کب اور کیسے بنا ہمارا آئین

!جناب عالی
p-4b9 دسمبر، 1946 کی پہلی میٹنگ کے بعد ہم لوگوں کو آئین ساز اسمبلی پر کام کرتے ہوئے 2 سال، 11 ماہ اور 17 دن ہو جائیں گے۔ اس مدت کے دوران آئین ساز اسمبلی کے کل 11 اجلاس بلائے گئے۔ 11 اجلاس میں سے پہلے 6 اجلاس بنیادی حقوق، یونین کے آئین، یونین کی طاقت، صوبائی آئین، اقلیتیں، پسماندہ علاقوں اور درج فہرست قبائل جیسے مدعوں پر کمیٹی کی رپورٹ پر غور کرنے اور مقاصد کو منظور کرانے میں گزر گئے۔ 7، 8، 9، 10 اور 11ویں اجلاس میں آئینی شکل پر غور کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی گئی تھی۔ آئین ساز اسمبلی کے ان 11 اجلاس میں کل 165 دن لگے۔ اس کے علاوہ آئینی شکل پر غور کرنے میں 114 دن لگے۔
ڈرافٹنگ کمیٹی کو 29 اگست، 1947 کو قانون ساز اسمبلی کے ذریعے چنا گیا تھا۔ ڈرافٹنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ 30 اگست کو ہوئی۔ 30 اگست سے اگلے 141 روز تک یہ کمیٹی آئینی شکل بنانے میں مصروف رہی۔ آئینی مشیر کے ذریعے بنائی گئی آئینی شکل، ڈرافٹنگ کمیٹی کے لیے ایک ایسا موضوع تھا، جس پر ڈرافٹنگ کمیٹی کو کام کرنا تھا۔ اس میں 243 آرٹیکل اور 13 شیڈول تھے۔ ڈرافٹنگ کمیٹی کے ذریعے آئین ساز اسمبلی کے لیے بنائے گئے پہلے ڈرافٹ کانسٹیٹیوشن میں 315 آرٹیکل اور 8 شیڈول تھے۔ اخیر میں آئینی شکل میں آرٹیکل کی تعداد 386 کر دی گئی، لیکن جب ڈرافٹ کانسٹیٹیوشن پوری طرح بن کر تیار ہوا، تو اس میں 395 آرٹیکل اور 8 شیڈول تھے۔ ڈرافٹ کانسٹیٹیوشن جب سامنے لایا گیا تو اس میں تقریباً 7,635 ترمیمات ہوئی تھیں، لیکن اصل میں ان ترامیم میں سے 2,473 کو ہی لیا گیاتھا۔

اگر آئین ساز اسمبلی ان کو اس کے لیے اہل مانتی ہے اور ان کو منتخب کرتی ہے، تو ڈرافٹنگ کمیٹی جناب نذیرالدین کا خیر مقدم کرنا چاہے گی۔ اگر جناب نذیر الدین کا آئین سازی میں کوئی تعاون نہیں تھا، تو اس میں یقینی طور پر ڈرافٹنگ کمیٹی کاکوئی قصور نہیں ہے۔ حالانکہ جناب نذیر الدین نے کبھی بھی ڈرافٹنگ کمیٹی کی تعریف نہیں کی، لیکن میں نے ہمیشہ ان کی باتوں کو تعریف کے طور پر لیا۔

میں ان حقائق کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ اس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اس کام کو کرنے میں بہت زیادہ وقت اور عوام کا پیسہ خرچ ہوا۔ میں دیگر ممالک کی آئین ساز اسمبلی کی کچھ مثالیں دے رہا ہوں، جنھیں اُن ممالک کی آئین سازی کے لیے تشکیل کیا گیا تھا۔ آئین سازی کے لیے امریکی ایوان کی 25 مئی، 1787 کی میٹنگ کے بعد چار مہینے لگے اور اس نے اپنا کام 17 ستمبر، 1787 کو پورا کیا۔ کناڈا کی آئین ساز اسمبلی کی میٹنگ 10 اکتوبر، 1867 کو ہوئی اور آئین قانون کی شکل میں مارچ 1867 میں سامنے آیا۔ اس میں کل 2 سال پانچ مہینے لگے۔ آسٹریلیا کی آئین ساز اسمبلی مارچ 1891 میں تشکیل پائی اور آئین قانون کے طور پر 9 جولائی، 1900 کو سامنے آیا، اس میں نو سال لگ گئے۔ جنوبی افریقہ میں آئین ساز اسمبلی 20 ستمبر، 1908 میں تشکیل پائی اور آئین قانون کی شکل میں سامنے آیا 20 ستمبر، 1909 کو، اس میں ایک سال لگ گیا۔ یہ سچ ہے کہ ہم نے امریکہ اور جنوبی افریقہ کی آئین ساز اسمبلی کے مقابلے میں زیادہ وقت لیا، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آئین سازی میں ہم نے کناڈا اور آسٹریلیا کی آئین ساز اسمبلی سے کافی کم وقت لیا۔ آئین سازی میں وقت لگنے کی بات ہو رہی ہے، تو اس میں دو باتیں بہت ہی اہمیت کی حامل ہیں۔ پہلی یہ کہ امریکہ، کناڈا، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کا آئین ہمارے آئین سے کافی چھوٹا ہے اور دوسری یہ کہ ہمارے آئین میں 395 آرٹیکل ہیں، جبکہ امریکہ کے آئین میں صرف 7 آرٹیکل ہیں۔ امریکی آئین کے پہلے 4 آرٹیکل مختلف حصوں میں تقسیم ہیں، جس سے ان کی تعداد بڑھ کر 21 ہو جاتی ہے۔ کناڈا کے آئین میں 147، آسٹریلیاکے 128 اور جنوبی افریقہ کے آئین میں 153 حصے ہیں۔ ایک اور بات، جو اس معاملے میں توجہ دینے والی ہے، وہ یہ کہ امریکہ، کناڈا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے آئین میں ترامیم کا مسئلہ نہیں ہے۔ انھیں اسی شکل میں منظور کیا گیا ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو ہماری آئین ساز اسمبلی کو 2,473 ترمیمات پر کام کرنا پڑا۔ ان سارے حقائق کو دیکھنے کے بعد آئین ساز اسمبلی پر لگنے والے تمام الزام بے بنیاد ہیں۔ آئین ساز اسمبلی کے لوگوں کو کم سے کم وقت میں یہ پیچیدہ کام مکمل کرنے کے لیے مبارکباد دینی چاہیے۔
ڈرافٹنگ کمیٹی کے ذریعے کیے گئے کام کے معیار کو بدلنے کے لیے جناب نذیر الدین احمد نے اس کی مذمت کرنا اپنافرض سمجھا۔ ان کی رائے میں ڈرافٹنگ کمیٹی کا کام قابل مذمت بھی نہیں ہے۔ ہر شخص کو ڈرافٹنگ کمیٹی کے ذریعے کیے گئے کاموں پر اپنی رائے دینے کا حق ہے۔ ایسے میں جناب نذیر الدین کی رائے کا بھی خیر مقدم ہے۔ جناب نذیرالدین کا ماننا ہے کہ وہ ڈرافٹنگ کمیٹی کے کسی بھی رکن سے زیادہ قابل ہیں۔ اگر آئین ساز اسمبلی ان کو اس کے لیے اہل مانتی ہے اور ان کو منتخب کرتی ہے، تو ڈرافٹنگ کمیٹی جناب نذیرالدین کا خیر مقدم کرنا چاہے گی۔ اگر جناب نذیر الدین کا آئین سازی میں کوئی تعاون نہیں تھا، تو اس میں یقینی طور پر ڈرافٹنگ کمیٹی کاکوئی قصور نہیں ہے۔ حالانکہ جناب نذیر الدین نے کبھی بھی ڈرافٹنگ کمیٹی کی تعریف نہیں کی، لیکن میں نے ہمیشہ ان کی باتوں کو تعریف کے طور پر لیا۔

پہلی قسط

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *