ہندوستان میں آئس ہاکی کا مستقبل

دھیریندر شرما 
ہاکی صرف گھاس کے میدان میں ہی نہیں کھیلی جاتی، بلکہیہ برف پر بھی ہاکی کھیلی جاتی ہے۔ آئس ہاکی کہا جانے والا یہ کھیل تیزی سے مقبولیت کی جانب گامزن ہے۔ ہندوستان میں آئس ہاکی کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کو لے کر پیش ہے یہ تجزیاتی رپورٹ…

p-12bمیچ شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ ہاکی اسٹک ہاتھ میں لئے کچھ کھلاڑی میدان میں چہل قدمی کر رہے ہیں، لیکن میدان پر دونوں ٹیموں کے چھ چھ کھلاڑی ہی ہیں اور گھاس کے بجائے پورے میدان میں برف کی چادر بچھی ہے۔ آخر یہ کھلاڑی اس برف کے میدان پر کیا کر رہے ہیں؟ جناب، یہ برف پر کھیلی جانے والی ہاکی ہے۔ اسے آئس ہاکی کہتے ہیں۔ اس کھیل میں گول کیپر سمیت چھ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ اس کھیل کو روس، کناڈا، امریکہ اور یوروپ کے دیگر ممالک میں کھیلا جاتا ہے۔ 1920میں اولمپک کھیلوں میں شامل ہوئی آئس ہاکی کناڈا کا قومی کھیل ہے اور سویڈن اس کھیل کا عالمی چیمپئن ہے۔ اس کھیل میں22کھلاڑیوں کا پول ہوتا ہے، جن میں سے چھ کھلاڑی میدان میں رہتے ہیں۔ یہ کھیل اتنی تیزی سے کھیلا جاتا ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی 40-50سیکنڈ سے زیادہ میدان میں کھیل ہی نہیں پاتا ہے۔ دراصل ایک کھلاڑی کے تھکتے ہی کھیل میں دوسرا کھلاڑی اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ بالی ووڈ اداکار اکشے کمار آئس ہاکی پر مبنی فلم اسپیڈی سنگھ کے پروڈیوسر رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ، اکشے کمار نے آئس ہاکی کو فروغ دینے کی غرض سے اس کی فیڈریشن کو ڈھائی لاکھ پائونڈ کی رقم بھی فراہم کی ہے۔
اس سال مارچ مہینے میں تھائی لینڈ میں ایشین چیلنج کپ میں 11بین الاقوامی ٹیموںمیں ہندوستانی قومی آئس ہاکی ٹیم نے بھی حصہ لیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی، لیکن بین الاقوامی کوچز اور کھلاڑیوں نے ہمارے کھیل کو نہ صرف سراہا ، بلکہ یہ بھی کہا کہ ہمارے کھیل میں پچاس فیصد تک سدھار آیا ہے۔ اس سے پہلے مارچ 2012میں دہرادون میں ایشین چیلنج کپ کا انعقاد ہوا تھا اور اس میں 8ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ اس سے پہلے جنوری میں بھی ایک ٹورنامنٹ ہوا تھا۔ 2009میں ہندوستان نے متحدہ عرب امارات میں منعقدہ اس کھیل کے پہلے بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت ہندوستانی ٹیم میں لداخ کے مقامی اور آرمی کھلاڑی شامل تھے۔ ایشین چیلنج کپ نام کے اس بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں یو اے ای، تھائی لینڈ، سنگا پور، ہانگ کانگ، مکائو ، ملیشیا اور منگولیا نے حصہ لیا تھا۔ ہندوستان کا یہ پہلا ٹورنامنٹ تھا، اس لحاظ سے اگر دیکھیں تو ہم پائیں گے کہ ہندوستانی ٹیم کی کارکردگی قابل قدر رہی۔
دھیرے دھیرے ہی صحیح، لیکن یہ کھیل ہندوستان میں بھی اپنے پیر پسار رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 1975میں یہ کھیل شملہ میں شروع ہوا تھا، جبکہ لداخ میں فوج نے اس کھیل کی شروعات کی تھی۔لیہہ، لداخ، جموں و کشمیر، شملہ، کارگل اور اتراکھنڈ میں آئس ہاکی بڑے پیمانے پر کھیلی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں آئس ہاکی کھیلنے والے تقریباً پچیس کلب ہیں۔ وہیں جموں کشمیر ریڈ، بلیو، آرمی، آئی ٹی بی پی، لداخ اسکائوٹس ، ہماچل پردیش، کارگل اور ایکس سروس مین کی ٹیمیں نیشنل ٹورنامنٹوں میں حصہ لیتی ہیں۔ لداخ میں آئس ہاکی اتنی ہی مقبول ہے، جتنی کہ شمالی ہند میں کرکٹ، کیونکہ یہاں کا مشہور لداخ اسپورٹ کلب قریب پندرہ سال پرانا ہے۔ اس کی بنیاد رکھنے والے گیال پی ونگیال کا کہنا ہے کہ یہ کلب یہاں کا سب سے پرانا اور مشہور کلب ہے۔ مسٹر گیال ہندوستانی آئس ہاکی ٹیم کے منیجر بھی رہے ہیں اور پندرہ سال انھوں نے جے اینڈ کے کی ریڈ ٹیم میں بطور کھلاڑی خوب نام کمایا ہے۔ ہندوستانی ٹیم کے بارے میں گیال کہتے ہیں کہ ہمارے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، غیر ملکی کھلاڑیوں اور ہم میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ ہم کھلے میدان میں قدرتی برف پر کھیلتے ہیں، جبکہ غیر ملکی کھلاڑی انڈور اسٹیڈیم میں مصنوعی برف پر کھیلتے ہیں۔ اگر ہمارے یہاں بھی انڈور اسٹیڈیم کھل جائیں، تو ہم بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کا مقابلہ بہتر طریقہ سے کر سکتے ہیں۔
اس کھیل میں یہ بتا دینا بے حد ضروری ہے کہ مصنوعی برف پر کھیلنے میں چوٹ لگنے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ انڈین آئس ہاکی ٹیم کے تین سال تک کپتان رہ چکے ٹنڈپو نام گیل نے یوں تو بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کی ہے، لیکن وہ گزر بسر کرنے کے لئے لیہہ میں گاڑی چلاتے ہیں۔ ٹنڈپو گزشتہ پانچ سالوں سے آئس ہاکی کھیل رہے ہیں۔ جنوری 2009میں ہی انہیں ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا اور انھوں نے تین سال تک ٹیم کی کپتانی کی۔ 33سالہ ٹنڈپو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم صرف سردیوں میں ہی اچھی برفباری ہونے کے سبب لداخ میں قدرتی برف کے میدان میں دو مہینے پریکٹس کر پاتے ہیں اور بقیہ دس مہینے تک ہم خالی بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر ہمیں آئس رنگ (مصنوعی برف کا میدان) مل جائے، تو ہم بھی دھمال اور کمال کر سکتے ہیں۔ ٹنڈپو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں طویل وقت تک کے لئے مصنوعی برف کا میدان پریکٹس کرنے کے لئے مل جائے تو ، ہم رنگ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، چونکہ قدرتی برف سخت ہوتی ہے، اس لئے ہمیں اس پر زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور یہ محنت رنگ میں کام آ سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *