فاسٹ ٹریک عدالت کے بعد بھی سرکار پر کچھ ذمہ داریاں ہیں

وسیم راشد 
لمبے انتظار کے بعدبالآخر مرکزی حکومت نے فاسٹ ٹریک عدالت کے لئے پیش رفت کرہی دی۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے تمام ریاستی سرکاروں کو ہدایت د ی ہے کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ مسلم نوجوانوں کے معاملے کو جلد سے جلد نمٹانے کے لئے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کریں۔ یہ مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے عرصہ سے کیا جارہاتھا ،مگر مرکزی سرکار نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی۔ ہمیشہ ٹیکنیکل رکاوٹوں کا بہانہ بنا کر اس ایشو کو سرد خانے میںڈالا جاتا رہا،لیکن شاید اب حکومت کو احساس ہونے لگاہے کہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کو غیر مطمئن کرکے نہ تو قومی ترقی کی سیڑھیاں طے کی جاسکتی ہیںاور نہ ہی اقتدار تک پہنچا جاسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ الیکشن اسٹنٹ کے طور پر ہو۔ورنہ اس طرح کی عدالت کا قیام اس وقت ہی ہوجانا چاہئے تھا جب محمد عامر اور اس کے بعد کئی ماخوذ افراد کو عدالت نے بری ہونے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔عامراورکامران کابا عزت بری ہونا،اس بات کا ثبوت ہے کہ ان جیسے بیشمار جوان ہیں ،جو ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ان کے لئے ایک فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جانی چاہئے ۔اس کے علاوہ مختلف معاملوں میں ملک کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مسلمان بڑی تعداد میں بندہیں اور ان کا ٹرائل شروع نہیں ہوا ہے۔ ایسے معاملوں کے لئے بھی فاسٹ ٹریک عدالت قائم ہونی چاہئے۔ 2011 کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں لگ بھگ 75053 مسلمان ملک کی مختلف جیلوں میں سڑ رہے ہیں ،ان کا کوئی پرسان حال نہیں،ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں 20780 مسلمان جیلوں میں بند ہیں اور ان کی شنوائی نہیں ہوئی ہے،مغربی بنگال میں 2595،مہاراشٹر میں 2513،مدھیہ پردیش میں 2013،راجستھان میں 1007،کرناٹک میں 958،گجرات میں 971،آسام میں 962،کیرالہ میں 770،بہار میں 740،جھارکھنڈ میں 712،آندھرا پردیش میں 556 مسلمان قیدیوں کی طرف کوئی دھیان دینے والا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے طویل عرصے سے تیز رفتار عدالتوں کے قیام کا مطالبہ ہوتارہا ہے، تاکہ ایسے قیدیوں کے بارے میں جلد سے جلد فیصلہ ہوسکے۔

فاسٹ ٹریک عدالت کے فیصلے کو جلد عمل میں لانے کے لئے مسلم تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے، تاکہ سرکار کا یہ اعلان دیگر اعلانوں کی طرح صدا بصحرا نہ ہونے پائے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد جو جیلوں میں بند، اپنی آزادی کے انتظار میں دن گن رہی ہے، ناامیدی کے اندھیرے میں گم نہ ہوجائے۔حالانکہ اس سلسلے میں کئی مسلم تنظیموں نے ماخوذ مسلمانوں کے لئے مفت وکیلوں کا انتظام کرکے، رہائی ملنے کے بعد ان کو مالی تعاون دے کر،بند قیدیوں کی فہرست تیار کرکے اور دیگر طریقوں سے بڑا کام کیا ہے، لیکن یہ سب الگ الگ پلیٹ فارم سے ہوتے رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مضبوطی کے ساتھ کام کریں۔

اس مطالبے پر مرکزی وزیر برائے قلیتی امور کے رحمن خان نے بھی وزیر داخلہ کو مکتوب روانہ کیا تھا اور تیز رفتار عدالتوں کے قیام کے مطالبے کی تائید کی تھی۔ان کے علاوہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو مختلف مسلم تنظیموں اور دانشوروں نے بروقت لیا گیا فیصلہ کہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کی فاسٹ ٹریک عدالت کا مطالبہ صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ ہر طبقہ کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے۔ کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان کے تعلق سے ملک کے سیکولر عوام کو شدت سے یہ احساس تھا کہ زیادہ تر بے گناہ لوگ پکڑے جارہے ہیں اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں۔کچھ ٹرائل میں اس بات کا اندازہ بھی ہوا کہ یہ بات درست ہے۔بہر کیف وزیر داخلہ کے اس فیصلے کو جہاں مختلف مسلم تنظیموں کی طرف سے تائید ہورہی ہے ،وہیں وزیر داخلہ کے اس اعلان پر کہیں نہ کہیں مسلمانوں میں شک و شبہات بھی پائے جارہے ہیں ۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ وزیر داخلہ کا یہ بیان صرف ووٹ بینک کے طور پر ہوسکتاہے۔مسلمانوں کا ایسا سوچنا کسی حد تک جائز بھی ہے ،کیونکہ ان کے مطالبات پر حکومت کی طرف سے عدم توجہی کا سلسلہ دراز اور تجربات تلخ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے جب بھی کوئی اعلان ہوتا ہے، تو اس پر شک و شبہ کی دھند چھا جاتی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ مسلمانوں کے شبہات کو دور کرنے کے لئے فاسٹ ٹریک کے فیصلے پربے یقینی کی کیفیت طاری نہ ہونے دے۔ یہ فیصلہ بہت اچھا ہے، مگر مقصد صرف اعلان نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس کو عمل میں لانے کی مخلصانہ کوشش بھی ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی ،سماجی اور اقتصادی حالات میں کمزور محنت کشوں اور مظلوم مسلمانوں کی تکلیفوں کو دور کرنے پر بھی غور و فکرہونا چاہئے۔وزارت داخلہ نے دیر سے ہی صحیح، مگر اب اس سلسلے میں ریاستی حکومتوں کو ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند مسلم نوجوانوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔اگر حکومت مسلم تنظیموں کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے پہلے ہی فاسٹ ٹریک عدالت قائم کر دیتی، تو اب تک بہت سے بلکہ تمام بے گناہ افراد جیلوں سے رہا ہو چکے ہوتے ،لیکن تب حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی،جس کی وجہ سے آج تک بے قصور افراد کی زندگیاں جیلوں میںتباہ ہورہی ہیں۔خیر! دیر سے ہی صحیح مگر برف تو پگھلی اور کانگریس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ فاسٹ ٹریک عدالت وقت کی اہم ضرورت ہے ۔لہٰذا ریاستوںسے جلد سے جلد اس پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی حکومت کو اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا کہ صرف فاسٹ ٹریک عدالت کے قائم کردینے سے نہ تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے اور نہ ہی اس سے مسلمان مطمئن ہوں گے ۔ کیونکہ اس بات کو سب جانتے ہیں کہ جن نوجوانوں کوگرفتار کیا گیا ہے، وہ بے قصور ہیں اور فاسٹ ٹریک عدالت قائم ہوئی، تو ان کی بے گناہی ضرور ثابت ہوگی اور وہ سب رہا ہوجائیں گے ، مگر سوال یہ ہے کہ عرصہ تک جیلوں میں بند رہنے کے بعد جب وہ نوجوان باہر آئیں گے ،تو ان کے سامنے نئے چیلج،نئے مسائل اور نئے حالات ہوںگے ۔ سب سے بڑا مسئلہ ہوگا روزگار کا۔ چونکہ عام طور پر جب وہ جیل سے باہرآتے ہیں تو انہیںکام نہیں ملتا ہے۔صنعتی اداروں،آرگنائزیشنوں اور فیکٹری و آفسوں میں انہیں کام دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ عرصہ تک سماج سے کٹے رہنے کی وجہ سے وہ ٹکنالوجی سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ محمد عامر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ جیل سے باہر آیا تو اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ موبائل کا استعمال کیسے ہوتا ہے۔ان کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ظاہر ہے ایسی صورت میں ہائی ٹیک دور میں ان کے سامنے روزگار کے تمام راستے بندرہتیہیں، بس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ سرکار ان کی باز آبادکاری کے لئے مالی امدادکرے ،تاکہ وہ چھوٹی سطح پر کوئی کام کرکے اپنا اور اپنے گھر والوں کے گزر بسر کا ذریعہ پیدا کرسکے۔اس کے علاوہ بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے والے پولیس سے جواب طلبی کے ساتھ انہیں بھی سزا دینے کا بندوبست ہو ،تاکہ مستقبل میں پھر کسی پولیس والے کی غلطی کا خمیازہ کسی بے قصور کو نہ بھگتنا پڑے۔ساتھ ہی ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ریاستوں کو ہدایت دے کر خاموش رہنے کے بجائے ’فالو اپ ایکشن ‘کے طور پر یہ بھی دیکھا جائے کہ ریاستیں اس حکم کی تعمیلکر رہی ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو انہیں اس اقدام پر آمادہ کیا جائے۔یہی نہیں بلکہ مسلم تنظیموں کے دیگر مطالبات کو بھی جلد سے جلد قبول کیا جائے۔یہاں پر ایک مسئلہ اور بھی ہے جس کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔فاسٹ ٹریک عدالت کے قائم ہوجانے سے ان لوگوں کا تو فائدہ ہو گا جو سال دو سال سے جیل میں بند ہیں۔ایسے لوگ فاسٹ ٹریک عدالت کی وجہ سے جلد رہا ہوجائیں گے اور اپنی زندگی کو از سر نو شروع کرسکتے ہیں، لیکن جو دس سال، بارہ سال اور پندرہ سالوں سے جیلوں میں بند ہیں، اگر انہیں فاسٹ ٹریک عدالت سے فیصلہ مل بھی گیا تو ان کے سامنے معاشی مسائل ہوںگے،لہٰذا فاسٹ ٹریک عدالت کے قیام کے ساتھ ساتھ حکومت کو اس پہلو پر بھی نظر رکھنی ہوگی کہ اب کسی کی زندگی کا اتنا حصہ جیلوں میں نہ گزرنے پائے کہ جس سے وہ شخص مفلوج ہوکر رہ جائے۔
فاسٹ ٹریک عدالت کے فیصلے کو جلد عمل میں لانے کے لئے مسلم تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے، تاکہ سرکار کا یہ اعلان دیگر اعلانوں کی طرح صدا بصحرا نہ ہونے پائے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد جو جیلوں میں بند، اپنی آزادی کے انتظار میں دن گن رہی ہے، ناامیدی کے اندھیرے میں گم نہ ہوجائے۔حالانکہ اس سلسلے میں کئی مسلم تنظیموں نے ماخوذ مسلمانوں کے لئے مفت وکیلوں کا انتظام کرکے، رہائی ملنے کے بعد ان کو مالی تعاون دے کر،بند قیدیوں کی فہرست تیار کرکے اور دیگر طریقوں سے بڑا کام کیا ہے، لیکن یہ سب الگ الگ پلیٹ فارم سے ہوتے رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مضبوطی کے ساتھ کام کریں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *