ایک نئے جمہوری دور کا آغاز

اعجاز حفیظ خاں
p-7نواز شریف کی وزارت عظمیٰ پر ہیٹ ٹرک کے ساتھ ہی پاکستان میں ایک نئے جمہوری دور کا بھی آغاز ہوا ہے ۔ معزز قارئین کے علم کے لئے 1990ء اور 1997ء کے الیکشن کے بعد بھی وہ اس منصب پر رہ چکے ہیں۔ اُن کے لئے حالیہ منڈیٹ کسی آزمائش سے کم نہیں ۔اُنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں طالبان کے حوالے نرم گوشہ رکھا ۔دہشت گردی کی جنگ سے پاکستان کو علیحدہ کرنے کا وعدہ کیا ۔اب وہ اسے کیسے پورا کریں گے ۔ بہر کیف یہ بات تمام جمہوری ممالک کے لئے خوش آئند ہے کہ پاکستان میں پہلی بار جمہوری حکومت سے کسی دوسری جمہور ی حکومت کواقتدار منتقل ہوا ہے ۔اس پر پیپلز پارٹی کو بھی خراج ِ تحسین پیش کرنا ہو گا۔اُنہوں نے اپنے دور ِ حکومت میںبڑے سے بڑے سیاسی طوفان میں جمہوری پرچم کو سختی سے ہاتھ میں تھامے رکھا ۔یہاں تک کہ حالیہ الیکشن میں ایک کالعدم تحریک کی جانب اُسے انتخابی مہم چلانے کی ’’اجازت ‘‘ نہیں تھی ۔پیپلز پارٹی تو جلسے اور جلوسوں کی سیاست میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہی ۔پہلی بار ایسا نہیں ہوا۔ جس کا رزلٹ سب کے سامنے ہے ۔ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے اُس کا صفایا ہو گیا ۔گو قومی اسمبلی کی وہ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے لیکن اُس کی نشستیں 120سے کم ہو کر 40 کے لگ بھگ رہ گئیں ۔بہر کیف تمام تر تحفظات کے باوجود اُس نے الیکشن رزلٹ کو تسلیم کر لیا ہے ۔پاکستان کی دردوں کی ماری سیاست کے لئے یہ بات کسی شفا سے کم نہیں ۔دوسری طرف سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی پر ایک بار پھر سے اعتماد کا مظاہر ہ کیا ۔ حکومت سازی میں بھی یہ صوبہ بازی لے گیا ۔پیارے پاکستان کے قیام کے حق میں بھی سب سے پہلی قرار داد سندھ اسمبلی نے ہی منظور کی تھی ۔جس کے روح ِ رواں مرحوم جی ایم سید تھے ۔بعد ازاں اُن کے اپنوں اور سپنوں نے اُن کے ساتھ کیا کیا ؟قائم علی شاہ کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد جناب منظور وسان کا ایک اور خواب ،سراب ثابت ہوا ۔خدا جانے اُنہوں نے سیاست میں خواب سازی کیوں شروع کر دی؟ہماری اُن سے استدعا ہے کہ ابھی اُن کے اس ’’سفر ‘‘ کا آغاز ہے ،بہتر ہو گا کہ کبھی خوبصورت موڑ پر راستہ بدل لیں ۔ اُسی دن اُن کا ایک بیان بھی نظر سے گزرا کہ ’’پیپلز پارٹی کے خلاف سازش ہوتی رہتی ہے اور سازش نے آج ایک نیا موڑ لیا ہے ‘‘۔ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس حوالے سے بھی کوئی خواب چُن لیں ۔اُن کا نام سندھ کی 7رُکنی کابینہ میں بھی شامل ہے ۔کہیں اُن کا اشارہ اپنے ہی دوستوں کی طرف تو نہیں ؟

جو شخص خود ہی چھپا ہوا ہو …جب ٹھٹھہ کے شیرازی برادران نے پیپلز پارٹی سے بدعہدی کی تویہاں لاہور کے مسلم لیگ ن کے حلقوں  میںجشن منایا گیا ۔اُن کے ایک میڈیا لارڈ نے ہمیں فون کر کے کہا کہ ’’اب پیپلز پارٹی کی سندھ میں شکست یقینی ہو گئی ‘‘۔سچی بات یہ ہے ہمیں شیرازی برادران کے حوالے سے کچھ زیادہ علم نہیں تھا ۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اب ماروی میمن کی جیت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی ‘‘۔ہمارا خیا ل اس کے بر عکس تھا ۔اتفاق سے اُن کے حلقے کا نتیجہ ویسا ہی نکلا۔ ایک سوال کرنے کی جسارت کر ہی لیتے ہیں کہ شیر ازی برادران کو ’’رستم ِ سندھ‘‘ کیوں سمجھا جا رہا تھا؟بہر کیف سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ٹوٹل collapse  ہونے سے بچا لیا ۔ملک کے سب سے بڑے معاشی صوبے کی باگ ڈور اُس کے ہاتھ میں ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ غریب عوام کے سکھ چین کے لئے دن رات کام کیا جائے ۔

جس معاشرے میں جھوٹ اور منافقت کا راج ہو ،وہاں وضاحتیں بھی رقابتیں بن جاتی ہیں ۔جناب قائم علی شاہ کی بزرگی سے پیپلز پارٹی سندھ میں ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ ۔اُن کا دھیمہ انداز ِ ہمیں بھی دل جان سے اچھا لگتا ہے۔جس میںمیں بڑے سے بڑا شور بھی دب جاتا ہے ۔یاد آیا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ میں دن رات کی ’’محنت ‘‘ سے ایک 10رکنی اتحادبنایا گیا تھا ۔کا ش کہ یہ 9 ہوتے ۔یاد آیا کہ 1977ء کے الیکشن میں پاکستان قومی اتحاد میں شامل 9 جماعتوں کی وجہ سے اُسے نوستارے بھی کہا جاتا تھا ۔ان ’’ستاروں ‘‘ نے بھٹو صاحب کی دشمنی میںپاکستان کو 11سال تک اندھیرے میں ڈبوئے رکھا۔بہر کیف اس بار 10رکنی اتحاد کو شکست فاش ہوئی۔ ابھی چند روز قبل تک اِن رہنمائوں کی ہمارے لاہور میں بہت آئو بھگت ہوتی تھی ۔پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلی مرتبہ پیر پگاڑا کے دادا کی برسی پر سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کیا ۔ اُن کی فنکشنل مسلم لیگ کئی سال تک اُس حکومت کو انجوائے کرتی رہی اور پھر … اُس کے حیدر آباد کے جلسے کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے اُس نے پورے سندھ کو فتح کر لیا ہو۔ روحانیت کے نام پر ڈاکٹر طاہر القادری کا جلسہ بھی کسی سے کم نہیں تھا۔ معاف کیجئے گا ! خوش فہمی ہو یا غلط فہمی …دونوں صورت میں دل کے ساتھ ساتھ دماغ کی بھی شامت آتی ہے۔ جب کسی کے بھی دل و ماغ کی یہ حالت ہو جائے گی تو اُس کے نزدیک ترین ’’کنارہ ‘‘صحرا سے بہتر اور کونسا ہو سکتا ہے ۔Once Upon A Timeارباب رحیم کاشمار بھی پیپلز پارٹی سندھ کی لیڈرشپ میں ہوا کرتا تھا ۔اُنہیں وقت کی نزاکت کے پیش ِ نظر پارٹیاں بدلنے کا خاص تجربہ حاصل ہوا۔سندھ کاتھرپارکرشروع دن سے ہی اُن کی سیاست کا آماجگاہ رہا ۔اس بار اُن کے قلعے میں پیپلز پارٹی نے شگاف ڈال دیا۔لیڈر کو بہادر بھی ہونا چاہیے ۔اُنہوں نے سابق اسمبلی میںاِن رہنے کی بجائے ،آئوٹ ہونے میں ترجیح دی ۔آزاد عدلیہ کے ہوتے ہوئے بھی اُنہیں کس بات کا خوف تھا ؟
جو شخص خود ہی چھپا ہوا ہو …جب ٹھٹھہ کے شیرازی برادران نے پیپلز پارٹی سے بدعہدی کی تویہاں لاہور کے مسلم لیگ ن کے حلقوں میںجشن منایا گیا ۔اُن کے ایک میڈیا لارڈ نے ہمیں فون کر کے کہا کہ ’’اب پیپلز پارٹی کی سندھ میں شکست یقینی ہو گئی ‘‘۔سچی بات یہ ہے ہمیں شیرازی برادران کے حوالے سے کچھ زیادہ علم نہیں تھا ۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اب ماروی میمن کی جیت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی ‘‘۔ہمارا خیا ل اس کے بر عکس تھا ۔اتفاق سے اُن کے حلقے کا نتیجہ ویسا ہی نکلا۔ ایک سوال کرنے کی جسارت کر ہی لیتے ہیں کہ شیر ازی برادران کو ’’رستم ِ سندھ‘‘ کیوں سمجھا جا رہا تھا؟بہر کیف سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ٹوٹل collapse ہونے سے بچا لیا ۔ملک کے سب سے بڑے معاشی صوبے کی باگ ڈور اُس کے ہاتھ میں ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ غریب عوام کے سکھ چین کے لئے دن رات کام کیا جائے ۔بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ ’’غربت اور مفلسی پاکستان کا مقدر نہیں ہے ‘‘۔اگر ماضی کے حوالے سے میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کا جائزہ لیں تو اُسے کسی بھی لحاظ سے مناسب بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ جنرل مشرف کے ٹیک آور سے پہلے اُن کی ’’امیر المومنین ‘‘ بننے کی بھی تیاریاں تھیں۔اُس دور میں اُن کے فوج اور عدلیہ سے تعلقات میں کافی تلخی آگئی تھی ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ تقسیم ہو گئی ۔اُنہوں نے شہید رانی بے نظیر بھٹو کے انتقامی سیاست کی انتہا کر دی تھی ۔کیا وہ اب بھی 1990کی دہائی کی سیاست کو دوبارہ سے پاکستان میں رائج کریں گے ؟آزاد میڈیا اور عدلیہ کے ہوتے ہوئے اب شاید وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔آج اندرون ِ محاذ پر اُن کے لئے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ سب سے اہم ہے ۔الیکشن جیتنے کے بعد وہ اپنے اس وعدہ سے دستبردار ہو گئے کہ اقتدار میں آنے کے دو سال بعد اس کا خاتمہ ہو جائے گا ۔بیرونی محاذ پر طالبان سے مذاکرات سب سے اہم ہیں۔جس کے نتائج کا تعلق ہمسایہ ممالک سے بھی ہے ۔دوسری طرف امریکہ نے واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ آئندہ 20سال تک ڈرون حملے جاری رہیں گے ۔یہ صورتحال میاں نواز شریف کے لئے کچے دھاگے پر چلنے کے متراد ف ہے ۔مسائل کیسے بھی ہوں، اُن کے پیچھے ایک جمہوری نظام ضرور موجود ہے ۔ g
نوٹ !کالم نگار پاکستان کے سینئر جرنلسٹ ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *