ہندوستانی جمہوریت آلودہ ہو چکی ہے

ڈاکٹر منیش کمار
سیاسی پارٹیوں کا دبدبہ اتنا مضبوط ہے کہ ملک کا جمہوری نظام پوری طرح سے پارٹی سسٹم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حالت یہ ہے کہ الیکشن محض خانہ پری بن کر رہ گئے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی اپنے بنیادی نظریہ فکر سے ہٹ کر کسی بھی طرح اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ دراصل، ہندوستانی جمہوریت پراگندہ ہو چکی ہے اور یہی اس کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

Mastانا ہزارے آج کل جن تنتر یاترا کے تحت پورے ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ ملک میں گھوم گھوم کر سیاسی پارٹیوں کو بدعنوان، ناکارہ اور دھوکے باز بتا رہے ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی انا کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے۔ دراصل، ہندوستان کی جمہوریت پراگندہ ہو چکی ہے اور چونکہ جمہوریت کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری سیاسی پارٹیوں کی ہوتی ہے، ایسے میں اگر سیاسی پارٹیاں عوام سے بیزار ہو جائیں، کارکنوں اور حامیوں کی اندیکھی ہو، بدعنوان، بے ایمان اور غنڈے و شہ زوروں کی عزت ہونے لگے، سیاسی پارٹیاں اور لیڈر اپنے نظریہ فکر کو چھوڑ دیں اور پارٹی کسی نظریہ فکر اور لوگوں کی جماعت کی نہ رہ کر کسی خاندان کی ملکیت بن جائے، تو ایسی پارٹیوں کے ہاتھ میں جمہوریت کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنا، جمہوریت کو ختم کرنے کے برابر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پارٹیاں ان تمام مہلک امراض میں مبتلا ہیں، جو جمہوریت کو برباد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہی ہندوستانی جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
جمہوریت کہاں ہے؟
ایسا سسٹم، جس میں سرکار عوام کی ہو، عوام کے ذریعے چلائی جاتی ہو اور عوام کے لیے چلائی جاتی ہو، اسے جمہوریت کہتے ہیں۔ ویسے تو جمہوریت کے اور بھی کئی پیمانے ہیں، لیکن جب ملک کا آئین بن رہا تھا، تب ہمارے آئین سازوں نے جمہوریت کی اس تعریف کو مانا تھا۔ سرکار کی اسی شکل کو اصلی آزادی مانا گیا تھا۔ جمہوریت کی اس شکل کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ، ملک کی آزادی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا دورِ حاضر میں ملک کی جمہوریت اس پیمانے پر کھری اترتی ہے یا کیا جمہوریت کی اس شکل کے ساتھ سمجھوتہ ہوا ہے؟

سیاسی پارٹیوں کا نظریاتی زوال بھی اب عروج پر ہے۔ کانگریس پارٹی نے گاندھی اور نہرو کے نظریات اور سماجواد کا خون کر دیا، تو بھارتیہ جنتا پارٹی اب سودیشی، 370 کا نام تک نہیں لیتی۔ لیفٹ پارٹیاں اپنی آڈیولوجی کے بنیادی عناصر کو اب خواب سمجھنے لگی ہیں۔ سماجوادی پارٹیوں کے ایجنڈے سے سماجواد غائب ہو چکا ہے۔ جے پی تحریک سے پیدا ہوئے لیڈر بدعنوانی سے لڑنے کی بجائے بدعنوانی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ برہمن واد کی مخالفت کرنے والے کانشی رام کے نام پر سیاست کرنے والی بہوجن سماج پارٹی آج برہمنوں کی ریلیاں کر رہی ہے۔ دراصل، آج ہندوستان کی سبھی پارٹیاں پریگمیٹک پارٹیاں بن گئی ہیں اور اسی لیے ان کی اپنی کوئی آئڈیولوجی نہیں ہے۔

گزشتہ 67 سالوں میں ہندوستانی جمہوریت کا نہ صرف زوال ہوا ہے، بلکہ اس پر گہن بھی لگ گیا ہے۔ دراصل، سرکار کے ایجنڈے سے اب عوام ہی غائب ہو گئے ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت اب پارٹی سسٹم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ملک کی سرکاریں پارٹی کی ہیں، پارٹی کے ذریعے ہیں اور پارٹی کے لیے ہیں۔ پارٹی میں اب عوام کی رائے کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔ لوگوں سے جڑے مسائل پر جب پارلیمنٹ میں بات چیت ہوتی ہے، تب سیٹیں خالی ہوتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں کون کون سے مدعے اٹھائے جائیں گے، کس مدعے پر بات چیت نہیں ہونی ہے، کون ایم پی کیا بولے گا اور کس مدعے کو کون اٹھائے گا، یہ پارٹی طے کرتی ہے۔ اور جب کبھی ووٹنگ ہوتی ہے، تو ممبرانِ پارلیمنٹ کو اپنے من سے ووٹنگ کرنے کی بھی آزادی نہیں ہے۔ پارٹی کے مطابق، اگر وہ ووٹ نہ کریں، تو پارلیمنٹ کی رکنیت چلی جاتی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ منتخب ہونے کے بعد ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی لوگوں کے نمائندہ ہونے کی بجائے پارٹی کے بندھوا مزدور بن جاتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی کے نمائندے بن جاتے ہیں۔ کیا یہی جمہوریت کی شکل ہے؟ کیا لوگ اپنے نمائندے کو صرف اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کی بات نہ رکھ کر پارٹی کے ایجنٹ بن جائیں؟
اندرونی جمہوریت
نہ تو صحیح معنوں میں یہ جمہوریت ہے اور نہ ہی ملک کی سیاسی پارٹیوں کو جمہوری نظام پر یقین ہے۔ عوامی جمہوریت صرف ادارہ جاتی نظام نہیں ہے، بلکہ یہ تو ایک اصول ہے، ایک طریقہ کار ہے، ایک طرزِ زندگی ہے۔ جو بھی آدمی یا تنظیم جمہوری اصولوں کے ذریعے آپریٹ نہیں ہوتی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ان اصولوں پر بھروسہ نہیں کرتی۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں میں اندرونی جمہوریت نہیں ہے۔ یہ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کی خلاف ورزی ہے، لیکن اصل میں، الیکشن کمیشن کے پاس ان پارٹیوں کو قابو میں کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ ملک کی سیاسی پارٹیاں جمہوری بنیادوں پر نہ تو متحد ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی میں آزادانہ اور صاف ستھرے الیکشن ہوتے ہیں۔ پارٹی کے اندر فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر نہیں ہوتا ہے۔ اگر ان پارٹیوں کے اندر الیکشن ہوتے بھی ہیں، تو وہ دکھاوے کے ہوتے ہیں۔ ہر پارٹی میں فیصلہ لینے والے وہ لوگ ہیں، جن کا عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ سیاسی کارکنوں کی حیثیت بندھوا مزدور کی طرح ہو گئی ہے۔ وہ پارٹی کے لیے کام تو کرتا ہے، لیکن پارٹی کے فیصلوں میں اس کی کوئی حصہ داری نہیں ہوتی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ زمین سے جڑے سیاسی کارکنوں کی اندیکھی ہوتی ہے اور ویسے لوگ، جن کے پاس پیسہ اور زورِ بازو ہوتا ہے، انہیں پارٹی میں عزت دی جاتی ہے۔ آج سیاسی شعبے میں کام کرنے والوں نے بدعنوانی کو اپنی اخلاقات میں شامل کر لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گر چکے ہیں۔
نظریاتی زوال
سیاسی پارٹیوں کا نظریاتی زوال بھی اب عروج پر ہے۔ کانگریس پارٹی نے گاندھی اور نہرو کے نظریات اور سماجواد کا خون کر دیا، تو بھارتیہ جنتا پارٹی اب سودیشی، 370 کا نام تک نہیں لیتی۔ لیفٹ پارٹیاں اپنی آڈیولوجی کے بنیادی عناصر کو اب خواب سمجھنے لگی ہیں۔ سماجوادی پارٹیوں کے ایجنڈے سے سماجواد غائب ہو چکا ہے۔ جے پی تحریک سے پیدا ہوئے لیڈر بدعنوانی سے لڑنے کی بجائے بدعنوانی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ برہمن واد کی مخالفت کرنے والے کانشی رام کے نام پر سیاست کرنے والی بہوجن سماج پارٹی آج برہمنوں کی ریلیاں کر رہی ہے۔ دراصل، آج ہندوستان کی سبھی پارٹیاں پریگمیٹک پارٹیاں بن گئی ہیں اور اسی لیے ان کی اپنی کوئی آئڈیولوجی نہیں ہے۔ جو آئڈیولوجی ہے، وہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ہے۔ جب ان کی سرکار بنتی ہے، تو ان کی پالیسیوں اور فیصلوں میں آئڈیولوجی کا سایہ تک نظر نہیں آتا ہے۔ سیاسی ماہرین کے ذریعے اور سیاسیات کی کتابوں میں کانگریس پارٹی کو سنٹرسٹ، بی جے پی کو رائٹسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کو لیفٹسٹ پارٹیاں اور کئی صوبوں کی پارٹیوں کو سوشلسٹ لکھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پارٹیاں کئی سالوں سے نظریہ فکر سے عاری ہو چکی ہیں۔ دراصل، سیاسی پارٹیوں نے ملک کا سیاسی ماحول ایسا بنا دیا ہے، جس میں انہیں لگتا ہے کہ آئڈیولوجی یا نظریہ فکر کی بنیاد پر الیکشن جیتے ہی نہیں جا سکتے۔ الیکشن جیتنے کے لیے تین پانچ کرنا اور ذات پات کی سیاست کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے الیکشن میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے لیے آئڈیولوجی کو چھوڑ دیا ہے۔ آئڈیولوجی سے عاری سیاست کسی بھی جمہوریت کے لیے دیمک کا کام کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک کی سیاسی پارٹیاں دیمک بن کر ملک کی جمہوریت کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔
خاندان پر مبنی سیاست کا اثر
دراصل، سیاسی پارٹیاں خود کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی خاندان پر مبنی سیاست کی دلدل میں پھنسی نظر آتی ہے اور اسی لیے ملک کی زیادہ تر پارٹیوں کا مینجمنٹ اور کنٹرول کسی نہ کسی خاندان کے قبضے میں ہے۔ صدر کا بیٹا صدر، وزیر اعلیٰ کا بیٹا وزیر اعلیٰ، وزیر کا بیٹا وزیر، یعنی ساری ملائی چند خاندانوں اور ان کے رشتہ داروں میں ہی بنٹ کر رہ جاتی ہے۔ ٹکٹ بھی انہیں ہی ملتا ہے، جو کسی نہ کسی سیاسی لیڈر کے رشتہ دار یا خاندان سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس پراگندہ روایت کو سیاسی پارٹیاں الیکشن جیتنے کی چابی سمجھتی ہیں اور یہی دلیل دے کر کارکنوں کو ٹھینگا دکھا دیا جاتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے اپنے کام کاج کی وجہ سے کارکنوں، حامیوں، ووٹروں اور عوام کو جمہوریت سے بیزار کر دیا ہے۔ یہ جمہوریت کی شکل نہیں ہے، بلکہ جمہوریت کو آلودہ کرنے والی سیاسی تہذیب ہے۔ ایسے میں اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاسی پارٹیوں کو جمہوری قدروں پر عمل کرنے کا پابند نہیں بنایا جاسکتا؟ کیا سیاسی پارٹیوں کے بغیر جمہوریت ممکن نہیں ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے، کیوں کہ انا ہزارے نے بدعنوان سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ نیچر پر حملہ بول دیا ہے۔ ویسے، آنے والے دنوں میں اس بات پر ملک کے عوام سیاسی پارٹیوں کا تجزیہ ضرور کریں گے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انتخابی عمل میں سیاسی پارٹیوں کا آئینی وجود کیا ہے؟ سیاسی پارٹیوں کے غیر جمہوری برتاؤ کی جانکاری کے باوجود الیکشن کمیشن نے انہیں انتخاب میں اہم رول دے رکھا ہے۔ سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن عوامی جمہوریت کی بنیادی قدروں کو درکنار کرکے الیکشن کرانا چاہتا ہے؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے آئین میں سیاسی پارٹیوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ہمارے آئین میں لفظ ’سیاسی پارٹی‘ کا کوئی استعمال تک نہیں ہوا ہے۔ ملک میں الیکشن کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے۔ آئین کے مطابق، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ووٹر لسٹ تیار کرانا اور الیکشن کرانا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں سیاسی پارٹیوں کو مرکزی رول دے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقیقی جمہوریت ہندوستان میں قائم نہیں ہو سکی۔ نہ تو عوام کی سرکار ہے اور نہ ہی عوام کے ذریعے اسے چلایا جا رہا ہے۔ عوام الیکشن کے دوران ووٹنگ کرکے پانچ سال کے لیے غلام بن گئے۔ اس غلطی کی وجہ سے ہی لوک سبھا، راجیہ سبھا اور وِدھان سبھائیں پارٹی سبھا میں تبدیل ہو گئیں۔ پارٹی ہی انتخابی منشور جاری کرتی ہے۔ پارٹی ہی امیدوار کھڑے کرتی ہے۔ پارٹی ہی دولت اور طاقت کا استعمال کرتی ہے اور شراب اور پیسے بنٹواکر ووٹ لیتی ہے۔ انتخاب کے اس پورے عمل سے عوام غائب ہیں۔ نہ کوئی عوام کا امیدوار ہے، نہ عوام کے مسائل کے لیے لڑنے والا کوئی ان کا نمائندہ ہے۔ یہ جمہوریت کی کیسی شکل ہے، جہاں نمائندہ عوام کا نہیں، بلکہ پارٹی کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے ایک اور کام کیا، جس سے نمائندے ایجنٹ سے پارٹیوں کے غلام بن گئے۔ آئین کی 52 ویں ترمیم کے ذریعے پارٹی بدلنے کے خلاف قانون پاس کرکے لوک سبھا اور اسمبلیوں کو اور بھی کمزور بنا دیا گیا۔ اس سے سیاسی پارٹیاں پوری طرح سے تانا شاہ بن گئیں۔
یہ الیکشن کمیشن کی بھول ہے یا پھر جان بوجھ کر کی گئی سازش، اس پر غور کرنا ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں کے اہم رول کی وجہ سے آج عام شہری انتخابی عمل سے دور چلا گیا ہے۔ حالانکہ جمہوریت میں شہریوں کا رول صرف ووٹ دینے تک ہی محدود نہیں ہے، لیکن سیاسی پارٹیوں نے ملک میں ایک ایسا سیاسی ماحول بنایا ہے، جس میں عام آدمی الیکشن لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ حالت یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے پنچایت الیکشن تک کو آلودہ کر دیا ہے۔ ایم پی اور ایم ایل اے کا الیکشن لڑنے کے لیے آج پہلی شرط یہی ہے کہ آپ کروڑوں روپے کا جوا کھولنے کے قابل ہیں یا نہیں۔ جمہوریت میں الیکشن پر پیسے خرچ کرنے کی اہمیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ سیاسی پارٹیاں شراب اور پیسے دے کر الیکشن جیتنے کو کامیاب حکمت عملی مانتی ہیں۔ سیاسی پارٹیو ںکی بالا دستی اور سیاسی پارٹیو ںکی پراگندہ ذہنیت کی وجہ سے ہندوستان کا آزاد اور غیر جانبدار الیکشن پوری طرح سے جانبداری اور بدعنوانی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے سرکار کچھ کرے گی، یہ امید بھی ختم ہو گئی ہے، کیوں کہ سرکار لوگوں کی حصہ داری سے نہیں چل رہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے اپنی جوڑ توڑ سے ملک کی جمہوریت کو پراگندہ کر دیا ہے۔ مجاہدین آزادی کے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ 1947 سے پہلے ملک میں جس طرح ظلم و استحصال کا بازار گرم تھا، وہی حالت آج بھی ہے۔ عوام پر جس طرح کا تھوپا ہوا اقتدار تھا، وہ آج بھی ہے۔ جس طرح انگریز ہندوستان کے وسائل کو لوٹ رہے تھے، اسی طرح آج بھی لوٹا جا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے غیر ملکی لوٹ رہے تھے اور آج سیاسی پارٹیوں کی مدد سے ملک کے ہی لوگ لوٹ رہے ہیں۔ دراصل، آج کی سرکار انگریزوں کی سرکار سے زیادہ استحصال کر رہی ہے۔ کسانوں کی زمینیں کوڑیوں کی قیمت پر چھینی جا رہی ہے، جنگل پر لوگوں کا حق نہیں، ندیوں پر عوام کا حق نہیں، معدنیاتی ذخائر کی لوٹ ہو رہی ہے اور اس لوٹ کا فائدہ ملکی و غیر ملکی کمپنیاں مل کر اٹھا رہی ہیں اور سرکار ان کے لیے بچولیوں کا کام کر رہی ہے۔ ایک کے بعد ایک شرمناک گھوٹالے ہو رہے ہیں، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے۔ ملک میں بے روزگاری، ناخواندگی، کم غذائیت اور صحت سے متعلق خدمات کی کمی ہے۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ان سے جڑی ہر اسکیم بدعنوانی کی وجہ سے فیل ہو جاتی ہے اور کوئی ذمہ دار بھی نہیں ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ عوامی فلاح کی اسکیمیں کامیاب نہیں ہوتیں، بلکہ بدعنوانی کی نذر ہو جاتی ہیں۔ ملک کا بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ یہ اسکیمیں لیڈروں، افسروں اور پارٹی سے جڑے لوگوں کے کمانے کا ذریعہ بن گئی ہیں، لیکن نہ کسی کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی کوئی جوابدہ ہوتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے جمہوریت کی بیش قیمتی قدروں کی شفافیت اور جوابدہی کو صفر کر دیا ہے۔ لگتا ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں ملک میں پارٹیوں کی تانا شاہی چل رہی ہے۔ ویسے تو یہ کام پارلیمنٹ اور اپوزیشن پارٹیوں کا ہے، لیکن پارلیمنٹ کا عالم یہ ہے کہ وہ ایوانوں میں پاس کردہ بلوں سے بھی مکر جاتی ہے۔ عدلیہ کا حال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد ٹکا ہوا ہے، ورنہ جس طرح سے ملک میں عدلیہ کا نظام ہے، اس سے تو لوگ مایوس ہی ہیں۔ وہ جمہوریت بے معنی ہے، جس پر عوام کا بھروسہ نہیں ہے۔
مایوس عوام اب غصے میں ہیں، اسی لیے سرکار کے خلاف تحریکوں کو عوام کی حمایت مل رہی ہے۔ لوگ سیاسی پارٹیوں کے فریب سے تنگ آ چکے ہیں۔ انا ہزارے گاندھی اور جے پرکاش نارائن کی طرح پارٹی پر مبنی سیاست پر وار کر رہے ہیں۔ یہ امید کرنا بھی بے معنی ہے کہ سیاسی پارٹیاں سدھریں گی اور ملک میں سچی جمہوریت کو قائم کریں گی۔ اس لیے ملک میں سچی جمہوریت لانے کے لیے اب لوگوں کو ہی آگے آنا ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں کی چالبازی کی مخالفت کرنی ہوگی۔ اب وقت آگیا ہے کہ سچی جمہوریت اور آئین کو نافذ کرنے کے لیے ملک کے عوام کو آزادی کی دوسری لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ ملک کے نوجوانوں اور باکردار لوگوں کو سیاسی قیادت اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی، ورنہ آنے والے دنوں میں پورا ملک چند خاندانوں کے ماتحت چلا جائے گا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *