ہے۔ ان قیدیوں کے بارے میں کوئی بھی پارٹی سنجیدہ نہیں ہے۔ کانگریس ہو یا بی جے پی یا مسلمانوں کی ہمدرد کہنے والی سماجوادی پارٹی، سبھی نے مسلمانوں کا استحصال کیا اور کر رہی ہیں، کسی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
خالد مجاہد کے معاملے میں کئی ایسے سوال ہیں، جو الجھے ہوئے ہیں۔ ان کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ مثلاً بارہ بنکی کی انتظامیہ نے پنچ نامہ میں سماجوادی پارٹی سے منسلک لیڈروں کو پنچ بنایا اور اس حقیقت کو اہل خانہ اور وہاں موجود ہزاروں افراد سے پوشیدہ رکھا۔ آخر کیوں؟ کیا انتظامیہ کو کچھ چھپانا مقصد تھا۔ خالد کے چچا ظہیر عالم فلاحی سمیت کئی لوگوں نے خالد کی لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے جسم پر کئی گہرے زخم کے نشان ملے۔ اس کی گردن کی ہڈی پر کسی بھاری چیز سے مارے جانے کا نشان اور تیز چوٹ سے پیدا ہونے والا سیاہ دھبّہ تھا۔ بائیں ہاتھ کی کہنی کے اوپر سیاہ نشان کے علاوہ چہرہ بھی جسم کے باقی حصوں کے برعکس سیاہ اور سوجا ہوا تھا۔ جب مولانا ارشد مدنی نے ملاقات کے دوران اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو خالد کی لاش کی تصویر دکھائی، تو اکھلیش نے تسلیم کیا کہ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے اور اس کی انکوائری کرائی جائے گی۔ لیکن پھر وہی بات کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے نزدیک انکوائری کسی بھی معاملے کو ٹالنے کا ایک بہترین طریقہ بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نمیش کمیشن نے بھی انکوائری کی تھی اور انکوائری کی بنیاد پر جو سچائی تھی، اس کی رپورٹ پیش کردی تھی، لیکن اس رپورٹ کے بعد حکومت نے آخر کیا قدم اٹھایا ؟ جب خالد مجاہد نمیش کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بے قصور تھا، تو اس کی رہائی کیوں نہیں ہوئی؟ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی، جو خالد مجاہد کی گرفتاری کے قصور وار تھے؟ ہاں، اکھلیش یادو نے نمیش کمیشن کے آنے کے بعد جھوٹی تسلی ضرور دی اور وعدہ کیا کہ وہ خالد مجاہد اور دیگر بے قصور قیدیوں کی رہائی کے لیے ٹھوس قدم اٹھائیں گے، اور جب عدالت میں ان کی رہائی کے لیے 26 اپریل کو ایک اپیل دائر کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ یو پی حکومت پبلک انٹریسٹ اور کمیونل ہارمونی کے لیے اس کیس کو واپس لینا چاہتی ہے، تو عدالت نے اسے خارج کر دیا۔ یو پی حکومت کی یہ اپیل کمزور تھی، کیونکہ اس میں کہے گئے الفاظ کو ڈیفائن نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ضروری حلف نامہ دائر کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے 10 مئی کو بارہ بنکی کی اسپیشل کورٹ نے اس کو مسترد کر دیا۔ نتیجتاً، انکوائری میں بے قصور ہونے کے بعد بھی ان کا معاملہ لٹکا رہا۔ ملک کی مختلف تنظیمیں اس سلسلے میں حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کراتی رہیں، مگر نہ تو اکھلیش نے اور نہ ہی کسی دوسری پارٹی نے اس طرف توجہ دی اور بالآخر سیاست اور پولس افسروں کے اس کھیل کی قیمت خالد مجاہد کو جان دے کر چکانی پڑی۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب اس کی زندگی میں انکوائری کا اسے کوئی فائدہ نہیں مل سکا، تو اب اس کے مرنے کے بعد کیا ضمانت ہے کہ انکوائری کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا؟

ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور میڈیا کو ان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میڈیا کو پولس کی حوصلہ شکنی کے خوف سے ملک کی دوسری بڑی اکثریت پر ہو رہے تشدد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کو حق اور غلط کو غلط کہے۔ آخر ملک کے عوام کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ یہ جانیں کہ پولس اور تفتیشی ایجنسیاں جھوٹ بول رہی ہیں یا سچ اور یہ جانکاری صرف میڈیا ہی دے سکتا ہے۔ اگر سارے چینلز ایک جٹ ہوکر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور ان پر ہورہے مظالم کو سامنے لائیں تو پولس، ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس جو گھنائونا کھیل کھیل رہی ہیں، وہ سب کے سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد کسی کی جرأت نہیں ہوگی کہ مسلم قوم کے ساتھ کھلواڑ کرے۔
ایک اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ کسی بڑی بدعنوانی کے معاملے میں جب پولس یا سی بی آئی جانچ کرتی ہے اور جانچ منشا کے مطابق نہیں ہوتی ہے، تو میڈیا اس پر سوال اٹھاتا ہے کہ یہ ایجنسیاں جھوٹ بول رہی ہیں، حقیقت کو چھپا رہی ہیں، مگر جب کوئی مسلمان پکڑا جاتا ہے، تو میڈیا انھیں ایجنسیوں پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیتا ہے اور ان کے بیان کو سو فیصد سچ مان کر، بلا کسی تفتیش کے اس گرفتار مسلمان کو دہشت گرد کہنا شروع کردیتا ہے، جس کی وجہ سے ایک ملزم، جس پر ابھی الزام طے بھی نہیں ہوا ہے، پورے ملک میں دہشت گرد کی حیثیت سے بدنام ہو جاتا ہے۔ اس طرح پولس کو میڈیا سے سپورٹ ملنے کی وجہ سے اس مسلمان کے خلاف فرضی مقدمات تیار کرنے، اس پر ظلم و ستم کرنے اور سازش رچنے کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی گھوٹالے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کی جاتی ہے اور نیشنل میڈیا اس پر بھروسہ نہیں کرتا ہے، لیکن جب مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے، تو اس پر بھروسہ کرکے غیر مصدقہ خبروں کو کیوں نشر کیا جاتا ہے؟ جب سی بی آئی دیگر معاملات میں بے ایمان ہے، تو مسلمانوں کے معاملوں میں ایماندار ثابت کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ میڈیا اپنا فرض بھلا کر صرف مسلم مخالف سرگرمیوں پر زیادہ دھیان دے رہا ہے۔ میڈیا کے اس رویے سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہے، کوئی اس کا ساتھ نہیں دے گا۔ مسلمانوں کے معاملات میں پولس کا کھیل صاف نظر آرہاہے کہ کیسے وہ دہشت گردی کے الزام میں معصوموں کو پھنساتی ہے اور پھر کیسی کیسی اذیتیں دے کران سے جرم قبول کرواتی ہے اور جب معاملہ عدالت میں پہنچتا ہے، تو وہاں ان معصوموں کو خود کو بے گناہ ثابت کرتے کرتے زندگی ختم ہوجاتی ہے یا پھر زندگی کا قیمتی اور کاآمد حصہ گزر جاتا ہے۔
یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ جمہوریت کا چوتھا ستون، یعنی میڈیا ان کے بارے میں مخلص نہیں ہے۔ وہ تعصب پر مبنی خبریں نشر کرتا ہے۔ دوسری طرف پولس، جن پر ملک کا نظم و نسق منحصر ہے اور امن و امان بحال رکھنے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، وہی مسلمانوں کے تئیں مخلص نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں بھلے ہی مسلمانوں کی نمائندگی حد درجہ کم ہو، لیکن جیلوں میں سب سے زیادہ نمائندگی ان کی ہی ہے۔ خود چوتھی دنیا بھی پہلے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کر چکا ہے کہ مسلمان اپنے گھروں میں کم اور جیلوں میں زیادہ ہیں۔ اس کی تائید ہندی اور انگریزی کے دوسرے رسائل و جرائد بھی کر چکے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق مغربی بنگال کی جیلوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد بند ہے۔ مہاراشٹر میں ہر تیسرا قیدی مسلمان ہے، اترپردیش کا ہر چوتھا قیدی مسلمان ہے۔ ان قیدیوں کے بارے میں کوئی بھی پارٹی سنجیدہ نہیں ہے۔ کانگریس ہو یا بی جے پی یا مسلمانوں کی ہمدرد کہنے والی سماجوادی پارٹی، سبھی نے مسلمانوں کا استحصال کیا اور کر رہی ہیں، کسی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
خالد مجاہد کے معاملے میں کئی ایسے سوال ہیں، جو الجھے ہوئے ہیں۔ ان کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ مثلاً بارہ بنکی کی انتظامیہ نے پنچ نامہ میں سماجوادی پارٹی سے منسلک لیڈروں کو پنچ بنایا اور اس حقیقت کو اہل خانہ اور وہاں موجود ہزاروں افراد سے پوشیدہ رکھا۔ آخر کیوں؟ کیا انتظامیہ کو کچھ چھپانا مقصد تھا۔ خالد کے چچا ظہیر عالم فلاحی سمیت کئی لوگوں نے خالد کی لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے جسم پر کئی گہرے زخم کے نشان ملے۔ اس کی گردن کی ہڈی پر کسی بھاری چیز سے مارے جانے کا نشان اور تیز چوٹ سے پیدا ہونے والا سیاہ دھبّہ تھا۔ بائیں ہاتھ کی کہنی کے اوپر سیاہ نشان کے علاوہ چہرہ بھی جسم کے باقی حصوں کے برعکس سیاہ اور سوجا ہوا تھا۔ جب مولانا ارشد مدنی نے ملاقات کے دوران اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو خالد کی لاش کی تصویر دکھائی، تو اکھلیش نے تسلیم کیا کہ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے اور اس کی انکوائری کرائی جائے گی۔ لیکن پھر وہی بات کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے نزدیک انکوائری کسی بھی معاملے کو ٹالنے کا ایک بہترین طریقہ بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نمیش کمیشن نے بھی انکوائری کی تھی اور انکوائری کی بنیاد پر جو سچائی تھی، اس کی رپورٹ پیش کردی تھی، لیکن اس رپورٹ کے بعد حکومت نے آخر کیا قدم اٹھایا ؟ جب خالد مجاہد نمیش کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بے قصور تھا، تو اس کی رہائی کیوں نہیں ہوئی؟ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی، جو خالد مجاہد کی گرفتاری کے قصور وار تھے؟ ہاں، اکھلیش یادو نے نمیش کمیشن کے آنے کے بعد جھوٹی تسلی ضرور دی اور وعدہ کیا کہ وہ خالد مجاہد اور دیگر بے قصور قیدیوں کی رہائی کے لیے ٹھوس قدم اٹھائیں گے، اور جب عدالت میں ان کی رہائی کے لیے 26 اپریل کو ایک اپیل دائر کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ یو پی حکومت پبلک انٹریسٹ اور کمیونل ہارمونی کے لیے اس کیس کو واپس لینا چاہتی ہے، تو عدالت نے اسے خارج کر دیا۔ یو پی حکومت کی یہ اپیل کمزور تھی، کیونکہ اس میں کہے گئے الفاظ کو ڈیفائن نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ضروری حلف نامہ دائر کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے 10 مئی کو بارہ بنکی کی اسپیشل کورٹ نے اس کو مسترد کر دیا۔ نتیجتاً، انکوائری میں بے قصور ہونے کے بعد بھی ان کا معاملہ لٹکا رہا۔ ملک کی مختلف تنظیمیں اس سلسلے میں حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کراتی رہیں، مگر نہ تو اکھلیش نے اور نہ ہی کسی دوسری پارٹی نے اس طرف توجہ دی اور بالآخر سیاست اور پولس افسروں کے اس کھیل کی قیمت خالد مجاہد کو جان دے کر چکانی پڑی۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب اس کی زندگی میں انکوائری کا اسے کوئی فائدہ نہیں مل سکا، تو اب اس کے مرنے کے بعد کیا ضمانت ہے کہ انکوائری کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *